1. اپنے وقت یا محنت سے پیسہ جنریٹ کرنا جیسے جاب، کوئی اسکل، کوئی سروس دینا یا پراڈکٹ بنا کر بیچنا۔ یہ مڈل اور لوئر کلاس کا طریقہ کار ہے۔ دنیا میں غالب ترین اکثریت اسی طرح دولت جنریٹ کرتی ہے
2. دولت سے، مزید دولت جنریٹ کرنا جیسے انویسٹمنٹ۔ یعنی کسی بزنس یا ایسٹ، اسٹاکس، بونڈز وغیرہ میں انویسٹ کردینا۔ ایلیٹ کلاس ان طریقوں کو استعمال کرتی ہے۔ مڈل کلاس اس طرف کم جاتے ہیں
ایلیٹ کلاس اس گیم میں ایک قدم اور آگے جاکر کھیلتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کو بھی اس چیز کی شروع سے تعلیم دیتے ہیں۔ یہاں مڈل کلاس والوں کا بلکل بھی گزر نہیں ہوتا۔
وہ ہے، دوسرے کی دولت استعمال کرکے، اس سے مزید دولت جنریٹ کرنا
اس کی بہت ساری شکلیں ہیں لیکن جو شکل سب سے زیادہ استعمال کی جاتی ہے، وہ ہے بینک لون۔
یہ کیسے کام کرتا ہے، آگے چل کر بتاتا ہوں
مڈل کلاس انسان ساری زندگی مختلف علوم اور اسکلز سیکھنے میں ہی پھنسا رہتا ہے۔ اسے علم ہی نہیں کہ،
کرنسی کی سائنس کیا ہے، بینکس کیسے کام کرتے اور کماتے ہیں، ٹیکس لاز کو کیسے استعمال کیا جاتا ہے، فنانسنگ کیسے حاصل کی جاتی ہے، فنڈز یا کیپیٹل کیسے raise کیا جاتا ہے۔ لون (قرضے) سے کیسے تیز ترین دولت بنائی جاتی ہے
ایلیٹ کلاس کے ایکو سسٹم میں، ان کی گیدرنگز میں ان باتوں پر ڈسکشن عام ہے۔ لہذا وہ کم عمری سے ان معاملات میں عملی تجربہ حاصل کرچکے ہوتے ہیں
مڈل کلاس والدین اپنے بچوں کو نصیحت کررہے ہوتے ہیں کہ کبھی لون نہ لینا
ایلیٹ کلاس فیملیز اپنے بچوں کو لون اور فنانسنگ حاصل کرکے، اس سے تیز ترین دولت جنریٹ کرنے کا قیمتی گر سکھارہے ہوتے ہیں
ایک سروائیول مائنڈ سیٹ میں جیتا ہے
دوسرا، گروتھ driven سوچ کا حامل بنتا ہے
تو ہوتا کچھ یوں ہے کہ مڈل کلاس اپنی جمع پونجی بینکس میں محفوظ کرتے ہیں جبکہ ایلیٹ کلاس، اسی سرمائے کو بطور لون استعمال کرکے، انویسٹمنٹس سے پیسہ بنارہی ہوتی ہے۔
میں آپ کو ایک حقیقی مثال دیتا چلوں؛
بہت سالوں، جاپان کا انٹرسٹ ریٹ ساری دنیا میں سب سے کم تھا۔ ارب پتی یہ کرتے کہ جاپان سے لون اٹھاتے اور اسے من و عن امریکی میوچل فنڈز میں ڈال دیتے۔ یہاں سے بیٹھے بٹھائے پیسہ بنا کرتا تھا۔
کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ پاکستان میں سب سے زیادہ منافع بنانے والا سیکٹر، بینکنگ سیکٹر ہے۔ وہ پیسہ کیسے بناتے ہیں؟
وہ عوام سے پیسہ ڈپازٹ کرواتے ہیں۔ انھیں یا تو سرے سے منافع دیتے ہی نہیں یا سیونگ اکاؤنٹ کے نام پر بہت ہی معمولی منافع دیتے ہیں۔ پھر وہ اس پیسے سے گورنمنٹ لونز، ٹی بلز اور بونڈز خرید لیتے ہیں اور بناء کوئی محنت کیے، آرام سے منافع کماتے ہیں
ایلیٹ کلاس کیا کرتی ہے؟
سمجھیے ان کے پاس 5 کروڑ کی ایک پراپرٹی ہے۔ وہ اس کو بطور کولیٹرل، بینک کو رکھوائیں گے اور کروڑوں کا لون حاصل کرلیں گے۔
اب انھوں نے اس لون کی تین سال پر بھی فنانسنگ کروالی تو 36 ماہ میں قریباً کوئی 3 فیصد کے قریب قسط بنی۔ یہ اس رقم کو کہیں ہائر ریٹ پر انویسٹ کردیں گے جیسے 5 فیصد ریٹرن پر
اب انھیں بیٹھے بٹھائے، 2 فیصد ماہانہ پرافٹ مل رہا ہے۔۔۔۔۔۔
اس کے علاوہ، مدت پوری ہونے پر، وہ لون والی رقم، ان کا اپنا سرمایہ بن جانا ہے تو وہ گین الگ۔۔۔۔۔
یہاں میں نے exact نمبرز نہیں دئیے پر آپ کو معاملہ سمجھ آگیا ہوگا کہ بس آپ نے spread ڈھونڈنا ہے یعنی جہاں سے پیسہ اٹھایا اور جہاں لگایا وہاں positive difference موجود ہو۔ باقی سب کچھ خود بخود ہوجائے گا
اور یہ کام صرف 5 کروڑ سے نہیں بلکہ 5 لاکھ سے بھی ہوسکتا ہے۔ بہت سے لوگ خاموشی کے ساتھ ایسا کرتے ہیں
ایک اور hint دیتا چلوں؛
آپ نے عوامی/سرکاری پراجیکٹس کے حوالے سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے بارے میں سنا ہوگا۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ یہاں جو پرائیویٹ انویسٹر ہے، وہ اپنی جیب سے پیسہ لگاتا ہے؟
ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن جیسا میگا پراجیکٹ ڈیویلپ کیا ہے۔ کیا وہ بحریہ ٹاؤن اپنے فنڈ سے بناتا ہے؟
یہ پیسہ مختلف انویسٹرز، بینکس/انسٹیٹیوشنز سے raise کیا جاتا ہے
یہ کام آپ کل نہیں کرسکتے
لیکن اس جہت پر سوچنا شروع کرسکتے ہیں
اس طرح ایلیٹ کلاس برق رفتاری سے دولت سے دولت، create کرتی چلی جاتی ہے جبکہ مڈل کلاس والا بچارا نوکری کرکے یا سروس یا پراڈکٹ بیچ کر دھیرے دھیرے زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ وہ زندگی بھر کچھ خاص جمع نہیں کرپاتا۔ بمشکل گھر بنالیا تو بنالیا۔ دوسری طرف ایلیٹ کلاس ویلتھ کے انبار لگاتی چلی جاتی ہے
ہم مڈل کلاس والوں کی اکثریت یہ کرنا دور کی بات،
ایسا سوچ بھی نہیں سکتے
ہمیں تو یہ بھی پتا نہیں کہ دنیا میں ایسا بھی ہوتا ہے؟
اور ایسا ہوتا ہے تو کیسے ہوتا ہے؟
ایک اعتراض یہ کیا جاسکتا ہے کہ انویسٹمنٹ تو ڈوب جاتی ہیں۔
انویسٹمنٹ ان کی ڈوبتی ہیں جنھوں نے ڈرتے ڈرتے پہلی دوسری بار کہیں پیسہ لگایا ہو۔ جنھوں نے (ایلیٹ کلاس) جنریشنز سے انویسٹمنٹ کررہے ہوں، جہاں آپ کا پورا نیٹ ورک صبح شام انویسٹمنٹس میں غرق رہتا ہو، انھیں اس کا تجربہ اور مہارت، مڈل کلاس کے مقابلے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ یہ محفوظ اور رسکی انویسٹمنٹ بارے سب بہت پہلے سے پتا ہوتا ہے
اس کی مثال ایسی ہے کہ سمندر میں نہاتے ہوئے ڈوبنے کا خطرہ انھیں ہوتا ہے جو سال دو سال میں ایک آدھ بار پکنک پر آتے ہوں
جو مچھیرے رہتے ہی سمندر کنارے ہیں، ان کے ڈوبنے کے چانسز نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ وہ سوئمنگ بھی جانتے ہیں اور سمندر کے تیور بھی گہرائی سے سمجھتے ہیں
پیسے کو استعمال کرنا اور دولت سے مزید دولت جنریٹ کرنا بھی ایک آرٹ ہے۔ یہ پہلو آپ یہ پوسٹ پڑھ کر نہیں سمجھ سکتے۔ اسے سالہا سال پریکٹس کرنا پڑتا ہے۔ رسک جھیلنے پڑتے ہیں، تجربہ حاصل کرنا پڑتا ہے۔ پھر جاکر اس میں مہارت حاصل ہوتی ہے۔
میرا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے رہا ہے۔ ہمیں یہ باتیں بچپن سے سکھائی نہیں جاتیں۔ میں نے یہ باتیں، 40 سال کی عمر تک آکر سیکھی ہیں۔ ایلیٹ کلاس کا بچہ، یہ باتیں کم عمری میں ہی سیکھ لیتا ہے۔ اس کا exposure مڈل کلاس انسان سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ وہ میتھس، فزکس، اکاؤنٹنگ یا ان جیسے سبجیکٹس سے زیادہ، دولت کے ڈائنامکس سیکھتا ہے۔
ہم مڈل کاس اسکولز میں پڑھتے ہیں تو ہماری سوچ بھی ویسے ہی ڈیویلپ ہوتی ہے۔ ہم مروجہ سبجیکٹس پڑھتے ہیں اور اچھی نوکری کا خواب دیکھتے ہیں
ایلیٹ کلاس کا فرد دولت کے ڈائنامکس سیکھتا ہے اور ایک ایمپائر بنانے کا ویژن رکھتا ہے۔
ہماری اور اس کی سوچ کا ہی یہ فرق ہمیں دو الگ دنیاؤں کا باسی بناتا ہے۔
میں بھی اس حوالے سے کنویں کا مینڈک تھا۔ پھر کچھ سال پہلے psychology of money اور rich dad poor dad جیسی کتابیں پڑھیں، پھر عملی زندگی میں کچھ معاملات کا تجربہ ہوا، انویسٹمنٹس کیں، فائدے اور نقصان دونوں دیکھے تو پیسے کی سائنس سمجھ میں آنے لگی۔ دماغ کی بتی روشن ہوتی چلی گئی۔ نت نئے امکانات نظر آنے لگے جو پہلے بھی آنکھوں کے سامنے موجود تھے لیکن نظر نہیں آتے تھے کیونکہ وہ سوچ ہی کبھی ڈیویلپ ہوئی ہی نہیں
سمجھ میں آنے لگا کہ دولت سے دولت کیسے جنریٹ ہوتی ہے۔ فنانس کی بنیادی سمجھ بوجھ ہونا کتنا ضروری ہے۔ دولت کو کیسے اسٹرکچر کرنا چاہیے۔
اس تحریر کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ آپ آج ہی سے کوئی عملی قدم اٹھا لیجیے۔ آپ چاہ کر بھی کوئی قدم اٹھا نہیں سکتے۔
اس تحریر کا مقصد wealth کی ایک نئی جہت سے روشناس کروانا ہے۔ پیسے کے ڈائنامکس کو سمجھانا ہے۔
جنگل میں دو ہی طرح کے جانور رہتے ہیں؛
ایک وہ جن کا مقصد شکار بن جانے سے بچنا ہے
دوسرے وہ جن کا مقصد شکار کرنا ہے
ایک مائنڈ سیٹ یہ ہوتا ہے کہ میں نے فلاں فلاں اسکل سیکھنی ہے
جبکہ، ایک مائنڈ سیٹ یہ ہوتا ہے کہ میں نے فلاں فلاں اسکل رکھنے والے بندے کو hire کرنا ہے
میں ان کے لیے لکھتا ہوں جو وہ بننا چاہتے ہیں جو شکار کرنا چاہتے ہیں
جنھیں صرف زندگی میں سروائیول مقصود نہیں بلکہ وہ گروتھ سے محبت کرتے ہیں اور اس کے لیے رسک لینے کا دم بھی رکھتے ہیں
