پنڈی کہ ایک شہر تھا۔۔۔ احمد اقبال

ہر شہر کی ایک شخصیت ہوتی ہے جو اسے دوسروں سے جدا کرتی ہے۔ انفرادیت کی پہچان دیتی ہے۔۔ میں نظریہ ضرورت کے تحت لاہور سے پنڈی آیا۔ پھر پشاور گیا۔ لوٹ کے پنڈی۔ پھر لاہور۔۔ لاہور سے کراچی اور اب۔۔ جتھے دی کھوتی اوتھے آن کھلوتی۔ بزبان شاعر۔۔ پہنچی وہی پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ نصف صدی بعد وہ سب یادوں کے نہاں خانے میں محفوظ ایک البم کے سوا کہیں نہیں کہ جو تھا۔ نگری نگری پھرا مسافر تو ہر شہر کی ایک شناخت سب سے الگ دیکھی۔ پنڈی بھی نئی شناخت کے ساتھ وہ پوتی ہے جو کچھ کچھ دادی جیسی لگتی ہو۔ لیکن دیگر شہروں کی تمام صفات مشترک ہیں تو کچھ اس کی اپنی ادا ہے جو سب سے جدا ہے۔ مثلاً یہاں پان کوئی نہیں کھاتا۔ کراچی سے آنے والے کو اول اول یقین نہیں آتا۔ مجھے اس لیے احساس نہ ہوا کہ میرے سو کے قریب افراد کے خاندان میں پان کھانے والی آخری ہستی میری ماں کی تھی کہ جہاں جاتیں ان کا ذاتی پاندان پہلے جاتا۔ عمر کے آخری چند برسوں میں کسی وجہ کے بغیر خود ہی اس شوق سے دستبرداری اختیار کر لی۔ تاہم ’’ایشیا سرخ ہے‘‘ کی لے پر کراچی سرخ ہے پان سے۔ ایک منظر میرے تصور میں محفوظ ہے جب والدہ ضیاء الدین ہسپتال کے ’آئی سی یو‘ میں داخل تھیں تو ایک صبح چھ بجے میں نے چوتھی منزل کی بلندی سے دیکھا کہ کوئی سر پھرا پہلی منزل کے دو فٹ چوڑے چھجے پر بالٹی ہاتھ میں اٹھائے انچ انچ کھسکتا جا رہا ہے جہاں سے اس کے نیچے ٹپک جانے کے امکانات بہت تھے۔ جب وہ میری ناک کے نیچے آیا تو میں نے دیکھا کہ وہ پیک کے داغوں کو سفیدی سے مٹا رہا تھا۔ یہ پیک اوپر ہر منزل کی طویل گیلری سے نیچے کا نظارہ کرنے والوں نے اگلی تھی۔ بد صورتی اور غلاظت کی نشانیاں ہر روز مٹانا اس کے فرائض میں شامل تھا۔ پان خوروں نے جو یہاں کسی کی عیادت یا علاج کے لیے ساتھ آئے تھے چوتھی منزل تک زینے کے ہر موڑ پر دیواروں کو بھی سرخرو کر رکھا تھا اور یہ روز کا معمول تھا چنانچہ ’تھوکنا منع ہے‘ کی تختی لگانے والے مجبور ہو گئے تھے کہ اس سے کام نہیں چلے گا۔ ہر روز داغ مٹائے جائیں ورنہ یہ بہترین اور مہنگا ہسپتال ایک بوچڑ خانہ لگے گا۔
باقی شہر میں کیا ہوتا ہے یہ سب جانتے ہیں۔ قیاس کن ز گلستانِ من بہارِ من۔ ہر سڑک ہر دیوار آخر ہے کس لیے؛ ہم کیا پیک دان ساتھ اور پیک منہ میں بھرے پھریں۔ میرے کراچی کے ایک دوست یہاں نہ ہوتے تو مجھے پان کی عدم موجودگی کا پتا نہ چلتا۔ وہ پنڈی سے ہر روز گاڑی میں بارہ کلومیٹر دور اسلام آباد کی ’آبپارہ مارکیٹ‘ سے پان بنوا کے لاتے۔۔ وجہ یہ کہ ہزاروں گھروں کی ایئرپورٹ سوسائٹی اور گلزارِ قائد کی بہت بڑی مارکیٹ میں پان کی دکان ہی نہیں تھی۔ سگریٹ ہر جنرل سٹور پر ملتے تھے۔ دوسرا موقع تب آیا جب واہ کینٹ سے آنے والے ایک دوست نے ڈنر کے بعد پان کھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ میں سوچ میں پڑا رہا مگر یاد نہ آیا کہ اتنے بڑے میلوں پھیلے صدر بازار میں پان کی دکان کہاں ہے۔ بہت پوچھنے پر پتا چلا کہ قدیم ’کریم سموسے والے‘ کی دکان کے باہر ایک کھوکھا ہے۔۔ یہ صورت حال آج بھی مختلف نہیں ہے۔ 1950ء کا یاد ہے کہ لال کرتی بازار کے کونے پر ’لال پان والا‘ بہت مشہور تھا، اس کے نت نئے ناموں والے مہنگے پان کھانے دوسرے شہروں کے لوگ بھی آتے تھے، وہاں ایک بد حال دیوانہ ’صادق‘ بھیک مانگتا نظر آتا تھا۔ اس نے سہراب مودی کی فلم ’پکار‘ میں ملکہ نور جہاں کا کردار کرنے والی ’پری چہرہ نسیم‘ (دلیپ کمار کی ساس) کے مقابل شہنشاہ جہانگیر کا کردار کیا تھا۔ لال پان والے کا قتل ہوا تو یہ دکان ختم ہو گئی۔ یہاں اب فرائی فش شاپ ہے۔ نہیں معلوم صادق کا انجام کیا ہوا۔ میں کراچی میں تھا اور 38 سال بعد لوٹا ہوں۔
پان کی ایک دکان اسلام آباد کی میلوڈی فوڈ سٹریٹ میں ہے۔ جو کسی شاہی محل کا چوبارہ لگتی ہے۔ پان لگانے والا مغل بادشاہوں کے لباس میں تخت پر بیٹھا ہوتا ہے، اس کے سامنے تین فٹ قطر کا نقشین سنہرا پاندان ہے جس میں کتھے چونے وغیرہ کی چھوٹی چھوٹی مٹکیاں ہیں اور دس قسم کی چیزیں جو پان میں ڈالی جاتی ہیں۔ مجھے نام بھی نہیں معلوم۔ قوام اور گلقند وغیرہ۔۔ تفریح کے لیے آنے والوں کو آداب کے بعد ان کی پسند اور فرمائش کا پان دیا جاتا ہے۔۔ بہت پہلے قیمت پچاس سے ڈھائی سو تک تھی۔۔ ایسی ہی دوسری دکان ’دامنِ کوہ‘ پارک میں ہے جو شاید اسی کی فیملی چلاتی ہے۔
پنڈی کے قدیم شہر راجہ بازار، سید پوری روڈ، بنی مائی ویرو، مری روڈ سٹیلائٹ ٹاؤن، چائنا مارکیٹ وغیرہ کا مجھے صحیح اندازہ نہیں کیونکہ ادھر جانا نہیں ہوتا۔ میں نئے ایئرپورٹ سوسائٹی، بحریہ اور ڈی ایچ اے، گلبرگ، پی ڈبلیو ڈی والے شہر میں ہوں۔ وہاں پان نہیں ہے۔ تو یہ پنڈی کی ایک ادا نرالی ہے۔
Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !