تحریر: مائیکل سیباسچن (Michael Sebastian)
میں روم کے ایک ہوٹل میں پوری طرح جاگ رہا تھا۔ یقیناً یہ طویل فضائی سفر اور وقت کے فرق کا اثر تھا۔ میں نے اپنا فون اٹھایا، چند پیغامات کے جواب دیے، پھر انسٹاگرام کھول لیا۔ اس کے بعد اگلا ایک گھنٹہ بے مقصد اسکرولنگ میں گزر گیا۔
سوشل میڈیا کے فضول مواد نے مجھے جیسے مسحور کر رکھا تھا۔
میں ایک شخص کی ویڈیو دیکھ رہا تھا جو ناشتے میں گزشتہ رات کا بچا ہوا ڈومینوز پیزا اور اورنج سوڈا پی رہا تھا، اور دوپہر کے کھانے کے لیے آلو کے چپس ڈال کر پنیر کا سینڈوچ بنا رہا تھا۔ اچانک مجھے ہوش آیا۔
آخر میں کر کیا رہا تھا؟
اس دوان میں دوبارہ سونے کی کوشش کر سکتا تھا۔ ہوٹل کے جم میں ورزش کر سکتا تھا۔ قریب ہی میرا لیپ ٹاپ پڑا تھا، جس میں کرنے کے کاموں کی ایک پوری فہرست موجود تھی۔
اور اور، میری کھڑکی کے عین باہر شہرِ روم تھا، وہ شہر جسے ’’شہرِ جاوداں‘‘ کہا جاتا ہے!
اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جس کتاب کا میں مطالعہ کر رہا تھا، وہ میرے بالکل پہلو میں رکھی تھی۔ میں کسی بھی لمحے فون ایک طرف رکھ کر کتاب اٹھا سکتا تھا اور اس شخص کی ناقص غذائی عادات کی ویڈیوز دیکھنے کے بجائے کہیں زیادہ بامعنی اور تسکین بخش مطالعے میں محو ہو سکتا تھا۔
لیکن میں اسکرولنگ کرتا رہا۔
ہم سب کبھی نہ کبھی کتاب ایک طرف رکھ کر فون کی دنیا میں گم ہو چکے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے آپ بچوں کی ہالووین کی ٹافیاں چوری چھپے کھاتے چلے جائیں۔ چند لمحوں کی لذت ملتی ہے، پھر جسم اور ذہن دونوں میں ایک طرح کی ناگواری محسوس ہونے لگتی ہے۔
اور یہ احساس بھی کہ جیسے آپ کی عقل میں کچھ کمی آ گئی ہو۔
خوش آمدید، مابعدِ خواندگی کے عہد میں!
کیا آپ نے غور کیا ہے کہ آج کل ایک اصطلاح تیزی سے مقبول ہو رہی ہے: Postliterate Age، یعنی مابعدِ خواندگی کا عہد؟
اس سے عمومی طور پر مراد تحریری لفظ کی اہمیت میں کمی اور ایک اعتبار سے زبانی ثقافت کی طرف واپسی ہے، جہاں علم اور معلومات تحریر کے بجائے گفتگو اور سماعت کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں۔
آج آپ غالباً کتابوں کی نسبت پوڈکاسٹس کی سفارش زیادہ سنتے ہیں۔ مقبول ترین سیاسی تبصرہ نگار اب لازماً لکھاری یا ٹیلی وژن کے ستارے نہیں ہوتے۔ وہ ویڈیو پوڈکاسٹ چلاتے ہیں یا ٹوئچ پر براہِ راست نشریات پیش کرتے ہیں۔
آج کا تھامس پین کوئی مصنف نہیں، ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر ہے۔
فیس بک اور انسٹاگرام کی آمد سے بہت پہلے، ابلاغیات کے فلسفی مارشل میک لوہان نے، جو فلم اینی ہال میں بھی ایک یادگار منظر میں نظر آتے ہیں، ساٹھ کی دہائی کے اوائل میں مابعدِ خواندگی کا تصور پیش کیا تھا۔
ان کے شاگرد نیل پوسٹ مین نے ۱۹۸۵ء میں اپنی کتاب Amusing Ourselves to Death میں اس خیال کو مزید آگے بڑھایا۔
انہوں نے لکھا تھا:
’’امریکی اب ایک دوسرے سے گفتگو نہیں کرتے، ایک دوسرے کو محظوظ کرتے ہیں۔ وہ خیالات کا تبادلہ نہیں کرتے، تصویروں کا تبادلہ کرتے ہیں۔ وہ دلائل کے ذریعے بحث نہیں کرتے، بلکہ خوب صورت چہروں، مشہور شخصیات اور اشتہارات کو دلیل بناتے ہیں۔‘‘
چالیس برس بعد یہ مشاہدہ حیرت انگیز حد تک درست معلوم ہوتا ہے۔
تاہم پوسٹ مین کی سب سے دوراندیش دلیل یہ تھی کہ ہم مابعدِ خواندگی کے عہد میں داخل کیسے ہوں گے۔
وہ جارج آرویل کے ناول 1984 میں پیش کردہ مستقبل کا موازنہ ایلڈس ہکسلے کے ناول Brave New World سے کرتے ہیں۔
پوسٹ مین کے مطابق، آرویل کو اندیشہ تھا کہ کتابوں پر پابندی لگا دی جائے گی۔
ہکسلے کو اس سے بھی زیادہ خوف ناک بات کا خدشہ تھا: کتابوں پر پابندی لگانے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی، کیونکہ کوئی انہیں پڑھنا نہیں چاہے گا۔
پوسٹ مین نے لکھا:
’’جیسا کہ ہکسلے نے اپنی کتاب Brave New World Revisited میں کہا تھا، وہ شہری آزادیوں کے علم بردار اور عقلیت پسند جو آمریت کے خلاف ہمیشہ چوکس رہتے ہیں، انسان کی توجہ بٹانے والی چیزوں کے لیے اس کی تقریباً لامحدود بھوک کو سمجھنے میں ناکام رہے۔‘‘
آج ہماری جیبوں اور بستر کے پہلو میں ایسی مشینیں موجود ہیں جو ہر لمحہ ہماری توجہ بھٹکانے کے لیے تیار رہتی ہیں۔
خواندگی بڑھ رہی ہے، مگر مطالعہ گھٹ رہا ہے
یہاں ایک عجیب تضاد ہے۔
دنیا میں شرحِ خواندگی انسانی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ اس کے باوجود ہکسلے نے جس دنیا کا تصور کیا تھا اور پوسٹ مین نے جس کی پیش گوئی کی تھی، وہ ہمارے سامنے موجود ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ دن بھر فیس بک کی پوسٹیں، انسٹاگرام کے کیپشن اور ایکس پر مختصر پیغامات پڑھتے رہتے ہیں، مگر کتاب شاذونادر ہی اٹھاتے ہیں۔
حال ہی میں دی اٹلانٹک میں شائع ہونے والے ایک مضمون نے فنون میں عوامی شرکت کے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ۲۰۲۲ء میں صرف ۴۸ فیصد امریکیوں نے کم از کم ایک کتاب پڑھی۔ یہ تعداد دس برس پہلے کے مقابلے میں چھ فیصد کم تھی۔
اگست میں جاری ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، گزشتہ دو دہائیوں میں روزانہ محض شوق کی خاطر مطالعہ کرنے والے امریکیوں کا تناسب ۲۸ فیصد سے گھٹ کر ۱۶ فیصد رہ گیا ہے۔
نوجوانوں میں یہ کمی اور بھی نمایاں ہے۔
یوں معلوم ہوتا ہے کہ کتاب پڑھنا واقعی ایک بھولا بسرا فن بنتا جا رہا ہے، اور اس کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔
جارج پیکر نے اسی خزاں میں دی اٹلانٹک میں لکھا:
’’شاید ناخواندگی کی اس وبا نے سچائی کے زوال اور اس کے ساتھ لبرل جمہوریت کے کمزور پڑنے میں بھی کوئی کردار ادا کیا ہے۔‘‘
اس تناظر میں شاید مجھے روم کی اس صبح کے بارے میں زیادہ شرمندہ نہیں ہونا چاہیے۔
مابعدِ خواندگی کے عہد کی سب سے بے ضرر علامت یہ ہے کہ انسان انسٹاگرام پر اسکرولنگ کرتے ہوئے اپنا وقت ضائع کرتا رہے۔
اس کی بدترین صورت یہ ہے کہ دنیا کا طاقت ور ترین ملک خود پسند، جمہوریت مخالف احمقوں کے ایک گروہ کے ہاتھوں چلا جائے۔
کیا ہم اجتماعی طور پر احمق ہوتے جا رہے ہیں؟
اگر اس صورتِ حال میں کوئی امید افزا بات ہے تو وہ یہ کہ بعض صحافی، دانش ور اور ذرائع ابلاغ اس مسئلے کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔
مختلف مزاحیہ فن کاروں، مثلاً مارک مارون، بوون یانگ اور حسن منہاج کی گفتگو میں بھی یہ موضوع سامنے آیا ہے۔ یہ کسی حد تک دلچسپ تضاد ہے، کیونکہ ان فن کاروں کا اپنا ذریعۂ اظہار زیادہ تر زبانی ہے۔
جارج پیکر دی اٹلانٹک میں اس مسئلے پر لکھ رہے ہیں، جبکہ بلومبرگ کے پوڈکاسٹ Odd Lots کے شریک میزبان اور کاروباری صحافی جو وائزنتھال برسوں سے اس خیال پر گفتگو کر رہے ہیں۔
ٹائمز آف لندن کے کالم نگار جیمز میریٹ نے گزشتہ برس اپنے نیوز لیٹر Cultural Capital میں مابعدِ خواندگی کے معاشرے کے آغاز اور تہذیب کے خاتمے کے بارے میں ایک طرح کا منشور تحریر کیا تھا۔
انہوں نے لکھا:
’’اگر مطالعے کے انقلاب نے انسانی تاریخ میں علم کی سب سے بڑی دولت عام مردوں اور عورتوں تک منتقل کی تھی، تو اسکرین کے انقلاب نے عام لوگوں سے علم کی سب سے بڑی دولت چھین لی ہے۔‘‘
حالیہ برسوں میں متعدد مضامین اور کتابوں نے مغربی ثقافت میں بڑھتی ہوئی حماقت اور تخلیقی صلاحیتوں کے فقدان کا جائزہ لیتے ہوئے مابعدِ خواندگی کے مسئلے کو موضوع بنایا ہے۔
ایسکوائر کے ڈیو ہومز نے اس برس امریکہ میں بڑھتی ہوئی اجتماعی حماقت پر ایک مضمون لکھا۔
نیویارک میگزین کی ایک سرورق کہانی میں امریکی معاشرے کی گہری فکری پستی کا جائزہ لیا گیا۔
ڈبلیو ڈیوڈ مارکس نے اپنی نئی کتاب Blank Space میں استدلال کیا ہے کہ اکیسویں صدی نئے اور تازہ خیالات پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
گزشتہ ماہ آزاد ادبی و فکری جریدے The Baffler نے اپنا ایک پورا شمارہ مابعدِ خواندگی کے عہد کے نام کر دیا۔ یہ رسالہ بارنز اینڈ نوبل کی دکانوں یا انٹرنیٹ پر مطبوعہ صورت میں خریدا جا سکتا ہے۔
اس شمارے میں نکولاس مدینا مورا لکھتے ہیں:
’’یہ سمجھنا سادہ لوحی ہوگی کہ ناول پڑھنا یا نظم کا ترجمہ کرنا مزاحمت کی کوئی صورت بن سکتا ہے۔ لیکن کون جانتا ہے؟ شاید پرانی ادبی اصناف کو نئے سرے سے زندہ کرنا ہمیں موجودہ عہد کے حماقت کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان کو پلٹنے میں مدد دے سکے۔‘‘
اسکرین کی دنیا زیادہ غصیل، جذباتی اور انتشار زدہ ہوگی
میں یہ نہیں کہتا کہ آپ پوڈکاسٹس سننا چھوڑ دیں، فون پر ویڈیوز دیکھنا بند کر دیں یا سوشل میڈیا کی تمام ایپس حذف کر ڈالیں۔
اگرچہ تھوڑی سی ضبطِ نفس کی مشق خود میرے لیے یقیناً مفید ہوگی۔
لیکن مطالعے کی روایت کا زوال اور اس کی مختلف علامات ہم سب کے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہییں۔
جیمز میریٹ نے اپنے ۲۰۲۴ء کے مضمون میں لکھا تھا:
’’جیسا کہ آپ نے غالباً محسوس کیا ہوگا، اسکرین کی دنیا، مطبوعہ لفظ کی دنیا کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہنگامہ خیز ہوگی: زیادہ جذباتی، زیادہ غصیل اور زیادہ انتشار زدہ۔‘‘
ایسی دنیا یقیناً آمرانہ رجحانات اور غیر لبرل معاشرے کے فروغ کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتی ہے۔
تاہم مطالعے کے زوال کے بارے میں سب سے مؤثر دلیل نہ تو جمہوریت کے کمزور ہونے سے متعلق ہے اور نہ امریکی معاشرے کی فکری پستی سے۔
کتاب ایک خطرناک لذت بھی ہو سکتی ہے
نوے کی دہائی میں، جب میں ہائی اسکول کا طالب علم تھا، میں نے اسکول کی لائبریری سے جیک کیروآک کا ناول On the Road حاصل کیا۔
لائبریرین نے مجھے خبردار کیا:
’’اس کتاب سے ذرا بچ کر رہنا۔ آخری لڑکے نے جب یہ کتاب پڑھی تھی تو اس نے اسکول ہی چھوڑ دیا تھا!‘‘
کتابیں معلومات فراہم کرتی ہیں، تفریح مہیا کرتی ہیں، لیکن سگریٹ اور شراب کی طرح خطرناک بھی ہو سکتی ہیں، حتیٰ کہ آپ کی صحت کے لیے نقصان دہ بھی!
روم سے واپس آنے کے چند ہفتے بعد میں نے ایک نئی کتاب اٹھائی: جان لی کارے کا ناول A Perfect Spy۔
اس مرتبہ میرا آئی فون اس کتاب کا مقابلہ نہ کر سکا۔
میں رات گئے تک پڑھتا رہا اور نیند سے محروم رہا۔اس کتاب کے لیے نیند قربان کرنا بھی مجھے منظور تھا۔
تو پھر کیا ہوتا ہے جب ہم کتابیں پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں؟
جمہوریت لڑکھڑانے لگتی ہے۔ لبرل اقدار پسپا ہونے لگتی ہیں۔ حماقت عام ہو جاتی ہے۔
اور شاید اتنی ہی افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم اپنی شخصیت کی کشش، انفرادیت اور دل چسپی بھی کھو بیٹھتے ہیں۔
مابعدِ خواندگی کا عہد ایک بے کیف، بے رنگ اور انتہائی پھیکا زمانہ ثابت
ہونے والا ہے۔
{ انفرادیت کے خاتمے اور دورِ جدید میں سوشل میڈیا کے اثرات سے ریوڑ کی سی اجتماعی نفسیات کے معاشروں میں دَر آنے کو اجاگر کرتی اس تحریر کے ترجمے میں جزوی طور پر خودکار ذہانت سے مدد لی گئی ہے۔ ع ج}
