بُو کاٹا (افسانہ)۔۔۔۔ سلیم مرزا

اب وہ بلاوجہ خالی اسکرین کو گھورے جارہا تھا۔
تین گھنٹے ایکس ویڈیوز چھاننے کے بعد اس نے ٹپہ ٹپہ وہ سارے ٹوٹے دوبارہ بھی دیکھ لئے جوپہلی بار اچھے لگے تھے ۔
مگر پتہ نہیں آج کیوں بلیوپرنٹ دیکھنے کے بعد ہلچل کی بجائے اداسی نے گھیر لیا ۔
اس نے موبائل سائیڈ پہ رکھا اور کمرے سے نکل آیا ۔
چھت سے اچھل کود کی آوازیں آرہی تھیں ۔
دالان میں پڑے فریج کو دیکھ کر اسے ماں کی بات یاد اگئی 
"سالن فریج میں رکھ دیا ہے ۔روٹیاں تنور سے لے آنا، میں خدیجہ کی ساس کا افسوس کرنے جارہی ہوں "
ماں کو ہمیشہ لوگوں کے جینے مرنے یاد رہتے ہیں ۔بشیرے نے فریج کھول کر سالن کو دیکھا،جمے ہوئے شوربے سے ایک آلو،جھانک رہا تھا ۔پتہ نہیں چکن تھا کہ گوشت ۔؟
ایک پلیٹ میں رات کی ادھ کھائی آلو میتھی پڑی تھی ۔ماں کتنی سمجھدار ہے سوچا ہوگا جس نے کھانی ہوگی یہی پلیٹ اوون میں رکھ کے گرم کرلے گا،
دوبار پلیٹ دھلنے سے بچے گی ۔
بشیرے نے بچی ہوئی کوک کو منہ لگا کر بڑا سا دوگھونٹ بھرا ۔بدمزہ میٹھے پانی کا ذائقہ مزید اداس کرگیا ۔
ماں نے ڈھکن ڈھیلا چھوڑ دیا ہوگا ۔؟
بشیرے نے فریج کا دروازہ بند کردیا ۔
جب چھوٹی کی شادی نہیں ہوئی تھی تو ہر ہفتے جدے فون کرکے کہتی 
"پتر بشیر نور اب بیس سال کی ہوگئی ہے "
اب تو اسکی شادی کو تین سال ہوگئے ۔دو بچے ہوگئے مگر 
ماں کو یہ خیال کیوں نہیں آتاکہ بشیرے کو اب اٹھائسواں لگ گیاہے ۔
سعودیہ سے آئے دومہینے ہوگئے ۔اب تو،چھٹی بھی ختم ہونے والی ہے ۔
چھت پہ اچھل کود کی آوازیں زیادہ ہوگئیں۔
بشیرا چھت پہ چلا آیا،۔
پڑوسیوں کے لڑکے پتنگ اڑارہے تھے ۔انہوں نے بس ایک نظر بشیرے کو دیکھا ۔کوئی اہمیت نہ دی ۔
بشیرا بھی انہیں نظر انداز کرکے دیوار سے لگ کر آسمان کی طرف دیکھنے لگا ۔
آج بسنت کا دوسرا دن تھا ۔
آسمان پتنگوں سے رنگا ہوا تھا ۔
مگر بشیرے نے تیسری یا چوتھی چھت پہ بھرے بھرے جسم والی ایک لڑکی کو دیکھ لیا۔تار سے سوکھے کپڑے اتار رہی تھی ۔بشیرا دیر تک اسے نظروں سے ٹٹولتا رہا ۔اس لڑکی نے اچانک آنکھ اٹھا کر بشیرے کی طرف دیکھا تو بشیر کی دھڑکن رک گئی۔لڑکی مسکرا کر دوبارہ کپڑے تہہ کرنے لگی ۔
"بوکاٹا" کے شور پہ بشیر نے آسمان کی طرف دیکھا۔ پڑوس کے لڑکوں نے اک پتنگ کاٹ دی تھی 
"میں ہتھ پھیریا جے "
لڑکے نے بشیر کو فخر سے بتایا تو وہ بھی مسکرادیا ۔
 دوبارہ لڑکی کی چھت کی طرف دیکھا تو وہ جاچکی تھی۔
بشیرے کا موڈ خراب ہوگیا ۔
"چلو اوئے ، اپنے کوٹھے پہ جاؤ۔"
لڑکوں کے پاس بشیرے کے بدلتے روئیے کو سمجھنے کا وقت نہیں تھا ۔
دونوں اڑتی ہوئی پتنگ کے ساتھ اپنی چھت پہ کود گئے ۔
"ان بیچاروں کو کیا پتہ تھا کہاں ہتھ پھیرنا تھا 
"کسے ہتھ پھر گیا ہے "
بشیرا چھت سے اتر کر نیچے آگیا ۔کمرے کی بجائے دروازہ کھول کر گلی میں جھانکا ۔لوگ چھتوں پہ تھے ۔
بشیرا خالی گلی دیکھ کر آدھے تھڑے پہ بیٹھ گیا۔آدھا تھڑا بلدیہ والے توڑ گئے تھے ۔بشیرا پیروں کے نیچے نالی کو دیکھنے لگا ۔
گدلا پانی رکا ہوا تھا ۔
"پتر بشیر یہاں کیوں بیٹھے ہو "
بشیرے نے گردن اٹھا کر دیکھا،تو حاجی صداقت تھے
""ماں فاتحہ پہ گئی ہے چاچا،گھر میں اکیلا تھا تو یہاں بیٹھ گیا۔"
بشیرے سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔جواب تھا بھی نہیں. 
"نالی کے اوپر سے اٹھ جا ، بیمار ہوجائے گا۔ چھ چھ دن گلی میں صفائی والا نہیں آتا، نالی کا پانی گندہ ہوتا ہے ۔حکومت نے تھڑے تو توڑ دئے پتہ نہیں گندے پانی کے نکاس کا مسٰلہ کب حل ہوگا۔" ؟
حاجی بڑبڑاتا ہوا چلاگیا،
بشیرا پھر نالی کو دیکھ کر سوچنے لگا ۔
"پتہ نہیں گندے پانی کا مسئلہ کب حل ہوگا "

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !