قسمت اور محنت۔۔۔۔ادریس آزاد

یونیورسٹی آف برکلے، سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ کے تحت ، پال پِف (Paul Piff) کی زیرِ نگرانی انجام دیے گئے کچھ تجربات میں سے دو، کچھ اس طرح ہیں کہ،

پہلاتجربہ یوں ہے کہ تین تین افراد کے کچھ گروپس بنائےگئے، جنہیں الگ الگ کمروں میں بیٹھ کر اخلاقیات کوڈسکس کرنا تھا۔ پھر قرعہ اندازی کے ذریعے ان میں سے ہر گروپ کا ایک لیڈر مقرر کردیاگیا۔ پھر ہرلیڈر کو واضح طورپر بتادیاگیاکہ آپ نے کوئی لیڈروں والا کام انجام نہیں دینا، اور یہ کہ آپ کسی قابلیت کی بناپر نہیں بلکہ فقط قرعہ اندازی کی وجہ سے چُنے گئے ہیں، گویا آپ بس نام کے لیڈر ہیں۔ البتہ تجربے کے دوران ریفریشمنٹ کا سامان جب بھیجا جاتارہا تو اس کی تقسیم کچھ اس طرح رکھی گئی کہ لیڈر کوباقی دو ممبران سے زیادہ چیزیں دی جاتی رہیں۔ مثلاً باقیوں کو بسکٹس کا ایک ایک پیکٹ دیاگیا تو لیڈر کو دو دے دیے گئے، بس یونہی بلاوجہ۔

تجربے کے اختتام پر نتائج دیکھے گئےتو پتہ چلا کہ ہر گروپ میں لیڈر نے اپنے آپ کو باقیوں سے اہم اور برتر سمجھا، اورہرلیڈر نے ایسا سمجھنے میں کسی قسم کی اخلاقی جھجک یا تذبذب کا مظاہرہ نہ کیا۔ اور ہرلیڈرنے گروپ پر اپنی دھاک جمانے کی کوشش کی اور اگر گروپ نے کوئی اچھا کام کردکھایا تو لیڈر نے اسے اپنی ذاتی قابلیت تصورکیا۔ یعنی محض اتفاق سے حاصل ہونے والا مرتبہ بہت تیزی سے استحقاق میں بدل گیا، اور عدم مساوات ایک فطری، حتیٰ کہ جائز، صورت اختیار کر گئی۔

دوسرا تجربہ یوں تھا کہ شرکاء سے کہا گیا کہ وہ اپنی زندگی میں پیش آنے والے کسی مثبت یا خوشگوار واقعے یا کامیابی کو یاد کریں ۔ اورپھر ایک الگ کاغذ پر لکھ کر بتائیں کہ وہ کامیابی آپ کو اپنی محنت سے ملی تھی یا قسمت سے۔جب شرکأ کی فہرستیں تیار ہوگئیں تو دو گروپ وجود میں آگئے۔ ایک وہ جنہوں نے لکھا کہ انہیں کامیابی محنت کی وجہ سے ملی اور دوسرے وہ جنہوں نے لکھا کہ انہیں کامیابی قسمت کی وجہ سے ملی۔
تجربے کے دوران دونوں گروہوں کے ارکان کو ایک معمولی رقم بطور مزدوری یا انعام دی جاتی رہی۔جب تجربہ ختم ہوا ، تو غیر متوقع طورپر ان سے کہا گیا کہ وہ چاہیں تو اپنی رقم فُلاں خیراتی کام کے لیے عطیہ کردیں۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ وہ افراد جنہوں نے اپنی کامیابی کو ذاتی قابلیت اور محنت کا نتیجہ لکھا تھا، انہوں نے نمایاں طور پر کم عطیہ دیا، بنسبت ان افراد کے جنہوں نے بیرونی عوامل خصوصاً قسمت کو اپنی کامیابی کا سبب تسلیم کیا تھا۔

پہلے تجربے سے پتہ چلتاہے کہ خوش قسمتی اور اتفاق سے ملنے والا فائدہ کیسے ذاتی استحقاق میں ڈھلتاہے اوردوسرے تجربے سے پتہ چلتاہے کہ کس طرح استحقاق دوسروں کے لیے اخلاقی ذمہ داری میں کمی کا جواز فراہم کرتا ہے۔ جو لیڈر محض قسمت کے ذریعے منتخب ہوا تھا، وہ خود کو اضافی انعام کا حق دار سمجھنے لگتا ہے اوراس کامیابی کو اپنی ذاتی قابلیت تصورکرنے لگتاہے ،اسی طرح جو فرد اپنی کامیابی کو اپنی ہی قابلیت کا نتیجہ قرار دیتا ہے، وہ دوسروں کے ساتھ بانٹنے کا کم جذبہ رکھتاہے۔ دونوں صورتوں میں بالآخر قسمت کہانی سے غائب ہو جاتی ہے۔ اس لیے نہیں کہ وہ موجود نہیں تھی، بلکہ اس لیے کہ اسے تسلیم کرنا اُس اخلاقی بیانیے کو متزلزل کر دیتا ہے جو مراعات یافتہ حیثیت اپنے دفاع میں خود تخلیق کرتی ہے۔
Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !