یہ ایک طویل بحث تھی جس کا نتیجہ ہمیشہ حسابی ہندسے صفر کے برابر ہوا کرتا۔ باوجود اس کے یہ مباحثہ بلا ناغہ نت نئے رنگ، ڈھنگ کے ساتھ کم و بیش گھڑی کے سولہ درجوں تک جاری رہتا۔ کھیتوں کھلیانوں، میدانوں، اوطاقوں، بیٹھکوں، مسجدوں، ڈیروں، گلیوں محلوں، دکانوں، مکانوں سے ہوتا چوراہے کے اس مقام تک پہنچتا جہاں اس کی بنیاد تھی۔ کبھی کبھی بحث کا زوایہ دلیل کی اس نہج پر پہنچ جاتا کہ زمانہء براہم گپت، علم فلکیات، نجومیات، اجداد کی کہاوتیں اور قصے بھی لوک کہانیوں کا روپ دھارے اس بحث کے گوشوارے میں شامل ہو جاتے مگر نتیجہ پھر بھی وہی صفر رہتا۔ یہ مباحثہ محض پگڑیوں کے درمیان تک محدود نہ تھا بلکہ تمام عمر کے نفوس اپنی اپنی رائے قائم کرنے میں خود مختار تھے۔ کسی کے نزدیک بستی کا یہ پیپل کا پیڑ خوش بختی کی علامت تھا تو کسی کی نظر میں یہ توہمات کا مجموعہ ہوتا۔ کئی لوگوں ابھی 'تین میں نہ تیرہ میں' والی کہاوت کے مصداق آ رہے تھے کہ ان کے نزدیک ابھی اس پیڑ کی حتمی حیثیت قائم نہیں ہوئی تھی۔ کچھ پڑھے لکھے طبقات کے نزدیک اس پیڑ سے مرادوں کی پورے ہونے کا یقین رکھنا ایک قبیح فعل تھا جو شرعی رو سے غلط تھا۔ یعنی اس پیڑ کو لے کر بستی والوں کی کہانی کُل ملا کر یہ تھی کہ اپنی اپنی ڈفلی، اپنا اپنا راگ۔۔۔۔ میرے سر پر بھی چار جماعتیں پڑھنے کا گناہ تھا۔ میں نے بھی کبھی اپنی ظاہری حالت میں بہتری کی خواہش میں اس پیپل کے قریب نہیں جانا چاہا۔
پیڑ کی کرامات پر یقین رکھنے والے بستی کے لوگوں کی جانب سے آئے دن نئے نئے افعال دیکھنے کو اور نئے نئے عقائد سننے کو ملتے۔ روز نئی کہانیاں زدِ خلائق رہتیں۔ کوئی کہتا تھا کہ اس کے سائے میں کسی بزرگ نے بیٹھ کر طویل عرصے تک عبادت کی تھی جس کی عبادات کا اثر اس پیڑ پر ہے۔ کسی کا لبِ لباب یہ ہوتا کہ یہ پیڑ کم عمری میں ہی ایک مسجد کے صحن سے نکال کر یہاں لگایا گیا تھا جس کی وجہ سے اس کا اثر برکتوں والا ہے۔ یہاں تک بھی سننے کو ملتا کہ اس پیڑ پر نیک جنات کا بسیرا ہے جس کی وجہ سے اس پیڑ سے منتیں مرادیں پوری ہوتی ہیں۔
کسی کے جسم پر کسی بیماری کے آثار رونما ہوتے تو وہ اس کی جڑوں میں رکھے مٹی کے چراغوں سے تیل نکال کر متاثرہ جگہ لگاتے اور نذرانے کے طور پر نیا تیل ڈال جاتے۔ اسی طرح جنھیں سر کے بالوں کی بیماری لگ جاتی، وہ اس کی چھال یا پتوں کے پانی سے نہایا کرتے۔ جسے خود پر نظرِ بد کا اندیشہ ہوتا وہ پیڑ کے تنے پر کالا دھاگہ لپیٹ جاتا تاکہ اس کا برا اثر ختم ہو۔ جنھیں اولاد نرینہ میں بیٹے کی خواہش ہوتی وہ سبز دھاگہ لپیٹ جاتے۔ جسے سہاگ چاہیے ہوتا وہ سرخ یا پیلا دھاگہ لپیٹ دیا کرتا۔ بانجھ عورتیں اپنے دوپٹے پیڑ کی شاخوں پر باندھ جاتی۔ جس نے بھاری فصل اٹھانی ہوتی وہ ماشہ دو ماشہ بیج کسی کترن میں لپیٹ کر اس کی جڑوں میں دبا جاتا۔ اسی طرح روز کئی عجب طرز کے افعال دیکھنے کو ملتے۔
اس پیڑ اور لوگوں کی عقائد سے اختلاف رکھنے والے کچھ لوگوں، جن میں حاجی اشفاق عرف فاقے کا نام بڑا نمایا اور سرفہرست تھا، نے اکثر اس کی مزاحمت کرنا چاہی یا اس پیڑ کو کٹوانا چاہا تو اس پیڑ کے تحفظ میں ایک جمِ غفیر راہ کی دیوار بن جایا کرتا۔ پھر بات وہی تم تڑاک، بحث و مباحثے، علم فلکیات و نجومیات، زمانہء براہم گپت اور لوک کہانیوں سے ہوتے ہوئے ہندسہء صفر کی دیوار سے جا ٹکراتی اور میں خاموش بُت بنا یہ ساری کاروائیاں دیکھتا اور سنتا رہتا۔
یہ اگست کے پہلے عشرے کی ایک صبح تھی۔ سورج جوں جوں اپنے جوبن کو پہنچ رہا تھا فضا میں خنکی کا تناسب گھٹتا چلا جا رہا تھا۔ بستی میں یوں بھی صبح صادق سے چہل پہل شروع ہو جایا کرتی تھی اور چونکہ یہ مہینہ بھی ھٹی اور زیتون کی کاشت کے لیے مؤثر جانا جاتا تھا سو بستی والے اپنی مقامی زمینوں پر کاشت کاری کی غرض سے صبح کاذب سے ہی بیدار ہو جایا کرتے تھے۔ چوراہے پر لوگوں کی آمد و رفت کا سلسہ جاری تھا۔ میں بھی اپنے کھجور کے ٹاٹ پر سوا گزی صندوقچہ رکھے بیٹھا ٹوٹی ہوئی درجن بھر جوتیوں کو ترتیب دے رہا تھا کہ جگنو ناریل والے کو بستی کے کسی شخص سے بولتے سنا:
"چاچا فاقے کو تین ماہ ہو گئے شہر گئے مگر بیٹے کی آنکھ کا اب تک اپریسن نہیں ہوا۔۔۔"
وہ ناریل کو ترتیب سے رکھتے ہوئے بول رہا تھا۔
"ہم نے تو جانے سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ چاچا پیپل سے مراد مانگ لے مگر وہ 'رام بھگت عبداللّٰہ' بننے والوں میں سے کہاں۔۔۔ اس کی نظر میں تو یہ پیپل گناہوں کا مقبرہ ہے"
تخاطب شخص نے معترض انداز میں منہ پھیرا۔
"اندھے کی آنکھ میں سرمہ ڈالنے پر جب وہ یہ بولے کہ تو میری آنکھ پھوڑے گا، تو یہ بات جی کو بری لگتی ہے جگنو۔۔۔ تین مہینے سے اپریسن نہیں ہوا، گھر سے دور، گھر والی سے دور۔۔۔ کام کاج کو دیمک چاٹ رہی ہے۔ بزرگ صحیح کہتے تھے بڑھاپا سر پر چڑھے تو آدمی پھر سے کم عقلا بچہ بن جاتا ہے"
تخاطب شخص کی جانب سے گفتگو میں طنز و ملال کی تہیں ترتیب پا رہی تھیں۔
"ہاں یہ تو ٹھیک کہہ رہا تُو۔۔۔ تین مہینے میں بھی اپریسن نہیں ہوا تو کم از کم ایک بار پیپل کی چھاؤں سے مٹی اٹھا کر آنکھوں میں ڈال لیتا، کوئی منت مانگ کر دیکھ لیتا"
جگنو نے بھی گرتی دیوار کو دھکا دیتے ہوئے من کی بات کہہ دی۔
ان کی طنزیہ گفتگو دورانیہ بڑھتا چلا گیا تو میں نے کوفت میں توجہ ہٹائی اور تندور والے کو اشارہ کر کے چار روٹیاں لانے کو کہا۔ شَبو ماں بننے والی تھی اور اب اسے وقت پر کھلانا میری صفِ اول کی ترجیحات میں شامل تھا۔ بدقتِ تمام اس کی اچھی خوراک کا بندو بست کرنا پڑتا چاہے خود دانستہ بھوکا رہوں یا وقت پر نہ کھاؤں۔ یوں تو وہ میرے لیے بختوں والی ثابت ہوئی تھی کہ اس کے آنے سے میرے معمول کی کمائی میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا تھا سو میں بھی سکہ رائج الوقت کی اہمیت برطرف کئے بس اس کی اچھی صحت اور خوارک میں فکر مند رہتا۔
اگست کی فصلوں کی کاشتکاری کے بعد ستمبر کے اوائل میں ایک چھوٹا سا میلہ لگا کرتا۔ میلے میں مقامی و مضافاتی لوگ شامل ہوتے۔ متوسط طبقے کے خوانچہ فروشوں کے لیے عید کا سماں بندھ جایا کرتا۔ میرا کام بھی بدر کے چاند کی طرح چمک جاتا تھا۔ سب کو میلے کے دن کے متعین ہونے کا انتظار رہتا۔ ان دنوں پیپل کی کرامات پر یقین رکھنے والوں کے ہجوم میں مزید اضافہ ہو جایا کرتا اور پیڑ پر کئی رنگوں کا امتزاج مجھ سمیت کئی آنکھوں پر گراں گزرنے لگتا۔ کہیں دوپٹے تو کہیں دھاگے اور کہیں اوپر تلے چراغوں کے انبار۔۔۔ پھر ان دنوں پیڑ کے متعلق طرح طرح کی باتیں معراج چھونے لگتیں۔ کہیں گُل ہائے عقیدت تو کہیں گناہِ کبیرہ کے فتوے۔۔۔۔ لیکن اس سال حالات غیر متوقع طور پر سابقہ کے برعکس تھے۔ کئی پیپل کے پیڑ کی کرامات پر اعتقاد رکھنے والے لوگ سر پیٹ رہے تھے۔ کسی کی بیٹی دوپٹہ باندھنے کے باوجود بانجھ ہی مر گئی تھی تو کسی کا بیٹا سرخ دھاگہ باندھنے کے باوجود کنوارہ۔ کسی کی فصل خسارے کی زد میں رہی تو کوئی چھال کے پانی سے نہانے کے بعد بھی اپنی بیماری کے بڑھ جانے کا رونا رو رہا تھا۔ ان لوگوں کی دیکھا دیکھی کچھ اور لوگ بھی اب پیپل کی شان میں صلواتیں اور قصیدے پڑھنے لگ گئے جو بذاتِ خود اسلاف کی کہانیوں پر یقین رکھتے ہوئے، اب تک کئی ٹونے اور ٹوٹکے آزماتے آئے تھے مگر ہمیشہ سب بےسود رہا۔ ندامت سے بچنے کے لیے کبھی بھرے مجمعے میں بولنے کی جسارت بھی نہ کر سکے کہ ان عقائد پر عمل پیرا ہونے سے کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔ آج لوہا گرم تھا سو سبھی اپنے حصے کی چوٹ مار رہے تھے۔۔۔۔۔ کئی پگڑیاں جھکتی بھی چلی گئیں جو کتنی ہی خواہشوں کے آرزو بن جانے کی دلیل تھی جو کبھی پوری نہیں ہو سکیں۔ اس وقت کسی نے یہ بھی کہا کہ اب اس پیڑ کے قریب کتوں کا بسیرا ہے اور پیڑ پر اُلوؤں کا، جس کی وجہ سے اس کی کرامتیں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ آج اس پیڑ کو لے کر ہر زبان ایک خود ساختہ ورد گردان رہی تھی۔ دل کے پھپھولے جلتے جلتے ماحول میں حبس پیدا کرنے لگے تھے۔ پیڑ کی کرامات پر ہنوز استقامت پسند کچھ لوگ ورطہء حیرت میں مبتلا ہو رہے تھے آیا آج اپنے ہی سانپ کے آگے بانسری کیوں بجائی جا رہی ہے۔ ہائے ہائے کا سلسلہ جب طول پکڑتا گیا تو کچھ بڑے معتقدین کے متفقہ فیصلے سے یہ طے پایا کہ اب اس پیپل کو مزید گمراہی کی علامت نہیں بننے دیں گے اور اسے کاٹ پھینکیں گے۔ کسی نے اختلاف میں بولنے کی کوشش کی تو اسے نظروں کے چابک رسید کر کے خاموش کر دیا جاتا۔ بڑوں کے دبکے دیکھ کر بقیہ آوازیں بھی دبک کر رہ گئیں۔ پھر چند ثانیے بعد دھاگے نوچے جا رہے تھے۔ چھدے، پھٹے دوپٹے زمین پر بوسہ لیتے ہوئے محرومیوں کی داستانیں رقم کر رہے تھے۔ پیڑ پر اتری ہوئی دھنک ہر آن لمحہ بکھر رہی تھی۔ کئی لوگ کلہاڑیاں اٹھائے اب اپنی کاروائیوں کے منتظر تھے۔ بستی کے باشندوں کا ایک وسیع و عریض دائرہ ان مناظر کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ کئی ایک معتقدین ابھی بھی دبی دبی آوازوں میں پیپل کے کٹ جانے کو غلط شگون قرار دے رہے تھے مگر اب تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ یکے بعد دیگرے کلہاڑیوں کے وار ہو رہے تھے۔ خاکی چراغ پیروں تلے خاک میں مل رہے تھے۔ فضا ہولناک مناظر پیش کر رہی تھی۔ کچھ لمحات گزرتے ہی ایک نوجوان کے آوازیں سنائی دیں جو چلاتا ہوا دوڑا آ رہا تھا کہ حاجی اشفاق کے بیٹے کا اپریسن نہیں ہوا اور وہ پیپل پر دھاگہ باندھنے، منت مانگنے آ رہا ہے۔ پیپل کی کرامات سے منحرف ہونے والے لوگوں نے سکتے کی حالت میں مڑ کر پیچھے نوجوان کی جانب دیکھا جو رکوع میں جاتا ہوا اب ہانپنے کے در پر تھا۔ بزرگ کچی سڑک پر حاجی اشفاق کی چار پہیوں والی گاڑی کو پیپل کی جانب آتے دیکھ کر سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ میں آج بھی یہ سارا واقعہ خاموشی سے دیکھ اور سن رہا تھا۔ اب آگے ہونے والی کاروائی میرے لیے معنی نہیں رکھتی تھی۔ میں ایک نظر آسمان کی جانب دیکھ کر مسکرایا، دوسری نظر اپنی مفلوج ٹانگوں پر ڈالیں اور پھر اپنے کولہے رگڑتا ہوا اپنے چھ فُٹی چھپر کے نیچے چل دیا جہاں بختوں والی شبو اپنے چار بچوں کو ایک ساتھ دودھ پلا رہی تھی۔
