خواتین کی چوائس اور آن لائن سوٹ..ارشاد العصر جعفری

دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔ انسان چاند پر پلاٹ خرید رہا ہے، مریخ پر کالونیاں بسنے کی خبریں ہیں، مصنوعی ذہانت شاعری لکھ رہی ہے، مگر ایک مسئلہ ایسا ہے جو آج تک حل نہیں ہو سکا:
خواتین کو پسند کا سوٹ دلوانا۔
یہ مسئلہ اتنا سنگین ہے کہ اگر اقوامِ متحدہ چاہے تو اس پر علیحدہ اجلاس بلا سکتی ہے، مگر فائدہ پھر بھی نہیں ہو گا، کیونکہ مسئلہ عالمی نہیں… خواتین کا ذاتی ہے۔
دکانیں، بازار اور ایک نہ ختم ہونے والا سفر
ایک خاتون جب کہتی ہے:
“بس ایک سوٹ لینا ہے”
تو اس کا مطلب ہوتا ہے:
پانچ بازار، دس دکانیں، پچاس سوٹ، اور آخر میں یہی جملہ:
“کچھ خاص نہیں ہے۔”
دکاندار پہلے مسکراتا ہے، پھر پسینہ پونچھتا ہے، اور آخر میں تقدیر کو گالیاں دیتا ہے۔
سوٹ سامنے ہوتا ہے، رنگ اچھا ہوتا ہے، قیمت مناسب ہوتی ہے، مگر مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ
“یہ وہ نہیں جو دل چاہ رہا ہے۔”
دل کیا چاہ رہا ہے؟
یہ سوال خود دل کو بھی معلوم نہیں ہوتا۔
آن لائن کمپنیاں اور ان کا خوفناک خواب
اب ذرا آن لائن کمپنیوں کی حالت دیکھیے۔
ویب سائٹ بنائی، ماڈل کھڑا کیا، لائٹس لگائیں، کیمرہ خریدا، سوٹ اپ لوڈ کیا۔
سب ٹھیک چل رہا تھا…
کہ اچانک آرڈر آیا — خواتین کا۔
کمپنی نے شکر ادا کیا، پیکنگ کی، دعا مانگی، کورئیر بھیج دیا۔
اور پھر تین دن بعد وہی پیکٹ واپس آ گیا۔
وجہ؟
رنگ کچھ اور لگ رہا تھا
کپڑا “بھاری” نہیں تھا
تصویر میں فال اچھی تھی
اصل میں بٹن عجیب لگ رہے ہیں
“امی نے کہا یہ مجھ پر اچھا نہیں لگ رہا”
کمپنی نے پیکٹ کھولا، سوٹ کو دیکھا، اور سوچا:
“ہم نے جرم کیا کیا تھا؟”
مردانہ سوٹ: بزنس کی جنت
اب آئیے مردوں کی طرف۔
مرد کا سوٹ؟
کالا، نیلا، گرے۔
بس۔
مرد کو سوٹ پہناؤ، آئینے کے سامنے کھڑا کرو، وہ کہے گا:
“ٹھیک ہے۔”
نہ فال کا سوال، نہ رنگ کی بحث، نہ کزن کی رائے۔
مرد کے لیے سوٹ لباس نہیں، فرض ہوتا ہے۔
چل جائے گا، پہن لیں گے، کیا فرق پڑتا ہے؟
اسی لیے آن لائن کمپنیاں مردانہ سوٹ ایسے بیچتی ہیں جیسے سبزی والا آلو۔
ریٹرن؟ نہ ہونے کے برابر۔
شکایت؟ برائے نام۔
خواتین کی پسند: ایک فلسفہ
خواتین کی چوائس دراصل فیشن نہیں، فلسفہ ہے۔
یہ وقت، موڈ، موسم، پڑوسن کے سوٹ اور انسٹاگرام کی تصویر سے متاثر ہوتی ہے۔
آج جو سوٹ پسند ہے، کل وہی “بہت عام” لگنے لگتا ہے۔
جو رنگ پرسوں پسند تھا، آج “بڑا بھدا” ہو جاتا ہے۔
اسی لیے آن لائن کمپنی سوچتی ہے:
“اگر یہ سوٹ واپس آ گیا تو ہم اسے کس جرم میں بیچیں گے؟”
ریٹرن: آن لائن بزنس کا جنازہ
ریٹرن صرف سوٹ کی واپسی نہیں ہوتی،
یہ کورئیر کا خرچ، وقت کا ضیاع، اعصاب کی خرابی اور اکاؤنٹنٹ کا بلڈ پریشر ہوتا ہے۔
ایک دو ریٹرن ٹھیک ہیں،
لیکن اگر خواتین نے سلسلہ شروع کر دیا تو کمپنی کا CEO خود کہے گا:
“ہم صرف مردانہ سوٹ بیچیں گے، خواتین اللہ کے حوالے۔”
اسی لیے خواتین کے لیے صرف کپڑا
آپ نے غور کیا ہو گا:
آن لائن خواتین کے لیے اکثر Unstitched سوٹ ہوتے ہیں۔
یعنی: “کپڑا لے لو، باقی خود سنبھالو۔”
یہ کمپنیوں کی خاموش چیخ ہوتی ہے:
“ہم نے اپنی طرف سے کوشش کر لی ہے، اب ذمہ داری آپ کی ہے۔”
نتیجہ: قصور کس کا ہے؟
قصور خواتین کا نہیں۔
قصور چوائس کا ہے۔
اور چوائس اگر دل سے ہو تو اس کا علاج کوئی بزنس ماڈل نہیں۔
اسی لیے:
بازار آباد ہیں
دکاندار تجربہ کار ہیں
آن لائن کمپنیاں محتاط ہیں
اور خواتین؟
وہ آج بھی کہتی ہیں:
“اتنے سوٹ ہیں، مگر پہننے کو کچھ نہیں۔”
آخری بات
دنیا بدل جائے گی، ٹیکنالوجی آگے نکل جائے گی،
مگر ایک حقیقت ہمیشہ قائم رہے گی:
خواتین کو پسند کا سوٹ مل جانا، آن لائن ہو یا آف لائن — ایک معجزہ ہے۔
اور معجزوں پر بزنس نہیں چلتا۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !