اس پوسٹ کو پڑھنے والے 99.9 فیصد لوگ ایسا کرنے والوں کو برا بھلا کہیں گے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ میرا آپ سے سوال ہے۔ کیا آپ کو کسی جگہ بغیر رش کے روک کر کھانا دیا جائے تو آپ وصول کریں گے؟ دل سے جواب دیں۔
میرا جواب ہے نہیں۔ میں منع کر دونگا۔ فری کا کچھ بھی نہیں چاہیے وہ جس مرضی نام کے ساتھ ہو۔ مجھے شدید بھوک لگی ہو تب بھی نہیں۔ آپ کو شاید یقین نہیں آئے میرے ساتھ یہاں میرے چڈی فرینڈز ایڈ ہیں۔ بہت بڑے دربار والے گاؤں سے تعلق ہے۔ نجانے کس نے مجھے یہ سکھا دیا کہ بانٹی جانے والی چیز کی لائن میں لگ کر ہاتھ پھیلانا مناسب طرز عمل نہیں ہے۔ میری امی اور دادی کہتی ہیں تم گلی محلے میں بانٹی جانے والی ٹکی ٹافیاں بھی نہیں لیتے تھے کسی سے۔ انکار کی لوگ وجہ پوچھتے تو تم کہتے میری امی مارتی ہے۔ حالانکہ میری امی نے کبھی نہ منع کیا نہ مارا۔ بڑا ہوا سکول کے راستے میں دربار آتا تھا۔ ہر جمعرات کو لڑکے سکول سے واپسی پر دربار سے چاول کھا کر آتے۔ مگر مجھے وہاں فقیروں کی طرح ہاتھ یا جھولی پھیلانا شاپر آگے کرنا بہت عجیب لگتا تھا۔ دوست زبردستی ساتھ بھی لے جاتے، چاول لے آتے تو ان کا دل رکھنے کو ایک دو نوالہ لے لیتا۔ کہ دوستی بنی رہے۔ کوئی گھر چیز آجاتی تو وہ ہمیشہ کھا لی۔ باہر سے لائن میں لگ کر ہاتھ پھیلا کر ، بائیک گاڑی روک کر کچھ نہیں لیا۔
مجھے ایسا لگتا ہے کسی نے مجھے وہاں لائن میں دھکا مارا میں نے اسے چپیڑ مار دینی ہے۔ اور لڑائی ہو جانی ہے۔ اس لائن میں لگی عوام تو لڑائی شوق سے کرتے ہیں اور تو کچھ کرنے کو ہے نہیں لائف میں۔ تو نہ نہر میں نہاتے ہیں نا دیگ دیتے ہیں۔
آپ نے کسی اور کو نہیں بس اپنے بہن بھائیوں اور بچوں کو، اپنی اولاد کو ایسی فری میں بانٹی جانے والی چیز نہ لینے کی تلقین کرنی ہے۔ ان کو اس لائن سے باہر نکالنا ہے۔ آپ استاد ہیں بچوں کو یہ بات بتانی ہے۔ آپ امام مسجد ہے مقتدیوں کو بتائیں کہ وہی کھانا شام کو گھر مل جائے گا۔ وہ کوئی من و سلوی نہیں ہوتا جس کے لیے بعض اوقات آپ اپنا وقار اور عزت نقس مجروح کروا لیتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں ایک دن میں اگر میرے ملک میں ایک لاکھ لوگ لائن میں لگتے ہیں۔ ان میں سے پچاس ہزار تک بھی میرا پیغام پہنچ جائے تو باقی کے پچاس ہزار شاید بندے کے پتر بن کے پارسل لے لیں۔ لیکن یہ بھی میرا بس وہم ہی ہے۔ دو لوگ بھی لائن میں ہوں تو بھی پیچھے والا مرنے والا ہوجائے گا کہ میری باری تک کھانا ختم نہ ہوجائے۔ یا وہ دونوں چاہیں گے کہ سب کچھ ہمیں مل جائے۔ آپ نے سو بار دیکھا یا خود تجربہ کیا ہوگا کہ تقسیم کار فرد اپنے کپڑے اور جان بچا کر بھاگ جاتا ہے۔ کہ اسکے سامنے کھڑے انسان ، حیوان بن کر اسے بھی دبوچ لیتے ہیں۔ اسکی چٹنی بن جاتی ہے اگر بھاگے نہیں۔
مجھے ایسا کرنے والوں پر رحم اور ترس آتا ہے۔ کہ ان کو ایسا رکھا گیا ہے، نسل در نسل بھوکا، منگتا، فری ملی چیز پر ٹوٹ پڑنے والا، ان لوگوں کی تربیت جان بوجھ کر ہمارے تعلیمی نظام نے نہیں کی۔ معاشی نظام بھی جان بوجھ کر بہتر نہیں کیا جا رہا کہ ان کی دو وقت کی روٹی پوری ہونے لگی تو یہ اپنے دیگر حقوق مانگنے لگیں گے۔ پچیس کروڑ کو کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔ ان کو بھوکوں مرتے رکھو، عزت نفس کا ریپ ہوتے رہنے دو، پڑھ لکھ بھی جائیں تو نوکری مت دو، کوئی روزگار کا بندوبست نہ کرو، ان کی بہت بڑی خوشی لائن میں لگ کر بریانی کا شاپر لے لینا ہی رہے۔ قوم ذات برادری کی تقسیم پیدا کرو، صوبوں میں تفرق پھیلاؤ، لسانی اختلافات کو ہوا دو، مہاجر مقامی کی تفریق قائم رکھو، قوم کی کو بھکاری بنا کر بینظیر انکم سپورٹ جیسے ناسور پر لگائے رکھو، کہ ایسی مائیں کیسے غیرت مند بچے پروان چڑھا پائیں گے۔ یہ اور بہت کچھ ایسا جو لکھا نہیں جا سکتا، ہم سب اس جال اور چال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہماری سوچوں کو قید کیا گیا ہوا ہے، کالے جادو کا تو کوئی توڑ ہوگا وہ ایک انسان پر ہوتا ہے، اس جادو کا کوئی توڑ نہیں جو کئی Layers میں پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ سب ایک بار نہیں نکلیں گے۔ سوچ کا بند ہر دروازہ یا تالا ایک بار نہیں ٹوٹے گا۔ اس میں انفرادی عمل زیادہ کارگر ہے۔ آپ اپنے بچوں کو یہ فری کے کھانے کی لائن سے ساری عمر کے لیے باہر کر دیجیے، آپ نے سمجھیں اپنی نسلیں سنوار دی ہیں۔
محرم الحرام میں نیاز کی تقسیم پر حملہ آور بھائیوں کی وڈیوز دیکھ کر دل دکھی ہوا ۔ کہ بانٹنے والا بھی کیا سوچتا ہوگا ان لوگوں نے کبھی کھانا دیکھا ہی نہیں۔ اداکارہ ریشم کی ویڈیو دیکھی۔ کس طرح جاہلوں کا ہجوم اسے پریشان کیے ہوئے تھا۔ سرکاری سبیلوں پر پولیس کی بندوق اور ڈنڈے نے عوام کو تھوڑا بہت تہذیب میں رکھا۔ یہاں تو چلو کھانا ختم ہو جانے کا ڈر ہوتا ہے کہ مجھے شاید پارسل نہ ملے ۔ شادی یا کسی دعوت پر سالن کی پرات اور آئس کریم کا پورا کلو دو کلو والا پیکٹ اپنی پلیٹ پر پلٹتے ہوئے انکل اور آنٹیاں بھی آپ ہر محفل میں اپنی یا پاس کی ٹیبل پر دیکھتے ہیں۔ اپنے زیر اثر جس کو بھی کہہ سکتے ہیں آج ہی اس عادت کو بدلنے کا کہیے۔ آپ بہت بڑے معاشرتی مثبت بدلاؤ کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔
