الحکم للہ۔۔۔ شہزاد حسین

دین اسلام کا سب سے بنیادی اور اہم ترین مقصد نہ نماز تھی، نہ روزہ، نہ حج، نہ عمرہ، نہ صدقہ، نہ خیرات ہے

دین کا سب سے بنیادی مقصد، اس دنیا میں حاکمیت اعلیٰ قائم کرنا ہے، یعنی اللہ کا حکم نافذ کرنا

یہ بات تو ہم میں سے اکثر جانتے ہیں لیکن اس کی عملی شکل کیا ہے، اس کا کم ہی لوگوں کو ادراک ہے۔ افسوسناک امر یہ کہ مذہبی عناصر نے بھی اس حوالے سے (شاید جانتے بوجھتے) خاموشی اختیار کر رکھی ہے

اس کا مطلب ہے کہ دنیا میں، کوئی (طاقتور) انسان، کسی دوسرے (کمزور) انسان کا حق نہ مار سکے۔ 

ہر معاملے میں، چند (طاقتور) انسانوں کی بجائے، اللہ کا حکم نافذ کیا جائے

کسی دوسرے انسان کے ساتھ زیادتی نہ ہو

حکمران یا ریاستیں محض مینیجر ہوں، آقا نہیں 

طاقتور اور کمزور، دونوں ایک دوسرے پر چیک اینڈ بیلنس رکھ سکیں، ایک دوسرے سے سوال پوچھ سکیں۔ اللہ کا حکم، ان دونوں کے درمیان فیصلہ کن امر ہو اور عدل و انصاف کو یقینی بنایا جاسکے

اگر دنیا میں حاکمیت اعلیٰ قائم نہیں کی جاسکی، تو چند مٹھی بھر انسان، اربوں انسانوں پر اپنا کنٹرول قائم کرلیں گے، ان کی زندگیوں کا فیصلہ کیا کریں گے

دنیا میں اب یہی کچھ ہورہا ہے۔ مظلوم تباہ و برباد ہوگئے جب کہ کمینوں کو عروج اور اختیار حاصل ہے۔ 

جب تم اللہ کی حاکمیت قائم نہیں کرو گے تو اس خالی جگہ کو شیطان صفت لوگ بھردیں گے اور تمھیں اور تمھاری آل اولاد کو لازمی اپنا غلام بنا لیں گے۔ تمھاری زندگی کے بارے اہم فیصلے کریں گے اور تم کچھ نہیں کرسکو گے

اسی لیے دین اسلام کا بنیادی مقصد حاکمیت اعلیٰ قائم کرنا تھا بصورت دیگر دنیا میں شیطانیت کا حکم چلے گا، کسی کی ہوس تمھارے بارے میں فیصلے کرنے لگے گی

اسلام اپنی بنیاد میں اجتماعیت کی بات کرتا ہے۔ اجتماعیت سے یہاں مراد اجتماعی عبادتیں نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داریاں ہیں

وہ ہم مسلمان مکمل طور پر بھول چکے۔ دین کو عبادات تک محدود کردیا گیا ہے کیونکہ اس میں آسانی ہے۔ اللہ نے ہم مسلمانوں سے صرف نمازیں پڑھوانی ہوتیں، حج اور عمرے کروانے ہوتے تو ہمیں دنیا میں ہی کیوں بھیجا جاتا؟ پھر تو جنت بھلی تھی۔ 

دنیا میں بھیجے جانے کا بنیادی مقصد ہی حاکمیت اعلیٰ کے لیے کھڑا ہونا تھا۔ حاکمیت اعلیٰ قائم کرنے کا مطلب ہے کہ انسانوں کے تسلط سے انکار کرنا یعنی دنیا میں عدل و انصاف قائم کرنا، حق کے لیے آواز بلند کرنا، مظلوم کی آواز بننا اور باطل کے سامنے کھڑے ہونا

دین کا آج یہ حال ہوچکا کہ مکے میں عمرے کے لیے ریکارڈ رش ہے پر تھوڑا ہی دور فلسطین میں مسلمان درجنوں کے حساب سے مسلسل قتل کیے جارہے ہیں۔ مکے میں موجود رش اس ظلم پر چوں تک نہیں کرتا

کیا ایسے دین کے لیے ہمیں دنیا میں بھیجا گیا تھا؟

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں یہ ممکن تھا کہ کسی علاقے میں مسلمان مرد، عورتیں، بزرگ اور بچے بلادریغ قتل کیے جارہے ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے ساتھی، عین اسی وقت عمرہ کرنے میں مشغول ہوں؟

کہاں گیا یہ حقیقی دین؟
کہیں نظر آتا ہے؟

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !