اس کے عنوان کے ساتھ چھوٹا سا لفظ "فلمی ناول" پڑھ کر مجھے تجسس ہوا کہ یہ فلمی ناول کیونر ہے؟ اس بات کی کچھ وضاحت تو چوہان صاحب نے خود ہی دیباچے میں کردی کہ ہمیشہ سے بہت ساری فلمیں ناولوں کی ہی ایک شکل ہوتی ہیں، تو کیوں نا وہ ایک فلم کے سکرپٹ کو ذہن میں رکھ کر ناول لکھیں؟ جس میں فلم کے لوازمات جیسے کہ ڈائلاگز، ایکشن اور سینز وغیرہ بھی ہوں اور ناول کے جیسی طوالت، رومانس اور بے ساختگی بھی ہو ۔ تو بس یہ ناول "مجروح" اسی خواہش کی تکمیل ہے ۔
کہانی عام انداز کی بجائے بڑے فلمی انداز میں اچانک درمیان سے کہیں شروع ہوتی ہے جب ناول کی مرکزی کردار منشاء مزاری دسمبر کی رات میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتی ہے، پھر تہہ در تہہ کہانی کو ایسے کھولا گیا ہے کہ قاری کی توجہ ذرا بھی منتشر نہیں ہوتی۔ اس میں فلیش بیک کی تکنیک کو بھی بڑے عمدہ طریقے سے برتا گیا ہے ۔
ناول کے کردار بہت جاندار ہیں اور اُن کے ڈائلاگز سے اُن کی انفرادیت کا پتا چلتا ہے، ہر کردار کے بولنے کا انداز اُس کے جینڈر، سوچ اور مرتبے کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کیا گیا ہے بالکل جیسے فلم میں ہو ۔ اس کے علاوہ ڈائلاگز بھی بہت جاندار ہیں، زبان ہمارے موجودہ معاشرے کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کی ہے، کچھ ڈائلاگز ملاحظہ فرمائیں
"ساگ کو پکانے میں اور سانڈو کو منانے میں بڑی دیر لگتی ہے"
" جو حالی پیٹ وفا کر جائے وہ عورت، بھری ہوئی جیب کے باوجود بے وفا نہ ہو، وہ ہے مرد"
" یہ جو مرد ذات ہے نا، یہ عورت کے معاملے میں دیوتا بننے کی کوشش کرتا ہے۔ خدا تو عورت کو مرضی کا اختیار دیتا ہے مگر مرد نہیں"
مزے کی بات یہ ہے کہ یہ اتنا دلچسپ ناول ہے کہ اس کو آرام سے ایک ہی نشست میں مکمل پڑھا جا سکتا ہے، آپ اسے پڑھنے کے بعد یونہی محسوس کریں گے کہ آپ نے کوئی فلم دیکھی ہے کیونکہ یہ تقریباً تقریباً ایک فلم جیسا ہی ہے، فرق یہ ہے کہ فلم میں مناظر اور کردار ویسے ہی دکھتے ہیں جیسے پروڈیوسر یا ڈائریکٹر دکھانا چاہتے ہیں، لیکن ناول پڑھتے دوران آپ کے تخیل پر منحصر ہے کہ وہ آپ کو کس قدر اعلیٰ مناظر اور کس نوعیت کے کردار تخلیق کر کے دے دے۔
ناول میں ایک باغی آدمی سرمد نواب کی کہانی بیان کی گئی ہے جو شہروں شہروں بھٹکتا پھرتا ہے، مصنف کو اس بات پر الگ سے داد کہ انہوں نے راولپنڈی کے راجہ بازار، حیدر آباد کے بازار اور لاہور ہے اچھرہ بازار وغیرہ کے مناظر کو اس خوبصورتی سے لکھا ہے کہ پڑھنے کے بعد مجھ جیسا بندہ ان جگہوں پر جائے تو اُسے جا بجا ویسے ہی کردار نظر آئیں ۔ ایک ذمہ دار مصنف کی طرح شکیل صاحب نے کچھ غیرقانونی دھندوں کی بھی نشاندہی کی ہے اور تو اور لاہور کے شاہی محلے کے مناظر بھی دلچسپ انداز میں لکھے ہیں ۔
بلاشبہ یہ ایک اچھی کوشش ہے اور اگر اس ناول کو واقعی فلم کے انداز میں پیش کیا جائے تو مزہ آئے، کیونکہ اس میں رومانس، ٹریجڈی، ایکشن سب کچھ ہی ہے ۔
