پرانی تحریکوں میں ایک واضح درجہ بندی (hierarchy) ہوتی تھی: مرکزی قیادت اوپر، تنظیم اس کے نیچے، پھر کارکن اور آخر میں عام حامی۔
نیٹ ورکڈ تحریکوں میں یہ درجہ بندی نسبتاً کمزور ہوتی ہے۔ معلومات ایک ہی سمت میں اوپر سے نیچے نہیں آتیں۔ ایک عام شخص بھی ایسی معلومات دے سکتا ہے جو پوری تحریک کے لیے اہم بن جائے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پرانا طریقہ غلط اور نیا ہمیشہ بہتر ہے۔
دونوں میں اپنی طاقت اور کمزوری ہے۔
نیٹ ورکڈ تحریکیں تیزی سے پھیل سکتی ہیں، زیادہ لوگوں کو شامل کر سکتی ہیں اور مختلف حلقوں کو جوڑ سکتی ہیں؛ لیکن یہی کم درجہ بندی کبھی کبھی طویل مدتی منصوبہ بندی، فیصلہ سازی اور مستقل سیاسی طاقت پیدا کرنے میں مشکل بھی پیدا کرتی ہے۔
یعنی لوگوں کو سڑک پر لانا ایک کام ہے؛ انہیں دیرپا اجتماعی طاقت میں تبدیل کرنا دوسرا کام۔
یہ اس کتاب کی بحث کا نہایت اہم حصہ ہے۔جسکا تذکرہ اگلے حصہ میں ہو گا
گزی پارک: احتجاج کے اندر ایک دوسری دنیا
گزی پارک (ترکی ) میں مختلف پس منظر کے لوگ جمع ہوئے۔ مختلف سیاسی خیالات رکھنے والے لوگ، فٹ بال کے حامی، مذہبی اور قدامت پسند لوگ ، سیکولر یا نوجوان، کرد، ایل جی بی ٹی کیو کارکن اور دوسرے گروہ ایک ہی جگہ موجود تھے۔گزی پارک جیسے احتجاج ہمیں یہ بھی دکھاتے ہیں کہ مزاحمت صرف حکومت کے خلاف کھڑے ہونے کا نام نہیں۔جب مختلف پس منظر کے لوگ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کو پہلی مرتبہ قریب سے دیکھتے، سمجھتے اور ایک دوسرے پر اعتماد کرنا سیکھتے ہیں۔اجنبی لوگ ساتھی بنتے ہیں۔ اور اپنی پرانی شناختوں کے ساتھ ایک نیی قومی شناخت میں ڈھلتے ہیں۔۔
اسی طرح زپاتیستا اور آکوپائی تحریکوں میں بھی مختلف مذاہب، علاقائی شناختوں، قومیتوں اور طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک مشترکہ مسئلے پر اکٹھے ہوئے۔ شہر کے نوجوان، دیہات کے کسان، مزدور اور دفتری ملازمین _ سب نے اپنے الگ تجربات کے باوجود نو لبرل معیشت، معاشی عدم مساوات اور اس کے پیدا کردہ جبر کو مشترکہ مسئلہ سمجھا۔ یوں ان کی مختلف شناختیں ختم نہیں ہوئیں، مگر ایک مشترکہ مقصد نے انہیں ایک دوسرے سے جوڑ دیا۔
نئی شناخت اور فانون
فرانز فینن کے ہاں مزاحمت صرف ظالم کے خلاف کھڑے ہونے کا نام نہیں؛ مزاحمت انسان کو ایک نئے اجتماعی وجود میں بھی تبدیل کرتی ہے۔
گزی پارک , آکوپائی جیسے تجربے میں مختلف شناخت رکھنے والے لوگ اپنی پرانی شناختیں ختم نہیں کرتے، مگر ایک نیا مشترکہ تجربہ ان کے درمیان ایک نئی شناخت پیدا کرتا ہے:
اجنبی → پہچان → ساتھی → کمیونٹی → اجتماعی شناخت
یعنی مزاحمت صرف ’’ہم کس کے خلاف ہیں‘‘ کا سوال نہیں رہتی بلکہ یہ بھی پوچھنے لگتی ہے: ’’ہم کس قسم کا معاشرہ بننا چاہتے ہیں؟‘‘ اور " ہم کون ہیں"۔ جیسے کوکرواچ پارٹی کے احتجاج میں ہر مذھب ، جاتی اور علاقے کے لوگ ایک اجتمائی شناخت کے ساتھ مزاحم ہوئے ۔
ایک متبادل دنیا کی تخلیق
لیکن اہم بات صرف یہ نہیں تھی کہ وہ صرف حکومت کے خلاف اکٹھے نہیں ہوئے۔ وہاں لوگوں نے لائبریری بنائی، صفائی کی، طبی مراکز قائم کیے، کھانا بانٹا، مختلف چیزیں لا کر دوسروں کے ساتھ شیئر کیں اور اجتماعی فیصلوں میں حصہ لیا۔
ایک شخص کتاب لاتا ہے، دوسرا کھانا، تیسرا دوا، کوئی صفائی کرتا ہے، کوئی زخمیوں کی مدد کرتا ہے۔
لوگ صرف احتجاج نہیں کر رہے تھے؛ وہ ایک مختلف قسم کے معاشرے کا تجربہ بھی کر رہے تھے یا ایک متبادل دنیا تخلیق کر رہے تھے۔ اور بتا رہے تھے کہ ایک دوسری دنیا ممکن ہے
ہم جس سرمایہ دارانہ منطق کے عادی ہیں وہاں تقریباً ہر چیز ایک شے یا کموڈٹی بن جاتی ہے: علم بھی فروخت ہونے والی چیز، وقت بھی قیمت رکھتا ہے، محنت بھی ایک جنس، تعلق بھی اکثر مفاد سے جڑا ہوا اور مدد بھی معاوضے کے ساتھ منسلک۔
لیکن احتجاجی کمیونٹی میں کچھ دیر کے لیے ایک مختلف منطق پیدا ہوتی ہے:
میں کتاب اس لیے نہیں دے رہا کہ مجھے اس کی قیمت ملے گی۔
میں کھانا اس لیے نہیں بانٹ رہا کہ مجھے اس سے منافع ہوگا۔
میں صفائی اس لیے نہیں کر رہا کہ کوئی مجھے اجرت دے گا۔
میں دوسرے کی مدد اس لیے کر رہا ہوں کہ ہم ایک کمیونٹی ہیں۔
یہ تجربہ لوگوں کو دکھاتا ہے کہ معاشرہ صرف مسابقت، خرید و فروخت اور ذاتی مفاد پر قائم ہونا ضروری نہیں۔ایک دوسری دنیا ممکن ہے۔۔۔۔ دوسری زیادہ انسانی اقدار پی مبنی
یعنی مزاحمت صرف یہ نہیں کہتی کہ’’یہ نظام ہمیں قبول نہیں۔‘‘وہ یہ بھی دکھاتی ہے:’’ہم ایک مختلف نظام میں ایک دوسرے کے ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں۔‘‘
پہلے اور اب: معلومات کی اجارہ داری
ماضی میں ریاست یا طاقتور اداروں کے لیے معلومات کو روکنا نسبتاً آسان تھا۔ اخبار بند کیا جا سکتا تھا، صحافی کو روکا جا سکتا تھا، ٹی وی چینل پر پابندی لگ سکتی تھی اور کسی واقعے کو قومی میڈیا سے غائب کیا جا سکتا تھا۔
مثلاً کسی احتجاج میں پولیس تشدد کرے اور ریاستی میڈیا اسے نشر نہ کرے تو عام شہری کے پاس اسے بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچانے کے بہت محدود ذرائع ہوتے تھے۔
اب ایک عام شخص موبائل سے ویڈیو بنا کر اسے فوراً دوسرے لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔ ایک پوسٹ حذف بھی ہو جائے تو وہی مواد دوسرے اکاؤنٹس، گروپس، ہیش ٹیگز اور مختلف پلیٹ فارموں پر دوبارہ سامنے آ سکتا ہے۔
مصنفہ یہاں کردوں کی مثال دیتی ہیں کہ ترک فوجی حکومت کے دور میں ان کی شناخت کو جبراً دبایا گیا۔ ہزاروں لوگ مارے گئے، جبری گمشدگیاں اور ریاستی تشدد عام تھا، مگر میڈیا پر پابندیوں کے باعث یہ ظلم بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا۔
سوشل میڈیا کے بعد صحافیوں نے ان کے علاقوں اور دیہات میں جا کر ان کے انٹرویوز کیے، ویڈیوز اور دستاویزی مواد دنیا تک پہنچایا۔ یوں ایک دبی ہوئی تاریخ اور ان کا دکھ لوگوں کے سامنے آیا۔ لوگ ایک دوسرے کے زخموں سے واقف ہوئے، اور یہی پہچان آگے چل کر یکجہتی اور مزاحمت کی بنیاد بنی۔ گزی پارک کے احتجاج کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے یہ پہلو انتہائی اہم ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ طاقتور ریاستیں بے بس ہو گئی ہیں۔ وہ بھی ٹیکنالوجی کے نئے امکانات سیکھ رہی ہیں۔ نگرانی، انٹرنیٹ بندش، مواد ہٹانا، جعلی معلومات اور الگورتھم کے ذریعے رسائی کو محدود کرنا مزاحمت کے مقابلے میں طاقت کے نئے طریقے بن چکے ہیں۔
اس بحث کو اگلے حصے میں تفصیل سے بیان کیا جائے گا ۔
ٹیکنالوجی نہیں، انسانی ایجنسی
مصنفہ کی پوری بحث کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ ٹیکنالوجی کے پاس ایجنسی نہیں، انسان کے پاس ہے۔
فیس بک خود احتجاج نہیں کرتا۔
ہیش ٹیگ خود خطرہ مول نہیں لیتا۔
موبائل خود سڑک پر نہیں نکلتا۔
انسان کرتے ہیں۔
لیکن انسان اب ایک دوسرے سے پہلے کی طرح نہیں جڑتے۔ ٹیکنالوجی نے ان کے درمیان رابطے، رفتار، رسائی اور اپنی اجتماعی طاقت کو محسوس کرنے کے امکانات بدل دیے ہیں۔
اسی لیے نئی تحریکوں کو پرانی تحریکوں کی نقل نہ ہونے کی وجہ سے کمزور سمجھنا غلط ہے۔اور ٹیکنالوجی کو خود انقلاب کا خالق سمجھنا بھی غلط ہے۔
انقلاب کی انسانی بنیادیں وہی پرانی والی ہی ہیں؛ مزاحمت کا انفراسٹرکچر ضرور بدل گیا ہے۔ لیکن لوگ سوشل میڈیا پر اپنے عقائد ، اقدار اور تعصبات بھی ساتھ لاتے ہیں ۔
فرق یہی ہے کہ
پہلے لوگ اپنی محرومی میں اکیلے تھے؛ اب وہ ایک دوسرے کی محرومی دیکھ سکتے ہیں۔
پہلے غصہ بکھرا ہوا تھا؛ اب وہ ایک نیٹ ورک میں جڑ سکتا ہے۔
پہلے خبر کو روکنا نسبتاً آسان تھا؛ اب ایک عام شہری بھی گواہی دے سکتا ہے۔
پہلے اجتماعی عمل کے لیے تنظیم سے جڑنا ضروری تھا؛ اب رابطی عمل کے ذریعے فرد بھی ابتدا کر سکتا ہے۔
لیکن آخر میں فیصلہ پھر بھی انسان ہی کرتا ہے کہ وہ اس رابطے کو صرف اظہار تک رکھے گا یا اسے اجتماعی عمل، کمیونٹی اور سیاسی تبدیلی میں تبدیل کرے گا۔
اور شاید زینپ طفیکچی کی کتاب کا سب سے اہم سبق یہی ہے:
> ٹیکنالوجی نے لوگوں کی جگہ نہیں لی؛ اس نے لوگوں کے ایک دوسرے تک پہنچنے کا راستہ بدل دیا۔ اور نیے ہتھیاروں سے لیس کیا۔۔ جنگ کی اسٹریٹجی بدل گیی۔ بلکل ایسے ہی جیسے تلوار کے بعد بارود اور بندوق آے اور پھر جدید میزائل اور نیو کلیر ہتھیاروں نے جنگ کا طریقہ کار بدل دیا۔۔
نیی ٹیکنالوجی نے طاقت کے رشتے بھی بدلے
تحریری ثقافت سے پہلے علم بڑی حد تک زبانی روایت کے ذریعے منتقل ہوتا تھا اور اس کی حفاظت و منتقلی میں بزرگوں اور مخصوص طبقات کا کردار مرکزی تھا۔ اور یوں طاقت کا مرکز یہی لوگ تھے۔۔ تحریر نے علم کو محفوظ کیا اور بڑی تعداد میں لوگوں تک منتقل کرنے کا راستہ کھولا، جبکہ پرنٹنگ پریس نے اسے مزید عام اور نسبتاً جمہوری بنا دیا۔ اب علم صرف مخصوص مراکز یا اشرافیہ تک محدود نہیں رہا؛ عام آدمی بھی پڑھنے، جاننے اور نئے خیالات پھیلانے کے قابل ہوا۔
فرنچ ریوولوشن سے لے کر یورپ میں اصلاحِ مذہب، روشن خیالی اور بعد کی انقلابی تحریکوں کو سمجھتے ہوئے معلومات کے اس پھیلاؤ کی اہمیت نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ آج سوشل میڈیا اسی تاریخی سلسلے میں ایک نئی تبدیلی ہے: معلومات اور اظہار کی رکاوٹیں مزید کم ہوئی ہیں اور عام شہری بھی محض سامع نہیں، خود معلومات کا پیدا کرنے اور پھیلانے والا بن گیا ہے۔۔یوں طاقت بتدریج نیچے کی جانب منتقل ہوئی ہے۔۔
اس لیے جنوبی ایشیا کی نئی مزاحمت کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ ’’یہ پرانی تحریکوں جیسی کیوں نہیں؟‘‘
بلکہ یہ پوچھنا چاہیے:
’’آج کے انسان کس طرح ایک دوسرے کو تلاش کرتے ہیں، اپنی تنہائی کیسے توڑتے ہیں، اپنی مشترکہ طاقت کو کیسے پہچانتے ہیں، اور اس طاقت کو مزاحمت میں کیسے بدلتے ہیں؟ نیز اسکی کامیابی یا ناکامی کے کونسے نیے پیمانے ہیں ‘‘
یہ سوال ہمیں سوشل میڈیا کے شور سے آگے لے جا کر نئی مزاحمت کی اصل انسانی کہانی تک پہنچاتا ہے
