مہینہ بھر پہلے ایک معروف نجی بنک میں چیک جمع کرانے گئے۔ کاؤنٹر پر بیٹھی خاتون نے بہت مسکرا کر بتایا کہ وہ ہماری ہم نام ہیں اور چیک جمع کر لیا۔ تنخواہ دار گھرانا جس میں بچے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہوں، وہ گھرانا پائی پائی کا حساب رکھتا ہے۔ فی سمسٹر فیس ساڑھے تین لاکھ ہے لہذا حساب لگا رکھا تھا کہ فلاں تاریخ کو پیسے اکاؤنٹ میں آ جائیں گے اور کُل بچت ملا کر فیس چلان بھر دیا جائے گا۔ مقررہ تاریخ کو چیک کی رقم ہمارے اکاؤنٹ میں نہیں آئی۔ جا کر معلوم کیا تو عجیب مضحکہ خیز صورت حال سامنے آئی کہ ہمارا چیک ان محترمہ نے ہمارے ایک پرانے اکاؤنٹ میں غلطی سے جمع کر دیا ہے۔ وہ اکاؤنٹ عرصہ دراز سے استعمال نہ کرنے کے سبب بند تھا اس لیے رقم پھنس گئی ہے۔ یہ کیسے ہوا؟ اس کا جواب بنک منیجر ہاتھ جوڑ کر معذرت کی صورت میں دیتے رہے اور وہ خاتون ڈھٹائی سے کہتی رہیں کہ میں نے گارڈ آپ کے پیچھے دوڑایا تھا مگر آپ جا چکی تھیں، پوچھنا تھا کہ کون سے اکاؤنٹ میں جمع کروں۔ ہم نے لاکھ کہا کہ ہم نے تو رسید پر اکاؤنٹ نمبر لکھا ہوا تھا تو پھر پوچھنا کیسا؟ اور اگر یہ حماقت ضروری تھی تو اسی رسید پر ہمارا موبائل نمبر موجود تھا اس پر پوچھا جا سکتا تھا۔ مگر وہ خاتون ڈھٹائی سے اپنے موقف پر اڑی رہیں۔ جس اکاؤنٹ میں انھوں نے چیک جمع کر دیا تھا اس کی برانچ بھی ہمارے گھر سے کافی دور تھی۔ غرض کئی چکر لگانے اور کئی دن کی خواری اور اس بنک مینجر کی بھاگ دوڑ کے بعد وہ رقم ہمارے مطلوبہ اکاؤنٹ میں آئی اور اس دوران فیس چلان کس پریشانی سے بھرا گیا ہوگا آپ سمجھ سکتے ہیں۔
تقریباً ایک ماہ موبائل فون کے ہاتھوں پریشانی اٹھانے کے بعد یوفون کے بھیجے گئے پیغام سے معلوم ہوا کہ ہماری سِم تھری جی ہونے کی پاداش میں معطل کر دی گئی ہے اب فور جی سِم لیجیے۔ بڑی شدت سے احساس ہوا کہ آج زمانے کی تیز رفتاری کا ساتھ نہ دینے والا کیسے عضوِ معطل ہو جاتا ہے۔ خیر یوفون کے قریبی دفتر پہنچے کہ بقرعید قریب تھی اور کئی دن کی تعطیلات ہونے والی تھیں۔ وہاں جا کر دیکھا تو یہ صورتِ حال تھی کہ
اک تم ہی نہیں تنہا، الفت میں مِری رسوا
اس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں
لہٰذا تِل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ معلوم ہوا ٹوکن لینا ہوگا۔ ٹوکن کی مشین دیکھنے کے لیے نظر دوڑائی تو گارڈ نے ایک کاغذ آگے بڑھا کر کہا کہ “ٹوکن میں دوں گا۔” کاغذ پر تین سو لکھا ہوا تھا۔ سامنے موجود اسکرین پر دیکھنا چاہا کہ کون سا نمبر چل رہا ہے تو پھر وہی صاحب بولے “ اسکرین بند ہے، نمبر بھی میں ہی پکاروں گا۔” ہم سر پِیٹ کر ایک کونے میں کھڑے ہو گئے۔ سیکڑوں لوگ، بے شمار کاؤنٹر اور اس شور میں کان لگا کر ان صاحب کی آواز میں پکارا گیا نمبر سننے کی مشقت کرتے کرتے حالت خراب ہو گئی۔ طویل انتظار کے بعد ہمارے حصے میں آئے ہوئے کاؤنٹر پر گئے تو ایک لڑکی نے مسکرا کر استقبال کیا۔ ہم نے مسئلہ بتایا۔ اس نے نہایت خوش اخلاقی سے شناختی کارڈ اور بائیومیٹرک وغیرہ کے بعد فورجی سِم دے دی۔ ہم بھی کانوں تک مسکراہٹ لے جا کر ان کا زوردار شکریہ ادا کر کے گھر چلے آئے۔ گھر آ کر سِم لگائی مگر مسئلہ جوں کا توں۔ جس پریشانی سے بچنا چاہ رہے تھی اسی پریشانی سے گلے مِلتے بقرعید گزر گئی۔ کل یونی ورسٹی سے واپسی پر تھکے ہارے پھر وہاں پہنچے۔ وہی صورتِ حال کہ تِل دھرنے کو جگہ نہیں، وہی ٹوکن دیتا اور پکارتا ہوا گارڈ، 310 نمبر کا طویل انتظار اور جب حصے میں آئے کاؤنٹر پر پہنچے تو اس پر موجود صاحب نے بتایا کہ سِم دے دی گئی تھی لیکن “ ایکٹیویٹ” نہیں کی گئی تھی۔ ہمارے استفسار پر شرمندگی سے بتایا گیا کہ غلطی اس لڑکی سے ہوئی کہ اس نے سِم کو فعال نہیں کیا تھا۔ ان صاحب نے معذرت کی اور مسئلہ حل کر دیا اور یوں ہم گھنٹوں کی مشقت کے بعد کوفت میں مبتلا گھر واپس آئے۔
بے شک باصلاحیت خواتین بھی ہر شعبے میں ہیں لیکن ایسی تمام خواتین کو اللہ کا واسطہ دے کر گزارش ہے کہ آپ گھر سے نکلی ہیں، مرد کے شانہ بشانہ چلنے کا دعویٰ ہے تو اپنے پیشہ ورانہ کام میں مہارت حاصل کیجیے، یوں بلاوجہ ہم عورتوں کا نام خراب نہ کیجیے 🙏🏻🙏🏻
