ہنگامہ (افسانہ انتون چیخوف) مترجم جاوید بسام

عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
افسانہ نمبر 770 : ہنگامہ
 تحریر : انتون چیخوف۔ (روس)
ترجمہ: جاوید بسام۔ (کراچی)
 ماشینکا پاولٹسکی جس نے کچھ عرصے پہلے دارالاقامہ سے تعلیم مکمل کی تھی اور کُشکن خاندان کے ہاں بطور گورنَس کام کر رہی تھی، ایک دن سیر سے واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ پورا گھر شدید اضطراب اور ہنگامے کی لپیٹ میں ہے۔ دربان میخائیلو غیر متوقع طور پر پریشان اور کیکڑے کی طرح سرخ نظر آرہا تھا اوربالائی منزل سے بلند آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
 
”مسز کُشکن کو غالباً دورہ پڑا ہے یا پھر ان کی شوہر سے لڑائی ہوگئی ہے۔“ ماشینکا نے سوچا۔
 
ہال اور راہداری میں اسے کئی خادمائیں ملیں۔ ان میں سے ایک رو رہی تھی۔ اسی اثنا میں اس نے گھر کے مالک نکولائی سرگئیچ کو اپنے کمرے سے باہر دوڑ کر آتے دیکھا۔ وہ چھوٹے قد، پلپلے چہرے اور گنجے سر والا آدمی تھا، حالاں کہ وہ ابھی اتنا سن رسیدہ نہیں ہوا تھا۔ اس کا چہرہ غصے اور گھبراہٹ سے تمتما اور جسم کانپ رہا تھا۔ وہ ماشینکا کی طرف دیکھے بغیر گزر گیا۔ پھر دونوں ہاتھ ہوا میں بلند کرتے ہوئے چلّایا۔ ”افف، یہ کتنی خوفناک بات ہے ! کیسا پھوہڑ پن، کیسی حماقت! ناقابلِ برداشت۔“
 
ماشینکا اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو اس نے زندگی میں پہلی بار پوری شدت کے ساتھ وہ احساس جھیلا جو ان لوگوں کے لیے بہت عام ہوتا ہے جو دوسروں کے زیرِ دست ہوتے ہیں، جو طاقتور اور دولت مند لوگوں کی روٹی کھاتے ہیں مگر اپنے دل کی بات زبان پر نہیں لاتے۔ اس کے کمرے کی تلاشی لی جا رہی تھی۔
 
گھر کی مالکن فیدوسیا واسیلیونا ایک بھاری بھرکم اور کشادہ کندھوں والی بھدی عورت تھی۔ اس کی موٹی سیاہ بھنویں، اوپری ہونٹ پر ہلکی سی مونچھ، سرخ ہاتھ اور چہرے و انداز میں ایسی عامیانہ جھلک تھی کہ وہ کسی ناخواندہ باورچن سے مختلف نظر نہیں آتی تھی۔ وہ بنا ٹوپی اوڑھے میز کے پاس کھڑی تھی اور ماشینکا کے سلائی کے تھیلے میں اون کے گولے، کپڑوں کے ٹکڑے اور کاغذ کے پرزے واپس رکھ رہی تھی۔گورنَس کی اچانک آمد سے وہ ہکا بکا رہ گئی۔ پھر جب اس کی نظر ماشینکا کے زرد اور حیرت زدہ چہرے پر پڑی تو وہ بوکھلا کر بڑبڑائی۔ ”معاف کرنا... میں... میں نے یہ سب غلطی سے بکھیر دیا۔ میری آستین اس میں اُلجھ گئی تھی... “
 
اسی طرح کے کچھ بے ربط الفاظ کہہ کر مسز کُشکن اپنے لمبے دامن کی سرسراہٹ کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گئی۔
 
ماشینکا نے حیرت زدہ نظروں سے اپنے کمرے میں چاروں طرف دیکھا۔ وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی، اس نے کندھے اچکائے اور مایوسی سے سرد پڑ گئی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ فیدوسیا واسیلیونا اس کے سلائی کے تھیلے میں کیا ڈھونڈ رہی تھی؟
 
