اردو ادب دورِ حاضر میں ایک ناپید اثاثہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا بیش قیمت سرمایہ ہے جس نے انسانی تہذیب و ثقافت کو قدرت کے رنگوں سے مزین کیا۔ اردو ادب نے بادشاہوں کے قصّوں سے لے کر پریوں کے دیس تک ہندوستان کی روایتوں کو مسلمانوں کی تاریخ سے وابستہ کر دیا۔ اردو ادب نے روزمرہ زندگی کے بنیادی تجربات اور تخیّلات کو قصّوں، کہانیوں، لوک داستانوں اور شاعری کے نرالے ترنّم میں پرو کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔
وہ ہنر مند اور با ذوق لوگ جنہوں نے اردو ادب کو زندہ رکھا، اُن کی صلاحیتوں کی حفاظت نہایت ضروری ہے۔ ایسی ہی ایک نمایاں شخصیت ڈاکٹر محمد ارسلان رضا ہیں، جنہوں نے اردو ادب کی شمع کو روشن رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ آپ کی چند کتب بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ آپ شعبۂ تدریس سے وابستہ ہیں اور جامعہ زکریا، ملتان میں تدریس کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔
آپ ایک نہایت ہی تجربہ کار اور شفیق استاد اور اردو ادب سے دلی لگاؤ رکھنے والے با ذوق انسان ہیں۔ آپ نہ صرف اردو ادب سے لگاؤ رکھتے ہیں بلکہ اردو ادب میں تحقیق، تنقید اور تخلیق پر بھی خصوصی عبور رکھتے ہیں اور اس کے لیے مسلسل مزید کوششیں کر رہے ہیں۔
ایک استاد کا ہنر یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی تمام صلاحیتیں اپنے شاگردوں میں اس طرح منتقل کرے کہ شاگرد اُن صلاحیتوں کو اپنی جبلّت سمجھنے لگیں، اور یہ ہنر استادِ محترم میں بخوبی پایا جاتا ہے۔ وہ اپنے شاگردوں سے اس خلوص سے بات کرتے ہیں کہ دل و مزاج کی تسکین ہو جاتی ہے۔ وہ نہ صرف شاگردوں کی فطری صلاحیتوں کو سنوارتے ہیں بلکہ اُن کی زندگی کو ایک نئے مقصد سے بھی روشناس کرواتے ہیں۔
وہ ہمیشہ ہی کمرۂ جماعت میں محنت کرنے والے طالبِ علم کو سراہتے ہیں اور ذاتی زندگی میں خلوص اور نیت کے ساتھ کام کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ بذاتِ خود بھی محنت اور کامیابی کی ایک ایسی مثال بن کر سامنے آئے کہ کوئی بھی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔ طبیعت میں عاجزی اور احساس کا ذخیرہ اُنہیں دوسروں سے ممتاز بناتا ہے۔
ہمیں اپنے ملک کو ایسے افراد کی تخلیقی، تحقیقی اور فکری صلاحیتوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ اردو ادب کے اس ناپید اثاثے کی شمع روشن رکھی جا سکے۔ میں بطور شاگرد اور بطور ایک تجزیہ نگار اُن کی تمام علمی و ادبی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اللہ پاک اُنہیں مزید توفیق عطا فرمائے، وہ اپنی تحقیق اور تنقید کے سفر کو اسی طرح جاری رکھیں اور اردو ادب کی اس شمع کو ہمیشہ روشن رکھیں۔
