ساحر نے بچپن اور جوانی میں بہت پر خطر اور کٹھن دن گزارے جس کی وجہ سے انکی شخصیت میں شدید تلخی گھل گئی تھی۔ دنیا سے اپنی محرومیوں کا بدلہ لینے کی ایک زیریں لہر ان کی شخصیت میں رچ بس گئی تھی جس کے مظاہر وقتا فوقتاً سامنے آتے رہتے تھے۔ انھوں نے یوں ہی نہیں کہہ دیا تھا "دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں/ جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں۔" ان کے معاشقوں کا قصہ بھی اسی ذیل میں آتا ہے۔ امرتا پریتم اور سدھا ملہوترا کے ساتھ ان کے معاشقوں کا خوب شہرہ رہا۔ لیکن انھوں نے کبھی شادی نہیں کی۔ لڑکیوں کے ساتھ ان کا معاملہ کچھ اس طرح تھا کہ پہلے وہ کسی پر عاشق ہوتے اور جب وہ خود بھی ان کے عشق میں گرفتار ہو جاتی تو معشوق بن جاتے اور اس کے ساتھ وہی سب کرتے جو اردو غزل کی جفاکار معشوقہ اپنے عاشقوں کے ساتھ کرتی ہے اور بالآخر الگ ہو جاتے۔ اور اس طرح وہ زندگی کی محرومیوں سے اپنا انتقام لے کر خود اپنا سینہ لہو لہان کرتے۔ امرتا کے ساتھ ان کا معاملہ بڑا رومانی اور عجیب تھا۔ امرتا شادی شدہ ہونے کے باوجود ان پر مر مٹی تھیں۔ عالم یہ تھا کہ جب ساحر ان سے ملتے اور سگرٹیں پھونک کر واپس چلے جاتے تو تو وہ ایش ٹرے سے ان کی بجھی ہوئی سگرٹوں کے ٹوٹے چنتیں اور انھیں سلگا کر اپنے ہونٹوں سے لگاتیں۔ دوسری طرف ساحر صاحب اس پیالی کو دھونے کی کسی کو اجازت نہ دیتے جس میں امرتا نے ان کے گھر پر چائے پی ہوتی۔ وہ اس جھوٹھی پیالی کو بطور یادگار سجا کر رکھتے۔ لیکن امرتا کی آمادگی کے باوجود انھوں نے ان سے شادی نہیں کی۔ امرتا سمجھدار ہونے کے باوجود اپنے عشق کی ناکامی کے لئے خود کو ساحر کی نظر میں "زیادہ ہی خوبصورت" ہونے کو ذمہ دار ٹھہراتی رہیں۔ پھر سدھا ملہوترا سے ان کا چکّر چلا اور خوب چلا۔ ساحر نے سدھا کو فلم انڈسٹڑی میں پروموٹ کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ اور یہ سب کرنے کے بعد "چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں" کہہ کر کنارہ کش ہو گئے۔ زندگی سے انھیں جو کچھ ملا تھا اسے لوٹانے کا ان کا یہ طریقہ نرالا تھا۔ فلموں کے نہایت کامیاب گیت کار بن جانے اور معاشی طور پر آسودہ حال ہو جانے کے بعد ساحر میں بد دماغی کی حد تک رعونت پیدا ہو گئی تھی۔ انھوں نے شرط رکھ دی کہ وہ کسی دھن پر گیت نہیں لکھیں گے بلکہ ان کے گیت پر دھن بنائی جائے۔ انھوں نے اپنے محسن ایس ڈی برمن سے مطالبہ کیا کہ وہ ہارمونیم لے کر ان کے گھر آئیں اور دھن بنائیں۔ برمن بہت بڑے موسیقار تھے ان کو اپنی یہ اہانت برداشت نہیں ہوئی اور "پیاسا" اس جوڑی کی آخری فلم ثابت ہوئی۔ انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ان کو گیت کا معاوضہ لتا منگیشکر سے ایک روپیہ زیادہ دیا جاے جو اک نامعقول شرط تھی۔ انھوں بہرحال اک معقول مطالبہ بھی کیا کہ وودھ بھارتی پر نشر کئے جانے والے گانوں میں گیت کار کے نام کا بھی اعلان کیا جائے۔ یہ مطالبہ منظور ہوا۔ ساحر نے بیشمار ہٹ گانے لکھے۔ ان کو 1964 اور 1977 میں بہترین گیت کار کا فلم فیر ایوارڈ ملا۔
ساحر نے جتنے تجربات شاعری میں کئے وہ دوسروں نے کم ہی کئے ہوں گے۔ انھوں نے سیاسی شاعری کی ہے،رومانی شاعری کی ہے،نفسیاتی شاعری کی ہے اور انقلابی شاعری کی ہے جس میں کسانوں اور مزدوروں کی بغاوت کا اعلان ہے۔ انھوں نے ایسی بھی شاعری کی ہے جو تخلیقی طور پر ساحری کے زمرہ میں آتی ہے۔ ساحر کی شاعری، بالخصوص نظموں میں،ان کے ذاتی تجربات و مشاہدات کا خاص اثر نظر آتا ہے۔ ان کے ذاتی تجربات اور احساسات نے انکی شاعری میں،دوسرے شعراء کے مقابلہ میں زیادہ سچّائی اور گداز پیدا کیا اور محبت کی آمیزش نے اسے آفاقیت عطا کی۔
ان کی ادبی خدما ت کے اعتراف میں انھیں 1971 میں پدم شری کے خطاب سے نوازا گیا۔ 1972 میں مہارازشر حکومت نے انھیں "جسٹس آف پیس" ایوارڈ دیا 1973 میں "آو کہ کوئی خواب بُنیں" کی کامیابی پر انھیں "سویت لینڈ نہرو ایوارڈ" اور مہاراشٹر اسٹیٹ لٹریری ایوارڈ ملا۔ 1974 میں مہاراشٹر حکومت نے انھیں 'اسپشل ایکزیکیوٹیو مجسٹریٹ نامزد کیا۔ ان کی نظموں کے ترجمے دنیا کی مختلف زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ 8مارچ 2013ء کو ان کے یوم پیدائش کے موقع پر محکمہ ڈاک نے اک یادگاری ٹکٹ جاری کیا۔ 1980 میں دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوا۔و
