بہرحال میری والدہ کو شوگر ہوئی اور پھر ان کی شوگر جگہ جگہ سے پھٹ گئی تھی ہماری جتنی حیثیت تھی اس کے مطابق ہم نے علاج کروایا تھا لیکن اب ان کا اخری وقت ا پہنچا تھا مجھے یاد ہے جب میرا بھائی اج صبح کام یہ نکلا تھا تو وہ میری والدہ کو گلے لگا کر اس کا ماتھا چوم کر ان سے اپنے گناہ بخشوا کر ان کے پاؤں کو بوسہ دے کر روتے ہوئے نکلا تھا اور جب میں دروازہ بند کرنے کے لیے اپنے بھائی کے پیچھے گئی تھی میں نے اپنے بھائی کو تسلی دی تو میرے بھائی نے ہچکی لیتے ہوئے بتایا تھا کہ مجھے پتہ ہے اج جب شام کو میں واپس اؤں گا میری ماں زندہ نہیں ہو گی مگر اج میرا جانا بھی ضروری ہے کیونکہ اج حساب کتاب ملے گا اور ہمیں پیسوں کی ضرورت ہوگی اس وقت مجھے احساس ہوا تھا کہ ایک مرد کتنا مجبور ہوتا ہے اس کی ماں مر رہی ہوتی ہے لیکن اسے اپنی ماں کی تدفین کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کام پر جانا پڑتا ہے جبکہ اسے اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ وہ واپس گھر لوٹ کر ائے گا تو اس کی ماں زندہ نہیں ہوگی ایک مردہ وجود گھر پر پڑا ہوگا جسے وہ ماں کی جگہ لاش کہہ کر بلائے گا
خیر میرا بھائی چلا گیا میری ماں سخت تکلیف میں تھی اور ہمارے گھر میں ایک روٹی پڑی ہوئی تھی میری ماں نے مجھے اشارے سے اپنے پاس بلایا اور کہا کہ بیٹا روٹی کھا لو میں رو پڑی میری ماں نے مجھے تسلی دی وہ انتہائی پر سکون تھی ان کے جسم پر زخم بھی تھے انتہائی تکلیف دہ حالت تھی مگر اس کے باوجود ان کی زبان پر کوئی شکوہ نہیں تھا
میں نے اپنی والدہ کو کہا کہ میں روٹی نہیں کھا سکتی میرے اندر نہیں جائے گی میری ماں نے مجھے اپنے قریب کیا اور مجھے کہا یہ روٹی فلاں عورت کو دے کر اؤ یہاں پڑی ضائع ہو جائے گی باسی ہو جائے گی تو کھانے کے قابل نہیں رہے گی اس کے بچے اور وہ انتظار میں ہوں گے میں حیران تھی کہ اس حالت میں بھی میری ماں کو ہر انسان کے بارے میں پتہ ہے ہر انسان کے پہچان ھے ان کے حالات سے واقفیت ھے چیرمیں تھوڑا پس و پیش سے کام لیا کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ میری ماں کا اخری وقت ہے اور ان کو اس حالت میں اکیلا چھوڑنا ممکن نہیں ہے میری والدہ نے میرے دل میں انے والا یہ خیال بھی بھانپ لیا اور مجھے کہا کہ تم جاؤ تم اللہ کی راہ میں کسی کو رزق پہنچانے جا رہی ہو تب تک مجھے اللہ کے سپرد کر جاؤ تم اؤ گی تو میں تمہاری منتظر ہوں گی جب میری ماں نے مجھے اتنا مجبور کیا تو میں چلی گئی اور دل میں واقعی اپنی ماں امانت کے طور پر اللہ تعالی کے پاس رکھ کے گئی کہ جب تک میں اؤں میری ماں زندہ ہو
اور بالکل ایسا ہی ہوا جب میں وہ روٹی اس خاتون کو دے کر واپس پہنچے تو میری ماں زندہ تھی اس خاتون کے بچے واقعی اس کے انتظار میں بیٹھے تھے اور ان کے لیے وہ ایک روٹی ہوئی بہت قیمتی تھی میں دوڑ کر واپس اپنی ماں کے پاس پہنچ گئی پھر میری ماں نے مجھے اپنے پاس بٹھایا مجھے نماز روزے کی تلقین کی مجھے یہ نصیحت کی کہ تم اپنے بھائی کی عزت و ابرو کا خیال رکھنا کوئی غلط قدم نہ اٹھانا اب میرے بعد تم نے گھر میں اکیلے رہنا ہے میری والدہ مجھے سمجھا رہی تھی اور میرے انسو بہہ رہے تھے میری والدہ خود اپنے ہاتھوں سے میرے انسو صاف کرتے ہوئے مجھے بتا رہی تھی کہ میں اللہ تعالی کی روبرو پیش ہونے جا رہی ہوں میرے لیے بخشش کا ذریعہ تم دونوں ہو گے
تمہارے ہر نیک عمل کی تمہیں اور مجھے جزا ملے گی اور تمہارے ھر برے عمل کا تمہارے علاوہ مجھے بھی گناہ ہوگا اب یہ تم پر ہے کہ تم لوگ میرے لیے راحت بنتے ہو یا عذاب بنتے ہو میری ماں باتیں کرتی رہی اور میں سنتی رہی اسی دوران اچانک سے میری ماں نے ایک خاتون کا نام لیا جو ان کی قریبی رشتہ دار تھی اور اس کا انتقال ہو چکا تھا میری ماں نے مجھے کہا کہ وہ خاتون مجھے لینے ائی ہے تو میں ڈر گئی لیکن پھر مجھے کچھ احساس ہوا تو میں اونچا اونچا کلمہ شہادت پڑھنے لگی میری یہ اواز سن کر ہماری پڑوس کی ایک خاتون بھی اگئی اس نے جب میری والدہ کی حالت دیکھی تو وہ بھی کلمہ شہادت پڑھنے لگی اور ساتھ ہی اس نے ایک کپڑے کی مدد سے میری والدہ کا چہرہ پاؤں کے انگوٹھے وغیرہ باندھنا شروع کر دیے اور ہاتھ بھی سیدھے کرنا شروع کر دیا
ہم دونوں کو کلمہ پڑھتا دیکھ کر میری ماں نے بھی ایک بار بلند اواز میں کلمہ شہادت پڑا اور پھر میں ان کے پاس تھی یوں میرے سامنے میری ماں کی روح ان کے جسم سے جدا ہو گئی جب سانس اور جسم کا ناطہ ٹوٹا تو اس وقت عصر کی اذان ہو رہی تھی اس خاتون نے مجھے کہا کہ اپنے بھائی کو پیغام بھجواؤ تو میں نے بتایا بھائی کے انے کا وقت ہو گیا ہے خیر اس خاتون نے میری مدد کی ہم لوگوں نے میری والدہ کے کپڑے تبدیل کیے اس کے بعد کمرے کی حالت ٹھیک کی پھر اسی خاتون نے اس پڑوس کی خواتین کو اطلاع دی وہ میرے گھر ائی اور پھر ایک عالمہ خاتون اور آئی جس کو کسی محلے دار خاتون نے ہی بلایا تھا قس نے میری والدہ کو غسل دینے میں ہماری مدد کی جب ہم گھر کی حالت ٹھیک کر رہے تھے تو اسی دوران میرا بھائی بھی اگیا تھا اس نے کچھ چارپائیاں گھر سے باہر رکھیں تاکہ انے والے لوگ وہاں بیٹھ سکیں
یقین کریں میری والدہ کے جنازے میں ہمارا تقریبا پورا گاؤں شامل ہوا تھا اور ہمارے گھر میں بھی گاؤں کی تمام خواتین میرے پاس ائی تھیں اور انہوں نے تعزیت کی تھی دوسری طرف جس وقت میری والدہ کا انتقال ہو رہا تھا اس وقت تک ہمارے پاس والدہ کی تدفین کے اخراجات نہیں تھے مگر جب میرا بھائی گھر ایا تو اس کے پاس کافی پیسے تھے اس نے بتایا کہ مجھ کو جہاں میں کام کرتا ہوں وہاں سے کچھ زکوۃ اور صدقہ خیرات کی رقم بھی ملی ہے
اور کچھ میں نے اپنے دوستوں سے ادھار پکڑ لی ہے یوں الحمدللہ ہمارا یہ وقت گزر جائے گا اور پھر واقعی اللہ تعالی نے ہماری مدد کی اور ہمارا وہ مشکل وقت گزر گیا ہمارے والدہ کی تدفین ہو گئی
میرا بھائی اہستہ اہستہ خود کام سیکھا اور ایک دن وہ خود اپنے کام میں ماہر ہو گیا اج اس کا اپنا کام ہے اس نے اپنی شادی کر لی اور اپنا گھر بسا لیا جبکہ مجھے بھی رخصت کر کے ایک ایسے انسان کے ساتھ بھیج دیا ہے جو میرے لیے انتہائی اچھا ہے میں بھی اپنی زندگی میں مطمئن ہوں اور وہ بھی اپنی زندگی میں خوش ہے میں بس اپ لوگوں کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ میری ماں کو مرتے وقت بھی یہ خیال تھا کہ اس کے گھر میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالی کی راہ میں کسی نہ کسی کو دے دے اور اس وقت ہمارے گھر میں فقط ایک روٹی تھی وہ بھی ہم نے اللہ کے نام میں ایک مستحق فیملی کو دے دی تھی شاید اسی نیکی بدولت میری والدہ کو اتنی اسان موت ملی ورنہ مشہور ہے کہ جان نکلتے وقت انسان کو انتہائی زیادہ تکلیف ہوتی ہے اپ بے شک نظر دوڑا لیں جو لوگ بھی اللہ تعالی کی راہ خرچ کرتے ہیں ان کی موت انتہائی اسان ہوتی ہے۔۔
