رضیہ بٹ نے کل 51 ناول اور 350 کہانیاں لکھیں بچھڑے لمحے انکی سوانح عمری ہے رضیہ بٹ طویل علالت کے بعد 4 اکتوبر 2012 کو لاہور میں انتقال کر گئیں اور اپنے آبائی شہر وزیرآبادشہر میں آسودہ خاک ہوئیں۔
معروف ناول نگار رضیہ بٹ کا تعارف
رضیہ بٹ وزیرآبادشہر سے تعلق رکھنے والی اردو کی مشہور ناول نگار و افسانہ نگار تھیں انھیں پاکستانی خواتین میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی ناول نگار ہونے کا درجہ حاصل ہے اردو فکشن رائٹنگ میں بہت سے مشہور ناموں میں سے ایک معاصر ہونے کے نا طے آپ نے اپنی کہانیوں کو ایک مخصوص انداز میں پیش کر کے اپنا نام خود بنایا۔ رضیہ بٹ کی کہانیوں میں حقیقت کی تلخ سچائیوں کا عنصرایک مثبت انداز میں موجود ہوتا ہے، جس میں معاشرتی ناہمواریوں اور اداس لمحوں کا تاثر نمایاں ہوا کرتا تھا۔ زندگی کے چلتے پھرتے کرداروں اور الفاظ کی اثر انگیزی کے سبب رضیہ بٹ کے ناول مقبول تھےقیام پاکستان کے بعد ان کا ناول ’بانو‘ منظرعام پر آیا تو اس نے مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ برسوں بعد اس ناول کو ٹیلی ویثرن پر پیش کیا گیا۔رضیہ بٹ کو عام گھریلو قارئین میں جو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی اس کے باعث ان کا موازانہ اکثر برطانوی ناول نگار خاتون باربرا کارٹ لینڈ سے کیا جاتا ہے ’ جو کہ سو برس کی عمر پا کر سن دو ہزار میں فوت ہوئیں۔رضیہ بٹ کے ناولوں پر ایک سرسری نگاہ ڈالنے سے بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ پاکستانی معاشرے میں عورت کے کردار کو مرکزی اہمیت دیتی ہیں۔ مثلاً ان کے ناول نائلہ، صاعقہ، انیلہ، شبو، بانو، ثمینہ، ناجیہ، شائنہ، سبین ، رابی اور بینا سب کے سب عورت کے مرکزی کردار کے گرد بُنے گئے ہیں
Tags
