برف کی سفید شال اتر گئی ہے۔۔۔ نئے پیرہن منتظر ہیں ہوا میں شوخی ہے۔۔ رنگ ہیں۔۔ سج دھج ہے۔۔۔۔
وہ قطعے جو انسانی وجود سے بے بہرہ ہیں ۔۔۔۔ زمین کے ان ٹکڑوں پر بھی رنگ بکھرنے والے ہیں۔۔۔ پھولوں کے کھلنے کا موسم۔۔۔
ہریاول چھا جانے کا موسم
زرد رنگ کو زندگی سے جوڑا گیا۔۔۔ ہر رنگ زندگی ہے ۔۔ زندگی کے مختلف موڈز ہیں۔۔۔ مختلف روئیے ہیں۔۔۔ زندگی اس دھرتی کا حسن ہے۔۔ زندگی نمو میں ہے۔۔۔ حرکت میں ہے اڑان میں ہے۔۔۔ گرمجوشی میں ہے۔۔۔ گھوم جانے میں ہے زمین لٹو کی طرح گھوم رہی ہے اسی لیے زیست اس پر عاشق ہے۔۔۔
پہاڑ کے سینوں سے پانی پھوٹ پڑتا ہے۔۔۔ کہیں دروازے کی اوٹ سے دہلیز پر گھرگھرین گھر بنا لیتی ہے۔۔۔ کہیں لکڑی میں چھپی دیمک جینے کے سامان تلاش کرتی ہے۔۔۔ کہیں جمی کائی میں زندگی تھرکتی ہے۔۔۔ زندگی تھرکنے مچلنے دھڑکنے پھسلنے گرنے اٹھنے کا نام ہے۔۔۔ سکوت سے پہلے ہر شئے زندگی ہے اپنی پوروں سے زندگی کو چھو لو۔۔۔ اپنی سانسوں میں بھر لو جیون کی مہک کو۔۔۔ یہ انعام ہے ۔۔۔ یہ محدود وقت ہے جو عنایت کیا گیا۔۔۔۔ اس زمین پر قیام محدود ہے۔۔۔ مختصر ہے۔۔ایسے لگتا ہے جیسے مسافر ٹرین میں بیٹھا ہے۔۔۔ اور ایک ایک منظر تیزی سے گزر رہا ہے ۔۔۔۔ آنکھ ہر منظر کا عکس قید کرنے کے لیے بےچین ہے۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ رفتار ٹھہرنے نہیں دیتی۔۔۔ وہ پھول جو جھاڑیوں میں کھلے ہیں انہیں چھو لینے کی آرزو بڑھتی جاتی ہے۔۔۔۔ قوت متخیلہ۔۔۔ رقص کناں ہے۔۔۔ اور سانسیں ہوا کی شکرگزار جس کی بانہوں میں سفید چوڑیاں نہیں پھولوں کے گجرے ہیں۔۔۔ موتیے کے۔۔۔ جن میں کہیں کہیں گلاب اٹکا ہوا ہے۔۔۔
دعا نگری میں بسنت بہار۔۔۔۔
