نیز بالکل دوسری شادی کی اجازت مذہب میں ہے۔ اور جن لوگوں نے صریحا مذہب کی خاطر یہ بار اٹھایا ہے انکے لیے تالیاں ۔ پر یہ تحریر ہمارے عام مردوں کے لیے ہے۔ یہی آپ کے پھوپھا جی، ہمارے تایا جی، سہیلی کے شوہر، پڑوسن کے میاں جی یہ وہ وغیرہ وغیرہ کے لیے۔
چلیں جی شروع کرتے ہیں پہلی بات سے۔ میری آبزرویشن کے مطابق دوسری شادی کا شوق اپنی جگہ مگر دوسری شادی صرف وہ مرد کرتے ہیں جنہیں پولیمری کا شوق ہو۔ ایشیائی ملکوں میں چونکہ مورل, ایتھکل اور کلچرل ویلیوز ایسی ہیں کہ سیکشوئل پریفرنسس کھل کر بیان نہیں کی جا سکتیں۔ پہلی دلہن بھی اماں کی پسند سے ہی آتی ہے لہذا دوسرا ویاہ کرنے والے مرد حضرات اپنے اس "ڈیونٹ" شوق کو مذہب کا لبادہ اوڑھانے پر مجبور ہیں۔ ورنہ کھلے عام چھوٹ ہوتی تو ہم سب ان کی حرکتوں کو دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگاتے۔
باقی بات چھوڑیں۔ گہرائی میں جا کر انسان کی فطرت دیکھتے ہیں۔ الٹی سیدھی سائنس دینے کی ضرورت نہیں کہ مرد فطرتا بہت سی عورتوں کا شوقین ہوتا ہے۔ بھئی کہاں اور کیوں؟ ہر جگہ مادہ ڈیسائیڈ کرتی ہے کہ اسکا پارٹنر کون اور کتنے ہوں گے۔ پھر آپ کی کونسی اپنے ایکشن جسٹیفائی کرنے والی نئی مردانہ سائنس آئی ہے؟ انسان فطری طور شرم کرنے والی مخلوق ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ چھوٹا سا بچہ کپڑے پہنتے وقت اجنبی کی موجودگی میں فورا نیکر اوپر چڑھا لے گا۔ یا کپڑے درست کرے گا۔ اب شادی صرف ساتھ رہنے یا جسمانی تعلق کا نہیں بلکہ ایک کنکشن کا نام ہے۔ میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں۔ اور وہ صرف جسم ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے کا وجود بھی آپس میں بانٹتے ہیں۔ میاں بیوی کا رشتہ جتنا محترم اور قریبی ہے۔ ہر ایک کے ساتھ ایسا کنکشن بنانا ممکن نہیں ہے۔ کم از کم ایک وفادار اور قناعت پسند انسان کے لیے تو ناممکنات میں سے ہے۔
اور یہ ملٹیپل پارٹنرز کا شوق کہاں سے آتا ہے؟ اگر ایک انسان کے اندر بھرپور خوشی اور قناعت پسندی ہو توایک ساتھی کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے پارٹنر کی خواہش بھلا کیوں ہو گی؟۔ بھرے پیٹ کا انسان کھانا دیکھتا بھی نہیں ہے۔ پھر کیا یہ حرص ہے؟ لالچ؟ یا پھر بیوی کا آئیڈیا چونکہ یہ ہے کہ وہ آپ پر ڈیپنڈ کرے گی اور آپ اسکے اوپر کنٹرول رکھیں گے تو یہ کسی کی اپنی ذات کے اندر ایک ایسا خلا ہے جو دوسروں کو کنٹرول میں رکھ کر بھرے گا۔ کوئی ایسی تشنگی جو آپکو مجبور کرتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ آپ کو چاییں، آپ کو اپنائیں۔ اور آپ کے لیے لڑیں مریں (کیونکہ سوکن کا کانسیپٹ بھی یہی ہے کہ ایک دوسرے سے حاصل کرنے کی کوشش کریں گی) تو ایسے میں کیا وہ مرد زیادہ "ویلیوڈ" فیل کرے گا۔ جس کا مطلب کہ بچپن میں اسے ماں نے بے حد اگنور کیا ہے۔ اور اب وہ زندگی میں موجود دوسری عورتوں سے وہ ویلیڈیشن لینا چاہتا ہے۔
ہماری کنڈیشنگ بھی اس سب میں بہت اہم ہے۔ ہماری عورتیں مردوں کو پالتے وقت سکھاتی ہی کہاں ہیں کہ ایک کا ہو کر رہنا ہے۔ جب دوستوں کی محفل میں بیٹھ کر جگہ جگہ منہ مارنے والے کو مردانگی کا ٹیگ دیا جائے گا۔ جب مائیں بیٹے کی کوئی شکایت آنے پر یہ سمجھیں گی کہ مرد ہے تو ایسے ہی کرے گا۔ جب ساس بہو کو تکلیف دینے کے لیے نئی عورت لانے کی راہ ہموار کرے گی اور جب میڈیا پلے بوائے کو گلوریفائی کرے گا ۔ تو ہمارے مردوں کی کہاں تربیت ہو گی کہ بالکل ایک عورت کے ساتھ۔ بہت اچھی اور بھرپور زندگی گزاری جا سکتی ہے۔
اب آتے ہیں مذہب کی طرف۔ کیونکہ عموما پولیمری کے شوقین مرد حضرات دوسری شادی کو مذہب سے جسٹیفائی کرتے ہیں۔ جبکہ مذہب میں چار شادیوں کی اجازت ضرور ہے مگر چار شادیاں ہونا اور چار شادیاں ایک ساتھ ہونا دو الگ باتیں ہیں۔ ہمارے فرض بھی پورے نہ کرنے والے مرد حضرات نبی کی اس سنت کی مثال دیتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ ہمارے نبی نے دوسری شادی بھی پہلی بیگم حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد کی۔ انکی زندگی میں ان سے وفادار رہے۔ ان پر سوکن نہیں لا بٹھائی۔ پھر بھری جوانی میں انہوں نے بڑی عمر کی خاتون سے شادی کی۔ جبکہ ہمارے شادی شدہ انکلز بھی جوان لڑکیوں پر رالیں ٹپکاتے نظرآتے ہیں۔
اس کے بعد بھی شادیاں سچوئشن کے حساب سے ہوئیں۔ ایک بھی شادی "ہوس" پورا کرنے کے لیے نہیں کی۔ جبکہ ہمارے ہاں ساٹھ سالہ بابے بھی بیس سالہ کنواری لڑکی کے خواب دیکھتے ہیں۔ کوئی ایک بھی بندہ دوسری شادی کسی عورت کی مدد کے لیے نہیں کرتا۔ (جو کرتے ہیں وہ قابل تحسین ہیں۔ پر بیگم سے رضامندی لے لیں) ۔ دوسری شادی کرنے والوں میں طلاق یافتہ یا بیوہ سے شادی کا رجحان بالکل نہیں یا بہت ہی کم ہے۔ اور اگر بچے ہیں تو سوچیے بھی مت۔ حالانکہ مقصد تو یہی نیکی ہونا چاہیے کہ عورت کو سہارا اور بچوں کو باپ مل جائے گا۔
پھر کسی غریب گھر کی قبول صورت لڑکی سے بھی کوئی شادی نہیں کرتا۔ جس کی شادی محض غربت یا صورت کی وجہ سے نہ ہو رہی ہو۔ عموما تو پہلی اور ٹھیک ٹھاک لائی لڑکی کےخاندان کو بھی باتیں ہی سننی پڑتی ہیں۔ اسی طرح کوئی کنواری لڑکی جس کی عمر نکل گئی ہو۔ اس سے بھی کوئی نہیں کرتا۔ سب کی نظریں نوجوان ، خوبصورت, کنواری اور امیر بھی ہو تو کیا ہی کہنا والی لڑکی پر ہیں۔ حالانکہ اس اس نازنین کو تو پہلی شادی کے لیے بھی بہت مل جائیں گے۔ آپ کو مذہب کی خدمت میں پیش ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں۔
بہت سے لوگ نیکی کرنے آتے ہیں کہ جی ہم افورڈ کر سکتے ہیں. افورڈ سے مطلب؟ اخلاقی طور پر افورڈ کا مطلب چارجوڑے کپڑے یا مہینے کا راشن نہیں۔ بلکہ اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو پہلی کو اپ گریڈ کریں۔ اسے پانچ کی جگہ دس ہزار کا جوڑا دلائیں۔ اسے اپنی نعمتوں میں سے "شرعی مہر" کی بجائے برابر کا حصہ دار بنائیں۔ پھر دیکھیں آپ کتنا افورڈ کر سکتے ہیں۔ اور کر بھی سکتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ فرض ہے۔ پھر وہی بات کہ اپنے شوق کو جسٹیفائی کرنے کے لیے مینز پیدا کرنا۔
پھر بات کرتے ہیں انصاف کی۔ اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے۔ "اور تم نہیں کر سکو گے". تو جب شرط ہی انصاف ہے اور ایک ساتھ دو میں نہیں ہو سکتا۔ تو اسکا مطلب کہ دوسری بیگم آ تو سکتی ہے مگر پہلی بیگم کی موجودگی میں نہیں۔ پہلی کی وفات ہو جائے یا پھر وہ طلاق لے لے۔ اور اب آپ ویلے ہیں تو پھر سمجھ آتی ہے۔ دو ایک ساتھ صرف آپ کی شوقین مزاجی ہے۔ اس میں مذہب کو کیوں بدنام کر رہے ہیں۔ (ہمارے نبی نے جو ایک ساتھ بیگمات رکھی ہیں۔ وہ آپ نہ سوچ سکتے ہیں نہ کر سکتے ہیں۔ نہ آپکی اوقات ہے۔ لہذا اسکی مثال دینا ہی ٹھیک نہیں).
اب باری آتی ہے ہمارے عماد وسیم، عامر لیاقت اور شعیب ملک جیسے ناک کٹانے والے مرد حضرات کی۔ انہوں نے اسلامی مرد کا امیج بری طرح سے "ویمنائزر" کا کر دیا ہے۔ جب آپ کے پاس گلوبل پلیٹ فارمز اور عالمی شہرت ہو تو آپ کا ہر قدم بالکل نقش چھوڑتا ہے۔ اسلامی مرد عورتوں کو سہارا دینے والے ہوتے ہیں۔ پہلی اچھی خاصی بیوی کوبے سہارا چھوڑنے والے نہیں۔ جس مذہب نے دوسری شادی کی اجازت دی ہے۔ اس نے سختی سےپہلی کے ہوتے ہوئے کسی دوسری سے عشق کی پینگیں بڑھانے سے بھی منع کیا ہے۔ جس مرد کو دوسری نظر اٹھانے کی بھی اجازت نہیں وہ ایک بیوی کے ہوتے ہوئے کسی دوسری سے ایسا ایموشنل تعلق رکھ ہی کیسے سکتا ہے۔ یہ ایموشنل زنا ہے۔ اور یہی حرام تعلق جب توڑنا ناممکن ہو جائے تو منافق مرد فورا دنیا کو راضی کرنے کے لیے مذہب کا ٹیگ لگا دیتے ہیں۔
اس بات کو مرد حضرات کے لیے ہضم کرنا مشکل ہے۔ مگر اگر آپ ایک ساتھ دو عورتوں کے عشق میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ ان کے بستر تک پہنچ سکتے ہیں تو یہ آپ کا ذاتی شوق ہے۔ مذہب کو عالمی پلیٹ فارمز پر نہ بدنام کریں۔ ہاں ہمارے نبی کی بیگم حضرت عائشہ کم عمر تھیں۔ مگر وہ انکے پیارے دوست کی بیٹی تھیں ۔اوردوست نے خوشی سے آگے بڑھ کر رشتہ دیا تھا۔ آپ کا دوست جو آپ کی سوچ جانتا ہے۔ آپ کو بیٹی دے گا؟ یا آپ اپنی بیٹی اپنے دوست کو دیں گے؟
تو قصہ مختصر یہ کہ دوسری شادی کا "شوق" الگ بات اور "ضرورت" الگ بات ہے۔ پہلی بیوی کے موجود ہوتے ہوئے اسکی کوئی "ضرورت" نہیں ہے۔ مگر ہاں شوق کا تو کوئی مول نہیں۔ دوسری کرنے والے کب تیسری کے ساتھ نہیں پکڑائے گے۔ مذہب کو لانے کی ضرورت نہیں ہے ورنہ گھر سے اللہ کو خوش کرنے کے لیے ہی نکلتے عشق معشوقیوں کے لیے نہیں۔
ان سب باتوں میں، میں نے مرد حضرات کا ذکر کیا ہے۔ عورت کیسے عورت کا گھر اجاڑتی ہے یہ ایک الگ ٹاپک ہے۔ اس پر پھر کبھی سہی۔
