حق کے لیے لڑتی عورتیں۔۔ ڈاکٹر طارق سردار

آپ تصور کریں: عدالت کا وہ کمرہ، جہاں ایک عورت کل تک دوسری مظلوم عورتوں کے حق کیلئے انکی آواز بن کر دھاڑتی ہو، مگر جب اسے خود بدقسمتی سے اپنا حق مانگنے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے۔ جو جونیئر کل تک اسے "میڈم، آپ ہماری انسپائریشن ہیں" کہتے تھکتے نہیں تھے، آج ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی خباثت اور چسکے لینے کا عنصر روشن نظر آئے۔ "یار، اتنی تیز عورت کے ساتھ کون رہ سکتا ہے، گھر سنبھالنا آتا نہیں، چلی ہیں شہر کو انصاف بانٹنے!"۔
وہ مخالف وکیل، جو کل تک اس سے عدالت میں دلیل ہار جاتا تھا، آج اس کے ذاتی کردار کے پرچے بنا کر لا رہا ہو۔ وہی جج صاحب، جو اسکے زبردست دلائل پر مسکرا کر "Good point" کہا کرتے تھے، آج ان کی آنکھوں میں عجیب سرد مہری ہو۔ ان کے رویے سے صاف چھلک رہا ہو کہ "تم بھی آخر ایک عورت ہی نکلی، اپنے گھر کا تماشا عدالت لے آئی۔"
وہی عدالتی عملہ جو کل تک فائل آگے سرکانے میں پہل کرتا تھا، آج جان بوجھ کر اس کی تاریخیں لمبی کر رہا ہو تاکہ "میڈم کی ذرا اکڑ کم ہو۔"
ڈاکٹر دانیکا کمال کی کتاب Domestic Violence in Pakistan "پاکستان میں گھریلو تشدد" جیسے اہم اور سلگتے موضوع پر ہے جو قانونی تجزیے بلکہ عدالتوں، تھانوں، سرگوشیوں میں ہونیوالے خاندانی مذاکرات، اور خواتین کی ذاتی زندگی میں اذیت جیسے گھمبیر مسائل کا احاطہ کرتی ہے۔
 ڈاکٹر دانیکا کمال لندن کی رائل ہالوے یونیورسٹی میں قانون کی لیکچرر ہیں جنکی یہ تحقیق کچھ مہینے پہلے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کی ہے۔ دانیکا کمال فیمینسٹ لیگل اسٹڈیز کے ادارتی بورڈ کی رکن ہیں اور اس سے قبل کوئین میری یونیورسٹی اور لندن ساؤتھ بینک یونیورسٹی میں تدریس کر چکی ہیں۔ یونیورسٹی آف واروک سے LLM اور پھر کوئین میری یونیورسٹی سے قانون میں PHD کی ڈگری حاصل کی ہے۔کریمنل لاز، انگلش لیگل سسٹم اور فیملی لاز انکے ٹیچنگ سبجیکٹس ہیں۔ وہ برطانیہ کی ہائر ایجوکیشن اکیڈمی کی ایسوسی ایٹ فیلو بھی ہیں۔
ڈاکٹر دانیکا کمال لندن شفٹ ہونے سے پہلے پاکستان میں قانون، انسانی حقوق اور سماجی و قانونی شعبوں میں سرگرم تھیں۔ اس تصنیف کو ڈاکٹر سحر مارنلو نے ریویو کیا ہے۔ جو لکھتی ہیں کہ مصنفہ نے اپنے حق کیلئے کئی طرح کی حکمت عملی اپنائی، پھر بھی اکثر انصاف کا نظام انہیں دھوک دیتا رہا۔ دانیکا ایک بار پھر اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں میں کھڑی ہیں، جہاں انہوں نے کبھی طلاق کے لیے اپنی قانونی جنگ لڑی تھی۔ وہ عدالت کی بھیڑ بھاڑ والی راہداریوں میں تیزی سے چل رہی تھیں، انہیں یاد ہے، خوف کے ساتھ جڑا ہوا عزم کیسا محسوس ہوتا ہے۔ وہ عدالت جہاں وہ فیلڈ ورک کے لیے جایا کرتی تھیں، اب وہی جگہ تھی جہاں اسے کبھی برا اور پاگل دونوں قرار دیا گیا تھا۔ مسلمان بیوی کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کو ترک کرنے کا الزام اور جب اس نے اپنی برداشت کے بارے میں بات کی تو اسے ذہنی طور پر غیر مستحکم قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔ وہ پاکستان کے عدالتی نظام بارے کہتی ہیں کہ ججز یقیناَ کاغذات پڑھیں گے، متاثرہ کا مشاہدہ کریں گے اور دیکھیں گے کہ وہ کیسے بولتی یا عمل کرتی ہے۔ وہ خود اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ اگر جج کو لگے کہ متاثرہ شخص ذہنی طور پر بہت غیر مستحکم نظر آتا ہے تو وہ ماہر نفسیات سے جائزہ لینے کی درخواست کر سکتا ہے، لیکن یہ جج کی صوابدید پر ہے اور عام طور پر ایسا نہیں ہوتا اور نہ ہی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر دانیکا کمال نے یہ کتاب اسی نظام کے اندر رہ کر لکھی ہے۔ کتاب کی مرکزی دلیل یہ ہے کہ گھریلو تشدد کی شکایت کرنے والی خواتین کو اکثر قانونی فریقین کی طرف سے یا تو فطری طور پر "خراب" (غیر اخلاقی، نافرمان) یا "پاگل" (غیر مستحکم، ناقابل اعتماد) قرار دیا جاتا ہے، جس سے عورتوں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور ان کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے۔ 
وہ مطالبہ کرتی ہیں کہ عورت کے کردار کو جانچنے کیلئے شواہد کی حدود مقرر کی جائیں۔ اخلاقی اعتبار پرکھنے کے حوالے سے عدالتوں اور بار کی تربیت ہونی چاہیئے۔ کلرکوں کی تیار کردہ عدالتی سمریوں میں لفظوں کی ہیرا پھیری روکنے کی خاطر ریکارڈنگ کا نظام بہتر بنایا جائے۔
یہ تحقیق عدالت کی زبان، عدالتی استدلال، پولیس کی رپورٹس اور وکلاء کے دلائل کا جائزہ لیتی ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ جنس کے اصول عدالتی نتائج کی تشکیل پر کیسے اثرانداز ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر سحر مارانلو رائل ہالوے یونیورسٹی آف لندن میں قانون کی لیکچرر ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف ایسیکس کے لاء اسکول اور ہیومن سینٹر میں بھی کام کر چکی ہیں۔ ڈاکٹر سحر نے سینٹرل یورپین یونیورسٹی سے انسانی حقوق میں ایم اے کیا ہے، جہاں انہیں دس نوجوان انسانی حقوق کارکنوں میں سے ایک کے طور پر منتخب کیا گیا جنہیں دو سالہ انصاف کے انسانی حقوق کی فیلوشپ دی گئی۔ انہوں نے اپنا پی ایچ ڈی واریوک لاء اسکول میں کیا اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں ساساکاوا پیس فاؤنڈیشن کی پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو بھی رہیں۔
ڈاکٹر دانیکا کمال نے اس ریسرچ کے ذریعے بہت ہمت سے حقائق بیان کئے ہیں جو قابل تحسین ہے۔ 

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !