یہ محض کوئی اتفاق یا معاشی بدانتظامی نہیں، بلکہ ایک ایسا غیر مرئی پنجرہ ہے جس میں ہمیں اور ہمارے جیسے درجنوں ممالک کو دہائیوں سے قید رکھا گیا ہے۔ لیکن اب عالمی بساط پر ایک ایسا کھیل شروع ہو چکا ہے جو اس پنجرے کی سلاخوں کو پگھلا رہا ہے۔ کہانی صرف پاکستان کی نہیں، بلکہ خلیج کے گرم صحراؤں سے لے کر بیجنگ اور ماسکو کی برفانی راہداریوں تک پھیلے اس ’گلوبل ساؤتھ‘ کی ہے جو اب واشنگٹن کے ڈکٹیٹ پر مزید چلنے کو تیار نہیں۔
برسوں ہم اس خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ ہماری ترقی اور بقا کی چابی صرف مغرب کے پاس ہے۔ لیکن آج دنیا بدل چکی ہے۔ چین اب خاموشی سے امریکی بانڈز بیچ کر سونا ذخیرہ کر رہا ہے، روس نے مغربی بینکاری نظام کو جوتے کی نوک پر رکھا ہوا ہے، اور خلیجی ممالک اپنے تیل کی قیمت صرف ڈالر میں طے کرنے کی ضد چھوڑ رہے ہیں۔ یہ ایک خاموش انقلاب ہے، اور خوش آئند بات یہ ہے کہ اب ہمارے اپنے پالیسی سازوں اور جی ایچ کیو کے راہداریوں میں بھی یہ احساس جاگ رہا ہے کہ اپنے تمام انڈے ایک ہی مغربی ٹوکری میں رکھ دینا کتنی بڑی تاریخی بھول تھی۔ مغرب کا اپنا بیانیہ اور نظام لنگڑا رہا ہے، اور ایسے میں پرانے اتحادیوں پر اندھا بھروسہ معاشی خودکشی سے کم نہیں تھا۔
سوال یہ ہے کہ اس غلامی اور ڈالر کے گرداب سے نکلنے کا عملی راستہ کیا ہے؟ اس کہانی کا پہلا باب انتہائی سادہ ہے، جس ملک سے ہم سب سے زیادہ سامان خریدتے ہیں، اس کے ساتھ ڈالر کے بجائے اسی کی کرنسی 'یوآن' میں لین دین کیا جائے۔ جب چین سے ہمارا تجارتی سامان یوآن میں آئے گا، اور ایران و روس سے خام تیل اور گندم کے بدلے ہمارا چاول، ادویات اور ٹیکسٹائل جائے گی، تو ڈالر کی وہ مصنوعی طلب لمحوں میں زمین بوس ہو جائے گی جو روز ہمارے روپے کا گلا گھونٹتی ہے۔ یہ بارٹر ٹریڈ (جنس کے بدلے جنس) اور مقامی کرنسیوں کا استعمال صرف کاغذ کا پھیر بدل نہیں، بلکہ اس سوئفٹ (SWIFT) نظام کے طوق کو گلے سے اتارنا ہے جس کا ریموٹ کنٹرول ہمیشہ مغرب کے پاس رہا ہے۔
اگر آپ نقشے پر ذرا غور سے دیکھیں تو گوادر صرف ایک بندرگاہ نہیں، بلکہ اس ابھرتی ہوئی نئی دنیا کا مرکزی دروازہ ہے۔ جب گوادر کے روٹس وسطی ایشیا کے ذریعے روس کی 'انٹرنیشنل نارتھ-ساؤتھ ٹرانسپورٹ راہداری' سے جڑ جائیں گے، تو پاکستان پورے یوریشیا کی تجارت کا مرکز بن جائے گا۔ بی آر آئی سی ایس (BRICS) کے تجارتی بلاک میں خاموشی سے قدم رکھنا، متبادل بینکاری نظام کا حصہ بننا اور ڈیجیٹل تجارتی کرنسیوں کو اپنانا کوئی جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ آئی ایم ایف کی بلیک میلنگ سے ہمیشہ کے لیے نجات پانے کا عملی پلان ہے۔
آج پاکستان تاریخ کے اس اہم ترین موڑ پر کھڑا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچا۔ ہمیں امریکہ یا مغرب سے کوئی دشمنی نہیں پالنی، لیکن اپنے معاشی قبلے کو تدریجاً مشرق کی طرف موڑنا اب ہماری پسند نہیں بلکہ بقا کی آخری شرط بن چکا ہے۔ یہ 21 ویں صدی کی وہ جدید جنگ ہے جو سرحدوں کے بجائے بینکنگ سسٹمز، تجارتی راہداریوں اور کرنسی معاہدوں کے میدان میں لڑی جا رہی ہے۔ جو قومیں وقت پر ہوا کا رخ پہچان کر اپنے جہاز کا بادبان موڑ لیتی ہیں، ساحل ان کا منتظر ہوتا ہے۔۔۔۔۔اور جو قومیں پرانے مالکوں کے آسارے بیٹھی رہتی ہیں، وہ تاریخ کے ہولناک طوفانوں میں غرق ہو جاتی ہیں۔
