بلا شبہہ ماضی کو مستقبل نہیں بنایا جاسکتا ۔لیکن مستقبل کو ماضی کے سپرد کرنے سے محفوظ "ت" تو رکھا جا سکتا ہے ۔اج تقریباً تین دہائیوں اور چوتھی دہائی کے نصف پر اپریل 2025 میں (26۔۔اکتوبر)ایک مرتبہ پھر "م" کے گھونگھٹ کو سرکا کر معاشرہ ،ماحول،ماضی،مستقبل کو دیکھنا چاہتا ہوں ۔لیکن تم نے کیا کردار ادا کیا ۔تم کی "ت" کے اضافے کے ساتھ اردو حروف تہجی میں ت پہلے آتی ہے اس لئے" ت"......"م" تمہاری چیخ میں نے سنی ۔اور کوشش کی کہ تمہاری چیخ کے ردھم میں میں بھی چیخوں ۔۔لیکن
میں کس کا نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں
میرے شہر جل رہے ہیں میرے لوگ مر رہے ہیں
کوئی غنچہ ہو کہ گل ہو کوئی شاخ ہو کہ شجر ہو
وہ ہوائے گلستاں ہے کہ سبھی بکھر رہے ہیں
آج بھٹو کی برسی پر صدر آصف زرداری بہانہ کر کے ہسپتال میں داخل ہو کر جلسہ پر نہ جانے پر"م" کے ساتھ پہلے" ت"کے سابقہ کو مد نظر رکھ کر معاشرے اور مستقبل کے لئے پھر "م" پر خیالات کو مجتمع کر رہا ہوں ۔
تو رب ۔۔میں مخلوق ۔۔تو حضرت آدم ۔۔۔میں اولاد ۔۔۔تو ابرہیم کلیم اللہ ۔۔میں اسماعیل خلیل اللہ ۔۔۔ تو (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امام الانبیاء ۔۔میں ۔۔
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
معاشرے کو قریب سے دیکھتے ہیں۔ تو قائد اعظم ۔۔۔میں تیرا پاکستان ۔۔۔ تو علامہ اقبال ۔۔۔میں تیرا شاھین ۔۔۔تو پاکستان ۔۔۔۔میں تیرا سپاہی۔۔۔۔ تو کمانڈر انچیف (برطانوی) پاکستان ۔۔۔میں مقبوضہ کشمیر ۔۔۔۔تو پہلا گورنر جنرل پاکستان ۔۔۔۔میں تیری گاڑی خراب ۔۔پٹرول ختم ،کروا کر روکنے والا ۔۔نہ نہ میں نہیں تھا وہ بھی تو تھا ۔۔۔۔بہرحال تو سرحدوں کا رکھوالا ۔۔۔ میں جسم پر بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے آگے لیٹنے والا ۔۔۔ تو 1965 میں قوم کو آزمانے والا۔۔۔۔۔ میں سب کچھ قربان کرنے والا ۔۔۔تو بنگلہ دیش بنانے والا ۔۔۔میں منہ چھپا کر رونے والا ۔۔ تو ختم نبوت کا رکھوالا ۔۔۔۔۔۔ میں سینہ تان کر گولی کھانے والا ۔۔۔ تو نظام مصطفیٰ کا قائد ۔۔۔تو میں نہم کلاس کا طالبعلم اور اپنے کمرہ جماعت میں لاٹھی چارج دیکھنے والا ۔۔۔ ۔۔پھر تو اسلام کی بجائے اسلام آباد ڈیرے ڈالنے والا ۔۔۔۔اور میں 90روز میں نظام مصطفیٰ کے وعدے کو ڈھونڈنے والا ۔۔۔۔90روز میں الیکشن کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے تو علاقائی جماعتوں کو قومی جماعتوں کو کمزور کرنے کے لئے کلاشنکوف کلچر کو عروج دینے والا۔۔۔۔ میں سکتے کے عالم میں سوچنے والا ۔۔۔۔تو ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ لگانے والا۔۔۔۔اور میں قائد کے جسم کو اقبال کے خواب کو لاکھوں ماؤں , بہنوں،بیٹیوں کی سسکیوں میں دو لخت ہوتے دیکھنے والا ۔۔۔۔
ریفرنڈم میں اسلام کو ووٹ دو تو صدر 5سال کے لئے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی زندگی کا پہلا ووٹ اسلام نہیں چائیے پر مہر لگانے والا ۔لیکن جب تو افغانستان میں روس کے خلاف مصروف جہاد ۔۔۔۔میں تجھے انقلاب کے آئینے میں دیکھنے والا ۔۔۔۔۔ اس وقت کا تیرا سرپرست ۔۔۔ آج ڈراون حملوں کا موجب ۔۔۔ اسے اڈے کی سہولت کاری کے لئے پارا چنار بلوچستان کو لہو لہان کرنے والا ۔۔۔اس وقت کا تیرا مجاہد ۔۔۔۔۔اج کا میرا طالبان ۔۔۔ تو طالبان کی صورت میں امن وامان کا پیامبر بنا ۔۔۔۔ میں تجھے جدید علوم سے نا بلد دیکھ کر خوفزدہ ہوا ۔۔۔۔ تو نے ایٹمی دھماکہ کیا ۔۔۔۔ میں نے کارگل دیکھا ۔۔۔۔تو نواز شریف کو لانچ کر کے غیر جماعتی الیکشن میں لایا ۔۔۔۔میں نے سیاچین دیکھا۔ پھر کارگل تاریخ کا داغ دیکھا ۔۔۔ آج جعفر ایکسپریس ۔۔۔۔ ماہ رنگ بلوچ ایران پر تحفظات تو کرتا ہے ۔۔۔میں ایران کو 1965میں پاکستان کو فضائی تحفظ دینے والا دیکھتا ہوں ۔۔۔۔وہ سر زمین جو پاک بھارت جنگ میں پاکستان کے دشمن جہازوں کو اڑان اڈے دے وہاں تو امریکہ مفادات کی خاطر اسلام کا نعرہ لگاتا ہے ۔۔۔۔۔میں اسے مستقبل کے ے لئے خطرناک کہتا تھا۔جو اب "ت'تو خود کہہ کر "م " مجھے درست قرار دے رہا ہے ۔ تو ایٹمی قوت بنواتا ہے ۔۔۔میں ٹی وی پر معافی مانگتا ہوں ۔ ۔۔ آج تو افغانستان کو دشمن کہتا ہے ۔۔۔میں بات چیت کہتا ہوں ۔۔۔۔تو پہلے پاکستان کا نعرہ لگاتا ہے ۔۔۔میں تورا بورا دیکھتا ہوں ۔۔۔ تو ریاست کا نام لیتا ہے ۔۔۔۔۔میں انسانی حقوق کی بجائے انسانی اقدار کو پامال ہوتے دیکھتا ہوں ۔۔۔تو روس کی شکست کو دیکھتا ہے ۔۔۔۔میں ہیروئین اور پاکستان کے کاروبار کو افغانیوں کے ہاتھوں یرغمال ہو کر عوام کوتباہ ہوتے دیکھتا ہوں ۔۔۔۔۔۔ تو ایٹمی بم کے لئے مسلم امہ کو اکٹھا کرنے والا ۔۔۔میں تجھے پھانسی کے پھندے پر لٹکتے دیکھتا ہوں ۔۔۔ تو ایم آر ڈی تحریک میں جیلوں کو ٹوٹتا دیکھتا ہوں ۔ تو بینظیر کے فوٹو پھینکنے والا ۔۔۔میں مشرف دورمیں تجھے اسکے ساتھ دیکھتا ہوں۔۔۔تو الیکشن ۔۔۔تو بینظیر کا قتل ۔۔۔۔ میں نے قاتل صدر کو گمنام ہوتے دیکھا ۔۔۔عمران خان کا عروج ۔۔دھرنہ ۔۔۔میں نے آرمی پبلک سکول پشاور بچوں کو خون میں لت پت دیکھا ۔۔۔ تو نواز شریف نا اہل ۔۔میں نے عمران خان کو ناکام ہوتے دیکھا ۔۔۔تو عدم اعتماد میں سائفر پر آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ۔۔۔میں عوام کی وقعت و اہمیت کو بوٹ کے نیچے کراہتے دیکھا ۔۔۔ تو 9مئی ۔۔میں پاکستان کو غیر محفوظ دیکھنے والا ۔۔8فروری الیکشن تو حکمران ۔۔۔۔میں انسان کی موت کو دیکھنے والا ۔۔۔۔۔ڈی چوک تو طاقت کے غرور میں بدمست ۔۔۔میں لاشوں کی تعداد گنتا رہا ۔۔۔تو اپنے آپ کو مضبوط حکمران کہنے والا ۔۔۔۔میں عوام میں نفرت کے الاؤ کو دیکھنے والا ۔۔۔تو اسرائیل کے تحفظ کے لیے معاہدات کرانے کے لیے کٹھ پتلی کردار ادا کرنے والا۔۔۔۔میں پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ پر غور کرنے والا ۔۔لیکن نہیں نہیں تو ٹھیک میں غلط ۔۔تو پاکستان کو نچوڑ کر اقتدار کی خاطر لاشوں پر فتح کے طبل بنانے والا میں فاطمہ جناح پر چوری کے پرچوں سے سبق نہ سیکھنے والا ۔۔۔تو آزاد ریاست کہنے والا میں امریکی کالونی کا نظارہ دیکھنے والا ۔تو مزہبی کارڈ کو استعمال کر کے اپنی اقتدار پر قبضے پر بھڑکے مارنے والا ۔۔۔میں مریدکے میں کربلا دیکھنے والا ۔
کے پی کے میں ایمرجنسی ترمیم 26 ۔۔27پر عملدرآمد ۔۔المختصر۔ تو اپنے تن تک اور میں اپنے من میں ۔۔۔۔مزہبی عصبیت کو تو نے پروان چڑھایا ۔۔میں رب کریم کی عبادت گاہوں ایمرجنسی گورنر راج کی خاطر بے گوروکفن لاشوں کی صورت تڑپتا رہا ۔۔۔۔البتہ میں اپنے قائد علامہ شاہ احمد نورانی کی قیادت پر آج بھی فخر کرتا ہوں ۔
تو پوری ریاست کا مالک ۔۔۔میں لاقانونیت و بیروزگاری عدم تحفظ میں پھنسا ہوا ۔۔میں پی ایچ ڈی ۔ایم۔فل ۔ایم بی بی ایس کر کے ٹھوکریں کھانے والا تو ریٹائر ہو کر بھی ہر محمکہ کا سربراہ ۔تو اقتدار کو دیکھنے والا ۔۔۔میں بیگناہ اللہ کی مخلوق کی لاشوں پر ماتم کرنے والا۔۔۔ تو تڑپتی لاشوں قہقہے لگا کر پھبتیاں کسنے والا ۔۔میں بے گوروکفن لاشوں پر رو بھی نہیں سکتا
جب منزلوں پر وہم نہ تھا شب کا
میں نکلا ہوا ہوں گھر سے تب کا
جس شہر میں بس رہےتھےہم تم
وہ شہر تو اجڑ چکا ہے کب کا
