مادری زبانوں کا دن 21 فروری ۔۔ داؤد ظفر ندیم

فرض کرنے کی بات نہیں یہ حقیقت ہے کہ دریائے سندھ ہزاروں سال سے بہتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اس وادی سندھ کے اردگرد ہزاروں سالوں سے آبادیاں اور تہذیبیں آباد ہیں اور یہاں ہزاروں سال سے لوگ آپس میں مختلف زبانیں بولتے چلے آ رہے ہیں یہاں باہر سے بھی لوگ آئے اور یہاں کی تہذیبوں میں رچ بس گئے   
یہ حقیقت ہے کہ ہم کو شمال سے بھی حملہ اور کا سامنا تھا اور مشرق سے بھی۔ یہ حقیقت ہے کبھی حملہ اور فارسی ترکی لے کر آئے اور عربی، اور یونانی بھی
مشرق سے ہمیں سنسکرت سکھانے کی کوشش کی گئی مگر ہم نے اپنی پراکرت نہیں چھوڑی
 اب دہلی میں جن حملہ آور نے قبضہ کیا ان کی ازبک افواج نے سنسکرت کے ملاپ سے ایک زبان بنائی جس کو بعد میں فورٹ ولیم کالج میں اردو کی شکل کی گئی اور ان حکمران اشرافیہ نے فارسی کی جگہ یہ اپنالی
اب مسئلہ یہ ہوا یہ دہلی اور اترپردیش کی یہ اشرافیہ مسلمان تھی۔ ادھر ہمارے انڈس کے علاقوں میں 1849 تک ایک سے زیادہ الگ ریاستیں موجود تھیں جہاں اپنی مقامی زبانوں میں پڑھائی لکھائی تھی
اب اس سرزمین پر انگریز قبضہ ہوا تو پتہ چلا کہ ان میں مسلمانوں کو پنجابی کی بجائے اردو پڑھائی جائے 1882 سے عمل شروع ہوا اس کے باوجود 1908 میں بانگ درا چھپنے سے پہلے پنجاب کے کسی مسلمان شاعر کی اردو کی کوئی قابل ذکر کتاب موجود نہیں تھی جبکہ 1890 میں میاں محمد بخش نے وہ شاہکار لکھا تھا جو آج بھی پنجابیوں کو زبانی یاد ہے
اب انڈس والے کبھی دہلی کے مکمل وفادار نہیں رہے یہاں جسرت کھوکھر، دلا بھٹی، اور احمد خاں کھرل کی تاریخ پڑھائی نہیں جاتی مگر لوگوں کو یاد ہے کہ کس کس نے مزاحمت کی ؟
اب سنتالیس سے پہلے انڈس میں سوائے صوبہ سندھ کے کہیں بھی تحریک پاکستان نہیں تھی پنجاب میں تو یونینسٹ پارٹی میں سکھ ہندو اور مسلمان متحد تھے
یہ تو اترپردیش میں جو مسلم اشرافیہ تھی اسے اپنی زبان اور تہزیب کے تحفظ کے لئے آئینی تحفظات درکار تھے اور جب وہ تحفظات نہ ملے تو الگ ملک کا نعرہ لگایا گیا
اب جبکہ تقسیم کا وقت ایا تو ہم انڈس کے رہنے والوں کو پتہ چلا کہ ہم اور بنگال ایک وفاق میں منسلک ہوں گے اور یہاں اتر پردیش کی مسلم حکمران اشرافیہ کی زبان اور ثقافت کو تحفظ دیا جائے گا اس ملک کا نام پاکستان رکھا گیا اور ہمیں بتایا کہ ہماری کوئی تاریخ ہی نہیں تھی
یہ ایک حیران کن صورتحال تھی جس کی وجہ سے بنگال نے اپنی زبان اور ثقافت کے تحفظ کی جدوجہد شروع کی اور الگ ہوگئے 
ہم انڈس والوں کو کہا کہ اب آپ پاکستانی ہیں
آپ نے ان کی زبان اور تہذیب کو تحفظ دینا ہے
ہماری کوئی تاریخ نہیں
ہم نے دہلی کی تاریخ پڑھنی ہے
حملہ اوروں کو ہیرو ماننا ہے
جب ہم کہتے ہیں کہ جناب ہم ہزاروں سال سے یہاں اپنی زبانوں اور تہذیب کے ساتھ رہ رہے ہیں
ہماری اپنی ایک تاریخ ہے
ہماری اپنی ثقافت ہے اور ہم آپ کی زبان، ثقافت اور تہذیب کی عزت کرتے ہیں مگر ہمیں اپنے بچوں کو اپنی زبان پڑھانے دیں اپنی تہذیب سکھانے دیں اپنی تاریخ اپنے ہیروز کے بارے بتانے دیں
تو کہتے ہیں آپ سب نسل پرست ہو
آپ ملک دشمن ہو 
آپ تنگ نظر اور متعصب ہو
ہماری کوئی تاریخ نہیں
ہماری کوئی زبان نہیں 
ہماری کوئی ثقافت نہیں
یہ سب علاقائیت پرستی ہے اچھے مسلمان اور اچھے پاکستانی ہونے کا مطلب پنجابی، سندھی، پختون، بلوچ شناختوں کو چھوڑنا ہے اپنی ہزاروں سال کی تاریخ کو چھوڑنا ہے اپنی ثقافت کو چھوڑنا ہے
ہم کہتے ہیں 47 والا پاکستان اکہتر میں ختم ہوگیا
موجودہ پاکستان انڈس کا نیا نام ہے
اب اس خطے کی سب سے بڑی زبان پنجابی ہے
اور یہ سنتالیس میں جو تقسیم ہوئی وہ انڈس کے علاقوں کی تقسیم تھی جس میں سب سے بڑی تقسیم پنجاب کی تقسیم تھی جس میں لاکھوں پنجابی قتل ہوئے
یہ پنجابی زبان کی تقسیم تھی جس میں ایک حصے میں اردو نافذ کی گئی
اور جو اردو علاقوں سے مہاجر آئے وہ تقسیم کے اصل منصوبے کا حصہ نہیں تھا
یہ مہاجر اپنے رشتے داروں کو اپنی وہاں کی جائیدادیں دے کر ادھر نئے مواقع کی تلاشں میں ائے
ہم ان کو خوش آمدید کہتے تھے اور کہتے ہیں
مگر یہ گزارش کرتے ہیں کہ انھوں نے جو آئینی تحفظات کی کوشش کی تھی اس کو تسلیم کرتے ہیں عزت کرتے ہیں
مگر یقین کریں پاکستان کوئی نیا ملک نہیں
بلکہ انڈس کا نیا نام ہے
اور ہم ہزاروں سال سے اپنی زبانوں، تاریخ اور ثقافت کے ساتھ رہ رہے ہیں
ہمیں اپنے بچوں کو اپنی زبانیں پڑھانے دو، اپنی ثقافت سمجھانے دو اپنی تاریخ پڑھانے دو
بلاشبہ ہمیں پاکستانی ہونے پر بھی فخر ہے کہ یہ ہمارے انڈس کا نیا نام ہے
ہمیں مسلمان ہونے پر بھی فخر ہے کہ ہم محمد بن قاسم سے پہلے ہی مسلمان ہو رہے تھے
اور ہمیں اپنے پنجابی، پختون، سندھی, بلوچ اور دوسری مقامی شناختوں پر بھی فخر ہے
ہم کسی بھی ایک شناخت کے لئے دوسری شناختوں سے دست بردار ہونے کے لئے تیار نہیں۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !