اقبال اور غالب ۔۔۔پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی

اُردو شاعری میں اقبال کے پیش روؤں میں مرزا غالب کا شمار سر فہرست ہے۔ اقبال غالب کی شاعری اور نثر سے طالب علمی کے زمانے ہی سے متاثر تھے۔ اس تاثر کا بین ثبوت اُن کی نظم مرزا غالب ہے جو "مخزن" کے شمارے ستمبر ۱۹۰۱ء میں شائع ہوئی تھی اور پھر بانگ درا (اشاعت اول ۱۹۲۴ء) کے مجموعے میں "ہمالہ" کے بعد شروع میں آتی ہے اور غالب سے اقبال کا ذہنی رشتہ "جاوید نامہ" (اشاعت اول ۱۹۳۲ء) تک جاری رہتا ہے۔ حضرت علامہ کی یہ نظم غالب کی فکری و فنی خوبیوں کا اعتراف بھی ہے اور اظہار بھی:

نظم: مرزا غالب 
کلام: حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلا بند:
فکرِ انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہُوا
ہے پرِ مرغِ تخیّل کی رسائی تا کجا
تھا سراپا روح تُو، بزمِ سخن پیکر ترا
زیبِ محفل بھی رہا، محفل سے پنہاں بھی رہا
دید تیری آنکھ کو اُس حُسن کی منظور ہے
بن کے سوزِ زندگی ہر شے میں جو مستور ہے

فرہنگ:
(۱) فکر: غور، سوچ 
(۲) فکر انسان: انسانی عقل و شعور
(۳) هستی: زندگی، ذات
(۴) روشن هوا: واضح ہوا
(۵) پرِ مرغ تخیل: تخیل کے پرندہ کا پر مراد انسانی تخیل
(۶) تخیل: خیالات میں لانا
(۷) رسائی: پہنچ
(۸) کُجا: کہاں
(۹) بزمِ سخن: محفل سخن
(۱۰) پیکر: جسم، قالب، بدن 
(۱۱) زیب محفل: محفل کو سجانے والا
(۱۲) پنہاں پوشیدہ چھپا ہوا
(۱۳) مستور: پوشیدہ، چھپا ہوا
(۱۴) سوزِ زندگی زندگی کی تڑپ یا جلن
(۱۵) دید: دیدار

تشریح:
تری ذات سے عقل انسان پر یہ بات روشن ہو گئی کہ (انسان کے) تخیل کے پرندہ کی رسائی کہاں تک ہے۔ (تیرے تخیل کی پرواز سے انسان نے پہلی مرتبہ یہ محسوس کیا کہ کس قدر بلندی اُس کے لیے مقدر کی گئی ہے، تیری قوت متخیلہ نقطۂ عروج پر پہنچی ہوئی تھی) تو سرا پا روح تھا اور تیرا جسم محفل سخن تھا۔ تو محفل سجاتا بھی رہا اور محفل سے پوشیدہ بھی رہا (تو روحِ شاعری تھا اور تیرے جسم کو اس روح نے محفل سخن بنا رکھا تھا) تیری آنکھ اُس حسن کی متلاشی رہتی ہے۔ جو ہر چیز میں زندگی کی تڑپ بن کر چھپا ہوا ہے۔ سوز و زندگی بن کر کائنات کے ذرّے ذرّے میں سرایت کیے ہوئے ہے (تیرے کلام میں تصوف کا رنگ جھلکتا ہے)۔
(پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسرا بند:
محفلِ ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار
جس طرح ندّی کے نغموں سے سکُوتِ کوہسار
تیرے فردوسِ تخیّل سے ہے قدرت کی بہار
تیری کشتِ فکر سے اُگتے ہیں عالم سبزہ وار
زندگی مُضمرَ ہے تیری شوخیِ تحریر میں
تابِ گویائی سے جُنبش ہے لبِ تصویر میں

فرہنگ:
(۱) محفل هستی: وجود یعنی دنیا کی بزم
(۲) بربط: ایک ساز (باجا) جس کی شکل بطخ کے سینے سے مشابہ ہوتی ہے مراد نغمہ، شادی
(۳) سرمایہ دار: مال دار مراد لبریز، معمور 
(۴) سکوت: خاموشی
(۵) کوهسار: پہاڑ
(۶) فردوسِ تخیل: تخیل میں بنائی ہوئی جنت
(۷) کشت: کھیتی 
(۸) فکر: غور و فکر سوچ بچار
(۹) عالم: دنیا میں
(۱۰) سبزہ وار: سبزہ کی طرح، وار حرف تشبیہ ہے
(۱۱) مضمر: پوشیدہ، پناہ، چھپی ہوئی
(۱۲) تاب گویائی: بولنے کی طاقت
(۱۳) شوخی تحریر: مراد دل سے اثر کرنے والے شعر
(۱۴) جنبش: حرکت
(۱۵) لبِ تصویر: تصویر کے ہونٹ

تشریح:
زندگی کی محفل تیرے ساز (شاعری) ( کے نغموں) سے اسی طرح مالا مال ہے جیسے پہاڑ کی خاموشی ندی کے نغموں سے شاداب ہوتی ہے۔ (تیرے کام کی دھوم مچی ہوئی ہے) قدرت کی بہار اسی جنت سے (قائم) ہے جو تیرے تخیل نے بنایا ہے اور تیری فکر کی کھیتی سے کئی دنیائیں سبزہ کی طرح پیدا ہوتی ہیں۔ سبزۂ خود رو کی طرح نئے نئے مضامین خود بخود پیدا ہوتے ہیں۔ (اقبال نے غالب کی تخلیقی قوتوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے)۔
تیری تحریر کی شوخی میں (اس قدر ) زندگی چھپی ہوئی ہے (کہ تو اپنے اشعار سے جو) تصویر (کھینچتا ہے) اُس کے ہونٹ بولنے کی طاقت سے متحرک ہو رہے ہوتے ہیں۔ ( تیرے اشعار بولتی ہوئی تصویر میں ہیں۔ غالب کے اُس شعر کی طرف بھی اشارہ ہے 

نقش فریادی ہے کس کی شوخئ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

زندگی تیری تحریر یعنی شاعری میں چھپی ہوئی ہے اس مصرع کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ غالب نے لفظوں کے ذریعے جو شوخ پیکر تراشے ہیں وہ زندگی آمیز ہیں۔ دوسرے معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ غالب نے پُر لطف انداز میں زندگی کے حقائق پیش کیے ہیں۔
(پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیسرا بند:
 نُطق کو سَو ناز ہیں تیرے لبِ اعجاز پر
 محوِ حیرت ہے ثریّا رفعتِ پرواز پر
 شاہدِ مضموں تصّدق ہے ترے انداز پر
 خندہ زن ہے غنچۂ دلّی گُلِ شیراز پر
 آہ! تُو اُجڑی ہوئی دِلّی میں آرامیدہ ہے
 گُلشنِ ویمر* میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے

فرہنگ:
(۱) نطق: گویائی، زبان، بولنا، بولنے کی قوت
(۲) لبّ اعجاز: معجزہ دکھانے والے ہونٹ
(۳) محوِ حیرت: حیرانی میں گم
(۴) رفعتِ پرواز: اُڑان کی بلندی
(۵) ثریا: آغاز سرما میں نظر آنے والے چھ چھوٹے چھوٹے ستاروں کا جھرمٹ
(۶) شاهد: معشوق، محبوب
(۷) تصدق: فدا، قربان
(۸) خندہ زن: ہنسنے والا، مذاق کرنے والا
(۹) انداز: طور، طریقہ
(۱۰) غنچہ دلی: مراد مرزا غالب
(۱۱) گل شیراز: خواجۂ حافظ یا شیخ سعدی جو فارسی کے نامور شاعر تھے، دونوں کا وطن شیراز تھا، شیراز کا پھول
(۱۲) آرامیده: آرام کرنے والا، مدفون 
(۱۳) ویمر: جرمنی کا ایک شہر جہاں مشہور شاعر گوئٹے دفن ہے (گوئٹے 1749ء میں پیدا ہوا اور 1838ء میں انتقال کیا)
(۱۴) ہم نوا: ایک جیسی آواز پیدا کرنے والا، دوست
(۱۵) خوابیده: سوتا ہوا، مدفون
(۱۶) اجڑی ھوئی دلی: جنگِ آزادی 1857 ء میں دلی (دہلی) تباہ و برباد ہوگئی تھی۔

تشريح:
تیرے جادو کرنے والے ہونٹوں پر گویائی ناز کرتی ہے۔ تیری معجزہ دکھانے والی شاعری پر انسانی قدرت کلام کو بہت ناز اور فخر ہے اور ثریا (اپنی بلندیوں کے باوجود) (تیرے خیال) کی رفعتِ پرواز سے حیران ہے۔ تیرے (شعر کہنے کا انداز (اس قدر حسین ہے کہ اس پر حسین مضمون بھی فدا ہو رہے ہیں (گویا آج) دلی کا غنچہ شیراز کے پھول پر ہنس رہا ہے۔ (غالب کو دلی کا غنچہ کہا ہے اور شعرائے ایران کو شیراز کے پھول سے تشبیہ دی ہے ان کی شاعری کے سامنے فارسی شاعری پھیکی اور بے رنگ لگتی ہے)۔
آہ تو اُجڑی ہوئی دلی میں مدفون ہے اور تیرا ہمنوا (تیرے جیسا عظیم المرتبت شاعر یعنی گوئٹے) دہلی سے ہزاروں میل دور جرمنی کے شہر ویمر میں دفن ہے۔
علامہ محمد اقبال نے آرنلڈ کی ایک نظم سے یہ مصرع اخذ کیا ہے:
"Goeth in veimmer Sleeps."
جرمن زبان کے مشہور شاعر گوئٹے کی شاعری میں غالب ہی کی طرح تخیل کی بلند پروازی ملتی ہے۔ اکثر ناقدین نے اسے غالب کا ہم پلہ شاعر قرار دیا ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ یہ دونوں شاعر تقریباً ایک ہی زمانے کے تھے لیکن ایک دوسرے سے بالکل نا واقف ہے۔ علامہ محمد اقبال نے اپنی فارسی کتاب "پیام مشرق" گوئٹے کے دیوانِ مغرب کے جواب میں تحریر کی۔
(پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چوتھا بند:
 لُطفِ گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں
 ہو تخیّل کا نہ جب تک فکرِ کامل ہم نشیں
 ہائے! اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سر زمیں
 آہ! اے نظّارہ آموزِ نگاہِ نکتہ بیں
 گیسوئے اُردو ابھی منّت پذیر شانہ ہے
 شمع یہ سودائیِ دل‌سوزیِ پروانہ ہے

فرہنگ:
(۱) لطفِ گویائی: بولنے کا لطف، خوبی، مراد فصیح و بلیغ شاعری
(۲) ہمسری: برابری
(۳) فکرِ کامل: پختہ سوچ 
(۴) ہم نشین : ساتھ بیٹھنے والا، دوست 
(۵) نظارہ آموز: دیکھنے کا طریقہ بتانے والا
(۶) نگاهِ نکتہ بیں: باریکیاں دیکھنے والی نظر، بھید تلاش کرنے والی نظر، مراد غالب
(۷) گیسوۓ اردو: اردو کی زلفیں 
(۸) منت پذیر: احسان قبول کرنے والا، احسان اٹھانے والا
(۹) شانہ: کنگھی
(۱۰) سودائی: دیوانہ، مشتاق 
(۱۱) دل سوزی: دل جلانا، محنت و کاوش

تشریح:
جب تک پختہ فکر تخیل کی مددگار نہ ہو۔ اُس وقت تک کوئی شاعر خوش بیانی میں تیری برابری کا دعوی نہیں کر سکتا۔ ہائے! اب ہندوستان کے ملک کی کیا حالت ہو گئی ہے! یعنی اب تجھ جیسے عظیم شاعر پیدا نہیں ہو رہے ہیں۔ اے باریکیاں دیکھنے والی آنکھ کو نظارے دکھانے والے! اُردو کی زلف ابھی تک کنگھی کی محتاج ہے اور یہ شمع ابھی تک پروانہ کی ہمدردی اور خیر خواہی پر مفتون ہے۔ (غالب کی تعریف کرتے ہوئے شاعر نے اردو کو سنوارنے کی ضرورت کا احساس دلایا ہے)۔ یعنی ایسے صاحبِ کمال شعرا کی ضرورت ہے جو اپنی جگر کاوی سے اس کو سنواریں۔
(پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی)

پانچواں بند:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 اے جہان آباد! اے گہوارۂ عِلم و ہُنر
 ہیں سراپا نالۂ خاموش تیرے بام و در
 ذرّے ذرّے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمر
 یوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہر
 دفن تجھ میں کوئی فخرِ روزگار ایسا بھی ہے؟
 تجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے؟

فرہنگ:
(۱) جہان آباد: شاہ جہان آباد، دلی 
(۲) گہوارہ: جھولا، پنگھوڑا
(۳) علم و ہنر: علم و ادب
(۴) بام و در: در و دیوار، چھت اور دروازے مراد عمارت
(۵) خوابیدہ: سوئے ہوئے، مدفون
(۶) شمس و قمر: سورج اور چاند مراد عظیم الشان بزرگ، صاحب کمال لوگ
(۷) گُہر: موتی
(۸) فکر روزگار: زمانے کے لیے مایہ ناز ہستی
(۹) روزگار: زمانہ
(۱۰) پنہاں: پوشیدہ
(۱۱) آبدار : چمک دار، چمکتا ہوا، ایسا بھی ہے؟ ان جیسا کوئی نہیں ہے

تشریح:
اے دلی! صدیوں سے علم و ہنر کے گہوارے!! تیرے در و دیوار سر تا پا ایک خاموش نالہ ہیں (تیرے در و دیوار زمانے کے ستم کا شکار ہو کر اُس کی شکایت تو کرنا چاہتے ہیں لیکن کر نہیں سکتے)۔ تیرے ذرے ذرے میں سورج اور چاند کی طرح مشہور و معروف اشخاص سوئے ہوئے ہیں۔ (تیرے ذرے ذرے میں ماضی کی سورج اور چاند جیسی درخشاں ہستیاں مدفون ہیں) اور یوں تو تیری خاک میں لاکھوں موتی چھپے ہوئے ہیں (مرے ہوئے بزرگوں کی طرف اشارہ ہے) (لیکن یہ بتا کہ) تجھ میں کوئی ایسی ہستی بھی دفن ہے جو (غالب کی طرح) زمانے کے لیے مایہ ناز ہو اور تجھ میں (غالب جیسا) کوئی اور چمکتا ہوا موتی بھی پنہاں ہے۔ مطلب یہ غالب کا مرتبہ ان سب سے بالاتر ہے۔

نوٹ: اس نظم میں کلام غالب کی وہ تمام خصوصیات درج کی گئی ہیں جن کا ذکر غالب کے بڑے بڑے ناقدین بیان کرتے ہیں مثلاً تخیل کی بلند پروازی ، جدت اداء فکر و فلسفہ، شوخی و ظرافت، انتخابِ ادا و الفاظ کا سلیقہ، انسانی فطرت و نفسیات اور رموزِ فطرت۔
پیشکش 
 Malik Muhammad Arif Bara-Allama Iqbal Chapter

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !