مکھیاں جو کبھی نہیں مرتیں۔۔فیصل سعید ضرغام

 پہلے پہل تو ہم میں سے کسی نے بھی توجہ نہ دی۔
 بس چند مکھیاں ہی تو تھیں۔۔۔شہر کے کناروں پر، ندی نالوں کے پاس، اور شہر کے مضافاتی علاقوں میں جہاں میونسپلٹی کی گاڑیاں شہر بھر سے کچرا اٹھانے کے بعد پھینک دیا کرتیں۔

 شروع میں یہ تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی۔ کبھی ایک آدھ مکھی اڑ کر شہر کے اندر آ جاتی، کسی دیوار پر بیٹھتی، کسی برتن کے گرد منڈلاتی، اور رات ہوتے ہی وہ اپنے نواحی ٹھکانوں کی طرف لوٹ جاتیں، گویا شہر ان کے لیے صرف ایک عارضی ٹھکانہ تھا۔

 لوگوں نے زیادہ دھیان نہ دیا۔
 شہر کے معمولات ابھی بدلے نہ تھے۔ سب کچھ پہلے جیسا ہی تھا۔۔
 پھر دن گزرتے گئے، اور وہ “چند” مکھیاں چند سو میں بدل گئیں۔
 اب وہ صرف کناروں پر نہیں تھیں۔ وہ ندی نالوں کے ساتھ ساتھ پھیلنے لگیں، اور شہر کے باہر ایک غیر فطری حلقہ بننے لگا۔۔۔
 اور پھر وہ وقت آیا جب یہ تعداد ہزاروں تک جا پہنچی۔
  شہر کے اطراف میں ان کا ایک مستقل دائرہ قائم ہو چکا تھا، مگر اس دائرے کی نوعیت ابھی تک کسی کو سمجھ نہیں آئی تھی۔

 لوگ اب بھی یہی سمجھتے تھے کہ یہ سب عارضی ہے۔۔۔ وقت گذرنے کے ساتھ اپنی اصل حالت میں آجائے گا ۔ ہاں مگر بعض حلقوں میں ایک ہلکی سی بےچینی ضرور پیدا ہونے لگی تھی۔۔۔ اور پھر وہ وقت آیا جب مکھیاں واقعی ہر طرف پھیلنے لگیں۔ گلیوں میں، چھتوں کے اوپر، گھروں کے کمروں میں، کھڑکیوں کے پردوں پر، اور کچن کے برتنوں کے گرد ان کی موجودگی عام ہونے لگی۔۔

  مکھیاں اب باہر نہیں رہیں، وہ شہر کے اندر داخل ہو چکی تھیں۔
 دکاندار جو پہلے اشیائے خورد و نوش تولتے وقت مکھیوں کو جھاڑ دیا کرتے تھے، اب آہستہ آہستہ اس عمل سے غافل ہونے لگے۔ پہلے یہ محض سستی تھی، پھر لاپرواہی، اور پھر عادت بن گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اکثر دکانوں میں سامان تولتے وقت مکھیاں بھی اسی وزن کا حصہ بننے لگیں، جیسے وہ چیزوں کا لازمی جزو ہوں۔
 خریدار بھی رفتہ رفتہ اس صورتحال کے عادی ہوتے چلے گئے۔
 اب یہ معاملہ صرف موجودگی کا نہیں رہا تھا ۔۔۔یہ معمول کا حصہ بنتا جا رہا تھا۔
 اور پھر یہ ایک سنگین صورت اختیار کرنے لگا۔
 لوگوں نے اپنے گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں بند رکھنا شروع کر دیے۔ ۔۔۔مگر وہ جھریوں اور دراڑوں سے راستہ بنا کر اندر گھس آتیں، جیسے انہیں پہلے سے معلوم ہو کہ انسان کہاں کہاں کمزور ہے۔ شروع میں یہ بات صرف گھروں اور دفتروں تک محدود رہی۔پھر اسکولوں میں بچوں کی کتابیں کاپیاں بھی ان سے محفوظ نہ رہیں۔۔۔ مکھیاں صفحوں کے درمیان بیٹھ جاتیں، جیسے لفظوں کے اندر جگہ بنا رہی ہوں۔۔۔
چائے خانوں میں قہوے کی پیالیوں کے گرد ان کی بھنبھناہٹ ایک مستقل حلقہ بنا چکی تھی۔ اب یہ ایک مسلسل شور تھا، جو گفتگو کے درمیان نہیں بلکہ گفتگو ’میں‘ داخل ہو چکا تھا۔۔۔

 ہوا میں اب ایک غیرمانوس سی گندھ پھیلنے لگی ۔۔۔پہلے ہلکی، پھر مستقل۔
 دفتر جانے والے لوگ اپنے چہروں پر کپڑا لپیٹنے لگے۔ یہ پہلے احتیاط تھی، پھر عادت، اور آہستہ آہستہ مجبوری۔ 

بازاروں میں اب خریدار کم اور مکھیاں زیادہ دکھائی دینے لگیں۔ وہ سبزیوں پر بیٹھتیں، نوٹوں کے اوپر منڈلاتیں، جیسے ہر چیز پر ان کا برابر حق ہو۔شہر کے مذہبی مقامات بھی ان سے محفوظ نہ رہے۔ مندر اور درگاہوں کے چڑھاووں پر بھی ان کا غلبہ تھا۔

اور پھر راتوں کے منظر بدلنے لگے۔۔ وہی گلیاں جو پہلے انسانی چہل پہل سے آباد ہوا کرتی تھیں، اب خاموشی میں ڈوبنے لگیں۔ رات کے وقت اسٹریٹ لائٹ ان مکھیوں کی من چاہی بیٹھک تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے کہ مکھیوں کے نے روشنی کو نرغہ میں لے رکھا ہو۔ 

 آغازِ واقعات میں اخبارات نے چند مختصر خبریں شائع کیں۔۔۔گویا یہ کوئی غیر اہم سی بات ہو۔ ۔ پھر آہستہ آہستہ یہ خبر غائب ہونے لگی۔ انتظامیہ نے بھی اسے محض ایک وقتی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز کر دیا۔ اجلاس ہوئے، فائلیں بنیں، لیکن کوئی فیصلہ اصل مسئلے کی جڑ تک نہ پہنچ سکا۔جب مکھیوں کی تعداد حد سے بڑھنے لگی تو اچانک وہی خبر یں اپنی قبر پھاڑ کر دوبارہ زندہ ہو گئی ۔۔۔۔ ٹی وی چینلوں پر بحث چھڑ گئی، لال، ہری۔ پیلی اسکرینیں چمکنے لگیں، اور ہر چینل اسے اپنی روشنی میں دیکھنے لگا۔

 پہلے مرحلے میں بات حیرت تک محدود رہی ۔۔۔ لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے۔۔۔یہ کیسے ہوا؟
 پھر یہ حیرت رائے میں بدل گئی۔
 کسی نے کہا؛ یہ ماحولیاتی تبدیلی ہے۔
 چند لوگوں کی رائے کے مطابق۔۔۔ یہ عذابِ الٰہی کے سوا کچھ نہیں ہے۔۔۔کیونکہ انسان اپنے گناہوں سے باز نہیں آ رہا۔
 کسی نے سیاسی مخالفین کو ذمہ دار ٹھہرایا، اور کسی نے صفائی کے نظام کی ناکامی پر طویل تقاریر شروع کر دیں۔
 ہر دلیل دوسری دلیل کو کاٹنے لگی، اور ہر منطق اپنے اندر ہی تشکیک کی موجب بنی رہی۔
 
 رفتہ رفتہ مکھیوں کی آواز روزمرّہ کی گفتگو میں شامل ہونے لگی۔ جملے بکھرنے لگے، لفظوں کے درمیان ایک غیر مرئی شور جگہ لینے لگا۔کلاس روم میں استاد پڑھاتے ہوئے اچانک رک جاتے۔ انہیں محسوس ہوتا کہ ان کے الفاظ آگے جا کر کسی چیز سے ٹکرا کر واپس لوٹ رہے ہیں، شاید مکھیوں کے پروں سے۔دفاتر میں ٹائپ رائٹر کی ٹِک ٹِک اور مکھیوں کی بھنبھناہٹ ایک ہی آواز معلوم ہوتے۔ یوں لگنے لگا جیسے شہر کی تمام آوازیں آہستہ آہستہ ایک ہی ناد میں تحلیل ہو رہی ہوں۔۔۔ایک ایسی آواز جو اس شہر کی تھی ہی نہیں۔
 پھر ایک دن یہ احساس بھی مٹ گیا۔
 وہ آواز، جو کبھی باہر سے آتی محسوس ہوتی تھی، اب اندر بولنے لگی تھی ، یہ تبدیلی اچانک نہیں تھی، مگر اب واضح طور سے محسوس ہونے لگی۔۔۔جیسے ہر لفظ اپنی انفرادیت کھو چکا ہو۔۔ جیسے ہر انسان کے اندر اب ایک ہی مکھی بول رہی ہو۔۔۔
 پھر۔۔۔
  ایک دن اچانک، مکھیاں خاموش ہو گئیں۔
 شہر پر ایک عجیب سا سناٹا چھا گیا۔۔۔ ایسا سناٹا جو شور سے بھی زیادہ شور انگیز تھا۔ لوگ گھروں سے نکلے۔ گلیوں میں رکے۔ چوراہوں پر کھڑے ہو کر آسمان کی طرف دیکھا۔ اوپر ایک سیاہ لکیر شہر سے باہر جاتی نظر آئی ۔
 کسی نے کہا:
 "مکھیاں چلی گئیں۔"
 ’’شاید اب سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے۔‘‘
 دوسرے نے سر جھکائے جواب دیا
 ’’نہیں... وہ یہیں ہیں۔ بس دکھائی نہیں دیتیں۔ اور جو تم آسمان پر لکیر دیکھ رہے ہو صرف نظر کا ایک دھوکہ ہے‘‘
 اس کے بعد کوئی کچھ نہ بولا۔۔۔
 میں بھی اُس ہجوم کا حصہ تھا۔ جب کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہو سکا تب میں تھکے قدموں سے گھر واپس چلا آیا۔۔ دروازے کھڑکیاں بند کیں اور بستر پر دراز ہوگیا۔۔۔
 
 لیکن نہیں۔
 ہرگز نہیں۔۔۔ میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔
 یہ شہر اپنی آواز نہیں کھو سکتا۔ میں اپنے شہر کی آواز کی حفاظت کروں گا۔ میں بستر پر لیٹا یہی سوچتا رہا۔ پھر یہ سوچ آہستہ آہستہ ارادہ بن کر میرے لہو میں دوڑنے لگی۔ میں خود کو ایک باغی تصور کرنے لگا۔ میری گردن کے اعصاب تن گئے، میں چیخنا چاہتا تھا ۔۔۔اتنا زور سے کہ فضا میں موجود مکھیوں کا شور اس میں دب جائے۔ مگر جو آواز میرے حلق سے نکلی وہ میری اپنی آواز نہیں تھی ۔۔۔ بدلی ہوئی تھی۔۔۔ میں دوبارہ چیخنے کی کوشش کرتا رہا، لیکن ہر بار میری آواز میرے اندر ہی کہیں بھٹک جاتی۔ مجھے لگا میں اپنی ہی آواز تک نہیں پہنچ پا رہا ۔۔۔جیسے وہ میرے اندر موجود ہوتے ہوئے بھی مجھ سے دور ہوگئی ہو۔
 اچانک میں کسی سخت چیز سے ٹکرایا۔
 جب ذرا کچھ ہوش آیا تو میں اپنے بستر پر پڑا تھا۔ کمرے میں خاموشی تھی۔ میرا جسم بری طرح کانپ رہا تھا۔
 میں نیم بے ہوشی کی حالت میں پڑا سوچتا رہا ۔۔۔
 باوجود اس کے کہ میرے سر پر ایک ہزار آنکھیں موجود ہیں، تب بھی میں اس چھت کو کیوں نہ دیکھ پایا؟

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !