قرآن پڑھنا سمجھنا اور عمل کرنا 💐
پہلی دفعہ قرآن پڑھنے سے ثواب ملتا ہے؟ جی ہاں، نیت کی پاکیزگی کے ساتھ تلاوت کا اپنا ایک روحانی درجہ ہے جو تعلق کی ابتدا کرتا ہے۔
دوسری مرتبہ سمجھ کر پڑھنے سے ثواب اور ہدایت؟ بالکل۔ فہم، ہدایت (راستہ دکھانے) کی پہلی سیڑھی ہے۔ جب الفاظ کے معنی کھلتے ہیں تو راستہ نظر آنے لگتا ہے۔
تیسری مرتبہ سمجھ کر پڑھنے اور عمل کرنے سے کامیابی؟ یقیناً۔ عمل ہی وہ حتمی مرحلہ ہے جہاں ہدایت "کامیابی" (فلاح) میں بدلتی ہے۔ بغیر عمل کے ہدایت محض ایک نقشہ ہے، منزل نہیں۔
اگر بار بار محض پڑھتے ہی رہیں تو؟ یہ حوصلہ افزائی تو دے سکتا ہے مگر تبدیلی نہیں۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے کوئی مریض نسخہ بار بار پڑھے مگر دوا نہ کھائے۔
اگر بار بار محض سمجھ کر پڑھتے ہی رہیں تو؟ یہ علمی ذخیرہ تو بن جائے گا مگر کردار نہیں۔ یہ "دانشور" تو بنا سکتا ہے، "مومن" نہیں۔
اگر بار بار محض پڑھ کر پڑھاتے ہی رہیں تو؟ یہ نقلِ معلومات (Information Transfer) ہے۔ اس سے معاشرے میں حافظ اور قاری تو پیدا ہوں گے، مگر صالحین کی کمی رہے گی۔
اگر بار بار سمجھ کر پڑھتے اور پڑھاتے ہی رہیں تو؟ یہ اکیڈمک مشغلہ بن جائے گا۔ اگر عمل مفقود ہے تو یہ "حجت" بن جائے گا جو روزِ قیامت انسان کے خلاف کھڑی ہوگی۔
اگر بار بار سمجھ کر محض تفسیر، قرآن فہمی، اور تدبر ہی کرتے رہیں تو؟ یہ فلسفہ بن جائے گا۔ تدبر کا اصل مقصد ہی عمل کی راہ نکالنا ہے، اگر سفر شروع نہ ہوا تو تدبر محض ذہنی عیاشی ہے۔
اگر بار بار سمجھ کر مناظرے ہی کرتے رہیں تو؟ یہ انا کی تسکین اور تفرقہ بازی کا ذریعہ بنے گا۔ قرآن جوڑنے آیا تھا، مناظرہ اسے توڑنے کا اوزار بنا دے گا۔
عمل کون کرے گا؟ عمل "مجھے" اور "آپ کو" انفرادی طور پر آج اور ابھی کرنا ہے۔ قرآن کا خطاب "یا ایہا الذین آمنوا" (اے لوگو جو ایمان لائے ہو) سے ہے، کسی غائب گروہ سے نہیں۔
کیا عمل کسی آنے والے کے لیے مختص ہے؟ یہ ایک خطرناک نفسیاتی فرار ہے۔ ہم نے اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ "موعود" (آنے والی) شخصیات پر ڈال کر خود کو معذور کر لیا ہے۔ یہ اجتماعی خود فریبی ہے۔
کیا اس "انتظار" کو عمل کہا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ مثبت انتظار وہ ہوتا ہے جس میں تیاری شامل ہو۔ بغیر تیاری اور بغیر عمل کے انتظار محض کاہلی اور غفلت ہے۔
یا یہ "انتظار" غیر عمل ہے؟ جی ہاں، یہ عمل کی ضد ہے۔ یہ جمود (Stagnation) کی ایک شکل ہے جو امتوں کو زوال کی طرف لے جاتی ہے۔
یہ "انتظار" عمل سے زیادہ غیر عمل کے قریب ہے؟ یہ نہ صرف غیر عمل کے قریب ہے بلکہ یہ مجرمانہ غفلت ہے۔ جب چراغ ہاتھ میں ہو اور انسان کہے کہ میں سورج نکلنے کا انتظار کر رہا ہوں تاکہ چل سکوں، تو یہ چراغ کی توہین بھی ہے اور وقت کا ضیاع بھی۔
