مذہبی تعلیمات، ، بالخصوص دین اسلام کے مطابق ، جہنم ( دوزخ) ایک حتمی اور ابدی ، روحانی اور جسمانی سزا کی جگہ ہے۔ اسے اللّٰہ تعالیٰ نے ان نافرمانوں ، کافروں اور گنہگاروں کے لیے تیار کیا ہے ، جو دنیا میں حق کا انکار کرتے ہیں اور برے اعمال انجام دیتے ہیں،"
جبکہ قرآن کریم کے مطابق"
" جنت وہ ابدی اور پر سکون مقام ہے ، جو اللّٰہ تعالیٰ نے ایمان لانےاور نیک اعمال کرنے والوں کے لیے بطور انعام تیار کیا ہے۔ یہ دائمی راحت امن اور بے مثال خوبصورتی کی جگہ ہے ، جہاں ہر قسم کی جسمانی اور روحانی نعمتیں موجود ہیں۔"
ہم مگر بات کر رہے ہیں محترم و معلم جناب بابر الیاس صاحب کی نئی تصنیف کردہ کتاب " جہنم" کی ۔
ہر شخص کے دل و دماغ میں، یہ فطری تین الفاظ( ، میں، جنت ،جہنم، ) نقش اور محفوظ ہیں۔، جنت و جہنم تو ان دیکھے مقامات ہیں، ان کے بارے صرف سنا ہے۔
آج ہم بابر الیاس صاحب کی بیان کردہ" جہنم " دیکھیں گے کہ۔انسان اپنے ہاتھوں جہنم خود کیسے تیار کرتا ہے ۔
محترم بابر الیاس صاحب ، انسان کو دستیاب سارے علوم کے سارے وسائل سے آگاہ ہیں۔ اہل علم و فکر کے قریب ، مشاہدے،تجربے اور شنید کو سب علمی وسائل سے برتر اور معتبر سمجھا جاتا ہے۔ بابر الیاس ، مشاہدے اور تجربے کے سنجیدہ مزاج طالب علم کی حثیت سے گہری نظر رکھتے ہیں ۔ وہ بالغ نظر استاد بھی ہیں۔ وہ اس فلسفہ حیات کے قائل ہیں کہ انسان علم سے سنورتا نکھرتا اور معاشرے میں عزت و تکریم پاتا ہے۔ اسیے اس کا علم حاصل کرنا ضروری ہے۔ یہی روشن نظریہ حیات وہ اپنے طلباء و قارئین میں تقسیم کرتے ہیں، جس کی تازہ کڑی ان کی تصنیف کردہ کتاب " جہنم" ہے۔
زندگی انسانی جسم کے تابع بے شمار اعضاء و عناصر کا مجموعہ ہے، جو لا تعداد فیصلے کرتا ہے ، اعمال کرتا ہے۔ان اعمال میں " میں" کا مطلوب و مقصود جنت خواہی اور جہنم سے نفرت اور بچاؤ ہوتا ہے۔ انسان زمین پر جنت کیا پیدا کرتا ، وہ زمین پر اپنی قائم کی ہوئی جہنم ہی سے فرصت نہیں پاتا۔۔
جنت:- اللّٰہ تعالیٰ کا عطاء کردہ دائمی نعمت کدہ ہے ۔جہاں اللّٰہ الرحمٰن اپنے بندوں کے لیے بےشمار نعمتیں سجا کر راضی ہے، اور اس کے بندے ان نعمتوں کو پا کر راضی ہیں۔
مذکورہ بالا جنت و جہنم کی معنوی تعریف پڑھ کر اور فکر و نظر کے مالک محترم جنا ب بابر الیاس کے" ناول جہنم " پڑھنے کے بعد یہ تصویر بڑی واضح شفاف ہوئی ملتی ہے کہ انسانی "میں " نے فطری جلد بازی میں اپنے لئیے اس زمینی زندگی ہی میں کئی چھوٹی چھوٹی جہنم بستیاں بسا رکھی ہیں، لہذا وہ بے چین رہتا ہے۔
۔ بابر الیاس کے ناول جہنم میں جتنی کہانیاں لکھی گئیں، جتنے واقعات بیان ہوئے ان سب کے مقامات اور کردار کسی پوشیدہ دنیا سے ادھارے نہیں لیے گئے بلکہ وہ سارے ہمارے ارد گرد زندہ چلتے پھرتے نظر آتے ہیں ۔ ہم مگر انہیں عبرت کہ نگاہوں سے نہ دیکھتے ہیں نہ اپنے نامناسب رویوں میں تبدیلی لاتے ہیں۔حالانکہ تحریر ہو یا تقریر ، اس کا مقصد ہی لوگوں کو بے خبری سے نکال کر باخبر کر کے پر امن پر سکون اور فرحتوں بھری زندگی گزارنے کی ترغیب دینا ہوتا ہے۔
بابر الیاس پیشے کے اعتبار سے معلم ہیں، وہ اپنے اندر زندہ و متحرک تعمیری اوصاف کو بڑے موثر انداز میں اتالیق بنا کر اپنے سامع اور قاری کو متوجہ کرتے اور پھر اس کے اندر چھپی ٹھنڈی شخصیت کو سچائیوں کی ہلکی ہلکی آنچ پر پکا کر متحرک معاشرتی شخصیت بناتے ہیں۔
وہ قومی نوجوانوں میں سے ہیرو تلاش کرنے کے فن سے آگاہ ہیں۔ اور اس انسانی و تاریخی حقیقت سے بھی واقف ہیں کہ "ہیروز" قوم کے متوسط طبقے سے اور کلاس روم میں پچھلے بنچوں پر بیٹھنے والے احساس کمتری کا شکار اور شرمیلے طلباء میں سے پیدا ہوتے ہیں۔ اگلی صفحوں میں بیٹھنے والے افراد چالاک اور طلباء شریر ہوتے ہیں۔
بابر الیاس صاحب ،کلاس روم میں پچھلے بنچوں پر بیٹھنے والے شرمیلے طلباء وطالبات کو حصول تعلیم میں محروم رہ کر اپنی زندگی کو جہنم بناکر گزارنے سے بر وقت آگاہ ہی نہیں کرتے بلکہ انہیں مثالی قومی ہیروز بن کر ابھرنے کا ہنر بھی سکھاتے ہیں۔
بابر الیاس کا " جہنم " پڑھ کر میں یہ کہنے میں دیر نہیں کروں گا ، کہ وہ اپنے قاری کو ایسی خطاؤں کا مرتکب ہونے سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں ، جن خطاؤں کے ارتکاب کی سزا صدیوں کو بگھتنا پڑتی ہے۔
" لمحوں نے خطا کی ، صدیوں نے سزا پائی "
انسان فطرتاً ، جلد باز ، ناشکرا ، جھگڑالو اور فسادی ہے اس لئیے وہ اپنے فیصلے کو انجام تک پہنچانے میں ہر قیمت پر ڈٹ جاتا ہے بھلے اسے اپنی عزت آبرو مال اور جان سے ہاتھ دھونا پڑیں۔
بابر الیاس نے اپنی کہانیوں کے جتنے کردار منتخب کئیے وہ منتقم مزاجی میں تاک دکھتے ہیں۔ وہ کردار ، ملک صاحب ہو، صندل ، ڈاکو اپنے خاوند کی قاتلہ بیوی ، طلاق یافتہ بگڑی عورت یا مال و دولت کی حرص و ہوس میں مبتلاء سنار ہو یا ساہوکار، وہ جاسوس بلراج ہو یا الجھا ہوا رستم و رقاصہ سائرہ ،اپنی فطرتی کمزوریوں کے اسیر اور اپنی حثیت و مقام انسانیت و بندگی سے بے خبر ہی پائے گئے ۔
بابر الیاس صاحب ، تجربہ کار ، صاحب فکر اور دور بین استاد ہیں، انہوں نے اپنی کتاب جہنم میں کسی خاص واقعہ کا تذکرہ شامل نہیں کیا ، بلکہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے ناپسندیدہ رویوں کی بنیاد پر پیدا ہوتے ہوئے بگاڑ پر اظہارِ خیال کیا ہے، جس پر اگر بروقت ہاتھ نہ ڈالا گیا تو انہی ضبط و قانون میں رکھنا ممکن ہے مشکل ہو جائے ۔
بابر الیاس صاحب جب لکھیں تو قارئیں کو ، بولیں تو اپنے سامعین کو اور پڑھائیں تو اپنے شاگردوں کو یہ باور کرواتے ہیں کہ کم علمی انسان کو نقصان نہیں پہنچاتی ، وہ صرف پسماندہ رکھتی ہے لیکن کج روی و بد اعمالی بد قماشی انسان اور معاشرے کو تباہ و برباد کر دیتی ہے۔ بدقماش ، بدمعاش ڈاکو لٹیروں کی ناپسندیدہ سرگرمیوں کا دورانیہ زیادہ تر پانچ سے سات سال تک کا ہوتا ہے۔ اس دوران یا تو مکافات عمل میں پار ہو جاتے ہیں یا پھر گمنامی کا شکار ہو کر جیتے ہیں۔
ان ظالم بے رحم اور سفاک اور لالچی درندوں کا انجام ویسا ہی ہوتا ہے جیسا بابر الیاس نے جہنم کے صفحہ 232 پر لکھا ہے" تمہیں مر ہی جانا چاہیئے بلراج ، اور ۔۔۔۔جبر اور ظلم کا یہ باب اپنون ہی کے ہاتھ سے بند ہو گیا تھا"
وہ سینیئر طلباء وطالبات کو فی البدیہ ، برجستہ اور واضح بتاتے ہیں کہ زندگی اور وقت نہ تو اپنی رفتار بدلتے ہیں نہ رویہ، البتہ انسان اپنی خواہشات کی ترجیحات بدلتا رہتا ہے، جیسے طالب علم کی ترجیحات ، پیشہ ورانہ افراد سے مختلف ہوتی ہیں۔
یونیورسٹی کی کینٹین یا لائبریری کے جس کونے میں کبھی اکرم اور طاہرہ ںیٹھتے تھے وہ گوشے اب بھی موجود ہیں لیکن اب اس پہ تیمور اور نفیسہ بیٹھتے ہیں۔
اکرم اور طاہرہ تو تعلیم مکمل کرکے معاشرے میں پروفیسر اور ڈاکٹر بن کر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اور لائبریری کے انہیں گوشوں میں تیمور اور نفیسہ اور نہ جانے کون کون بیٹھ کر نفسانی جذبوں اور نسوانی حسن پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔
بابر الیاس سے براہ راست پوچھیں کہ وہ ایسی سخت جان تحریریں کیوں لکھتے ہیں ، جنہیں نہ موسمیاتی اثرات گہناتے ہیں اور نہ انہیں غیر دلچسپی کی پھپھوندی لگتی ہے۔ تو وہ نہیں بتائے گا ، مگر اس کی تحریریں بولتی ہیں :-
"درد کیا ہے اور مدعا کیا-
نسلوں کی بقاء کیا ہے "
یعنی فرمان الٰہیہ کے مطابق:- "قد افلح من ذکہا "یقیناً فلاح پا گیا جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا ۔ گویا اچھائی اور برائی کا ارتکاب آسمانی حکم نہیں بلکہ انسانی اختیار ہے۔
جہنم کا مصنف راسخ العقیدہ مسلمان ہے ۔ وہ مکافات عمل پر یقین رکھتا ہے ۔ انہوں نے اپنی کتاب کے صفحہ 208 پر ازلی حقیقت اور لازوال سچائی لکھی ہے۔
" انسان جو کچھ کرتا ہے ، تاریخ اسے دہراتی ہے۔اود وہ وہی سب کچھ دیکھ کر مرتا ہے۔ کوئی بھی شخص عمل کے بعد مکافات سے نہیں ںچ سکتا ۔ وہ قہار و جبار جب عدل پر آتا ہے تو ظالم کے لئیے اسی دنیا میں یوم محشر برپا کر دیتا ہے۔ انسان بے انت جائیداد جاگیریں اور بین بیلنس بنانے میں لگا رہتا ہے, مگر اس کے ساتھ صرف اس کے نیک یا بد اعمال ہی جاتے ہیں۔ہہی سب کچھ ، صندل خان ، نرمل پانڈے اور ملک دلاور کے بعد رستم کے ساتھ ہوا"
جب انسان ۔یک روی اور خدمت عباد اللہ ترک کر کے ، مال و دولت اکٹھا کرنے کے
" جنون ' میں مبتلا ہو جائے یا لذت ذہن و دہن کا رسیا ہو جائے ، نفسانی خواہشات کے تابع ہو جائے تو وہ آرام و سکوں سے دور اور موت سے قبل پیش آنے والی اذیتوں کے قریب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ انسان پھر سکون نہیں پاتا بلکہ مزید چاہنے کا بخار بڑھتا چلا جاتا ہے جو پریشانیوں اور وسوسوں میں اضافہ کرتا ہے۔ اہل۔فکر ایسے طرز زندگی کو دنیا کا جہنم کہتے ہیں۔
سوال مگر یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان ، جو اشرف المخلوقات اور احسن تقویم پر پیدا کیا گیا ہے ، وہ اسفلا سافلین میں کیسے اترگیا ؟
اس سوال کا دو حرفی جواب ہے، " ترک قرآن" انسان کو راہ راست پر آنے نہیں دیتا ۔
احکامات الہیہ پر توکل اور شریعتِ محمدی کی پاسداری انسان اور انسانیت کی معتبر ترین محافظ ہے۔
اخر میں اللّٰہ تعالٰی سے دعا کرتے ہیں کہ بابر الیاس صاحب سدا بہار ، تعمیری اور پر تاثیر تحریریں لکھتے رہیں اور ہمیں پڑھنے کو ملتی رہیں۔
اطیعواللہ و اطیعوا الرسول اخوت و دلجوئی
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان ۔
(جہنم ناول کو سرکار پبلشرز ملتان نے شائع کیا ہے اور پاکستان بھر سے 03004228864 پر رابطہ کر کے کہیں بھی منگوایا جا سکتا ہے)