اگر واقعی اس کی آستین تھیلے میں پھنس کر سب کچھ بکھر گیا تھا، جیسا کہ اس نے کہا تو پھر نکولائی سرگئیچ لال بھبوکا چہرے کے ساتھ اس کے کمرے سے اس قدر گھبرایا ہوا کیوں نکلا تھا؟ میز کی ایک دراز آدھی کیوں کھلی ہوئی تھی؟ گورنَس جس چھوٹے سے صندوقچے میں اپنے دس کوپیک کے سکے اور پرانے ڈاک ٹکٹ رکھتی تھی، وہ کھلا پڑا تھا۔ کسی نے اسے بڑی کوشش سے کھول تو لیا تھا، مگر بند کرنا نہیں جانتا تھا، تالے پر جگہ جگہ کھرچنے کے نشان نظر آرہے تھے۔ کتابوں کی الماری، میز پر رکھی اشیا اور بستر سب پر حالیہ تلاشی کے نشانات نمایاں تھے۔ حتیٰ کہ کپڑوں کی ٹوکری بھی محفوظ نہ رہی تھی۔ اگرچہ کپڑے احتیاط سے تہہ کیے گئے تھے، مگر اس ترتیب میں نہیں تھے، جس میں ماشینکا انہیں چھوڑ کر گئی تھی، یعنی تلاشی نہایت باریک بینی سے لی گئی تھی، لیکن کیوں؟ کس لیے؟ کیا ہوا تھا؟ ماشینکا کے ذہن میں سوالات جنم لے رہے تھے۔
 
اس کو دربان کی گھبراہٹ، گھر میں پھیلا ہوا ہنگامہ اور روتی ہوئی خادمہ یاد آئی۔ کیا یہ سب اسی تلاشی سے متعلق تھا جو ابھی اس کے کمرے میں لی گئی تھی؟ کیا وہ کسی خوفناک معاملے میں الجھا دی گئی تھی؟ اس کا چہرہ زرد پڑ گیا اور بدن ٹھنڈا ہونے لگا۔ وہ کپڑوں کی ٹوکری پر بیٹھ گئی۔ اسی وقت ایک خادمہ کمرے میں داخل ہوئی۔
 
”لیزا کیا تم جانتی ہو کہ میرے کمرے کی تلاشی کیوں لی گئی ہے؟“ گورنَس نے پوچھا۔
 
”بیگم صاحبہ کا دو ہزار روبل مالیت کا ایک بروچ گم ہوگیا ہے۔“ لیزا نے جواب دیا۔
 
”ہاں، مگر میرے کمرے کی تلاشی کیوں لی گئی؟“
 
”اوہ مس! سب کی تلاشی لی گئی ہے، میرے سامان کی بھی۔ ہمیں تو کپڑے تک اُتارنے پر مجبور کیا گیا اور ہماری تلاشی لی گئی۔ خدا گواہ ہے، میں تو ان کی سنگھار میز کے قریب بھی نہیں گئی، بروچ کو ہاتھ لگانا تو دور کی بات ہے۔ میں یہ بات تھانے میں بھی کہوں گی۔“
 
”لیکن... میرے کمرے کی تلاشی کیوں؟“ ماشینکا اب بھی حیران تھی۔
 
”میں نے بتایا نا، بروچ چوری ہوگیا ہے۔ مالکن نے اپنے ہاتھوں سے ہر چیز کی چھان بین کی ہے۔ یہاں تک کہ دربان میخائیلو کی بھی خود تلاشی لی۔ یہ تو سراسر تضحیک ہے اور نکولائی سرگئیچ؟ وہ بس کھڑا مرغی کی طرح کڑکڑاتا رہا۔ لیکن آپ... کو مس اس طرح کانپنے کی ضرورت نہیں، یہاں سے کچھ نہیں ملا۔ اگر آپ نے بروچ نہیں لیا تو آپ کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔“
 
”لیزا، مگر یہ کتنی گھٹیا حرکت ہے... کتنی توہین آمیز ہے۔“ ماشینکا نے غصے اور اضطراب سے ہانپتے ہوئے کہا۔”یہ کتنی کم ظرفی اور پستی ہے۔ انہیں کیا حق تھا کہ مجھ پر شک کریں اور میرے سامان کی تلاشی لیں؟“
 
”مس آپ غیر لوگوں کے گھر میں رہتی ہیں۔“ لیزا نے آہ بھرتے ہوئے کہا۔” آپ چاہے ایک معزز خاندان کی لڑکی ہی کیوں نہ ہوں، پھر بھی... ایک طرح سے... ملازمہ ہی سمجھی جاتی ہیں۔ یہ جگہ اپنے ماں باپ کے گھر جیسی تو نہیں ہے۔“
 
ماشینکا بستر پر گر پڑی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
 
وہ اپنی پوری زندگی میں کبھی ایسی بے عزتی کا شکار نہیں ہوئی تھی، نہ اس نے کبھی اس قدر گہری توہین محسوس کی تھی۔ ایک تعلیم یافتہ مہذب لڑکی، ایک استاد کی بیٹی، اس پر چوری کا شبہ کیا گیا تھا، اس کی تلاشی ایک آوارہ عورت کی طرح لی گئی تھی۔ وہ اس سے بڑھ کر کسی توہین کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی اور اس احساسِ تحقیر کے ساتھ ایک اور خوف بھی اس کے دل پر چھا رہا تھا کہ آگے کیا ہوگا؟ اس کے ذہن میں طرح طرح کے خوفناک خیالات آنے لگے۔ اگر وہ اسے چور سمجھ سکتے ہیں تو اسے گرفتار بھی کروا سکتے ہیں، اس کے کپڑے اتروا کر تلاشی لے سکتے ہیں، پھر سپاہیوں کے نرغے میں اسے سڑکوں سے گزار سکتے ہیں، اور کسی سرد، تاریک کوٹھڑی میں بند کر سکتے ہیں جہاں چوہے اور کیڑے مکوڑے رینگتے ہوں، بالکل ویسا ہی قید خانہ جیسا شہزادی تراکانوف کو نصیب ہوا تھا۔ اس کی حمایت کون کرے گا؟
اس کے والدین دور ایک صوبائی قصبے میں رہتے تھے۔ ان کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ اس کے پاس آسکیں۔ دارالحکومت میں وہ بالکل تنہا تھی، صحرا کی مانند تنہا، نہ کوئی دوست، نہ کوئی رشتہ دار۔ وہ لوگ اس کے ساتھ جو چاہیں کر سکتے تھے۔
”میں عدالتوں اور تمام وکیلوں کے پاس جاؤں گی۔“ ماشینکا نے کانپتے ہوئے سوچا۔ ”میں سب کچھ بیان کروں گی، قسم اٹھاؤں گی... وہ یقیناً مان لیں گے کہ میں چور نہیں ہوں۔“
دفعتاً اسے یاد آیا کہ کپڑوں کی ٹوکری میں، چادروں کے نیچے کچھ مٹھائیاں رکھی ہوئی ہیں، جو وہ اسکول کے زمانے کی عادت کے مطابق کھانے کی میز سے چپکے سے جیب میں ڈال کر اپنے کمرے میں لے آئی تھی۔
یہ خیال آتے ہی اس کے پورے بدن میں گرمی دوڑ گئی۔ اسے شرم محسوس ہوئی کہ اس کا یہ معمولی سا راز بھی گھر کی مالکن پر آشکار ہو گیا ہے۔ خوف، شرمندگی اور غصے نے مل کر اس کے دل کی دھڑکن اس قدر تیز کر دی کہ اس کی کنپٹیاں، سینہ اور معدہ سب دھڑکنے لگے۔ اسی وقت ایک ملازمہ نے آ کر اطلاع دی۔ ”کھانا تیار ہے۔“
”جاؤں یا نہیں؟“ماشینکا تذبذب کا شکار تھی۔
پھر کچھ سوچ کر اس نے بال سنوارے، منہ پر گیلا تولیہ پھیرا اور اپنے کمرے سے نکل گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طعام گاہ میں کھانے کا آغاز ہو چکا تھا۔ میز کے ایک سرے پر فیدوسیا واسیلیونا بیٹھی تھی۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی، رنج اور بےحسی کا عجیب امتزاج تھا۔ دوسرے سرے پر نکولائی سرگئیچ بیٹھا تھا۔ اطراف میں مہمان اور بچے موجود تھے۔ دو خادم ٹیل کوٹ اور سفید دستانے پہنے کھانا پیش کر رہے تھے۔ سب جانتے تھے کہ گھر میں ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہے، جس کے باعث مسز کُشکن پریشان ہیں، لہذا ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ صرف چمچوں کی کھنک اور کھانے کی ہلکی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ پھر گھر کی مالکن نے سوختہ آواز میں پوچھا۔ ”تیسری ڈش کیا ہے؟“
 
”روسی طرز کی ماہی مچھلی۔“ خادم نے جواب دیا۔
”فینیا یہ میں نے منگوائی تھی۔“ نکولائی سرگئیچ جلدی سے بولا۔”میرا دل مچھلی کھانے کو چاہ رہا تھا۔ اگر تمہیں پسند نہیں تو مت پیش کرو۔ میں نے بس ویسے ہی کہہ دیا تھا... “
 
فیدوسیا واسیلیونا کو وہ کھانے سخت ناپسند تھے جو اس کی مرضی کے بغیر منگوائے جاتے، اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔
”خود کو مزید پریشان نہ کریں۔“ خاندانی معالج مامیکوف نے اس کے بازو کو ہلکے سے چھو کر شیریں اور نرم آواز میں کہا اور مسکرایا۔”آپ پہلے ہی بہت مضطرب ہیں۔ بروچ کو بھول جائیے۔ صحت، دو ہزار روبل سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔“
”مجھے دو ہزار روبل کا افسوس نہیں۔“ فیدوسیا واسیلیونا نے جواب دیا، اور ایک بڑا آنسو اس کے گال پر لڑھک گیا۔ ”مجھے اس پر غصہ ہے کہ میرے گھر میں چوری ہوئی۔ میں اپنے گھر میں چوروں کو برداشت نہیں کر سکتی۔ یہ کتنی ناشکری ہے۔ میری مہربانیوں کا یہ صلہ دیا گیا ہے۔“
سب کی نظریں اپنی اپنی پلیٹوں پر جھکی تھیں، مگر ماشینکا کو یوں محسوس ہوا جیسے سب کی نگاہیں اسی پر جمی ہوئی ہوں۔ اس کے گلے میں آنسوؤں کا گولا اٹک گیا تھا۔
 
”معاف کیجیے... “ وہ بمشکل بولی۔”میری طبیعت ٹھیک نہیں... سر میں درد ہے... میں جا رہی ہوں۔“
وہ جلدی سے اٹھی تو کرسی عجلت میں پیچھے سرک گئی، وہ شرمندگی کے عالم میں کمرے سے باہر نکل گئی۔
”یہ تو حد ہوگئی۔“ نکولائی سرگئیچ نے تیوری چڑھاتے ہوئے کہا۔ ”اِس کے کمرے کی تلاشی لینے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ بالکل نامناسب بات تھی۔“
 
”میں یہ نہیں کہتی کہ بروچ اسی نے لیا ہے۔“ فیدوسیا واسیلیونا بولی۔”لیکن کیا تم اس کی ضمانت دے سکتے ہو؟ سچ کہوں تو مجھے ان پڑھے لکھے مفلسوں پر زیادہ اعتماد نہیں ہے۔“
 
”بہرحال فینیا یہ مناسب نہیں تھا... اور معاف کرنا، تمہیں قانونی طور پر بھی تلاشی لینے کا حق نہیں تھا۔“
 
”مجھے تمہارے قوانین سے کوئی سروکار نہیں۔ میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ میرا بروچ گم ہوا ہے، اور میں اسے تلاش کر رہوں گی۔“ اس نے کانٹے کو زور سے پلیٹ پر مارا۔ اس کی آنکھیں غصے سے چمک رہی تھیں۔”تم کھانا کھاؤ اور ان معاملات میں دخل نہ دو جو تم سے متعلق نہیں ہیں۔“
 
نکولائی سرگئیچ نے خاموشی سے نظریں جھکا کر آہ بھری۔
اسی دوران ماشینکا اپنے کمرے میں پہنچتے ہی بستر پر اوندھے منہ گر پڑی۔
 
اسے اب نہ گرفتاری کا خوف تھا اور نہ ہی شرمندگی کا احساس، اس کے دل میں صرف ایک خواہش شدت سے مچل رہی تھی کہ کاش وہ اس سنگ دل، مغرور، کم فہم اور دولت کے نشے میں چور عورت کے منہ پر دو زوردار طمانچے رسید کر سکتی۔ تکیے میں منہ چھپائے وہ طرح طرح کے خواب دیکھنے لگی۔ اسے خیال آیا کہ اگر اس کے پاس بہت سا پیسہ ہوتا تو وہ دنیا کا سب سے قیمتی بروچ خرید کر فیدوسیا واسیلیونا کے منہ پر دے مارتی۔ پھر اس نے تصور کیا کہ کاش خدا ایسا کرے کہ فیدوسیا واسیلیونا دیوالیہ ہو جائے، دربدر بھیک مانگتی پھرے، غربت اور دوسروں کی محتاجی کے تمام عذاب جھیلے، اور تب وہی ماشینکا، جس کی اس نے توہین کی تھی، اسے خیرات دے، اور اگر اسے اچانک کوئی بڑی وراثت مل جائے تو وہ ایک شاندار بگھی خریدے اور دھڑدھڑاتی ہوئی اس کے گھر کی کھڑکیوں کے سامنے سے گزرے، تاکہ وہ عورت حسرت اور جلن سے اسے دیکھتی رہ جائے، لیکن یہ سب محض خواب تھے۔ حقیقت میں اس کے پاس صرف ایک ہی راستہ تھا کہ جتنی جلدی ممکن ہو اس گھر کو چھوڑ دے۔ یہ درست تھا کہ ملازمت چھوڑ دینا آسان کام نہ تھا، اپنے والدین کے پاس لوٹنا بھی مشکل تھا، کیونکہ وہ خود تنگ دستی کا شکار تھے۔ مگر کیا کیا جا سکتا تھا؟
 
ماشینکا اب نہ گھر کی مالکن کا چہرہ دیکھنا چاہتی تھی اور نہ اپنا کمرہ برداشت کر سکتی تھی۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے یہاں کی فضا میں اس کا دم گھٹ رہا ہے۔
 
فیدوسیا واسیلیونا سے اسے نفرت ہو چکی تھی، اس عورت سے جو اپنی بیماریوں اور اپنے فرضی اشرافی وقار کے خبط میں مبتلا رہتی تھی۔ اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے اس عورت کی موجودگی نے پوری دنیا کو بدصورت اور گھٹیا بنا دیا ہے۔ وہ فوراً بستر سے اٹھی اور اپنا سامان باندھنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”کیا میں اندر آسکتا ہوں؟“ دروازے کے پاس سے نکولائی سرگئیچ کی آواز آئی۔ وہ دبے پاؤں آیا تھا اور نہایت نرم لہجے میں بول رہا تھا۔ ”اجازت ہے؟“
 
”آ جائیے۔“
وہ اندر داخل ہوا اور دروازے کے قریب رک گیا۔ اس کی آنکھیں بجھی بجھی سی تھیں اور چھوٹی سی سرخ ناک چمک رہی تھی۔ دوپہر کے کھانے کے بعد وہ عموماً بیئر پیتا تھا۔ اس کا اثر اس کی چال، اس کے نرم و کمزور ہاتھوں اور پورے وجود سے ظاہر ہو رہا تھا۔ اس نے ٹوکری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔ ”یہ کیا ہو رہا ہے؟“
 
”میں سامان باندھ رہی ہوں۔“ ماشینکا نے جواب دیا۔ ”معاف کیجیے، نکولائی سرگئیچ میں آپ کے گھر میں مزید نہیں رہ سکتی۔ اس تلاشی نے میری سخت توہین کی ہے۔“
 
”میں سمجھتا ہوں... لیکن آپ جا کر غلطی کر رہی ہیں۔ اگر آپ کے سامان کی تلاشی لی گئی، تو کیا ہوا؟ اس سے آپ کیا بگڑا؟“ وہ بولا۔
ماشینکا نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی سے کپڑے تہہ کرتی رہی۔
نکولائی سرگئیچ نے مونچھوں کو مروڑا، گویا سوچ رہا ہو کہ اب کیا کہے، پھر خوشامدانہ لہجے میں بولا۔ ”میں آپ کے جذبات سمجھتا ہوں، لیکن کچھ رعایت بھی دینی چاہیے۔ آپ جانتی ہیں، میری بیوی بہت جذباتی اور ضدی ہے۔ اس معاملے پر اتنا سخت فیصلہ مت کریں۔“
ماشینکا نے اب بھی لب وا نہ کیے۔
”اگر آپ کو واقعی اتنی تکلیف پہنچی ہے اور آپ چاہتی ہیں تو میں معافی مانگنے کو تیار ہوں۔ میں آپ سے معذرت کرتا ہوں۔“
 
ماشینکا نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ جھک کر صندوق میں کپڑے رکھتی رہی۔ اس بے بس اور کمزور آدمی کی گھر میں کوئی حیثیت نہ تھی۔ وہ خود بھی گویا دوسروں کا محتاج تھا، حتیٰ کہ نوکروں کے سامنے بھی اس کی کوئی وقعت نہ تھی۔ اس کی معذرت کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔
”ہمم... آپ کچھ نہیں بول رہیں۔ شاید یہ کافی نہیں۔ اچھا میں اپنی بیوی کی طرف سے معافی مانگتا ہوں۔ ایک شریف آدمی کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہوں کہ اس نے غیر اخلاقی اور نامناسب حرکت کی ہے۔“ وہ بولا۔ پھر کمرے میں ٹہلنے لگا، گہری آہ بھری اور گویا ہوا۔ ”آپ چاہتی ہیں کہ یہ بات میرے دل پر بوجھ بنی رہے؟ میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا رہے؟“
”جناب نکولائی ! میں جانتی ہوں کہ آپ کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے۔ آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں؟“ ماشینکا پر نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
”ہاں... شاید نہیں... پھر بھی، مت جائیے۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں۔“ اس نے آہستہ سے کہا۔
ماشینکا نے نفی میں سر ہلا دیا۔
نکولائی کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا اور انگلیوں سے شیشے پر تھپکیاں دینے لگا۔
”ایسی بد اعتمادیاں میرے لیے عذاب بن جاتی ہیں۔ آخر آپ چاہتی کیا ہیں؟ کیا میں آپ کے سامنے گھٹنوں کے بل جھک جاؤں؟ آپ کی خودداری مجروح ہوئی، آپ روئیں، سامان باندھا اور جانے کا فیصلہ کر لیا، لیکن میری بھی تو کچھ عزتِ نفس ہے، آپ اس کا خیال نہیں کر رہیں۔“ وہ بولا۔
وہ رکا پھر دھیمی آواز میں بولا۔ ” کیا آپ چاہتی ہیں کہ میں وہ بات کہہ دوں جو میں کسی پادری سے اعترافِ گناہ کے وقت بھی نہ کہتا؟ سنیں... کیا میں وہ راز کھول دوں جو مرتے وقت بھی کسی مذہبی پیشوا سے نہ کہتا؟“
ماشینکا نے کوئی جواب نہیں دیا۔
”میں نے اپنی بیوی کا بروچ چرایا ہے۔“ آخر نکولائی بولا۔
”یہ کافی ہے؟ اب آپ مطمئن ہیں؟ ہاں، میں نے ہی لیا ہے... لیکن مجھے آپ کی راز داری پر بھروسا ہے۔ خدا کے لیے، کسی سے ایک لفظ بھی نہ کہیے گا، اشارہ تک نہیں دیجیے گا۔“
ماشینکا حیرت اور خوف سے گنگ رہ گئی۔ مگر بدستور اپنا سامان سمیٹتی رہی۔ اب وہ تیزی سے کپڑوں کو مروڑ کر صندوق اور ٹوکری میں ٹھونس رہی تھی۔
نکولائی کے اس اچانک اور بے باک اعتراف کے بعد وہ ایک لمحہ بھی اس گھر میں نہیں رہ سکتی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اب تک یہاں کیسے رہتی رہی ہے۔
کچھ توقف کے بعد نکولائی دوبارہ بولا۔ ”اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں، یہ تو روز کا معمول ہے۔ مجھے پیسوں کی ضرورت تھی، اور وہ... مجھے پیسے نہیں دے رہی تھی۔ آپ جانتی ہیں، یہ گھر اور یہاں کی ہر چیز میرے باپ کے پیسوں سے خریدی گئی ہے۔ سب کچھ میرا ہے اور وہ بروچ بھی میری ماں کا تھا... لیکن اس نے سب پر قبضہ کر لیا ہے۔ میں اس کے خلاف عدالت میں بھی نہیں جا سکتا، آپ سمجھ سکتی ہیں۔ میں آپ سے بہت خلوص سے درخواست کرتا ہوں، اس بات کو نظر انداز کر دیں... یہیں رہیں۔ کیا آپ اپنا فیصلہ بدلے گی؟“
”نہیں۔“ ماشینکا نے دو ٹوک انداز میں کہا، اس کی آواز کانپ گئی تھی۔” میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ مجھے اکیلا چھوڑ دیجیے۔“
 
نکولائی سرگئیچ نے آہ بھری اور صندوق کے پاس پڑے ایک اسٹول پر بیٹھ گیا۔ ”مجھے ماننا پڑے گا کہ مجھے ایسے لوگ پسند ہیں جو ناراضگی اور حقارت محسوس کر سکتے ہوں۔ میں یہاں بیٹھ کر ہمیشہ آپ کے غصے بھرے چہرے کو دیکھ سکتا ہوں ..... تو آپ نہیں رکے گی؟ میں سمجھتا ہوں... شاید ایسا ہی ہونا چاہیے۔ ہاں، یقیناً... “
اس نے کچھ توقف کیا، پھر تلخ مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔ ”آپ کے لیے تو یہ آسان ہے، مگر میرے لیے... اوہ میں تو اس تہہ خانے سے ایک قدم بھی باہر نہیں نکال سکتا۔ میں اپنی دیہی جاگیر پر چلا جاتا، مگر وہاں بھی میری بیوی کے کارندے بیٹھے ہوئے ہیں، منتظم، ماہر اور مشیر... سب کے سب لعنتی ہیں۔ وہ جائیدادیں گروی رکھتے ہیں... مجھے مچھلی پکڑنے کی اجازت نہیں، گھاس پر چلنے کی اجازت نہیں، درخت کی ٹہنی تک توڑنے کی اجازت نہیں۔“
اسی وقت ڈرائنگ روم سے اس کی بیوی کی آواز آئی۔ ”نکولائی سرگئیچ !“
”اگنیا ! اپنے مالک کو بلاؤ !“
نکولائی سرگئیچ جلدی سے اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھا۔ ”تو آپ نہیں رکے گی؟“ اس نے ایک بار پھر امید بھرے لہجے میں پوچھا۔
”سچ کہوں تو آپ کو رک جانا چاہیے۔ شام کو میں آجایا کروں گا، ہم باتیں کریں گے... رک جائیں۔ اگر آپ بھی چلی گئیں تو اس گھر میں ایک بھی انسانی چہرہ باقی نہیں رہے گا۔ یہ بہت دردناک بات ہوگی۔“
 
اس کا تھکن زدہ زرد اور شکست خوردہ چہرہ گویا التجا کر رہا تھا، لیکن ماشینکا نے خاموشی سے نفی میں سر ہلایا۔
نکولائی سرگئیچ نے مایوسی سے ہاتھ ہلایا اور کمرے سے نکل گیا۔
آدھے گھنٹے بعد ماشینکا اپنے راستے پر چلی جارہی تھی۔
 
 
Original Title: An Upheaval 
Written by Anton Chekhov 

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !