روایت ھے کہ امراء القیس کے والد حجر بن حارث الکندی کو جنگ میں جب مہلک زخم آیا تو اس نے مرنے سے پہلے ایک آدمی سے کہا کہ وہ اس کے بڑے بیٹے نافع کو اس کی موت کی خبر سنائے اگر وہ رونا دھونا شروع کردے تو اس سے چھوٹے اور پھر اس سے چھوٹے کو سنائے جو بیٹا گریہ و زاری نہ کرے اس کا گھوڑا اور تلوار اور وصیت جس میں قاتل کی نشاندہی کی گئی تھی اسی بیٹے کے سپرد کرے۔ بڑے بیٹوں نے باپ کی موت کا سن کر سر میں خاک ڈالی اور رونے لگے امراو الفیس سب سے چھوٹا تھا جب فرستادہ اس کے پاس پہنچا تو وہ شراب نوشی اور شطرنج کھیلنے میں مصروف تھا اس نے کہا " حجر کا خون ھو گیا " امراو القیس نے کوئی توجہ نہ کی بلکہ ساتھی سے کہا تم چال چلو۔ جب وہ چال چل چکا تو امراو القیس نے کہا میں تمہاری باری خراب نہیں کرنا چاھتا تھا ۔ پھر فرستادے سے سب احوال معلوم کیا پھر اس نے وہ فقرہ کہا جو عربی ادب میں ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گیا۔۔۔
الیوم خمر و غدا امر ۔
( آج شراب اور کل یوم حساب)
جی بھر کے شراب پینے کے بعد امراو القیس نے قسم کھائی کہ جب تک باپ کا بدلہ نہیں لے لیتا نہ شراب پئے گا نہ نرم بستر پر سوئے گا۔ نہ کسی نازنین کے قرب سے لطف اندوز ھوگا ۔ طبیعت کا گداز جب لفظوں میں ڈھلا تو یہ نظم سامنے آئی ۔
" رات کو کوندتی ھوئی بجلی نے مجھے سونے نہ دیا۔
اس کی چمک کہسار کو روشن کرتی رہی۔
ایک خبر ملی جس پر مجھے یقین نہ آیا۔
ایک ایسے معاملے کی خبر جس سے پہاڑوں کی چوٹیاں ڈانواں ڈول ھو رہی ھیں ۔
یہ کہ بنو اسد نے اپنے آقا کا خون کر دیا ۔
سنو اس کے سوا کچھ بھی ھو جاتا۔
اھم نہ تھا "۔
والد کے قتل کے بعد امرء القیس کی شاعری میں انتقام، جنگی جذبات، غم و اندوہ ، محرومی کا احساس بہت شدید ہے ۔
ضیعتنی صغیرا و حملتینی دما"کبیرا۔
لا صحو الیوم ولا سکت غدا" الیوم خمر و غدا" امر ۔
تم نے بچپن میں مجھے ضائع کیا اور اب مجھ پہ بڑا خون(انتقام) ڈالا ہے آج نہ ہوش ہے کل نہ نشہ۔
زندگی میں بہت کچھ ایسا ھوتا رھتا ھے جس کا کبھی سوچا بھی نہیں ھوتا اور یہی زندگی کا حسن بھی ھے کہ انہی تغیرات اور تحیرات سے زندگی نگاہوں پر اپنا چہرہ کھولتی ھے۔
کوئی ایک لمحہ پوری زندگی کا رخ تبدیل کر دیتا ہے ۔ یکسر تبدیل۔ زندگی بسر کرنے کا انداز بدل دیتا ہے سوچنے کا زاویہ تبدیل کر دیتا ہے ۔ ایک خوش فکر شاعر جمال سے جلال تک کا سفر طے کرتا ہے ۔ زندہ رہنا ایک نئے تجربے میں ڈھلتا ہے اور زندگی نئے حوادث سے نبردآزما ہونے کو اپنا جواز قرار دیتی ہے۔۔۔ زندگی کو اگر جواز نہ ملے معنی میسر نہ ہوں تو زندہ رہنا گویا سانس لینے کی مشق ہی رہ جاتا ہے اور ایسے زندہ رہنے کو بڑے ادمیوں کی لغت میں زندگی سے تعبیر نہیں کیا جاتا۔۔۔ زندگی کو مقصد دیجئیے کہ زندہ کہلا سکیں ۔۔۔
