ہمارے ایک دوست تھے، رٹا لگانے کے اتنے ماہر کہ اگر کتاب الٹی بھی پکڑا دی جاتی تو وہ اسی روانی سے سبق سنا دیتے۔ ایک بار امتحان میں پرچہ الٹا آ گیا، چھپائی کی غلطی تھی، مگر موصوف نے بغیر کسی تامل کے پورا پرچہ حل کر ڈالا۔ استاد نے حیرت سے پوچھا کہ بیٹا یہ کیسے ممکن ہوا، تو فرمانے لگے، "سر جی، میں نے سوال پڑھے ہی نہیں، جواب تو مجھے یاد ہیں۔" یہ سن کر ہمیں یقین ہو گیا کہ رٹا ایک الگ مضمون ہے جو کسی نصاب میں شامل نہیں مگر ہر طالبعلم کو از خود مہارت حاصل ہو جاتی ہے۔
اب آتے ہیں اس عہد کی طرف جو ہر سال کے آغاز میں کیا جاتا ہے۔ یہ عہد اتنا مقدس اور اتنا بے اثر ہوتا ہے کہ اگر عہد شکنی پر بھی کوئی امتحان ہوتا تو ہمارے طالبعلم اس میں بھی امتیازی نمبروں سے کامیاب ہوتے۔ ہر سال یکم جنوری، یا تعلیمی سال کے پہلے دن، ایک نیا عزم جنم لیتا ہے کہ اس بار پابندی سے پڑھیں گے، روزانہ کا کام روزانہ کریں گے، اور آخری رات کی محنت کو الوداع کہیں گے۔ یہ عزم اتنی خوبصورتی سے باندھا جاتا ہے کہ خود عزم کرنے والے کو بھی رشک آتا ہے۔ مگر جیسے ہی دوسرا دن طلوع ہوتا ہے، عزم کہیں تکیے کے نیچے دب کر رہ جاتا ہے اور طالبعلم پھر اسی پرانی ڈگر پر واپس آ جاتا ہے، یعنی امتحان سے تین دن پہلے شروع ہونے والی "محنت" پر۔ ہم نے کبھی سوچا کہ یہ عزم بذات خود ایک مستقل روایت بن چکا ہے، عمل نہ سہی، رسم تو پوری ہو ہی جاتی ہے۔
پھر امتحان کے دنوں کا وہ عظیم الشان ڈرامہ ہے جس میں موبائل فون کو بند کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ یہ اعلان بھی کچھ اس انداز میں ہوتا ہے جیسے کوئی جرنیل جنگ بندی کا اعلان کر رہا ہو، پورے خاندان کو بلا کر، رسمی الفاظ میں، "بس اب امتحان تک فون بند۔" فون واقعی بند ہو جاتا ہے، مگر یہ بندش عمر بھر کی نہیں ہوتی، تین منٹ کی ہوتی ہے۔ تین منٹ بعد فون پھر آن ہوتا ہے، "بس ایک نوٹیفیکیشن دیکھ لوں" کے مقدس الفاظ کے ساتھ۔ اور پھر ایک نوٹیفیکیشن سے دوسری، دوسری سے تیسری، یوں فون کی بندش اور کشادگی کا یہ سلسلہ امتحان ختم ہونے تک جاری رہتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر اس عمل کو کوئی سائنسدان مانیٹر کرے تو وہ ثابت کر دے گا کہ طالبعلم کا موبائل فون دراصل کبھی بند ہوتا ہی نہیں، وہ صرف بند ہونے کا ڈرامہ رچاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے کچھ لوگ سوتے نہیں، صرف آنکھیں بند کر کے سونے کا تاثر دیتے ہیں۔
گروپ اسٹڈی ایک اور دلچسپ ادارہ ہے جو تعلیم کے نام پر قائم ہوتا ہے مگر اس کا اصل کام گپ شپ کو تعلیمی جواز فراہم کرنا ہوتا ہے۔ گروپ اسٹڈی شروع ہوتے ہی ایک آئینی دفعہ نافذ کی جاتی ہے کہ جو کوئی غیر متعلقہ بات کرے گا اسے گروپ سے خارج سمجھا جائے گا۔ یہ دفعہ اتنی سختی سے پڑھی جاتی ہے کہ سننے والا سمجھتا ہے کہ اب واقعی محنت ہو گی۔ مگر پانچ منٹ بعد ہی کوئی رکن یہ سوال داغ دیتا ہے کہ "ویسے فلاں کا رشتہ کہاں طے ہوا؟" اور پھر خود وہی رکن جس نے آئین بنایا تھا، سب سے پہلے اس سوال کا جواب دینے کے لیے تیار بیٹھا ہوتا ہے۔ گویا گروپ اسٹڈی کا آئین صرف افتتاح کے لیے ہوتا ہے، اس پر عمل کبھی متوقع نہیں ہوتا۔
اور وہ لمحہ بھی کیا خوب ہے جب طالبعلم پڑھنے سے پہلے کتاب کے صفحات گنتا ہے۔ یہ گنتی دراصل ایک نفسیاتی معائنہ ہوتی ہے، جس کا مقصد یہ اندازہ لگانا ہوتا ہے کہ خوف کی شدت کتنی رکھنی چاہیے۔ اگر صفحات کم ہوں تو سکون کا سانس لیا جاتا ہے، اور اگر زیادہ ہوں تو کتاب کو ویسے ہی بند کر کے خوف کو بھی بند کر دیا جاتا ہے، اس امید پر کہ جو دکھائی نہیں دے گا وہ یاد بھی نہیں کرنا پڑے گا۔ یہ ایک انوکھی حکمت عملی ہے جس میں کتاب کے مندرجات سے زیادہ اس کی ضخامت کو دشمن سمجھا جاتا ہے۔
سب سے آخر میں وہ منظر ہے جو ہر لیکچر کے اختتام پر دہرایا جاتا ہے۔ استاد سبق ختم کر کے کمرے سے نکلتے ہیں اور طالبعلم فوراً اپنے دوستوں کی طرف رخ کرتا ہے، "تمہیں سمجھ آیا؟" یہ سوال محض معلومات کے لیے نہیں پوچھا جاتا، اس کے پیچھے ایک خاموش دعا ہوتی ہے کہ سامنے والا بھی نہ سمجھا ہو، تاکہ دل کو تسلی مل جائے۔ اگر دوست کہہ دے کہ ہاں سمجھ آ گیا، تو پوچھنے والے کا چہرہ ایسے اترتا ہے جیسے کسی امتحان میں فیل ہو گیا ہو، حالانکہ سوال صرف سمجھ بوجھ کا تھا۔ اور اگر دوست بھی سر ہلا کر کہے کہ نہیں یار، کچھ سمجھ نہیں آیا، تو دونوں کے چہروں پر ایک عجیب سکون اتر آتا ہے، گویا جہالت میں بھی رفاقت کا مزہ ہے۔
ہم نے اس ساری کارروائی کو غور سے دیکھا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ طالبعلمی دراصل علم حاصل کرنے کا نام نہیں، بچاؤ کے فن میں مہارت حاصل کرنے کا نام ہے۔ عزم سے بچاؤ، خوف سے بچاؤ، تنہائی کے احساس سے بچاؤ، اور بالآخر خود اپنے آپ سے بچاؤ۔ اور یہ سب فنون اتنی مہارت سے سیکھے جاتے ہیں کہ اگر انہیں باقاعدہ نصاب کا حصہ بنا دیا جائے تو شاید ہمارے طالبعلم دنیا کی کسی بھی یونیورسٹی سے سند امتیاز لے آئیں۔
