یہ اٗن دنوں کی بات ہے جب میں روزگار کے سلسلے میں ملتان میں مقیم تھا۔ ایک روز ایک دوست کا فون آیا۔ کہنے لگے، طارق! دو دن بعد شاعر اعتبار ساجد ملتان آ رہے ہیں۔ اُن کے اعزاز میں ایک شام رکھی جا رہی ہے، تمہیں پیشگی دعوت دے رہا ہوں۔میں نے کہا، بھائی! مقام اور وقت بتا دیجیے گا، اگر صورت بنی تو ضرور آ جاؤں گا۔ ایک دن بعد دوسرا فون آیا، مقام اور وقت بتایا تو میں نے بھی آنے کی یقین دہانی کرا دی۔
مشاعرے میں ایک نوجوان شاعر کو سنا تو اس کے کلام نے صرف مجھے نہیں حیران کیا ۔ اس کے اشعار میں ایسا سحر تھا کہ پورا ہال ایک طلسم زدہ فضا میں ڈھلتا محسوس ہوا۔ میں نے سوچا کہ مشاعرے کے بعد اس نوجوان سے ضرور ملاقات کروں گا، اس کی شاعری کی داد دوں گا، مگر شاید وقت مناسب نہ تھا۔ وہ ملاقات نہ ہو سکی، البتہ اس نوجوان کی شاعری ذہن میں رہ گئی۔۔۔
کچھ عرصے بعد میں اپنے استادِ محترم ارشد عباس ذکی صاحب کے پاس گول باغ گیا۔ مجھے دیکھتے ہی فرمانے لگے، طارق! بہت اچھے وقت پر آئے ہو۔ آج تمہیں اپنے ایک دوست سے ملواتا ہوں۔ وہ کچھ دیر میں پہنچ رہا ہے۔ کمال شعر کہتا ہے۔
ہم انتظار کرنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد ایک صاحب تشریف لائے۔ چہرہ دیکھا دیکھا لگا سلام دعا ہوئی تو ذکی صاحب نے تعارف کراتے ہوئے کہا، یہ میرا دوست ہے، ڈاکٹر وقار خان۔
نام سنتے ہی میرے ذہن میں مشاعرے کی وہی شام روشن ہو گئی۔ میں نے فوراً کہا، سر! میں
انہیں پہلے سن چکا ہوں۔ بہت اچھا شعر کہتے ہیں۔‘‘ یوں جس نوجوان شاعر سے مشاعرے کے بعد ملاقات کی خواہش دل میں رہ گئی تھی، اس سے باقاعدہ تعارف استادِ محترم کی محفل میں ہو گیا
ڈاکٹر وقار خان ان دنوں نشتر میڈیکل کالج ملتان میں زیرِ تعلیم تھے۔ میں جتنا عرصہ ملتان میں رہا، ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ کبھی گول باغ میں بیٹھک ہو جاتی، کبھی نشتر ہسپتال کی کسی کینٹین میں ملاقات ہو جاتی۔ شعر و ادب پر گفتگو ہوتی، چائے کے دور چلتے اور وقت کا پتا ہی نہ چلتا۔ سچ تو یہ ہے کہ ڈاکٹر وقار خان جتنا اچھا شاعر ہے کاش انسان بھی ہوتا۔۔۔
کچھ لوگ اپنی صلاحیتوں سے دل میں جگہ
میں بناتے ہیں، پھر اچانک منظر سے یوں غائب ہو جاتے ہیں جیسے کبھی وہاں تھے ہی نہیں۔ ڈاکٹر وقار خان بھی ایک ایسے ہی شخص ہے جسے میں نے پہلے ایک باکمال شاعر کے طور پر سنا،اور آخرکار انہیں شاعری کی دنیا سے یوں رخصت ہوتے دیکھا کہ ان کی کتاب تو میرے پاس رہ گئی، مگر شاعر کہیں پیچھے رہ گیا کیونکہ وہ صرف ڈاکٹر ہوگیا
ڈاکٹر وقار خان کی کتاب ’’انایا‘‘ شائع ہوئی۔ کتاب آنے کے بعد اس نے خاص طور پر مجھے اور بڑے بھائیوں جیسے عمار یاسر مگسی کو کتاب بطور تحفہ دینے کے لیے کبیرولا بھیجی۔ یہ محض کتاب کا تحفہ نہیں تھا، بلکہ ایک تعلق کی نشانی تھی۔ کسی شاعر کی کتاب وصول کرنا گویا اس کے باطن کا ایک حصہ وصول کرنا ہے۔ کتاب میرے پاس آ گئی، مگر مجھے کیا معلوم تھا کہ اس کے بعد شاعر خود ادبی دنیا سے ایسی چھٹی پر جائے گا جس کی واپسی کی تاریخ کسی کو معلوم نہیں ہو گی۔۔۔۔
کتاب شائع ہوئی اور پھر ڈاکٹر وقار خان ایک دم شعری منظرنامے سے غائب ہو گئے۔ نہ مشاعروں میں پہلے جیسی آمدورفت، نہ ادبی محفلوں میں کوئی خاص خبر۔ ایسا لگا جیسے انہوں نے شاعری کی دنیا سے خاموشی کے ساتھ استعفا لے لیا ہو۔
وہ پھر صرف ڈاکٹر ہو گئے
یہاں پہنچ کر آدمی ہنسے یا افسوس کرے، فیصلہ کرنا مشکل ہے
لیکن یہ محض مذاق کی بات نہیں۔ جس شخص کی شاعری ایک مشاعرے میں پورے ہال کو اپنے سحر میں لے سکتی ہو، جس کے نظموں میں لوگوں کو روک لینے کی صلاحیت ہو، اس کا اچانک ادبی دنیا سے جانا ایک قاری کے لیے معمولی واقعہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا شاعری واقعی ان سے بچھڑ گئی، یا انہوں نے اُسے زندگی کے کسی مصروف کونے میں بٹھا کر دروازہ بند کر دیا؟
آج ڈاکٹر وقار خان سرگودھا میں بطور ڈاکٹر خدمات انجام دے رہے رہا ہے ۔ یقیناً انسانوں کا علاج کرنا ایک قابلِ احترام خدمت ہے، مگر ان کے دوستوں اور قارئین کے لیے یہ سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ان کے اندر کا شاعر کہاں ہے؟ کیا وہ مریضوں کے نسخے لکھتے ہوئے کبھی کسی مصرعے کو یاد نہیں کرتا؟ کیا کبھی کوئی خیال دل میں دستک نہیں دیتا؟ یا پھر شاعر نے ڈاکٹر صاحب کے اندر خاموشی اختیار کر لی ہے اور اب صرف کسی مناسب موسم کا انتظار کر رہا ہے؟
میں جب ڈاکٹر وقار خان کو یاد کرتا ہوں تو ذہن میں دو تصویریں ابھرتی ہیں۔ ایک وہ نوجوان شاعر، جس نے اپنے اشعار سے ایک محفل کو مسحور کر دیا تھا؛ دوسری وہ ، جس کے ساتھ گول باغ اور نشتر ہسپتال کی کینٹین میں بیٹھ کر شعر و ادب پر گفتگو ہوا کرتی تھی۔ ان دونوں تصویروں کے درمیان ’’انایا‘‘ کی صورت میں ایک کتاب موجود ہے، جو گواہی دیتی ہے کہ یہ شخص کبھی شاعری کی دنیا میں پوری آب و تاب سے موجود تھا۔
ڈاکٹر صاحب! مریضوں کا علاج تو آپ برسوں سے کر رہے ہیں، کبھی اپنے شاعر کی بھی خبر لیجیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اندر ہی اندر بیمار ہو جائے اور آپ کو اس کی تشخیص تک نہ ہو۔ آپ نے طب کے شعبے میں اپنی ذمہ داریاں خوب نبھائیں، مگر ادبی دنیا میں آپ کی جو جگہ خالی ہوئی ہے، وہاں اب بھی آپ کے نام کی تختی لگی ہوئی ہے انایا کی صورت۔۔۔۔۔۔۔۔
انایا سے اشعار دیکھئے
مجھے تو اپنے ہی لہجے سے خوف آتا ہے
کہ جتنا سچا ہوں میں،زہر سے نہ بھر جاؤں
۔۔۔
تمہیں پتہ ہے کہ تم کس لیے ہوئے ہو ذلیل
تمہارے پاس کوئی اپنا نظریہ نہیں ہے
۔۔۔۔
میں دل کا اچھا ہوں لیکن ذرا سا ہوں گستاخ
تو ایک باہر مجھے سینے سے لگا کر دیکھ
۔۔۔۔۔
اے سخن فہم! مرے شعر سے کیا لگتا ہے ؟
کیا مرے بعد مجھے یاد رکھا جائے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جس نے دھوپ فروشی میں عمر کاٹی ہو
تو اُس کا ابر کے سائے میں گھر نہیں رہنا
۔۔۔۔۔۔
ستاروں کو بسانے کی تمنا
زمیں ویران کرتی جا رہی ہے
۔۔۔۔۔
میری حالت سے صاف لگتا ہے
زندگی سے بہت لڑا ہوں میں
۔۔۔۔
جنونِ وصل بھی تو،میرے یار دھوکا ہے
مرے خیال میں یہ عشق،پیار دھوکا ہے
۔۔۔۔
ضائع ہونے کے مراحل سے گزارا بھی گیا
مار کر زندہ کیا،زندہ کو مارا بھی گیا
۔۔۔۔
میں نے ایمان بچانے کے لیے جنگ لڑی
جنگ وہ عشق کی تھی،یا کہ مری ذات کی جنگ
۔۔۔۔
خوف کیوں کھاؤں میں مصیبت کا
رات دن ماں دعائیں دیتی ہے
۔۔۔۔۔
وہ بھی کیا یاد کرے گا کہ بشر پیدا کئے
"ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے"
۔۔۔۔۔
میں بات بات پہ ہر شخص سے الجھتا ہوں
تمہارے غم نے مجھے چڑچڑا بنا دیا ہے
۔۔۔۔
زندگی کے اصول ہوتے ہیں
اور پہلا اصول ہے تری یاد
۔۔۔۔۔
آسماں والے ایک بات بتا
یہ زمیں کس کے لیے بنائی گئی؟
۔۔۔۔۔۔
تو سمجھتا ہے تیری بخشش کو
مسجدوں کا غبار کافی ہے ؟
۔۔۔۔۔۔
میں نے جس کے لیے خدا چھوڑا
ہائے! وہ شخص بھی مرا نہ ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔
مانا کہ فرض ہیں ترے مطالبات
بندوں کے کچھ حقوق بھی تو ہونے چاہئیں
۔۔۔۔
