عاطف نصیر کا "انکسار"۔۔ انجم سلیمی

   عاطف نصیر کی شاعری اُن چراغوں کی مانند ہے جو تیز ہوا کے زمانے میں بھی بجھنے سے انکار کرتے ہیں۔ اُس کے لفظوں میں ایک خاموش آدمی کی تھکن، ایک حساس روح کی نمی اور ایک ایسے دل کی دھڑکن سنائی دیتی ہے جو زندگی کے شور میں بھی اپنے باطن کی آواز سے رشتہ نہیں توڑتا۔ انکسار پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی شخص دھیرے دھیرے اپنے دکھ، اپنی محبت اور اپنے خواب قاری کے حوالے کر رہا ہو۔
عاطف نصیر محبت کو محض رومان کی سطح پر نہیں برتتا بلکہ اسے انسانی وجود کی تہذیبی اور روحانی کیفیت میں ڈھال دیتا ہے۔ اُس کے ہاں ہجر بھی نرم ہے، وصل بھی خاموش، اور اداسی بھی ایک مہذب روشنی کی صورت دل میں اترتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی شاعری قاری کو چونکاتی نہیں، بلکہ آہستہ آہستہ اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔
انکسار کی سب سے نمایاں خوبی اس کی سادگی ہے۔ عاطف نصیر بڑے احساسات کو غیر ضروری لفظی آرائش کے بغیر بیان کرنے کا ہنر جانتا ہے۔ وہ معمولی مناظر سے غیرمعمولی معنی کشید کرتا ہے۔ ایک اداس شام، خالی کمرہ، بجھتا ہوا جگنو یا خاموش تالاب اُس کے یہاں زندگی کے گہرے استعارے بن جاتے ہیں۔ اُس کے اشعار میں شکست کا دکھ بھی ہے مگر اس کے ساتھ وقار کی ایک مدھم روشنی بھی چلتی رہتی ہے۔
یہ کتاب محض غزلوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک حساس روح کی داخلی ڈائری ہے؛ ایسی روح کی جو زندگی کی تلخیوں کے باوجود محبت کے امکان پر یقین رکھتی ہے۔ عاطف نصیر کی شاعری نئی نسل کے لیے اس اعتبار سے اہم ہے کہ وہ پیچیدہ عہد کے کرب کو نہایت سادہ مگر مؤثر لہجے میں بیان کرتا ہے۔ اس کے اشعار پڑھنے کے بعد ختم نہیں ہوتے، دیر تک قاری کے اندر گونجتے رہتے ہیں ، اور یہی کسی سچے شاعر کی اصل پہچان ہے
عاطف نصیر کی شاعری اُس خاموش دریا کی مانند ہے جو سطح پر پُرسکون دکھائی دیتا ہے مگر اپنے اندر کئی موسموں کی تھکن، کئی خوابوں کی نمی اور کئی شکستہ لمحوں کی بازگشت لیے بہتا رہتا ہے۔ اُس کے ہاں لفظ محض اظہار کا وسیلہ نہیں بنتے بلکہ احساس کی ایک دھیمی روشنی میں ڈھل کر قاری کے باطن تک اترتے چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انکسار کی شاعری پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی حساس روح اپنے زخموں کو تہذیب کے قرینے سے چھپا کر بھی اُن کی حرارت قاری تک منتقل کر رہی ہو۔
عاطف نصیر محبت کو روایتی معنی میں نہیں برتتا۔ اُس کے نزدیک محبت فقط وصل و ہجر کا قصہ نہیں بلکہ انسان کے اندر بچی ہوئی روشنی، اعتماد اور روحانی وابستگی کا نام ہے۔ اُس کی غزلوں میں ایک عجیب سی خاموش اداسی ہے، مگر یہ اداسی مایوسی نہیں، بلکہ زندگی کو گہرائی سے محسوس کرنے کا حاصل ہے۔ وہ دکھ کو چیخ میں تبدیل نہیں کرتا، بلکہ اُسے ایسے مہذب لہجے میں بیان کرتا ہے کہ قاری دیر تک اُس کے اثر سے باہر نہیں آ پاتا۔
انکسار کا سب سے نمایاں وصف اس کی سادگی ہے۔ عاطف نصیر چھوٹے اور نرم لفظوں میں بڑے احساسات کو سمیٹنے کا ہنر جانتا ہے۔ وہ معمولی مناظر سے غیر معمولی کیفیت کشید کرتا ہے۔ ایک اداس شام، خالی کمرہ، بجھتا چراغ یا دیر سے لوٹتا جگنو اُس کے ہاں محض منظر نہیں رہتے بلکہ انسانی وجود کے استعارے بن جاتے ہیں۔ یہی داخلیت اور نرم اسلوب اُس کی شاعری کو نئی نسل کے لیے بھی معنی خیز بناتا ہے۔
یہ کتاب محض غزلوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک حساس دل کی ایسی ڈائری ہے جس میں شکست کے بعد بھی امید کے چراغ روشن دکھائی دیتے ہیں۔ عاطف نصیر کی شاعری اپنے قاری کو آہستہ آہستہ اپنے حصار میں لیتی ہے اور پھر مدتوں اُس کے ساتھ چلتی رہتی ہے۔ یہی کسی سچے اور باوقار شاعر کی اصل پہچان ہوتی ہے۔
 انجم سلیمی 
۔۔۔۔۔۔۔

✓ ایک جھلک انکسار کی 

میری تصویر مت حسین بنا
میری بدصورتی بگاڑ نہیں
۔۔۔۔ِ۔

خموشیوں میں اسے ہمکلام جانتے ہیں
وہ یوں کہ ہجر کا صوتی نظام جانتے ہیں
۔۔۔۔۔
میں کہ اپنے آپ میں تازہ پانی کا حوض تھا
مجھے راز اتنے دئیے گئے کہ کنواں بنا
۔۔۔۔۔
ایک تصویر کیا ہٹا دی ہے
سارے کمرے نے بدعا دی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صرف ہم دو ہوں،اور کوئی نہیں
یہ تمنا ہے ، پیش گوئی نہیں
۔۔۔۔۔۔
مجھ سے پہلے بھی تھا اپاہج ایک
اپنی ماں کا میں دوسرا دکھ ہوں
۔۔۔۔۔۔
کہیں کہیں سے رنگ اتر جائے تو پھر دیوار
کیسی کیسی شکلیں ظاہر کرنے لگتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔
ابھی کسی کی رہائش نہیں ہوئی دل میں
تمہارے بعد مرمت کا کام جاری ہے
۔۔۔۔۔

آنلائن کتاب منگوانے کے لیے 
اس نمبر پہ رابطہ کیا جا سکتا ہے

03124228864
قیمت 1000 مع ڈلیوری

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !