یوٹیوب کا پراسرار سائنسدان۔۔ مجاہد خٹک

یوٹیوب کے پیچھے ایک ایسی مشین کام کر رہی ہے جسے آپ دیکھ نہیں سکتے اور نہ ہی کنٹرول کر سکتے ہیں۔ ہم اسے بطور مثال سائنسدان کہہ لیتے ہیں۔

لجس لمحے آپ اپ لوڈ کا بٹن دباتے ہیں، یہ سائنسدان حرکت میں آ جاتا ہے۔
اسے ہم الگورتھم کہتے ہیں۔

ہر ایک منٹ میں یوٹیوب پر اوسطاً 500 گھنٹوں سے زیادہ کا مواد اپلوڈ ہوتا ہے۔ 
اور سائنسدان کو بہت تیزی سے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کس ویڈیو کو زیادہ لوگوں کو دکھایا جائے اور کسے کم لوگوں کو دکھایا جائے۔

آپ کی ویڈیو بھی انہی فیصلوں میں سے ایک ہے۔

جب آپ ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہیں تو یوٹیوب آپ کو کوئی ٹرافی نہیں دیتا۔ وہ آپ کو ایک کمرہ دیتا ہے۔

فرض کریں کہ یہ پچاس نشستوں والا ایک کمرہ ہے۔ اس کے دروازے پر آپ کا تھمب نیل لگا ہوتا ہے، ایک ایسے بینر کی طرح جو لوگوں کو بتاتا ہے کہ کمرے میں سکرینوں پر چلنے والی ویڈیو کا موضوع کیا ہے۔

اس کے ساتھ آپ کا ٹائٹل کھڑا ہوتا ہے، جیسے کوئی ہانک لگانے والا ہر گزرنے والے کو ایک ہی بات دہرا رہا ہو۔

تھمب نیل لوگوں کی نظر پکڑتا ہے۔
ٹائٹل انہیں اندر آنے کی وجہ بتاتا ہے۔
اور دونوں کو ایک ہی کہانی سنانی ہوتی ہے۔
کیونکہ ٹائٹل کا کام صرف شور مچانا نہیں۔
اس کا اصل کام ایسے لوگوں تک آواز پہنچانی ہے جو ویڈیو کے موضوع میں دلچسپی رکھتے ہوں۔

اگر ٹائٹل معجزاتی علاج کی آواز لگائے لیکن بینر پر بلی کی تصویر ہو، تو لوگ کمرے کو نظرانداز کر دیں گے۔ اور سائنسدان اپنی نوٹ بک میں اس کمرے کو ناقابل اعتماد قرار دے کر لکھ لے گا۔

اور یہ سائنسدان ٹوٹے ہوئے وعدے بہت دیر تک یاد رکھتا ہے۔

ہر گھنٹے ہزاروں یا لاکھوں ایسے کمرے بنتے ہیں، بھرے جاتے ہیں، آزمائے جاتے ہیں اور اکثر کسی گمنام دوراہے پر رکھ دیے جاتے ہیں۔ 

سب سے بڑی غلطی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زیادہ تر ویڈیو بنانے والے یوٹیوب کو ایک جوا خانہ سمجھتے ہیں۔
لیور کھینچو۔
اور امید کرو کہ قسمت مہربان ہو جائے۔
لیکن یوٹیوب جوا خانہ نہیں ہے۔
یہ ایک نظام ہے۔

یہ نظام بے ترتیب نہیں ہے۔
یہ صرف بے پرواہ ہے۔

شیشے کے پیچھے بیٹھا سائنسدان آپ کی محنت کی پرواہ نہیں کرتا۔
اسے اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کتنی راتیں جاگے، ایڈیٹنگ میں کتنا وقت لگایا، یا پبلش کا بٹن دباتے وقت آپ کتنے خوش تھے۔
اسے صرف ایک چیز سے مطلب ہے
ناظرین کا ردعمل کیا تھا۔ ناظرین اپنا ردعمل دو طریقوں سے ظاہر کرتے ہیں اور دونوں ہی اہمیت رکھتے ہیں۔

Click-through Rate (CTR)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت لاکھوں لوگ ایک ایسے شہر میں گھوم رہے ہیں جو کبھی نہیں سوتا۔
ہر شخص کسی ایسے کمرے کی تلاش میں ہے جس میں داخل ہونا فائدہ مند ہو۔

ان کے پاس تقریباً ڈیڑھ سیکنڈ ہوتا ہے کہ وہ آپ کے بینر کو دیکھیں اور آپ کے ٹائٹل کی آواز سن سکیں۔ اور فیصلہ کریں کہ کمرے میں داخل ہونا ہے یا آگے بڑھ جانا ہے۔

کچھ لوگ ان دونوں کو دیکھ کر کمرے میں داخل ہوتے ہیں اور کچھ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ان دونوں کا تناسب آپ کا سی ٹی آر ہوتا ہے۔ فرض کریں 100 لوگوں نے آپ کا تھمب نیل اور ٹائٹل دیکھا اور 5 لوگ کمرے میں داخل ہو گئے تو سی ٹی آر 5 فیصد ہو گا۔
سائنسدان کے نزدیک یہ صرف ایک نمبر نہیں۔
یہ ایک ووٹ ہے۔

اگر آپ کا CTR دو فیصد ہے تو اس کا مطلب ہے کہ 100 میں سے 98 لوگوں نے فیصلہ کیا کہ سڑک پر مٹر گشت کرنا آپ کے کمرے سے زیادہ دلچسپ بات ہے۔ ایسی ویڈیو کو سائنسدان رونق والے بازار سے اٹھا کر کسی سنسان جگہ پر پھینک دیتا ہے۔

جس وقت پہلا شخص کمرے میں داخل ہوا ایک اور امتحان شروع ہو جاتا ہے۔

 AVD اور APV
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں جونہی پہلا شخص قدم رکھتا ہے، سکرین پر ویڈیو چلنا شروع ہو جاتی ہے۔ کمرے میں ایک سے زیادہ سکرینیں رکھی ہیں اور ہر داخل ہونے والا شخص اپنی سکرین پر ویڈیو کو آغاز سے دیکھنا شروع کرتا ہے۔ پہلے 30 سیکنڈ سب سے اہم ہوتے ہیں۔ اگر اس میں بہت سے لوگ کمرہ چھوڑ دیتے ہیں تو ویڈیو کی ناکامی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

لوگ آپ کی ویڈیو اوسطاً کتنی دیر دیکھتے ہیں، اسے Average View Duration یا AVD کہتے ہیں۔ یہ منٹوں اور سیکنڈوں میں گنا جاتا ہے۔ اسے دیکھنے کا دوسرا طریقہ Average Percentage View یا APV ہے جس میں منٹوں کے بجائے فیصد میں دیکھا جاتا ہے کہ اوسطاً لوگوں نے کتنے فیصد ویڈیو دیکھی ہے۔ 

سائنسدان کے لیے یہ اعداد و شمار نہیں۔ یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے۔

فرض کریں کہ ویڈیو 10 منٹ کی ہے، اسے سو لوگوں نے دیکھا اور اوسط اے پی وی دو فیصد تھی تو سائنسدان کمرے کو پر رونق جگہ سے ہٹا کر کسی سنسان گزرگاہ پر ڈال دے گا جہاں اکا دکا لوگ ہی اسے دیکھ سکیں گے۔

 جس ویڈیو کا اے پی وی 35٪ ہو یعنی اوسطاً لوگوں نے 35 فیصد ویڈیو دیکھی تو سائنسدان کمرے کو نسبتاً زیادہ پررونق جگہ پر منتقل کر دے گا۔ اگر اے پی وی 40 فیصد ہو جائے اور سی ٹی آر بھی پانچ فیصد سے اوپر ہو تو ویڈیو کی کامیابی کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے۔


#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !