سگریٹ۔۔۔۔۔طاہر سراج

چودہویں جمات میں منوج کمار اور آشا پاریکھ کی شاہکار فلم دو بدن دیکھی ۔ گانے بھی کمال تھے ۔ اپنے جذبات بھی عروج پر تھے ، فلم اتنی اچھی لگی کہ دو بار مزید دیکھی ۔ انٹرنیٹ سوشل میڈیا وغیرہ تو تھا نہیں ، کورس کی کتابیں امتحان سے ایک رات پہلے کیلئے رکھی ہوتی تھیں ۔ گزارا کرکٹ ، فٹبال ، ہاکی ، اخبارات و رسائل اور دیگر کتب کی ورق گردانی پر تھا ۔ سچ پوچھیں تو ان دنوں ہر موضوع پر بے تحاشا پڑھا ماسوائے کورس کے ۔ 

خیر بات فلم کی ہو رہی تھی ، دیکھ لی ، بے چینی لگ گئی ۔ اب کیا کیا جائے ؟ انہی دنوں ایک ناول پڑھا جس کا ہیرو بات بات پر سگریٹ نکال لیتا تھا اور کم بخت سنجیدہ بھی بلا کا تھا ۔ ناول نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور میں نے سوچا سگریٹ پینا چاہیے ۔ میرے دوستوں اور گھر میں تو کوئی پیتا نہ تھا ، میں نے ہی ہیرو بننے کا فیصلہ کیا ۔ 

گھر کے ساتھ ہی ایک دکان پر گیا ۔ چار روپے کی دو عدد گولڈ لیف لی ۔ ایک کو جیب بدر کیا دوسری کو سلگا لیا اور پہلا کش اندر ڈالا ۔ دھواں دماغ سے ٹکرایا ، سرور کی ایک لہر اٹھی ۔ جس بندے نے کبھی چائے نہیں پی تھی اس کیلئے سگریٹ کے پہلے کش کا یہ اثر تو کم از کم بنتا تھا ۔ 

خیر کش لگاتا عازم گھر ہوا مگر دو گلیاں چھوڑ کر تاکہ گھر پہنچتے پہنچتے بیڑی کا کریا کرم ہو جائے ۔ منوج کمار ، آشا پاریکھ ، گانے ، شرجیل ، بینا ( ناول کے کردار) سوچتا اور کش لگاتا فل سرور کی حالت میں گھر کے قریب پہنچ گیا ۔ 

آپ کو معلوم تو ہو گا ہی کہ پہلی شیو ، پہلا سگریٹ اور پہلی جبلت انسان کو سواد کی ان بلندیوں پر پہنچا دیتی ہے جس کا مابعد تصور ہی کیا جا سکتا ہے ۔ کیوں کہ بعد ازاں بھی من پسند کام کرنے کی فطری جبلت تو زور و شور سے قائم رہتی ہے مگر وہ پہلا پہلا سرور دوبارہ کبھی بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ خالصتاً حقیقی اور خام جذبات ہوتے ہیں جو پہلی بار نکاس یا اخراج کی راہ دیکھتے ہیں ۔ 

خیر بات کہاں سے نکلتی کہاں جا پہنچی ۔ بیک ٹو دا سگریٹ گائیز ۔ گھر میں داخل ہوا تو منہ میں کڑواہٹ محسوس ہوئی ۔ فوراً برش کیا ۔ دوسری سگریٹ دو دن جیب میں پڑی رہی اور میں حیرت زدہ تھا کہ سالی سادہ سگریٹ تھی جس نے دماغ کو نچا کر رکھ دیا ۔ بہرحال تیسرے دن دوسری سگریٹ بھی لگا لی مگر اس بار چھت پر بیٹھ کر ۔ دماغ پھر ہواؤں میں ۔ 

بہت بعد میں رمضان کے مہینے میں پتا چلا تھا کہ سگریٹ کا وقفہ بڑھا کر پی جائے تو بہر حال اپنا اثر ابتدائی ایام کی طرح کچھ نہ کچھ کہیں نہ کہیں ضرور دکھاتی ہے ۔ دماغ سے سیدھا پنڈلیوں پر اثر انداز ہوتے ہوئے جھولے ضرور دیتی ہے ۔ اور یہی اصول ہر معاملے میں کارفرما ہے ، سمجھ رہے ہو نا ؟ 

کئی بار چھوڑی پھر شروع کر دی ۔ حتی کہ مجھے میرا ایک ہم خیال مل گیا ہم دونوں جب بھی ملتے ہمارا موضوع سگریٹ کو لے کر لوگوں کی صحت کے مسائل ہوتے ( اپنی صحت نہیں)۔ اور باہمی سگریٹ کے امور پر سیر حاصل بحث کے بعد ہماری تان ہمیشہ اس بات پر ٹوٹتی کہ جو سگریٹ نہیں پیتے کیا وہ مرتے نہیں ؟ پھر ہم شہر سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کم عمر افراد کا تذکرہ کرتے جو سگریٹ نہیں پیتے تھے مگر نکل لئے ۔ اور اطمینان سے اپنے اپنے گھر کی راہ لیتے ۔ 

بعد ازاں سٹوڈنٹ لائف میں ادھار لے کر بھی پیتا رہا ، تب پتا نہیں تھا کہ ایسے کم بخت بھی تخت پر بیٹھیں گے جو دوبارہ سے ادھار والی صورتحال پیدا کر دیں گے کہ وہ تو بھک منگے ہیں ہی سہی ، یہ سگریٹ والا خوددار بھی اپنے پاؤں پر کیوں کھڑا رہے ؟ اس لئے انہوں نے سیدھا جیب اور پنڈلیوں پر وار کیا گویا زمانہ طالبعلمی واپس لوٹا دیا ۔ 

دل بے تاب نے ناسٹلجیا پر وار کرنے کے تناظر میں ان ناہنجاروں کے بارے میں جو سوچا اور جو کہا وہ یہاں کیا ، کہیں بھی بیان کرنے کا محل نہیں ہے ۔ 

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے ۔
Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !