یہ باتیں اپنی جگہ درست ہیں لیکن تاریخ کا آدھا سچ اکثر پورے جھوٹ سے زیادہ گمراہ کن ہوتا ہے اصل سوال یہ نہیں کہ انگریز نے ریلوے بنائی یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ریلوے کیوں بنائی گئی اور نوآبادیاتی ریاست کی بنیادی ترجیحات کیا تھیں۔
برطانوی ہندوستان میں ابتدائی ریلوے لائنوں کا ایک بڑا مقصد اندرون ملک پیدا ہونے والی کپاس اور دوسری اجناس کو بندرگاہوں تک پہنچانا برطانوی تیار شدہ مال کو ہندوستانی منڈیوں تک لانا اور فوجی نقل و حرکت کو تیز کرنا تھا۔بعد میں یہی ریلوے عام لوگوں کے سفر تجارت اور معاشی سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال ہوئی لیکن اسے صرف ہندوستانیوں کی فلاح کا تحفہ قرار دینا تاریخ کو حد سے زیادہ سادہ بنا دینا ہے
اسی طرح پنجاب کے عظیم نہری نظام نے لاکھوں ایکڑ زمین آباد کی اور اس کے دیرپا زرعی فوائد سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔لیکن پنجاب کی نہری کالونیاں صرف فلاحی منصوبے نہیں تھے ان کے ذریعے زیر کاشت رقبہ بڑھایا گیا ریاست کی زمین اور پانی پر گرفت مضبوط ہوئی محصول میں اضافہ ہوا اور گندم و کپاس جیسی اجناس کی تجارتی پیداوار اور برآمد میں اضافہ کیا گیا۔
سب سے اہم مثال تعلیم کی ہے اگر برطانوی حکومت کا بنیادی مقصد ہندوستانیوں کی جدید ترقی ہوتا تو تعلیم اس کی اولین ترجیحات میں شامل ہوتی مگر 1881 میں سرکاری بجٹ کا تقریباً اکیس فیصد ریلوے پر خرچ ہو رہا تھا جبکہ تعلیم کے لیے صرف ایک اعشاریہ سات فیصد مختص تھا۔
1891 میں پرائمری اسکول جانے کی عمر کے صرف نو اعشاریہ چھ فیصد بچے اسکول میں داخل تھے 1911 تک بھی ہر دس دیہات کے مقابلے میں تین سے کم پرائمری اسکول موجود تھے۔
1940 میں پندرہ سے چونسٹھ سال کی عمر کے ہندوستانی بالغ کے حصے میں اوسطاً صرف صفر اعشاریہ ستاسی سال کی تعلیم آتی تھی جبکہ برطانیہ میں یہ اوسط چھ اعشاریہ چوبیس سال تھی انگریزوں کی آمد سے پہلے برصغیر میں مکتب مدرسہ پاٹھ شالا اور دیہی تعلیمی روایتیں موجود تھیں
نوآبادیاتی دور میں ان میں سے بہت سے ادارے بتدریج نئے نظام میں ضم ہوئے یا مرکزی نوآبادیاتی تعلیمی ڈھانچے سے پیچھے رہ گئے نئے نظام نے جدید تعلیم کے کچھ دروازے ضرور کھولے لیکن عوامی اور ہمہ گیر تعلیم نوآبادیاتی حکومت کی ترجیح نہیں بن سکی ۔
معیشت میں بھی صورت حال کچھ مختلف نہیں تھی برطانوی پالیسی نے ہندوستان کو بڑی حد تک خام مال فراہم کرنے اور برطانوی تیار شدہ مصنوعات خریدنے والی منڈی میں تبدیل کر دیا روایتی دستکاری خصوصاً ٹیکسٹائل کی صنعت کو شدید مسابقت اور زوال کا سامنا کرنا پڑا
معاشی تاریخ سے وابستہ تحقیق سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نوآبادیاتی دور کے اختتام تک برطانیہ اور ہندوستان کے درمیان فی کس آمدن صحت اور تعلیم کے شعبوں میں نمایاں فرق پیدا ہو چکا تھا اس لیے صرف ریلوے کی پٹڑی دیکھ کر غلامی کو ترقی کا منصوبہ قرار نہیں دیا جا سکتا سامراج سڑک بھی بناتا ہےریل بھی چلاتا ہے بندرگاہ بھی بناتا ہے نہر بھی کھودتا ہے مگر اس سے سامراج فلاحی ادارہ نہیں بن جاتا سامراجی نظام میں فیصلے محکوم قوم کی آزاد مرضی سے نہیں بلکہ حکمران طاقت کی سیاسی معاشی اور فوجی ضرورتوں کے مطابق کیے جاتے ہیں
یہ دلیل بھی تاریخی اعتبار سے بے معنی ہے کہ آج لوگ برطانیہ جانا چاہتے ہیں تو پھر آزادی کیوں لی تھی آج کوئی پاکستانی برطانیہ روزگار تعلیم یا بہتر مستقبل کے لیے جاتا ہے تو وہ اپنی مرضی سے برطانوی قوانین کے تحت جاتا ہے
برطانوی پارلیمنٹ پاکستان کا بجٹ نہیں بناتی پاکستان کی فصلوں پر ٹیکس مقرر نہیں کرتی ہماری فوج کو حکم نہیں دیتی اور نہ پاکستان کو لندن سے کوئی وائسرائے چلاتا ہے۔
ہجرت اور غلامی ایک چیز نہیں ہیں ہندوستانیوں نے انگریز سے اس لیے آزادی نہیں مانگی تھی کہ انہیں ریل گاڑی پسند نہیں تھی انہوں نے آزادی اس لیے مانگی تھی کہ اپنی زمین پر حکومت کرنے کا حق ریل پل نہر اور بندرگاہ سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتا ہے ورنہ اسی منطق کے تحت کسی قیدی سے یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ جیل میں عمارت بجلی پانی اور کھانا موجود تھا تو تم باہر کیوں آنا چاہتے تھے۔
حوالہ جات
1۔ Daniel Thorner کی تحقیق The Pattern of Railway Development in India جو The Journal of Economic History میں 1950 میں شائع ہوئی
2۔ Ian J Kerr کی کتاب Engines of Change The Railroads That Made India جو 2007 میں شائع ہوئی
3۔ Imran Ali کی کتاب The Punjab under Imperialism 1885 to 1947 جو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے 1988 میں شائع کی
4۔ David Gilmartin کی کتاب Empire and Islam Punjab and the Making of Pakistan جو یونیورسٹی آف کیلیفورنیا پریس نے 1988 میں شائع کی
5۔ Latika Chaudhary کی تحقیق Land Revenues Schools and Literacy in India 1881 to 1941 جو The Journal of Economic History میں 2007 میں شائع ہوئی
6۔ Clive Trebilcock کی تحقیق The Indian Economy and the British Empire جو The Economic History Review میں 1977 میں شائع ہوئی
7۔ Gauri Viswanathan کی کتاب Masks of Conquest Literary Study and British Rule in India جو کولمبیا یونیورسٹی پریس نے 1989 میں شائع کی
8۔ Krishna Kumar کی کتاب Political Agenda of Education A Study of Colonialist and Nationalist Ideas جو سیج پبلی کیشنز نے 1991 میں شائع کی
9۔ Tirthankar Roy کی کتاب The Economic History of India 1857 to 1947 جو کیمبرج یونیورسٹی پریس نے 2011 میں شائع کی
10۔ C A Bayly کی کتاب Indian Society and the Making of the British Empire جو کیمبرج یونیورسٹی پریس نے 1988 میں شائع کی
