آپ فرض کر لیں کہ اس کا نام فرحانہ ہے
تین بھائیوں کی اکلوتی بہن
گھر میں خوشحالی نہیں تھی لیکن بد حالی بھی نہیں تھی
چاروں بہن بھائی خوبصورت تھے
فرحانہ عام متوسط گھروں کی لڑکیوں کی طرح اچھا پڑھ رہی تھی
بھائی بھی عام متوسط گھروں کے لڑکوں کی طرح پڑھائی میں زیادہ اچھے نہیں تھے... (افسوس)
ان کے والد صاحب عقلمند تھے
دو بڑے بیٹوں کو کاروبار شروع کروا دیا
ایک سب سے چھوٹے والے کو بمشکل بی-اے کروا کر اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی سیٹ پر سرکاری نوکری لگوا دی
انہی دنوں میں چھوٹی بہن کا ایک بڑا اچھا well settled گھرانے سے رشتہ آگیا
والدین نے اپنی بساط سے بڑھ کر جہیز کے ساتھ بڑے اچھے طریقے سے بیٹی کی شادی کر دی.. لیکن اس کی تعلیم ادھوری رہ گئی
شادی کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد فرحانہ کے والد صاحب اچانک بی پی ہائی ہونے سے فالج کا شکار ہو گئے
ان کی حالت زیادہ اچھی نہیں تھی
اب وہ چاہتے تھے کہ اپنی زندگی میں باقی بچوں کے فرائض بھی ادا کر لیں -
بڑے کی شادی انہوں نے اپنے بھائی کی بیٹی سے کر دی
یہ لڑکی تھوڑی سی تیز طبیعت کی تھی
دوسرے کی شادی خالہ کے گھر کردی
ابھی چھوٹے کیلئے گھر میں مشورے ہورہے تھے جب اچانک فرحانہ کے والد صاحب کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی
تھوڑا عرصہ تک صاحب فراش رہنے کے بعد ان کی وفات ہو گئی
فرحانہ اب اپنی ماں کیلئے فکر مند رہتی تھی اور اکثر ایک، دو دن کے وقفے سے امی کی طرف چکر لگا لیتی تھی
اس کے اپنے اب ایک بیٹا اور ایک چھوٹی بیٹی تھی۔ دونوں بچے شہر کے ایک بہترین سکول میں جانا شروع ہو چکے تھے
بظاہر فرحانہ اپنے گھر میں خوش باش تھی
صرف اپنی ماں کیلئے بھابھیوں کے رویے سے پریشان رہتی تھی
فرحانہ کی والدہ نجمہ کیوں کہ میری بڑی اچھی دوست تھی اس لئے وہ میرے ساتھ بھی بہت پیار کرتی تھی
انہی دنوں میں فرحانہ نے مجھے کال کی
وہ بہت پریشان تھی
اس نے مجھے کہا
آنٹی..کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ ابھی اسی وقت میری طرف آجائیں.. مجھے آپ سے مشورہ کرنا ہے.. امی سے بات مت کیجیے گا
ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے،،
میں تھوڑی دیر میں اس کے پاس پہنچ گئی
دیکھا تو اس کا اجڑا ہوا حال تھا
گھر بھی بکھرا ہوا تھا
بچے سہمے ہوئے ایک ہی کمرے میں بیٹھے تھے۔ میں اندر داخل ہوئی تو وہ بھاگ کر آئی اور میرے گلے لگ کر رونا شروع ہو گئی
میں نے اسے رونے دیا تا کہ ایک مرتبہ وہ اپنی بھڑاس نکال لے
اس کے بعد اس نے پچھلے چھ سال کی جو کہانی سنانی شروع کی تو سچ پر میرا دل دکھ سے بھر گیا
اسے اپنے شوہر سے بہت زیادہ شکوے تھے
جن میں سر فہرست فرحانہ کا ہر دوسرے روز اپنی امی کے گھر جانے پر اس کے شوہر کا اعتراض کرنا تھا
پھر اس کی کزنز اور دوست لڑکیوں کی طرف آنے جانے پر پابندیاں لگانا تھا
پھر یہ کہ گھر کا خرچہ فرحانہ کے ہاتھ میں نہیں ہوتا تو اس بات پر بھی وہ اتنی دکھی تھی کہ وہ اپنا گھر چھوڑ کر جانے کو تیار بیٹھی تھی
میں نے اس کو بولنے دیا
پھر اس سے پوچھا کہ میرے چند سوالات کے جواب پوری دیانتداری سے دو-پھر سوچتے ہیں کہ اب کیا کرنا چاہیے
میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارا شوہر
1..بچے بیمار ہوں تو ان کا علاج معالجہ کرواتا ہے؟
2..ان کی تعلیم کے اخراجات خوش دلی سے برداشت کرتا ہے؟
3..گھر کا سودا سلف ٹائم پر اور مکمل لے کر آتا ہے؟
4..تم پر شک کرتا ہے؟
5..تم پر ہاتھ اٹھاتا ہے؟
6..تمہارے بھائی اور بھابھیاں کیا تمہاری امی کا بہت اچھا خیال رکھتے ہیں؟
7..کیا امی کے طرف مالی حالات بہت اچھے ہیں؟
جب میں نے اس سے پوچھے ہوئے سوالات کے جوابات اکھٹے کئے تو کہانی ایسی تھی کہ
شوہر بچوں کا علاج معالجہ تعلیم اور گھر کے اخراجات میں کوئی کمی نہیں کرتا
البتہ لباس اور سیر سپاٹے پر زیادہ خرچ نہیں کرتا.. امی کی طرف جانے پر موڈ بہت خراب کر لیتا ہے.. ہاتھ کبھی نہیں اٹھاتا.. کردار میں کوئی کمی نہیں.. شک کبھی نہیں کیا
میاں، بیوی کے درمیان مسائل اتنے گھمبیر نہیں تھے لیکن اس کی ایک سہیلی اپنی باتوں سے ہر وقت اس کو یہ باور کروانے کی کوشش کرتی رہتی تھی کہ تم تو بہت مشکل زندگی گزاررہی ہو اور ہم سب تو زندگی سے لطف اندوز ہورہے ہیں
اس کے بعد میں نے اسے سمجھانا شروع کیا
سب سے پہلے ان لڑکیوں سے محتاط یو جانے کا کہا جو خواہ مخواہ اسے اپنے سے کمتر ثابت کرنے کیلئے اسے مظلوم ہونے کا احساس دلاتی ہیں
اسے سمجھایا کہ ہر لڑکی کی زندگی کے امتحان الگ ہوتے ہیں
جو بظاہر خوش نظر آتی ہیں ان کے مسائل بہت بڑے بڑے ہیں
تم شکر ادا کرو کہ تمہیں کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔اگر گھر کا خرچ تمہارے پاس نہیں تو تم ان سے پوچھو جنہیں لگا بندھا خرچ ملتا ہے
سر ڈھانکییں تو پاؤں ننگے۔۔پاؤں ڈھانکیں تو سر ننگا
تمہارے بنیادی اخراجات پورے ہو رہے ہیں
تمہاری میکے میں اور معاشرے میں تمہاری عزت ہے تمہارا مقام ہے
جہاں تک بات ہے امی کی طرف جانے کی
تو اس کیلئے جب تمہارے شوہر کا موڈ اچھا ہو تو اس وقت اس سے بات کرنا۔۔ ہفتہ دس دن کے بعد جایا کرو اور امی کیلئے کچھ پکا کر، کچھ بنا کر لے جایا کرو
اس طرح تمہارے کم جانے کے باوجود تم اپنی ماں کا زیادہ خیال رکھ سکو گی.. یوں تمہاری امی بھی تم سے خوش رہیں گی اور شوہر بھی روز روز جانے پر موڈ خراب نہیں کرے گا
مجھے ایمانداری سے بتاؤ کیا تمہارے بھائی تمہارے بچوں کی ان سکولوں کی فیسیں دے پائیں گے.. یا تم بچوں کے بغیر جا کر بھائیوں کے پاس رہ سکتی ہو؟؟
تمہاری امی کی اپنی ذاتی آمدنی ہے جس وہ تمہارے بچوں کا یا تمہارا خیال رکھ سکیں
تمہاری تعلیم مکمل ہو چکی تھی جب تمہاری شادی ہوئی تاکہ تم کوئی جاب وغیرہ کر سکو؟
بیٹا...!
یہ میاں، بیوی کی محبت چاند جیسی ہوتی ہے.. کبھی چاند پہلی کا ہوتا ہے، کبھی چودھویں کا ہوتا ہے.. کبھی اندھیری رات ہوتی ہے.. لیکن وہ رات گزر ہی جاتی ہے
لیکن اس اندھیری رات سے گھبرا کر کبھی ایسا فیصلہ مت کرنا جس سے تمہارے بچوں کے سر سے باپ کا سایہ چھن جائے.. یا ان کی تعلیم یا تربیت میں کمی رہنے کا اندیشہ ہو
مجھے یقین ہے کہ چند سالوں کی بات ہے
جب اس کا بیٹا یونیورسٹی سے ڈگری لے رہا ہو گا وہ کانووکیشن میں اپنے شوہر کے ساتھ پہلی کرسیوں پر بیٹھی ہو گی
ہر بچے کا حق ہے کہ اسے ماں اور باپ دونوں کا پیار ملے... اچھی تعلیم ملے.. اچھی تربیت ملے... اچھا انسان اور اچھا مسلمان بننے کے مواقع ملیں
افراد سے معاشرہ بنتا ہے.. اچھے بچے ہی اچھے افراد بنتے ہیں... اور.. . اچھے افراد اچھا معاشرہ بناتے ہیں
اللہ ہمیں توفیق دیں کہ اچھے مسلمان بنانے اور اچھے معاشرے کے قیام میں اپنا حصہ ڈال سکیں
