آپ اس کلچر میں انٹیگریٹ کرنے کے دوران بہت سی نئی چیزیں سیکھتے ھیں ۔ آپکا کھانا پینا ، رہنا سہنا ، بولنے کا انداز ، آپکا پہننا اوڑھنا، سوچنے کا ڈھنگ، دنیا کو دیکھنے کا انداز ، کنفلکٹ ہینڈل کرنے کا طریقہ، غرض آپکا سب کچھ تبدیل ہوتا ہے ۔
میں نے فن لینڈ میں آنے کے بعد اپنے اندر تین تبدیلیاں بہت واضح طور پر دیکھیں۔
پہلی میری زندگی میں لوگوں کی ضرورت اور اہمیت۔ میں لوگوں کے ناراض ہو جانے یا اُن کے مجھے چھوڑ کے چلے جانے کے ڈر سے فیصلے لینے چھوڑ دیے! مجھے منافق لوگوں سے تعلّق توڑ دینا زیادہ آسان لگنے لگا اور صرف اپنی اور اپنے سے منسلک چاند قریبی لوگوں کی صحت پر فوکس رکھنا جرم نہیں لگنے لگا! باقی رہی بات تعلق کی ، تو مجھے لگتا ہے سب تعلق ضرورتوں کے ہیں ۔ اور جو چند ایک اسکے بغیر ہیں انکو صرف ایمانداری ہی بچا سکتی ہے کیوں کہ تعلق صرف مقدروں سے ہی نہیں چلتے نیتوں پر چلتے ہیں ۔ جنکی نیت میں کھوٹ ہے ان کے رشتے ٹوٹتے چلے جاتے ہیں۔(اپنے بچوں کی شادی کو جوا سمجھ کر انّے واہ کرنا چھوڑ دیں یہ سکیم ہے!)
دوسری میری اللّٰہ سے دوستی ہوگئی ۔ اسنے کیوں کہ بہت سارے ایسے لوگوں کو اور جگہوں کو میری زندگی کا حصہ بنایا جو میرے لیے کامیابی لے کر آئے ۔ بلاشبہ میری محنت رب کے ساتھ کے بغیر کچرا ہی تو تھی ۔ اسکے بدلے میں ، میں اور ہمبل ہوگئ ہوں ۔ مجھے نہیں لگتا زندگی میں کوئی بھی انسان مجھسے رتبے میں نیچے ہے یا اوپر ہے ۔ ہم سب equally important ہیں ۔
تیسری بات مجھے اپنے سٹیج کی کوئی آڈینس نہیں چاہیے ۔ میں کامیاب ہوئی، میرے لئے صرف یہ میٹر کرتا ہے ۔ کس کس نے تالیاں بجائیں یہ میٹر نہیں کرتا ۔میں لوگوں کو دکھ دیے بغیر اپنی زندگی جی رہی ہوں میرے لیے وہ کافی ہے ۔
فن لینڈ نے میرے اندر کے بچے کو بہت مضبوط کر کے مجھے اکیڈمیکلی ایمپاور کیا ۔ مجھے اگر اب کسی چیز سے ڈر لگتا ہے تو مقدر سے اس امید کے ساتھ کہ اللّٰہ مجھے کبھی ناامید نہیں لوٹائے گا۔ ورنہ دنیا میں ایسا اور کوئی نہیں ہے جس سے اب میں ڈروں!
تصویر کا ایک دوسرا رُخ بھی ہے کہ جگہ کا تبدیل ہوجانا صرف انکو تبدیل کرتا ہے جن میں خود کو اپگریڈ کرنے کا مارجن ہو۔ ورنہ جہاں چلے جائیں آپ وہی ہیں تو بس جگہ ہی بدلیگی اور کچھ نہیں!
