سفید خون (افسانہ) ۔۔۔زوبیہ حسیب

ایک روشن صبح بیدار ہوئی تھی۔
 ابھی وہ بستر پر تھی کہ آنکھ کھلتے ہی وال کلاک دیکھا، لمحے بھر میں دونوں آنکھیں کھل گئیں۔ سات بج رہے تھے، ناشتے میں صرف آدھا گھنٹہ باقی تھا۔ وہ واش روم کی طرف دوڑی۔ اگلے دس منٹ میں تائی اماں کی آواز کمرے میں گونجی، “محترمہ اجازت ہو تو بارہ گھوڑوں والی بگھی بھجوا دوں کہ آپ ناشتے پر تشریف لے آئیں؟” نشتر سے تیر نکلا تھا۔ یہ وائرلیس تھا، پورے گھر میں وائرلیس نصب تھا، اس کی وجہ گھر کی کشادگی تھی۔ اس کے حرکات کرتے ہاتھ مزید متحرک ہوئے۔ اگلے دس منٹ میں وہ وسیع ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھی، سوائے اس کے تمام نشستیں پُر تھیں۔ وہ اپنی کرسی دھکیلتی ہوئی آ بیٹھی۔ گھر کے افراد میں تایا، تائی اماں، چھوٹے بابا، پھوپھو، پھوپھو کا بیٹا اور وہ خود موجود تھے۔ چند سال پہلے پھوپھا کا انتقال ہوا تو بیوہ پھوپھو ملک ہاؤس میں بس گئیں۔ پھوپھو کا ایک بیٹا تھا جو شکل سے ہی عیار لگتا تھا، اب حقیقت کا بھی اس سے کوئی تعلق تھا یا نہیں، یہ کسی پر عیاں نہ تھا۔ وہ خاموشی سے ناشتہ کرنے لگی۔ وہ ایک پیلس نما گھر تھا جو ملک ہاؤس کے نام سے جانا جاتا تھا۔ تائی اماں، تایا کی خالہ زاد تھیں اور دونوں نے پسند سے شادی کی تھی۔ یہ قصہ ملازموں کے زبانی عام تھا۔ صالحہ اکلوتی تھی، یا شاید اسے اکیلا رکھا گیا تھا، اس قصے کی وضاحت ابھی باقی تھی۔ اس کی عمر سترہ سال تھی اور وہ کالج میں زیرِ تعلیم تھی۔ گھر کی اکلوتی وارث ہونے کی وجہ سے ساری دولت اس کے حصے میں تھی۔ اس بات کو بیوہ پھوپھو ہضم نہ کر سکیں۔
“حمزہ بھائی، صالحہ تو پرائی بیٹی ہے، اس گھر کا بیٹا تو میر ہادی ہے، ساری دولت اور کاروبار تو میر ہادی کی ذمہ داری ہے۔”
پھوپھو نے بڑے سلیقے سے بات ملک حمزہ کو ذہن نشین کروائی تھی، اور ملک حمزہ نے بھی بڑے بھائی ہونے کا حکم یاد دلا کر یہ قصہ داؤد ملک کو پہنچا دیا۔ داؤد ملک کی شادی نورین شاہ سے کروائی گئی، جو ایک دوست کی دوستی کا پختہ ثبوت تھی۔ زین شاہ، اکرم ملک کے گہرے دوست اور ملک کے سب سے بڑے سرمایہ دار تھے۔ نورین ان کی اکلوتی اولاد تھی۔ زین شاہ اپنے ملازموں پر بہت بھروسا کرتے تھے اور ان کے ملازمین واقعی قابلِ اعتماد تھے۔ بختاں ان کی پرانی ملازمہ تھیں۔ بختاں نے ہی نورین کو پال پوس کر جوان کیا تھا۔ نورین کی شادی کے بعد زین شاہ بیمار رہنے لگے اور چند عرصے میں ان کی روح پرواز کر گئی۔ زندگی ایک مشکل پہیلی بن گئی تھی۔ کالج سے آ کر دن بھر کا کام اور پھر احسان جتلا کر دیا جانے والا مختصر سا دو وقت کا کھانا، پھر بھی اسے اپنے ہر آتے جاتے سانس پر شکر کی عادت ہو چکی تھی۔ وہ ایک نہایت خوبصورت سی لڑکی تھی، سادہ مگر پاکیزہ، گہری مگر خاموش۔ اسے کبھی کوئی خاص لباس نصیب نہیں ہوئے، لیکن اگر کبھی ہوتے تو وہ پورے پیلس میں تتلی بن کر اڑنے لگتی تھی۔ اکثر میر ہادی وائرلیس پر جب اسے اپنے کمرے میں بلاتا تو وہ سہم جاتی۔ میر اسے وحشی نظروں سے دیکھتا تو اسے اپنی سانسیں غائب محسوس ہوتیں، اور جب وہ کسی بھی بہانے اسے چھونے کی کوشش کرتا تو وہ اپنے آپ کو غلیظ سمجھنے لگتی۔ جب کبھی وہ اس کے بلانے پر نہ جاتی تو دو وقت کا مختصر کھانا بھی اسے ہلکان کر کے دیا جاتا۔ اس دن آسمان پر بادل پھیل گئے اور تیز بارش ہونے لگی۔ کالج سے جلدی چھٹی ہو گئی تھی۔ وہ کسی ٹیکسی کے انتظار میں کھڑی تھی کہ ایک ٹیکسی آ کر رکی۔ پچھلی سیٹ سے شیشے کا پردہ نیچے اترا۔ اندر ایک خاتون موجود تھیں۔
“آؤ بیٹا، اندر آ جاؤ”—ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
مجبوری کے تحت صالحہ گاڑی میں بیٹھ گئی۔ سفر خاموش گزرا۔ چند دیر میں ایک بنگلے کے سامنے گاڑی رکی۔ خاتون اسے اندر لے آئیں۔ ان کی آنکھوں میں اپنائیت تھی، شاید جو اس نے پہلی بار دیکھی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ یہاں تک آ گئی۔ سفید برقعے میں براؤن سا اسکارف، موتی جیسی رنگت پر گلابی باریک ہونٹ—نا چاہتے ہوئے بھی وہ قدرے اطمینان سے بیٹھی تھی۔ کچھ دیر میں وہ خاتون بھی اس کے قریب آ گئیں۔ اس نے خاتون کے ہمراہ کھانا کھایا۔ کھانا پُرلطف اور لذیذ تھا۔ خاتون نے اس سے کچھ گفتگو کی اور پھر اسے واپس اسی جگہ پہنچا دیا۔ کچھ دیر میں سجاول آ گئے اور وہ خاموشی سے گھر آ گئی۔ بارش تھم گئی تھی۔ عجیب سی ٹھنڈک اس کے اندر تھی یا باہر کے موسم میں—وہ تفریق نہ کر سکی۔ وقت کی ریت اُڑھ گئی۔ چھ ماہ گزر گئے۔ وہ خاتون صالحہ کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ صالحہ کو بھی ان کی شفقت میں راحت نظر آتی تھی۔
“مجھے اپنی امی کو دیکھنے کا بہت شوق ہے۔ جب بھی ان کی یاد آتی ہے تو ذہن طرح طرح کے خاکوں میں الجھنے لگتا ہے۔ رات کی جس بھی پہر ان کی یاد آتی ہے تو آنکھوں ہی آنکھوں میں صبح ہو جاتی ہے۔”
وہ اپنے دل کا حال سنا رہی تھی۔ بختاں کی آنکھیں تر ہو گئیں۔
“واہ! آنکھوں ہی آنکھوں میں صبح—یہ کیسے ہوتی ہے؟”
نانی، وہ لقمہ لیتے ہوئے آن ٹپکا تھا۔ بختاں مسکرا گئیں۔ وہ بائیس تیئیس سال کا ایک خوبصورت نوجوان تھا۔
“نانی، آج کھانا نہیں کھلائیں گی؟” وہ اس کے آنسوؤں کو بھانپ گیا تھا۔ نانی نے پیار سے تھپکی دی۔ اس کی نظریں بار بار اس کے چہرے پر آ جاتی تھیں، مگر ان نظروں میں میر ہادی جیسی وحشت نہ تھی، بلکہ ان آنکھوں کی تپش میں وہ گہری مگر نرم سی ٹھنڈک تھی، جو اس کے رویّوں سے جھلستے وجود کو سکون کی جھیل میں اتار دیتی تھی۔
کالج مکمل ہونے میں دو ماہ رہ گئے تھے، پھر کالج ختم ہوتے ہی اس کا شناختی کارڈ بن جانا تھا۔ اسے محسوس ہونے لگا تھا کہ تایا اب اس کے لیے کافی خواہش مند تھے۔ اسی دوران اس کی سالگرہ آ گئی، زندگی کو آنکھ کھولے اٹھارہ سال بیت چکے تھے۔ اس کے حالات بدل رہے تھے، جہاں پہلے صرف لفظوں کے نشتر سے تیر نکلتے تھے وہاں اب اوزار بھی پڑنے لگے تھے۔ کبھی تائی اماں اسے تھپڑ جڑ دیتیں، کبھی پھوپھو گرم چائے اس کے ہاتھ پر انڈیل دیتیں، کبھی میر ہادی راستہ روک لیتا، اب تو چھوٹے بابا بھی اس پر غصہ کرنے لگے تھے۔ وہ سب کچھ برداشت کرتی رہی۔ اچانک اس کے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی۔ اس کا کمرہ سب سے الگ ایک کونے میں تھا، وہاں عام طور پر کوئی نہیں آتا تھا، اس لیے اس نے دروازہ کھول دیا۔ سامنے کا منظر اس کے لیے ناقابلِ یقین تھا۔ میر ہادی سامنے کھڑا تھا، چہرے پر ہوس بھری مسکراہٹ لیے۔
“سالگرہ مبارک ہو ڈیئر” اس نے کیک اس کی طرف بڑھایا۔ وہ سمٹ گئی۔
“لو کیک کھاؤ” جیسے ہی میر نے کیک کا ٹکڑا اٹھا کر اس کے قریب کیا، وہ دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔ میر کی کریم لگی انگلیاں اس کے رخسار کو چھونے ہی والی تھیں کہ اس نے پوری قوت سے اس کے گال پر تھپڑ مار دیا۔ دو لمحے تک آواز گونجتی رہی۔ میر لڑکھڑا گیا، کیک فرش پر گر گیا۔ اس نے دروازہ زور سے بند کر دیا۔ چند لمحوں بعد دروازے پر زور کا دھکا لگا، شاید اس نے زور آزمائی کی تھی۔ وہ دہل گئی۔ اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا، اور اس تھپڑ نے میر کے گال پر نیلی چھاپ چھوڑ دی تھی۔ وہ اس وقت بس اسٹاپ پر کھڑی تھی، ٹیکسی کا انتظار کر رہی تھی۔ نانی نے اسے اپنا فون نمبر دے رکھا تھا، جب بھی وہ فارغ ہوتی نانی کو فون کرتی، ٹیکسی آتی اور اسے نانی کے گھر لے جاتی۔ تابش کے لہجے میں ابھرتی ہوئی اعتماد کی لہریں اسے سہارا دیتی تھیں، جیسے کسی نے اسے چلنا سکھا دیا ہو۔ آج اسے دیکھ کر نانی کے چہرے پر غیر معمولی رونق تھی۔ کچھ دیر آرام کر کے وہ واپس گھر آ گئی۔ ابھی وہ کچن میں داخل ہی ہوئی تھی کہ پھوپھو نے اسے پکارا۔
“جی” اس نے سکون سے جواب دیا۔ اچانک ایک تھپڑ اس کے چہرے پر پڑا۔
“تیری اتنی ہمت کہ تو نے میرے بیٹے پر ہاتھ اٹھایا” کہتے ہوئے پھوپھو نے اس کی ہتھیلی جلتے چولہے پر رکھ دی۔ ایک دل دہلا دینے والی چیخ بلند ہوئی۔ میر ہادی دروازے کے ساتھ کھڑا مسکرا رہا تھا، اس مسکراہٹ میں زہر بھی تھا اور فتح بھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بہتے رہے اور وجود جلتا رہا۔
اگلی صبح وہ کمرے سے اپنا بیگ لے کر گاڑی میں آ بیٹھی۔ سجاول نے اسے اتارا اور گاڑی لے کر چلا گیا۔ جلا ہوا ہاتھ لے کر وہ کالج نہیں جا سکتی تھی، اس لیے اندر جانے کے بجائے سیدھی بس اسٹاپ پر آ گئی۔ آج اس نے خود ہی ٹیکسی لی اور نانی کے گھر پہنچ گئی۔ وہاں پہنچ کر جو منظر دیکھا وہ اسے چونکا گیا۔ نانی کے کمرے میں سجاول، عدیل(ٹیکسی والا)، نانی اور تابش موجود تھے۔ اس نے سب پر ایک نظر ڈالی اور سیدھی نانی کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔ اس کا جلا ہوا ہاتھ دیکھتے ہی نانی گھبرا گئیں، انہوں نے وہیں اس کی ہتھیلی پلٹ کر دیکھی۔
“ہائے میری بچی” نانی چیخ اٹھیں۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ تابش بھی اس کے قریب آ گیا۔ چند لمحوں میں اس کے ہاتھ پر پٹی کر دی گئی۔ سجاول اور عدیل چلے گئے، کمرے میں اب صرف وہ تین لوگ رہ گئے تھے۔ تابش کا چہرہ غم اور غصے سے تپا ہوا تھا، اور اس کی موجودگی کسی مرہم کی طرح اسے سکون دے رہی تھی۔ نانی کے بال سہلاتے سہلاتے اور تابش کے پاس بیٹھے بیٹھے وہ نیند کی آغوش میں چلی گئی۔ دو گھنٹے بعد وہ جاگ گئی۔ اس نے کھانا کھایا اور ایک بار پھر وہ تینوں اکٹھے تھے۔ نانی نے حقیقت کا آغاز کیا:
"سجاول اور عدیل میرے بیٹے ہیں، اور یہ میرا اکلوتا نواسا تابش ہے۔"
صالحہ کو حیرت کا جھٹکا لگا۔ سجاول بھائی کو تو وہ بچپن سے جانتی تھی ہمیشہ سفر میں وہ صالحہ کے ساتھ ہوتے تھے۔ نانی نے اپنی بات جاری رکھی:
"میں بختاں ہوں۔"
صالحہ کے ذہن میں سرگوشی ہوئی: یہ تو وہی بختاں ہیں جو زین شاہہ کی ملازم تھیں۔ یہ نام اسنے سجاول چچاکی زبان سے سنا تھا۔ نانی نے سارا راز کھول دیا۔ صالحہ جیسے منوں مٹی تلے دب گئی۔ کالج ختم ہو چکا تھا۔ شناختی کارڈ موصول ہونے میں دو دن باقی تھے، تب تک اس کے ہاتھ پاؤں ظلم کا شکار ہو چکے تھے۔ وہ اپنی عمر سے زیادہ برداشت کر چکی تھی، کیونکہ اس کی رگوں میں دوڑتا خون اسے باہمت بیٹی بناتا تھا۔
وہ اسٹڈی میں ایک کتاب کی تلاش میں گئی۔ وہ کتاب پڑھ رہی تھی کہ اچانک ایک لمبی فائل فرش پر آ گری۔ اس نے فائل اٹھائی، جس پر لکھا تھا: "نورین شاہ"۔ چپکے سے فائل اپنے کمرے میں رکھ دی، جو اسٹڈی کے قریب ہی تھا۔ اگلے دن وہ ملک داؤد کے سامنے کھڑی تھی۔
"میں اپنی ایک دوست کے گھر جانا چاہتی ہوں" دوؤد ملک کتاب سے گم تھے۔
"تمہیں اپنا شناختی کارڈ موصول کرنا ہے، یاد ہے؟"
جی یاد ہے۔ ہہم۔ جاؤ۔ آج دوپہر میں کوٹ سے شناختی کارڈ موصول کرنا تھا۔
کورٹ میں جو سوال پوچھا جاۓ جواب صرف اقرار میں ہونا چاہیے۔ دوؤد ملک نے اسے تنبیہ کی۔ سجاول کے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے۔
فکر نہ کریں چچا۔ سب ٹھیک ہی ہوگا۔ اس نے سجاول کو تسلی دی۔
کورٹ میں جج صاحب نے سوال کیا۔
“کیا آپ شناختی کارڈ وصول کرتے وقت اپنے پچاس کروڑ روپے اپنے والد، داؤد ملک، کے نام منتقل کرتی ہیں؟”
جی نہیں۔۔۔
اصل حقیقت یہ تھی کہ نورین شاہ اپنی شادی کے وقت دو سو کروڑ روپے جہیز میں لائی تھیں۔ ان میں سے ڈیڑھ سو کروڑ روپے فوراً ان کے نام منتقل کر دیے گئے تھے، جبکہ پچاس کروڑ روپے ان کی اولاد کی پیدائش کے بعد انہیں ملنے تھے۔ یہی وہ دولت تھی جس نے انسانیت کو نگل لیا۔
جب نورین شاہ حاملہ ہوئیں تو دولت کے لالچ میں داؤد ملک اور حمزہ ملک نے مل کر ایک گھناؤنا منصوبہ بنایا۔ نورین شاہ کو زچگی کے دوران زہر کا انجیکشن لگوا دیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ مگر اولاد کا زندہ رہنا ان کے لیے ضروری تھا، کیونکہ اگر بچہ بھی مر جاتا تو وہ پچاس کروڑ روپے ہمیشہ کے لیے ضائع ہو جاتے۔ اسی لیے بیٹی کو زندہ رکھا گیا۔ وہی بیٹی، جس کا آج شناختی کارڈ بننا تھا۔ وصیت کے مطابق وہ پچاس کروڑ اب اس کی ملکیت تھے، اور قانون اسے یہ حق دیتا تھا کہ وہ اس دولت کو جہاں چاہے، جس طرح چاہے، استعمال کرے۔
اسی حقیقت کے تحت جج صاحب نے سوال کیا تھا کہ آیا وہ اپنی اس رقم کو داؤد ملک کے نام منتقل کرنا چاہتی ہے یا نہیں۔ اور یہی انجکشن ان کی موت کا سبب بنا۔
اس کی آواز ایک لمحے کو رکی، مگر آنکھیں نہیں جھکیں۔
“اور یہ بیان، ڈاکٹر نیکسن کا ہے۔”
اس نام پر کمرۂ عدالت میں جیسے سانس رک گئی۔
“ڈاکٹر نیکسن نے اپنے بیان میں اعتراف کیا ہے کہ اس نے داؤد ملک اور حمزہ ملک کے کہنے پر نورین شاہ کو زہر کا انجیکشن لگایا۔”
اس نے فائل سے نظر اٹھا کر جج صاحب کی طرف دیکھا۔
“جج صاحب، یہی وہ حساب ہے جو میں آج اس عدالت میں لینے آئی ہوں۔”
اس کے بعد عدالت میں یکے بعد دیگرے گواہ طلب کیے گئے۔ سب سے پہلے بختاں آگے آئیں۔ سفید دوپٹے میں ملبوس، کانپتے ہاتھ مگر پُراعتماد لہجہ۔ انہوں نے بیان دیا کہ نورین شاہ کی حمل کے دوران غیر معمولی کمزوری، بار بار دیے جانے والے انجکشن، اور وہ رات—جب اچانک نورین شاہ کی حالت بگڑی—یہ سب کچھ ایک منصوبہ تھا، محض اتفاق نہیں۔
“میں برسوں نورین بی بی کے ساتھ رہی ہوں،” بختاں کی آواز بھرا گئی،
“وہ بالکل صحت مند تھیں۔ یہ موت قدرتی نہیں تھی۔”
پھر سجاول کو کٹہرے میں بلایا گیا۔ اس نے صاف لفظوں میں عدالت کو بتایا کہ داود ملک دولت کے معاملے میں کس حد تک جا سکتے تھے، اور یہ کہ بچی کو جان بوجھ کر زندہ رکھا گیا—صرف اس لیے کہ وصیت کے مطابق پچاس کروڑ کی رقم ضائع نہ ہو۔
“اگر بچی نہ بچتی، تو وہ رقم کبھی حاصل نہ ہوتی،” سجاول نے کہا،
“اسی لیے نورین شاہ کو مار دیا گیا، مگر اولاد کو سنبھال کر رکھا گیا۔”
آخر میں تابش کٹہرے میں آیا۔ اس کی آواز میں غصہ بھی تھا اور دکھ بھی۔
“آج اگر صالحہ کو شناختی کارڈ مل جاتا،” تابش نے کہا،
“تو داود ملک وہ تمام دولت اپنے نام منتقل کروا لیتا—اور اس کے بعد صالحہ کو بھی قتل کروانے کا منصوبہ تھا، تاکہ کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔”
یہ سنتے ہی کمرۂ عدالت میں جیسے زلزلہ آ گیا۔ داود ملک کے چہرے کا رنگ بدل گیا، حمزہ ملک نظریں چرا گیا، اور میر حادی کی آنکھوں میں پہلی بار خوف ابھرا۔ تابش حسن نے ایک لمحے کو توقف کیا، پھر گہری سانس لے کر اپنی گواہی آگے بڑھائی۔
“اس نے صالحہ کو ذہنی دباؤ میں رکھا، اس سے بدتمیزی کی، اور کئی مواقع پر اسے حراساں کرنے کی کوشش بھی کی۔ صالحہ اس وقت کم عمر تھی، کمزور تھی، اور پہلے ہی اپنے وجود اور شناخت کی جنگ لڑ رہی تھی۔”
اس بیان پر صالحہ کے ہاتھ بے اختیار کانپ گئے۔ جج صاحب کی پیشانی پر بل گہرے ہو گئے۔
“یہ صرف وراثت یا قتل کی سازش کا معاملہ نہیں،” تابش نے کہا،
“بلکہ ایک بے سہارا لڑکی کے ساتھ طاقت اور اختیار کے ناجائز استعمال کی کھلی مثال ہے۔”
میرحادی نظریں چرا گیا۔ اس کے چہرے پر وہ اعتماد باقی نہ رہا جو چند لمحے پہلے تک موجود تھا۔ حمزہ ملک، داؤد ملک اور پھوپھو کے اندر بھی غصے اور گھبراہٹ کی لہر دوڑ گئی، مگر کمرۂ عدالت کی فضا ایسی تھی کہ کوئی ایک لفظ بولنے کی جرأت نہ کر سکا۔ سب خاموش تھے، بے بس اور لاجواب۔
چند لمحوں کے توقف کے بعد جج صاحب نے فیصلہ سنانے کے لیے فائل بند کی۔ عدالت نے اس بات کو ثابت شدہ قرار دیا کہ نورین شاہ کو دانستہ طور پر زہر کا انجیکشن لگا کر قتل کیا گیا۔ لہٰذا داؤد ملک، حمزہ ملک، میر حادی اور اس سازش میں شامل تمام افراد کو قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ نورین شاہ کی تمام جائیداد، اراضی اور دولت، جو ناجائز طور پر اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کی گئی، اب قانونی طور پر صالحہ کے نام منتقل کی جاتی ہے۔ وہی اس دولت کی واحد اور جائز وارث قرار پاتی ہے۔
فیصلہ سننے کے بعد صالحہ کھڑی ہوئی۔ اس کے لہجے میں نہ نفرت تھی، نہ انتقام—صرف وقار اور ٹھہراؤ۔
“جج صاحب،” اس نے کہا،
“میں نے جو کچھ برداشت کیا، وہ میرا ذاتی دکھ تھا۔ مگر آج میں اس سب کے باوجود معافی کا اعلان کرتی ہوں۔ میں ان سب کو معاف کرتی ہوں۔”
کمرۂ عدالت میں ایک بار پھر سناٹا چھا گیا۔ صالحہ نے بات جاری رکھی،
“یہ دولت میرے لیے آزمائش تھی، مقصد نہیں۔ اس لیے میں اپنی وراثت کا تقریباً نصف حصہ فلاحی اداروں کے نام وقف کرتی ہوں تاکہ مسکین، غریب اور ضرورت مند افراد کی مدد ہو سکے۔”
یوں صالحہ اب تابش حسن کی شریکِ حیات بن گئی۔ اپنی خوشی اور اعتماد کے اظہار کے طور پر صالحہ نے اپنی جائیداد کا نصف حصہ تابش حسن کے نام منتقل کر دیا۔ یہ فیصلہ محض دولت کی تقسیم نہ تھا بلکہ اس اعتماد اور رشتے کی علامت تھا جو دکھ، صبر اور سچائی کے امتحانوں سے گزر کر قائم ہوا تھا۔
عدالتی فیصلے کے بعد داؤد ملک، حمزہ ملک اور خاندان کے دیگر افراد، جو اپنی ہوس اور جرائم کے باعث سب کچھ کھو چکے تھے، فلاحی اداروں کی زیرِ نگرانی آ گئے۔ وہ وہیں، اپنے کیے کا بوجھ اٹھائے، ایک محدود اور سادہ زندگی گزارنے لگے۔ ادھر صالحہ، تابش حسن اور بختاں کی زندگی میں سکون نے جگہ لے لی۔ ماضی کے زخم مندمل ہونے لگے اور حال نے ایک نئی، روشن صورت اختیار کر لی۔ آخرکار، وہ سب جنہوں نے سچ کا ساتھ دیا تھا، اطمینان اور خوشی کے ساتھ زندگی گزارنے لگے

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !