حضور ﷺ کی جنگی حکمتِ عملی:-عبدالحفیظ شاہد


 کبھی كبهار جب چشمِ تصور سے ماضی کی کھڑکی كهولتا ہوں تو ایک ہی منظر نظر آتا ہے کہ ظالم تلوار کو انصاف کا پیمانہ بنائے بیٹھے تھے، طاقتور کمزوروں کو پیروں تلے روند رہے تھے اس وقت تاریخ نے ایک ایسا حسین و جمیل چہرہ دیکھا جس کی پیشانی سجدوں سے منور تھی، جس کی زبان پر اللہ کا ذکر تھا،جس کے ہاتھ میں اگر تلوار تھی تو صرف ظالم کے خلاف حرکت میں آتی تھی ،وه نورانی چہرہ جناب حضرت محمد ﷺ کا تھا۔ وہ نبی ﷺ جو جنگ میں بھی امن کی خوشبو بکھیرتے تھے، وہ رہبر جو دشمن کے دل كو ہمیشہ رحم سے زیر کرتے رہے ، وہ سپہ سالار جن کی حکمتِ عملی کے سامنے دشمن کی عقل دهری کی دهری رہ جاتی تھی ،مات تو مقابل کا مقدر ہوتی ہی تھی مگر دشمن کے دل کو ایمان کی روشنی بھی عطا کر دیتی تھی۔

حضور ﷺ کی جنگی حکمتِ عملی تاریخ کا وہ باب ہےجہاں دشمن کے لیے بھی دعائیں نکلتی ہیں اور جہاں فتح کا جشن ظلم و غرور سے نہیں بلکہ سجدے میں منایا جاتا ہے۔
اسلام نے کبھی جنگ کو پسندیدہ عمل نہیں ٹھہرایا۔ بلکہ جنگ کو صرف ناگزیر حالات میں، ظلم کے خاتمے، مظلوم کے دفاع اور دین کے تحفظ کے لیے جائز قرار دیا۔ قرآنِ مجید میں بارہا تاکید کی گئی کہ جنگ کا آغاز نہ کیا جائے، زیادتی نہ ہو، معصوموں کو گزند نہ پہنچے۔
 "وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ"
(زیادتی نہ کرو، اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا)
حضورِ اکرم ﷺ نے تیرہ سال مکہ کی گلیوں میں پتھر کھائےطائف کے بازاروں میں لہو لہان ہوئے مگر تلوار نہ اٹھائی یہاں تک کہ ہجرت کے بعد مدینہ میں ریاست قائم ہوئی اور کفار نےزبردستی جنگ مسلط کی تب اللہ تعالیٰ نے دفاع کا حکم دیا۔

حضور ﷺ کی ہر جنگ عقل، اصول، عدل اور ہمدردی پر مبنی تھی۔ کچھ نمایاں اصول درج ذیل ہیں:

1. جنگ میں پہل کبھی نہ کی گئی
2. دشمن کو دعوتِ اسلام دی جاتی تھی ۔
3. جنگ سے پہلے امن کی ہر ممکن کوشش کی جاتی تھی ۔
4. معاہدوں کی مکمل پاسداری کی جاتی
5. کمزور، عورت، بوڑھے، بچے، عبادت گاہیں اور فصلیں محفوظ رکھی جاتیں تھیں ۔
6. قیدیوں سے حسن سلوک کیا جاتا تھا ۔
7. فتح کے بعد انتقام نہیں بلکہ عفو و درگزر کا پرچار کیا جاتا تھا.
حضرت محمد ﷺ کی جنگی حکت عملی آپ کے دور میں لڑی گئی جنگوں سے عیاں ہوجاتی ہے ۔مختصر احوال ملا حظہ فرمائیں۔

غزوہ بدر (2 ہجری):

یہ ایمان، توکل اور تدبیر کی جنگ تھی ۔یہ اسلام کی پہلی باقاعدہ جنگ تھی۔ ایک طرف صرف 313 مسلمان، جن میں کئی ننگے پاؤں، بغیر زرہ و ہتھیار تھے مگر ان کے دل ایمان کی روشنی سے منور تھے۔جبکہ مقابلے میں 1000 قریشی، تلواروں، گھوڑوں اور غرور سے مسلح تھے ۔حضور ﷺ نے مشورے کے بعد حضرت حباب بن منذرؓ کی تجویز پر پانی کے قریب جگہ سنبھالی۔ میدان میں صف بندی خود فرمائی اور اللہ کے حضور سجدے میں گر کر فتح کی دعا کی۔اللہ نے فرشتے نازل فرمائے۔حضرت علیؓ،حضرت حمزہؓ اور دیگر نے قریش کے بڑے سرداروں کو جہنم رسید کیا۔یہ جنگ فتحِ مبین کا شادیانہ تھی ۔

غزوہ اُحد (3 ہجری):
قریش نے بدر کا بدلہ لینے کے لیے 3000 کا لشکر تیار کیا ۔ مسلمان 700 تھے۔رسول اللہ ﷺ نے جبلِ اُحد کے سامنے دفاعی حکمتِ عملی اپنائی۔ پچاس تیر انداز درے پر مقرر کیے اور حکم دیا کہ "چاہے کچھ بھی ہو اپنی جگہ نہ چھوڑنا۔ابتداءمیں مسلمانوں نے دشمن کو پسپا کیا، مگر تیر اندازوں نے حالات نارمل سمجھ کر درہ چھوڑ دیا۔ خالد بن ولیدؓ جو اس وقت کفار کی فوج میں تھے ۔انہوں نے پیچھے سےحملہ کیا مسلمانوں میں کھلبلی مچ گئی۔ رسول اللہ ﷺ زخمی ہوئے، آپ ﷺ کے دانت شہید ہوئے، آپ ﷺ کا چہرہ لہولہان تھا ۔مگر آپ ﷺ نے حوصلہ دیا، صفیں سنبھالیں اور دشمن کا مردانہ وار مقابله کیا ۔ 
مسلمانوں كو یہ بات ذہن نشیں ہوگئی کہ ایک لمحے کی حکم عدولی، صدیوں کی پشیمانی بن سکتی ہے۔

غزوہ خندق (5 ہجری): 
قریش نے تمام قبائل کو ساتھ ملا کر مدینہ پر چڑھائی کی۔ دشمن کے 10,000 لوگ جبکہ مسلمانوں کا کل اثاثہ صرف 3000 جوان تھے ۔حضرت سلمان فارسیؓ کی رائے پر مدینہ کے گرد خندق کھودی گئی۔ عرب میں یہ پہلی بار ہوا۔رسول اللہ ﷺ خود خندق کی تیاری میں شریک ہوۓ۔ 27 دن کا محاصرہ ناکام ہوا۔ اللہ نے آندھی بھیجی، دشمن منتشر ہو گیا۔ 

صلح حدیبیہ (6 ہجری)

1400 مسلمان حضور اکرم ﷺ کی ركابت میں عمرہ کے ارادے سے روانہ ہوئے۔ کفار نے پابندی لگاکر روکا۔ مسلمانوں کی جماعت نے حدیبیہ میں قیام کیا۔قریش نے انتہائی سخت شرائط پر معاہدہ پیش کیا جس میں مسلمانوں کے لیے سب سے مشکل شرط یہ تھی جس میں "رسول اللہ " کی جگہ صرف "محمد بن عبداللہ" لکھنا شامل تھا۔ صحابہ انتہائی رنجیده تھے مگر رسول اللہ ﷺ نے جذبات کے بجائے حکمت سے کام لیتے ہوے فیصلہ كو تسلیم کیا۔یہی معاہدہ بعد میں فتحِ مکہ کی بنیاد بنا۔آپ ﷺ کی حکمت عملی سے یہ سبق ملا کہ وقتی لیکن شعوری نقصان دائمی جیت کا پیش خیمہ بن سکتا ہے.

غزوہ خیبر (7 ہجری): 
خیبر کا قلعہ انتہائی مضبوط تھا ۔یہود وسائل سے لیس تھے ۔مسلمانوں نے محاصرہ کیا اور کئی دنوں بعد حضرت علیؓ کی قیادت میں قلعہ فتح ہوا۔حضرت علیؓ نے مرحب کو قتل کیا اور رسول اللہ ﷺ نے فتح کے بعد مقامی یہودیوں کو ان کی زمینوں دے کر آزاد کردیا اور صرف پیداوار کا نصف مقرر کیا کہ وہ مسلمانوں کے حوالے کریں گے ۔اس طریقے سے نہ صرف مسلمانوں کی معیشت مضبوط ہوئی بلکہ انتظامی لحاظ سے بھی بہت سی ذمہ داریوں سے بہترین انداز میں عہدہ برآ ہونے میں کامیاب رہے ۔

غزوہ موتہ (8 ہجری): 
ایک صحابیؓ کا قتل کا بدله لینے کے لیےنبی ﷺ نے تین ہزار کا لشکر ایک لاکھ رومی فوج کے خلاف بھیجا حضرت زیدؓ، جعفرؓ اور ابن رواحہؓ شہید ہوئے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے صف بندی بدلی اور لشکر کو واپس لے آئے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "وہ بھاگے نہیں، لوٹے ہیں اللہ کی طرف"

فتح مکہ (8 ہجری): 
قریش نے معاہدہ توڑا، تو نبی ﷺ 10,000 کے لشکر کے ساتھ مکہ روانہ ہوئے۔
کوئی جنگ نہ ہوئی۔
 سردارانِ کفار کو جهكنا پڑا ۔ 
آپ ﷺ نے فرمایا
"جاؤ،آج تم سب آزاد ہو"
دشمن مسلمان ہو گئے اور مکہ امن کا شہر بن گیا۔

غزوہ تبوک (9 ہجری): 
رومیوں کے حملے کی خبر ملی۔ سخت گرمی، قحط، مگر رسول اللہ ﷺ نے 30,000 کا لشکر تیار کیا۔
طاقت کے اظہار سے دشمن نے پسپائی اختیار کی۔مہم میں منافقین کی منافقت بھی واضح ہو گئی قیادت کی مستقل مزاجی نے دشمن کے چھکے چھڑادیے ۔

حضور ﷺ کی جنگی حکمتِ عملی صرف عسکری مہارت کا سر چشمہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل جنگی ضابطہ حیات ہے۔ آپ کی حکمت عملی سے سبق ملتا ہے کہ جنگ صرف میدان میں ہی نہیں لڑی جاتی بلکہ اس کےلیے دل و دماغ کے میدانِ جنگ كو بھی سجانا پڑتا ہے ۔آپ ﷺ نے جنگ کو امن کی بالا دستی کے لیے لڑا۔ آپ ﷺ نے دشمنوں کو بھائی اور نفرت کو محبت میں بدل دیا۔ آپ ﷺ کی حکمتِ عملی میں صبر، عقل، رحم، عدل اور تدبیر کی وہ جھلک نظر آتی ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کو روشنی اور راہنمائی مہیا کرتی رہے گی ۔

آج کے لیڈرز اگر حضرت محمد ﷺ کی جنگی حکمتِ عملی کو سمجھنے کی
 کوشش کریں تو دنیا سے ظلم، فساد اور بے چینی اور افرا تفری جڑ سے ختم ہو سکتی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کی جنگی حکمتِ عملی، انسانیت کی سب سے عظیم قیادت کا وہ آئینہ ہے جس میں نہ صرف سپہ سالاری کی جھلک نظر آتی ہے بلکہ سچی محبت، اخلاص، دور اندیشی اور رحم دلی کی روشنی بھی نماياں ہوتی ہے۔
آپ کی حکمتِ عملی سے سبق ملتا ہے کہ جذبات سے پہلے عقل اور تلوار کی تیزی سے پہلے زبان کی نرمی اور فتح کے بعد سب سے پہلا عمل معافی ہوتا ہے۔نبی ِ مہرباں جیسی قیادت نہ پہلے کسی کو نصیب ہوئی، نہ آئندہ ہو گی۔
آج جب دنیا ایک بار پھر طاقت، جنگ، اسلحے، اور مفادات کی جنگ میں غرق ہے تو حضرت محمد ﷺ کی جنگی حکمتِ عملی ایک لافانی پیغام کی مانند انسانیت كی راہنمائی کے لیے موجود ہے ۔


اگر دنیا کا سب سے بڑا ایک فاتح اپنے دشمنوں کو "اذھبوا فأنتم الطلقاء" کہہ کر معاف کر سکتا ہےتو آج کے لیڈرز کیوں نفرت کی اندھیر نگری میں بھٹک کر انتقام کی آگ میں جل رہے ہیں؟
اگر ایک نبی جنگ کے میدان میں بھی انصاف، رحم، اصول اور انسانیت کی بات کرتا ہے، تو ہم ان کے پیروكار ہو کر کیوں نہیں کرسکتے ؟

حضور ﷺ کی جنگی حکمتِ عملی صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے رہنمائی کا منبع اور نور ہے ۔
ایسا نور جو آج بھی ظلم کے اندھیروں میں چراغ بن کر روشنی بکھیر رہا ہے ۔
یہ ایک ایسا فلسفہ جو آج بھی جنگوں کی آگ بجھا سکتا ہے۔یہ وه راستہ ہے جو انسان کو انسانیت سے جوڑ سکتا ہے۔
تو آئیے، ہم اس حکمت کو صرف کتابوں میں نہ رکھیں بلکہ اپنی زندگی، قیادت، معاشرے اور بین الاقوامی تعلقات میں محمد ﷺ کی صلح، عقل، رحم اور اصولوں کو زندہ کریں۔
کیونکہ اس کرہ ارض پر صرف وہی قومیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں جو میدانِ جنگ میں بھی رحم اور عدل كو مسمار ہونے سے بچاتی ہیں ۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !