بر گر کی اشتہا انگیز خوشبو نے اسے ایک مرتبہ پھر بے چین کر دیا اور اس کا منہ پانی سے بھر آیا۔ وہ آج پھر سکول کے باہر برگر کی ریڑھی کے سامنے کھڑا دل ہی دل میں نہ صرف یہ حساب لگا رہا تھا۔"کہ اب برگرخریدنے کے لیے مزید کتنے دن پیسے جمع کر نا ہوں گے ، بلکہ وہ یہ بھی مسلسل سوچ رہا تھا۔کہ جس برگر کی خوشبو اتنی زبردست ہے وہ کھانے میں کتنا مزیدار ہو گا"۔ اس کی بند مٹھی پسینے سے بھیگنے لگی۔ اس نے بے چین ہو کر اپنی بند مٹھی کھولی تو اس میں مقید پسینے مٰیں بھیگے پانچ پانچ کے دو سکے اپنی مفلسی اور بے بسی پر اشکبار نظر آئے۔ کئی بار کا دہرایا ہوا سوال ایک مرتبہ پھر اس کے لبوں پر آگیا۔ " برگر والے بھائی! یہ برگر کتنے کا ہےَ"۔ برگر والے بھائی نے بڑے سے توے پر اکٹھے بہت سے کباب تلتے ہوئے مصروف انداز میں ایک اچنتی ہوئی نگاہ اس پر ڈالی اور تیز لہجے میں بولا"یار تو ایک ہی سوال روزانہ کرتا ہے۔ اور تجھےکتنی بار بتا چکا ہوں کہ چھوٹا برگر 50 اور بڑا برگر 100 روپے کا ہے۔" اس کے ہاتھ بہت تیزی سے کام کررہے تھے ۔ کباب تلنے کے ساتھ وہ برگر بنا کر اپنے گاہک بھی ساتھ ساتھ نمٹھا رہا تھا۔ ریڑھی میں رکھے میلے سے کپڑے سے وہ ہاتھ پونچھتا اور پھر تیزی سے دوسرا برگر بنانے لگتا ۔ان گاہکوں میں ہائی سکول کے کھاتے پیتے گھرانوں کے لڑکے اورسکول کا وہ چپڑاسی شامل تھا جو استادوں کے لیے برگر کا آرڈر لے کر آتا تھا۔
رشید حال ہی میں بستی غریب آباد میں واقع واحد پرائمری سکول سے جماعت پنجم پاس کر کے ششم جماعت میں آیا تھا۔ بستی غریب آباد سے قریب ترین ماڈل ٹاؤن کے صاف ستھرے علاقے کے ہائی سکول میں داخلہ لینے کا اس کا دیرینہ معصوم خواب تو پورا ہو گیا۔ مگر اس کے پُر جوش جذبوں کو اول روز ہی اس وقت شدید جھٹکا لگا ۔جب اس نے وقفے کے دوران اپنی اشتہا مٹانے کے لیے سکول کی واحد کینٹین سے 5 روپے کی چیز خریدنی چاہی ۔ ڈیوٹی پر متعین جماعت دہم کے لڑکوں نے نہ صرف سختی سے اسے جھڑک دیا بلکہ اس کا مذاق بھی اُڑایا۔ ابھی وہ اس صدمے سے نکل بھی نہ پایا تھا کہ لڑکوں کا مزید ایک اور ریلہ آیا اور اس دھکم پیل میں اس کے ہاتھ سے 5 کا سکہ کہیں دور جا گرا ۔ اس نے ٹوٹے ہوئے دل اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ اپنے 5 روپے کا سکہ تلاش کرنا چاہا تو اس کے ہم جماعت طاہر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ہجوم سے باہر نکال لیا اور بولا"یار رشید! کیا کرتا ہے؟ اتنے رش میں تجھے پیسے تو کیا ملیں گے الٹا تو کچلا جائے گا۔ " اتنے بڑے سکول کی اس واحد کینٹین پر تفریح کے مختصر سے وقفے کے دوران لڑکوں کا اژدھام ٹوٹا پڑتا تھا۔ وہ افسردگی اور شکست خوردگی کا احساس لیے طاہر کے ساتھ کھیل کے میدان میں درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔طاہر نے گھر سے لایا ہوا ٹفن کھولا اور اسے نہ صرف زبردستی اپنے ساتھ کھانے میں شامل کر لیا بلکہ اس کی خفت مٹانے کیلئے اس کی دلجوئی کرتے ہوئے بولا"یار کل سکول کے باہر سے کھانے کی چیزیں خریدیں گے تجھے بھی پانچ روپے کا کچھ نہ کچھ مل جائے گا"۔
مگر اگلے دن جب وہ پی ٹی ماسٹر کی نظروں سے بچتے ہوئے دیگر طلبا کے ہمراہ مین گیٹ سے باہر آئے تو رشید کو جلدہی معلوم ہو گیا کہ پاپڑ کرارے ،برگر،برف کا گولا،کھوئے والی قلفی، چاول چھولے غرض کوئی بھی چیز پانچ روپے میں نہیں خریدی جا سکتی تھی۔جبکہ طاہر نے 30 روپے کی چاول چھولے کی چھوٹی پلیٹ خریدی اور حسب عادت رشید کو شامل کر لیا۔ اس نے یہاں برگر کی ریڑھی پہلی بار دیکھی تھی۔ تب اسے معلوم ہوا تھا ۔ کہ یہ تو بہت مہنگی چیز ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس کے دل میں برگر کھانے کی حسرت بھی جاگ اُٹھی تھی ۔ اس نے دل ہی دل میں حساب لگایا کہ اگر وہ 5 روپے روزانہ کھانے کے بجائے بچا لیا کرے تو 8 دن میں 40 روپے اکٹھے ہو جائیں گے۔ لیکن اگر ماں سے کہوں کہ وہ مجھے اب 5 روپے کے سکے کے بجائے 10روپے دیا کرے۔۔۔۔۔۔"
"ہاں ٹھیک ہے" ۔وہ خوش ہو کر سر ہلانے لگا" اس طرح تو صرف پانچ دن ہی میں پچاس روپے اکٹھے ہو جائیں گے اور میں پانچویں ہی دن یہ لذیز برگر کھا سکوں گا"۔ اگلےدن نیم پختہ چھوٹے سے صحن میں جب ماں نے کونے میں بنے مٹی کے چولہے پر سے کالی سیاہ دیگچی اتار کر چائے اس کے ٹوٹے ہوئے پیالے میں ڈالی تو اس نے ماں کی طرف دکھ سے دیکھا "اماں آج پھر خالی چائے۔؟" بس پُتر پہلی میں ہفتہ باقی ہے۔ تنخواہ آجائے تو تجھے ناشتے میں پراٹھا پکا کے دوں گی" وہ نظروں کو جھکائے بلاوجہ چیزوں کو ادھر ادھر رکھتے ہوئے بولی۔ اس کے لہجے کا خالی پن اس خالی مٹھی کی طرح تھا جو ہمیشہ امید کی دولت کےانتظار میں خالی رہتی ہے۔"یہ لے پُتر کچھ کھا لینا" وہ روزانہ کی طرح اپنی بوسیدہ میلی اوڑھنی کا کونا کھول کر اسے 5 روپے کا سکا نکال کر دینا نہ بھولی۔ " واہ! اپنے لاڈلے کو تو روز پیسے دیتی ہے کبھی مجھے بھی دے دیا کر"۔ رشید کا بڑا بھائی مجید اچانک ہی باہر سے آٹپکا۔ بکھرے بال سرخ آنکھیں میلے گرد سے اٹے کپڑے ۔ "آگیا تو؟کہاں تھا رات بھر؟" رشید سے بات کرتے وقت شہد سے بھر ا لہجہ مجید سے بات کرتے ہوئے خود
بخودکڑاواہٹ سے بھر گیا۔ وہ جو مجید کے گھر غائب ہونے کی وجہ سے پوری رات سو نہیں پائی تھی۔ بظاہر تلخ لہجے سے بولی تھی مگر اس کی بے قرار مامتا کو قرار آگیا تھا"۔ تو نے دروازہ کھولنا نہیں تھا پھر دیر سے آنے پر ابا کی ڈانٹ ڈپٹ کون سنتا اسی لئے چاچا گامے کی ریڑھی پر باہر سو گیا تھا۔" اس نے لاپروائی سے کہا۔" تیرا نشہ اور جوا کسی دن تیرے ساتھ ہمیں بھی لے ڈوبے گانہ تجھے جوان بہنوں کا خیال ہے نہ ٹی بی سے مرتے باپ کا خیال ہے"۔وہ روہانسی ہوگئی۔ "اچھابس کر زیادہ نہ بول ناشتہ دے"۔ وہ جارحانہ لہجے میں بولا۔ "سدھر جا مجید پتر ورنہ بہت پچھتائے گا"۔ اس کا باپ بھی کھانستا ہوا صحن میں پڑی جھلنگا چارپائی پر آ بیٹھا۔ "چلو اب یہ بھی شروع ہو گیا۔" وہ بڑا بڑاتا ہوا غسل خانے پر پڑا ہوا ٹاٹ کا پردہ اٹھا کر اندر گھس گیا۔ "حیا کر مجید حیا کر" اور اس کے ساتھ ہی اسے کھانسی کا دورہ پڑگیا۔"صادق حسین! چپ کر تیری طبیعت ٹھیک نہیں ہے"۔ رشید کی ماں گھبرا کر اس کے پاس آگئی۔"اماں۔۔۔۔ابا کیا ہوا؟" چاروں بیٹیاں گھبرا کر اپنے اپنے کام چھوڑ کر بوڑھے بیمار باپ کے گرد جمع ہو گئیں۔ بڑی اس کی کمر مسلنے لگی۔ چھوٹی بھاگ کر پانی کا گلاس لے آئی۔ رشید اپنا بستہ اٹھائے پریشان کھڑا تھا۔ "پتر تو' تو سکول جا تجھے دیر ہوجائے گی"۔ اچانک ہی اس کی ماں کو خیال آیا۔"ہاں ۔۔۔۔۔ہاں اماں چلتا ہوں ۔" وہ جو ماں سے دس روپے کا مطالبہ کرنا چاہتا تھا۔ اس صورت حال پر دل گرفتہ سا خاموشی سے باہر آگیا۔ تھوڑے سے ردوبدل کے ساتھ تقریباً اسی قسم کی صورت ِ حال اور حالات سے اسے واسطہ پڑتا رہتا تھا۔
بوڑھا بیمار باپ چارپائی پر پڑا کھانستا رہتا یا پھر مجید کی آوارگی کی وجہ سے اسے گالیاں بکتا رہتا۔بہنیں گھر کے کام میں جتی رہتیں۔ فارغ وقت میں دونوں بہنیں خلاؤں میں گھورتیں جانے کون سے خواب دیکھا کرتیں، جبکہ دونوں چھوٹی کپڑے کی چھوٹی سی گندی سی گڑیا کا بیاہ رچانے بیٹھ جاتیں۔ وہ گڑیا بھی گویا ان کی مفلسی کی جیتی جاگتی تصویر تھی۔ اماں صبح کو مفلسی کی چادر کی بکل مار کر بڑی حویلی میں جھاڑو برتن کاکام کرنے جو نکلتی تو عصر کے بعد ہی گھر کی راہ لیتی ۔ کبھی کبھی رشید بھی ماں کا پلو پکڑ کر اس کے ساتھ حویلی چلا جاتا اور اس کے کام میں ہاتھ بٹاتا۔ اسے اپنی ماں پر بہت ترس آتا ۔وہ کولہو کے بیل کی طرح بس اپنے کام میں جتی رہتی۔ جب وہ حویلی کے فرش رگڑ کر پوچا لگاتی تو رشید کو یوں محسوس ہوتا کہ وہ فرش رگڑ کر صاف نہیں کر رہی بلکہ اپنی غربت کے دھبوں کو صاف کر رہی ہے۔ اور مجید محرومیوں کا شکار ہو کر نشے اور جوئے کے ذریعے نجانے کونسی خوشیاں خریدنے چلا تھا۔
دس روپے کا نوٹ جمع کرتےکرتے آخر پانچواں دن بھی آ پہنچا رشید کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ اس سے وقت نہیں گزر رہا تھا۔ بالآخر تفریح کی گھنٹی بج اٹھی۔ اس دوران طاہر اسے اپنے کھانے میں برابر شریک کرتا رہا تھا۔ کیونکہ اسے بھی رشید کے پیسے جمع کرنے کی مہم کے بارے میں علم ہو چکا تھا۔ دونوں دوست مقررہ وقت پر باہر آئے۔ طاہر کے پاس آج صرف بیس روپے تھے۔ اس نے باہر آکر بیس روپے کی قلفی خریدلی۔ جبکہ رشید خوشی خوشی "دلبہار برگر کارنر" لکھی ہوئی ریڑھی کی جانب بڑھ گیا۔ پر مسرت اور فخر یہ لہجے میں بولا" برگر والے بھائی ! آج مجھے بھی ایک برگر دے دو" برگر والے بھائی نے مسکرا کر اس کی جانب دیکھا اور بولا"لگتا ہے آج مال خرچ کرنے کا پروگرام بنا لیا ہے" اس نے بھی مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔" کونسا چھوٹا یا بڑا " وہ ہچکچا کر بولا" آج تو چھوٹا چلے گا ""یہ لو اور 80 روپے نکالو" برگر اس کی طرف بڑھا کر وہ بولا۔ "کیا۔۔۔۔۔ 80 روپے ؟ مگر آپ نے تو کہا تھا کہ چھوٹا برگر 50 روپے کا ہے" وہ گھبرا کر جلدی جلدی بولنے لگا۔ "اوو یار وہ پچھلے ہفتے کی بات یے، مہنگائی بڑھ گئ ہے۔ گھی،انڈے گوشت ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ اس لئے اب چھوٹا برگر 80 روپے کا اور بڑا برگر130 کا ہے۔ "برگر والے نے تفصیل بتانے کے ساتھ اس کے لیے بنایا ہوا برگر کسی اور گاہک کو پکڑا دیا، کیونکہ وہ بھانپ گیا تھا کہ مطلوبہ قیمت اس طالب علم کے پاس نہیں ہے۔ اس کی خوشی ہوا میں تحلیل ہوگئی۔ اتنا دکھ تو اسے اس وقت بھی نہیں ہوا تھا جب بچپن میں اس کے مٹی کے گھوڑے کو مجید نے توڑ دیا تھا۔ جو کہ اس کا واحد کھلونا تھا۔ طاہر قلفی خرید کر کھاتا ہوا اس کے پاس آگیا "ہاں رشید برگر خرید لیا؟" ہاں ۔۔۔۔۔۔۔نہیں" "لیکن کیوں ؟ ابھی تک کیوں نہیں خریدا؟" "وہ۔۔۔۔۔۔اب یہ 80 روپے کا ہوگیاہے۔"اس کی آنکھوں مٰں نمی اور حسرت تھی۔ طاہر چپ کا چپ رہ گیا۔"یار مجھے قلفی نہیں خریدنی چاہیے تھی میرے 20 روپے ملا کر تیرا برگر آجاتا، دس روپے ہم ادھار کرلیتے " اسے سچ مچ دکھ ہو رہا تھا۔ "نہیں یار برگر میں صرف اپنے پیسوں کا خریدوں گا۔" اس نے اپنے آپ کو حوصلہ دیا کیونکہ 10دن میں اس کے پاس 50 روپےجمع ہو چکے تھے۔اب صرف 30 روپے درکا ر تھے اور یہ تین دن اس پر تیس صدیوں کی طرح گزرے ۔ اسے اب ڈرتھا کہ کہیں تین دن کے بعد چھوٹا برگر 80 کے بجائے 100 روپے کا نہ ہوجائے ۔ کیونکہ مہنگائی تو بقول اس کی ماں اس کی بہنوں کے قد کی طرح بڑھتی ہی جا رہی تھی۔
آخر دودن بھی آپہنچا جب 80 روپے وہ جیب میں ڈال کر دوبارہ ڈرتا ہو ا برگر والے کے پاس گیا۔ اس مرتبہ اس کے حوصلہ اور اعتماد میں کمی آچکی تھی۔ وہ تذبذب کے عالم میں وہاں کھڑا سوچتا رہا کہ کیا کرے ۔ مگر جب اسے اچھی طرح اندازہ ہو گیا کہ چھوٹا برگر آج بھی 80 روپے ہی کا ہےتواس نے حوصلہ کر کے کہ دیا"برگر والے بھائی چھوٹا برگر دےدو"۔ اور ساتھ ہی تیزی سے 80 روپے بھی اس کے سامنے کر دیے۔ ریڑھی والے نے شناسا نظروں اسے دیکھا اور خاموشی سے برگر اس کی طرف بڑھا دیا۔" گن لو بھائی پورے ہیں۔" وہ اس کی آنکھوں کا مفہوم جان کر بے قراری سے بولا تو اس نے وہ روپے اس کے ہاتھ سے لے کر مسکرا کر بغیر گنے ڈبے میں ڈال دیے۔
وہ گر م گرم برگر کا لفافہ ہاتھ میں تھامے بے چینی سے طاہر کا انتظار کرنے لگا ۔ بھلا وہ برگر طاہر کے بغیر کیسے کھا سکتا تھا۔ طاہر 20 روپے کے پاپ کورن لےکر کھاتا ہوا اس کی طرف آگیا۔ رشید کی بے چینی ، مسکراتی آنکھوں میں احساس تفا خر اور ہاتھ میں برگر کا لفافہ دیکھ کر طاہر کو حقیقی مسرت ہوئی۔ "یہ لو برگر پہلے تم کھاؤگے۔ " رشید نے جلدی سے برگر کو لفافے سے نکالا اور طاہر کے منہ سے لگا دیا۔ تو وہ ہنس کر بولا" او ہو! صبر کرو سکول کے اند ر چل کر اپنی جگہ پر بیٹھ کر کھائیں گے"َ۔
"چلو ٹھیک ہے" اور ساتھ ہی تیزی سے وہ سکول کی طرف چل دیا۔ اس سے صبر نہیں ہورہا تھا۔ گراؤنڈ میں اپنے مخصوص ٹھکانے پر پہنچ کراس نے اس چھوٹے برگر کے دو حصّے کر دیے ایک طاہر کے ہاتھ میں تھما دیا اور دوسرا وہ ابھی سرشاری کے عالم میں اپنے منہ تک لے کر ہی گیا تھا اس کے تین چار ہم جماعت تیزی سے اس پر جھپٹے " چور تجھے شرم نہیں آتی چوری کرتے ہوئے"احسن غصّے سے چیخ رہاتھا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہاتھا۔ اس نے بس یہ دیکھا کہ ان لڑکوں نے نہ صرف منہ تک جاتا ہوا برگر جھپٹ کر پھینک دیا بلکہ اسے بھی دھکا دے کر گرا دیا وہ دھندلی آنکھوں سے برگر کو مٹی میں لت پت نیچے پڑا ہوا دیکھ رہا تھا۔ اتنی دیر میں پی ٹی ماسٹر آگئے۔ " سر دیکھیں میں نے کیا کہا تھا" ۔ عبداللہ نے پی ٹی ماسٹر کو مخاطب کیا ۔ احسن پھر بولا" 5روپے لانے والا بھلا 120 روپے کا برگر کیسے خرید سکتا ہے؟"۔" رشید سچ سچ بتاؤ تم نے احسن کے سو روپے چوری کر کے یہ برگر خریدا ہے نا؟ " پی ٹی ماسٹر دھاڑے اور وہ سکتے کی کیفیت میں اوندھے منہ لیٹا اپنے سے تھوڑے فاصلے پر برگر کے آدھے حصے کو مٹی میں خاک بسر پڑا ہو ا دیکھ کر سوچ رہا تھا۔ اب اگر مجھے دوبارہ پیسے جمع کرنے پڑے تو مزید کتنے دن لگیں گے اور اسی روپے جمع ہونے تک اگر چھوٹا برگر ایک سو تیس روپے کا ہو گیا تو۔۔۔۔۔۔؟
