انسانی تہذیب کی پوری تاریخ میں لفظ کبھی بھی محض علامت نہیں رہا۔ وہ ہمیشہ ایک زندہ وجود رہا ہے، ایک ایسی قوت جو روح میں اترتی ہے، عقل کو جھنجھوڑتی ہے، اور معاشرے کو اندر سے بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام آسمانی کتابوں، تمام عظیم شاعروں، تمام قدیم فلاسفروں نے لفظ کو "کلام" کہا، یعنی وہ گفتگو جو زندہ ہو، جو سنے جانے کا تقاضا رکھتی ہو، جو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ قرآنِ کریم کو "کلام اللہ" اور "کلامِ الٰہی" کہا گیا۔ اردو، فارسی اور عربی شاعری کو "کلام" کہا گیا۔ مولانا رومؒ کی مثنوی کو "کلامِ رومی" کہا گیا۔ غالب کے اشعار کو "کلامِ غالب" کہا گیا ، علامہ اقبال کی شاعری کو کلام اقبال لکھا اور پکارا گیا۔ یہ سب محض روایتی اصطلاح نہیں تھی، اس کے پیچھے ایک گہرا فلسفیانہ شعور کارفرما تھا۔
پھر اچانک، بیسویں صدی کے وسط سے، مذہبی اور ادبی نصابوں میں ایک خاموش مگر انتہائی خطرناک تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ "کلام" کی جگہ "متن" نے لے لی۔ Text نے Speech کو بے دخل کر دیا۔ زندہ لفظ کو بے جان کردیا گیا۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ مذہبی اور ادبی مدرّسین نے اس تبدیلی کو سوال کرنا تو درکنار، محسوس تک نہ کیا۔ یہ مضمون اسی "ادراکی تبدیلی" کو بے نقاب کرنے کی کوشش ہے، اس سوال کے ساتھ کہ یہ تبدیلی کب ہوئی، کس نے کی، اور سب سے اہم، کیوں کی گئی اور اس سے کس طبقے کو فائدہ پہنچا۔
ادراکیت کے نظریے کی روشنی میں "کلام" کو تین سطحوں پر سمجھا جا سکتا ہے۔ پہلی سطح حسی ادراک کی ہے، یعنی وہ آواز جو کان میں پڑتی ہے اور جسمانی ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ دوسری سطح جذباتی ادراک کی ہے، یعنی وہ اثر جو دل پر پڑتا ہے اور کیفیت پیدا کرتا ہے۔ تیسری سطح عقلی و سماجی ادراک کی ہے، یعنی وہ شعور جو معاشرے کو بدلنے پر آمادہ کرتا ہے۔ "کلام" تینوں سطحوں پر بیک وقت کام کرتا ہے۔ اسی لیے جب قرآن نازل ہوا تو عرب کے سخت دل سن کر روتے تھے، جب غالب نے غزل کہی تو سننے والے بے قرار ہوئے، جب اقبال نے نظم لکھی تو لوگوں کو فکری بنیادیں نصیب ہوٸیں اور جب ساحر نے مزاحمتی کلام لکھا تو تخت لرزتے نظر آۓ۔
"متن" اس کے برعکس صرف پہلی سطح پر کام کرتا ہے، یا بمشکل دوسری سطح تک پہنچتا ہے۔ متن پڑھا جاتا ہے، محسوس نہیں کیا جاتا۔ متن کا تجزیہ ہوتا ہے، اثر نہیں۔ متن کو Decode کیا جاتا ہے، جذب نہیں کیا جاتا۔ ( ڈی کوڈ کرنے کی ٹینیک کو بھی نہ صرف رواج دیا گیا بلکہ اس کے اکڈیمک مرتبے کا تاثر بھی پیدا گیا ) ۔
یونانی فلسفے میں بھی اس فرق کو خوب سمجھا گیا تھا۔ افلاطون نے اپنے مکالمے "فیدرس" میں سقراط کی زبانی کہلوایا کہ تحریر (متن) اصل علم نہیں دیتی کیونکہ وہ جواب نہیں دے سکتی، وہ مردہ ہے۔ اصل علم وہ ہے جو زندہ گفتگو (کلام) سے روح میں اترے۔ ارسطو نے بھی "ریٹورک" میں Logos (منطق)، Ethos (کردار) اور Pathos (جذبہ) کو یکجا کرنے والی گفتگو کو بالاتر مانا۔ یہ تینوں عناصر "کلام" میں ہوتے ہیں، خالص "متن" میں نہیں۔
عربی لسانیات میں "کلام" کی تعریف "لفظ مفید" سے کی گئی ہے، یعنی وہ لفظ جو فائدہ دے، جو اثر ڈالے، جو مکمل ہو۔ سیبویہ سے لے کر ابنِ جنّی تک تمام عربی نحویوں نے "کلام" کو ایک زندہ ابلاغی عمل کہا جبکہ محض حروف اور الفاظ کو "قول" یا "لفظ" کہا جو "کلام" سے کمتر درجہ رکھتے ہیں۔
اسی روایت میں قرآنِ کریم کا نام "کلام اللہ" رکھا گیا۔ یہ محض "اللہ کی تحریر" نہیں، یہ "اللہ کا زندہ خطاب" ہے، جو ہر پڑھنے والے سے براہِ راست مخاطب ہوتا ہے، جو ہر دور میں نئے معنی کھولتا ہے، جو سینے میں اترتا ہے نہ کہ صرف آنکھوں سے گزرتا ہے۔ "إِنَّهُ لَقَوْلٌ فَصْلٌ" — یہ قاطع قول ہے، فیصلہ کن کلام ہے۔ یہ وصف کسی "متن" کا نہیں ہو سکتا۔
"متن" یعنی Text کا تصور مغربی تنقیدی روایت میں بیسویں صدی کے وسط میں ابھرا اور پھر تیزی سے دنیا بھر کے علمی اداروں میں پھیل گیا۔ اس کے پیچھے کئی مصنوعی فلسفیانہ تحریکیں اور من گھڑت تھیوریاں کارفرما تھیں۔
ساختیات (Structuralism) کے علمبردار فرڈیننڈ نے زبان کو ایک بند نظام کہا جس میں Signifier (لفظ) اور Signified (مفہوم) کا تعلق من مانا اور بے جان ہے۔ اس نظریے نے لفظ کو اس کی سماجی، روحانی اور تاریخی جڑوں سے کاٹ دیا۔ لفظ اب ایک نشان (Sign) تھا، کوئی زندہ حقیقت نہیں۔ اسی بنیاد پر رولاں بارت نے 1967 میں اپنا مشہور مضمون "مصنف کی موت" (The Death of the Author) لکھا جس میں کہا گیا کہ کوئی بھی تحریر اپنے مصنف سے الگ ہو جاتی ہے اور قاری جو چاہے معنی نکالے۔ یہاں کلام کو متن بنانے کا سب سے بڑا فلسفیانہ وار ہوا۔
پس ساختیات (Post-Structuralism) اور خاص طور پر ژاک دریدا نے "گرامیٹولوجی" میں یہ دعویٰ کیا کہ تحریر (Writing) گفتگو (Speech) سے اعلیٰ ہے کیونکہ گفتگو میں مصنف کی "موجودگی" کا وہم ہوتا ہے جو حقیقت نہیں۔ اس نے مغربی فلسفے کی پوری روایت کو "صوت مرکزیت" (Logocentrism) اور "موجودگی کی مابعدالطبیعات" (Metaphysics of Presence) کا شکار قرار دے کر رد کر دیا۔ دریدا کا یہ نظریہ بظاہر فلسفیانہ تھا مگر اس کا عملی نتیجہ یہ نکلا کہ کلام کی بالادستی ختم ہوئی اور متن سب کچھ بن گیا۔
نئی تنقید (New Criticism) نے بھی یہی راہ اختیار کی۔ ٹی ایس ایلیٹ، آئی اے رچرڈز اور کلینتھ بروکس نے کہا کہ ادب کا تجزیہ "خود متن" تک محدود ہونا چاہیے، نہ مصنف کی نیت اہم ہے نہ تاریخی سیاق، صرف الفاظ کی ترتیب اور ان کے باہمی تعلقات۔ یہ نقطہ نظر Intentional Fallacy اور Affective Fallacy کے نام سے مشہور ہوا۔ نتیجہ؟ شاعری بھی "متن" بن گئی، اور شاعر کا درد، اس کا تجربہ، اس کی زندگی، سب غیرمتعلق قرار پائے۔
یہ تبدیلیاں 1950 سے 1980 کے درمیان مغربی یونیورسٹیوں میں پختہ ہوئیں، اور پھر نوآبادیاتی تعلیمی نظام کے ذریعے پوری دنیا کے ادبی اور مذہبی نصابوں میں سرایت کر گئیں۔ پاکستان، ہندوستان، مصر، ایران، ترکی، ہر جگہ یونیورسٹیوں میں "متنیاتی تجزیہ" (Textual Analysis) لازمی ہوا اور "کلام کی تفہیم" ثانوی یا غیرضروری قرار پائی۔
ادراکیت یہ سوال اٹھاتی ہے کہ جب کوئی فکری تبدیلی آتی ہے تو اس سے کس کو فائدہ ہوتا ہے اور کس کو نقصان؟ جس کا جواب ہمیں تاریخ یہ دیتی ہے کہ کلام کو متن سے بدلنے سے فائدہ تین طبقوں کو ہوا۔
پہلا طبقہ سامراجی اور نوآبادیاتی قوتیں ہیں ۔ جب انگریز برِصغیر پر قابض ہوئے تو انہیں معلوم تھا کہ قرآن اور شاعری کا کلام عوام کو اندر سے بدل سکتا ہے، انہیں بغاوت پر آمادہ کر سکتا ہے۔ 1857 کے بعد انگریزوں نے برصغیر کو فارسی لسانی تہذیب سے کاٹنے کے لیے اردو کا بول بالا کیا فورٹ ولیم کالج میں بناۓ گٸے سسٹم۔کے زریعے زبان ، ادب ، نصاب اور مدرس کو کنٹرول کرلیا جبکہ مذہبی تعلیم کو "روایتی" اور "غیرعلمی" قرار دے دیا۔
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جب قرآن کو "متن" بنا دیا جائے، جب اس کا زندہ خطابی کردار ختم کر دیا جائے، تو وہ محض ایک تاریخی دستاویز بن جاتا ہے جس سے ذاتی یا سیاسی قوت نہیں ملتی۔ لارڈ میکالے کی تعلیمی پالیسی کا اصل ہدف یہی تھا کہ مقامی آبادی کو ان کے "کلام" سے کاٹ دیا جائے۔
اس متنی سازش کے دوسرے بینیفشری کے طور پر سیکولر اشرافیہ اور علمی ادارے سامنے آتے ہیں۔ بیسویں صدی کے مغربی علمی ادارے وہ تھے جہاں مذہب پہلے ہی سے مشکوک تھا۔ ان اداروں کو "کلام اللہ" کا تصور قبول نہیں تھا کیونکہ وہ کسی الہامی اقتدار کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ اگر قرآن محض ایک "متن" ہے تو وہ کسی بھی دوسرے ادبی یا تاریخی متن کی طرح تجزیے کا موضوع ہے، اس کا کوئی روحانی اقتدار نہیں۔ Orientalist تحریک نے بھی یہی کیا۔ نولڈیکے، گولڈزیہر، وانسبرو، اور بعد میں کرومر نے قرآن کو "متن" کے طور پر پڑھا تاکہ اس کی الہامی حیثیت کو چیلنج کیا جا سکے۔
تیسرا طبقہ، صارفیت اور سرمایہ دارانہ ثقافتی صنعت ہے جن کے لیے آج بھی "کلام" بہت ہی خطرناک طاقت ہے، کیونکہ وہ انسان کو بیدار کرتا ہے، اسے جھنجھوڑتا ہے، اسے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ ایک بیدار انسان صارف بننے سے انکار کر سکتا ہے، نظام سے سوال پوچھ سکتا ہے۔ "متن" محفوظ ہے کیونکہ اسے پڑھا جائے، امتحان دیا جائے، نمبر لیے جائیں، اور پھر بھول جائیں۔ آج کا تعلیمی نظام بالکل یہی کرتا ہے۔ طالب علم شیکسپیئر کا "متن" پڑھتے ہیں مگر اس کا کلام ان کے دل میں نہیں اترتا۔ حافظ کا "متن" پڑھتے ہیں مگر اس کی مستی سے محروم رہتے ہیں۔ علامہ اقبال کا "متن" نصاب میں ہے مگر اقبال کا کلام قوم کی رگوں میں نہیں دوڑتا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈگریوں کا رواج پڑگیا ، رٹا ازم اور لیکچر کلچر فروغ پا گیا لیکن علم سے سب دور ہوتے جا رہے ہیں۔
اس تمام معاملے میں سب سے زیادہ تکلیف دہ یہ ہےکہ "کلام" کو "متن" سے بدلنے کی فکری یلغار کا مقابلہ کرنا ان لوگوں کا کام تھا جو مذہبی اور ادبی تعلیم کے امین تھے، یعنی مدارس کے علماء، یونیورسٹیوں کے ادبی اساتذہ، اور نقادانِ ادب۔ مگر ان میں سے کسی نے یہ سوال نہ پوچھا کہ "کلام" اور "متن" میں کیا فرق ہے اور یہ تبدیلی کیوں آئی۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ یہی علماء اور مدرسین اقبال پڑھاتے ہیں لیکن نہ خود کبھی سمجھے نہ کسی کو سمجھا پاۓ ۔ مدرسوں کے بارے جو کچھ اقبال کہتا ہے کیا اج تک اس سے کسی مدرس یا مدرسے نے شعور حاصل کیا ہے۔ میں جب ان مدرسین کے نام نہاد علمی درجے اور مصنوعی تخلیقی ، تنقیدی اور تحقیقی شعور کو چیلنج کرتا ہوں تو یہ کچھ سیکھنے کی بجاۓ اپنے دفاع میں لگ جاتے ہیں اور موضوع پر بات کرنے کی بجاۓ میری سرزنش کی طرف توجہ موڑنا چاہتے ہیں ۔ میری کتاب اردو کی ادراکی تھیوری نے ان سب مدرسین کی بدیانتی کو ایسا بےنقاب کیا ہے کہ ان سے اپنا منہ چھپاۓ نہیں چھپ رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مدرّسین کی پوری تربیت مغربی علمی روایت کی بنائی ہوئی اصطلاحات میں ہوئی تھی اور ہو رہی ہے۔ انہوں نے Textual Criticism، Hermeneutics، Discourse Analysis اور Semiotics کو جوں کا توں قبول کر لیا کیونکہ یہ بظاہر "جدید" اور "علمی" نظر آتی تھیں بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ ان کو جدید اور علمی و ساٸنسی بنا کے پیش کیا گیا ۔ وہ نہ سمجھ سکے کہ ان اصطلاحات کے پیچھے ایک پوری سازشی نظریاتی عمارت ہے جو ان کی اپنی روایت کو کمزور کرتی ہے۔
مدارس میں قرآن آج بھی "کلام اللہ" ہے، مگر عملاً اسے ایک مقدس متن کی طرح پڑھایا جاتا ہے، یعنی الفاظ یاد کرو، تجوید سیکھو، تفسیر رٹو، مگر یہ نہ سوچو کہ یہ کلام آج کے مسائل سے کیسے مخاطب ہے۔ کلام کا زندہ پن، اس کا خطابی اقتدار، اس کی تبدیل کرنے کی قوت، یہ سب غیرحاضر ہے۔
ادبی اساتذہ کا حال اس سے بھی بدتر ہے۔ اقبال کو "متن" بنا کر پڑھانے والے بتائیں کہ ان کے کتنے طالب علموں کی زندگی اقبال کے کلام سے بدلی؟ میر کو "متن" بنا کر پڑھانے والے بتائیں کہ کتنے طالب علموں نے میر کو پڑھ کر ہجر کا درد محسوس کیا؟ کلام کو متن بنانے کے بعد استاد صرف ایک اطلاعات کا منتقل کرنے والا رہ جاتا ہے، تجربے کا واسطہ نہیں۔
پاکستان کی یونیورسٹیوں میں اردو ادب کے شعبوں کا المیہ یہ ہے کہ وہاں غزل "متن" ہے، وہاں نظم "متن" ہے، وہاں ناول "متن" ہے۔ استاد "متن" کا تجزیہ کرتا ہے، ساختیاتی، پس ساختیاتی، مابعدجدید — ہر قسم کا۔ مگر کلام کا جادو وہاں نہیں ہے۔ طالب علم ڈگری لے کر نکلتا ہے مگر ادب سے اس کا دل کا رشتہ نہیں بنا۔ یہ سانحہ صرف تعلیمی نظام کی ناکامی نہیں، یہ "کلام کو متن بنانے" کا منطقی نتیجہ ہے۔
تاریخ میں ہر اس طبقے کو "زندہ کلام" سے خطرہ ہوا جو طاقت پر قابض تھا۔ یہ ایک آفاقی اصول ہے۔
فرعون کو موسیٰ علیہ السلام کے کلام سے خطرہ تھا کیونکہ وہ کلام غلاموں میں بغاوت کی آگ لگاتا تھا۔ قریش کو قرآن کے کلام سے خطرہ تھا کیونکہ وہ قبائلی اشرافیہ کی بالادستی کو چیلنج کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ کے سرداروں نے لوگوں کو قرآن سننے سے روکا اور کہا "لَا تَسْمَعُوا لِهَٰذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ" کہ اس قرآن کو سنو ہی مت اور شور مچاؤ تاکہ آواز نہ سنائی دے۔ یہ کلام کی طاقت کا اعتراف تھا۔
اکبرِ اعظم کے دربار میں فیضی اور ابوالفضل نے دینی کلام کو "متن" بنانے کی کوشش کی تاکہ اسے سیاسی طاقت کے تابع کیا جا سکے۔ اورنگزیب نے فقہ کو "متن" کی طرح مرتب کروایا (فتاویٰ عالمگیری) کیونکہ "متن" کنٹرول ہوتا ہے، "کلام" نہیں۔
برطانوی سامراج نے 1835 کے بعد جب فارسی تعلیم ختم کی اور انگریزی نصاب نافذ کیا تو اصل ہدف یہی تھا کہ نوجوانوں کو ان کے کلام سے کاٹ دو۔ سعدی، رومی، حافظ، ان کا کلام ان کی رگوں میں نہ دوڑے، وہ محض نصابی "متون" بن جائیں۔ اور یہ منصوبہ بڑی حد تک کامیاب رہا۔
بیسویں صدی میں جب ساحر اور جالب کی نظمیں زبان زدِ عام ہوئیں تو حکومت کو خطرہ ہوا، ساحر کو ڈرا کر ملک سےنکال دیا گیا اور جالب کو جیل ہوئی۔ یہ کلام کی طاقت تھی۔ جب بھٹو نے عوامی جلسوں میں کلام کیا تو جنرل ضیاء کو خطرہ ہوا۔ جنرل ضیاء نے بھری کانفرنس میں اخترحسین جعفری کےکلام کا ذکر کرتے ہوے تھریٹ کیا اور جعفری کی شاعری کو یونیورسٹیوں میں شجر مجموعہ بنا کر رکھ دیا گیا اور مجید امجد جیسے کمزور شاعر کو اقبال سے بڑا بنانے کی کوشش کی گٸی ۔
آج کے دور میں "متن" کو ترجیح دینے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ متن کو Interpret کیا جا سکتا ہے، توڑا مروڑا جا سکتا ہے، اس کے "مختلف قرأتیں" نکالی جا سکتی ہیں۔ کلام کو ایسا نہیں کیا جا سکتا۔ جب کلام زندہ ہو، جب وہ براہِ راست دل سے دل تک پہنچتا ہو، تو اسے Mediate نہیں کیا جا سکتا، یعنی اس میں کوئی "ثالث" نہیں گھس سکتا۔ ادارے، تفسیریں، کمیٹیاں، سب کلام کو متن بنا کر اپنی بالادستی قائم کرتے ہیں۔
ادراکیت کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ ہر تخلیقی عمل اور ہر تخلیقی پیداوار تین سطحوں پر انسانی ادراک کو متاثر کرتی ہے۔ اس تناظر میں "کلام" ادراکیت کی سب سے مکمل تعریف پر پورا اترتا ہے جبکہ "متن" ادراک کی صرف پہلی یا بمشکل دوسری سطح تک رسائی رکھتا ہے۔
ادراکیت کے نقطہ نظر سے "کلام کو متن بنانا" دراصل ادراک کی کمی ہے، یعنی Perceptual Reduction۔ یہ وہی عمل ہے جو موسیقی کو نوٹیشن تک، مصوری کو رنگوں کی فہرست تک، اور محبت کو کیمیائی عمل تک محدود کر دیتا ہے۔ ہر چیز درست ہے مگر اصل سے محروم بھی ہے۔
کلام کی بحالی کے لیے ادراکیت یہ تجویز پیش کرتی ہے کہ ادبی اور مذہبی تعلیم میں سب سے پہلے کلام کا تجربہ کرایا جائے، تجزیہ بعد میں آئے۔ پہلے غزل سنی جائے، پھر سمجھی جائے۔ پہلے قرآن کو کلام کی طرح سنا اور محسوس کیا جائے، پھر اس کی تفسیر پڑھی جائے۔ پہلے میر کا درد محسوس کیا جائے، پھر ان کی شاعری کا تجزیہ ہو۔ یہی ترتیب فطری ہے اور یہی ادراک کو زندہ رکھتی ہے۔ ورنہ آج ہر دوسرا شعری مخنث میر میر کرتا نظر آتا ہے لیکن درد تبھی محسوس کرتا جب اس کےپیٹ یا گھٹنے میں ہو ۔
اس کے علاوہ ادراکیت یہ مطالبہ طھی کرتی ہے کہ اصطلاحاتی سامراجیت کو چیلنج کیا جائے۔ "Text" کو ہمیشہ "متن" نہیں کہنا چاہیے، ہمیشہ "کلام" کہنا چاہیے جب تجربے اور اثر کی بات ہو۔ یہ محض زبانی فرق نہیں، یہ ایک پوری نظریاتی بغاوت ہے جو ادراک کی زندگی کو واپس لانا چاہتی ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام نے "متن" کو اس لیے پسند کیا کیونکہ متن بکتا ہے، پیک ہوتا ہے، ڈیجیٹل ہوتا ہے، کمرشل ہوتا ہے۔ کلام نہیں بکتا کیونکہ اس کا تجربہ خریدا نہیں جا سکتا۔ کوئی پبلشر کلام کو پیک نہیں کر سکتا، کوئی الگورتھم کلام کو وائرل نہیں کر سکتا، کوئی اے آئی کلام نہیں بول سکتا۔
انسانی معاشروں کو یہ سمجھبے کی ضرورت ہے کہ جتنا زیادہ "متن" کی بھرمار ہوگی، اتنا ہی "کلام" کی ضرورت بڑھے گی۔ کیونکہ انسانی روح کو بدلنے کے لیے کلام چاہیے، متن نہیں۔ اور جب تک انسانی روح زندہ ہے، کلام زندہ رہے گا۔
ادراکیت کا یہ مقدمہ ہے کہ کلام کو واپس لایا جائے، نہ محض اصطلاح کے طور پر بلکہ ایک زندہ تجربے کے طور پر۔ مدارس میں، یونیورسٹیوں میں، گھروں میں، ادبی محفلوں میں۔ یہ صرف ادبی یا مذہبی سوال نہیں، یہ انسانی بقاء کا سوال ہے۔
( ادراکیت (Idrakiyat / Perceptionism) کے فلسفیانہ اصولوں کی روشنی میں لکھا گیا مضمون )
