وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَي الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ
ثِمَالُ الْيَتَامَي عِصْمَةٌ لِلأَرَامِلِ
" وہ سفید فام شخصیت ( حضور نبی اکرم ﷺ) جن کے چہرے کے وسیلے سے بارش مانگی جاتی ہے، یتیموں کے والی، بیواؤں کے سہارا ہیں۔‘‘
جنگی تدبیر سے مراد ایسی منصوبہ سازی اور لائحہ عمل ہے جو دشمن پر غلبہ حاصل کرنے، کامیابی کو یقینی بنانے اور ناکامی کے تمام امکانات کو ختم کرنے کے لیے اقتصادی، ذہنی اور عسکری پہلوؤں کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا جائے اور جو خوف و سکون، دونوں حالات میں کارآمد ثابت ہو۔حضور نبی اکرم ﷺ رحمۃ للعالمین ہونے کے ساتھ ساتھ حکمت کے بھی بہترین سر چشمہ تھے۔ہر جنگ میں حضور نبی اکرم ﷺ کی جنگی حکمت عملی بہترین اور اپنی مثال آپ ہوتی تھی ۔حضرت محمد ﷺ کی فتح کا راز شخصی شجاعت ، بے مثال اعصابی قوت اور حربی مہارت تھی ۔ حضور ﷺ ہر جنگ میں انتہائی منصوبہ بندی ، حکمت عملی اور بہترین حربی صلاحیتوں سے دشمنوں کا مقابلہ کرتے تھے ۔حضور نبی اکرم ﷺ کا مقصد جنگ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور دین اسلام کی ترویج و اشاعت کرنا تھا۔ انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو تاریخ جنگوں اور معرکوں سے بھری پڑی ہے لیکن حضور نبی کریم ﷺ کی جنگی حکمت عملی کی مثال کہیں نہیں ملتی ۔
حضرت محمد ﷺ نے جہاں امن ، محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیا ہے وہیں ناگزیر حالات میں جنگ کا سامنا کرتا پڑتا تو ایسی حکمت عملی اپنائی جو عدل ، رحمت اور انسانی اقدار کا حسین امتزاج تھی جو آج بھی فوجی قیادت کے لئے مشعل راہ ہے ۔
اس حضور نبی اکرم ﷺ کی جنگی حکمت عملی کے نمایاں پہلو درج ذیل ہیں ۔
• منصوبہ بندی اور مکمل تیاری
حضور نبی کریم ﷺ ہمیشہ مکمل تیاری اور منصوبہ بندی کے ساتھ میدان جنگ میں قدم رکھتے تھے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کے عہد میں جتنی بھی معرکہ آرائیاں ہوئی ان میں شرکت کرنے سے پہلے اپنے محدود وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے انتظامات کرتے تھے کہ قلت کے باوجود کثرت پر فتح حاصل کی ۔جنگ بدر میں پانی کے قریب پڑاو ڈالنا ، جنگ احد میں
پہاڑی درے پر تیر اندازوں کو مقرر کرنا اور غزوہ خندق میں خندق کا کھودنا آپ ﷺ کی غیر معمولی بصیرت کی دلیل ہے۔
• صحابہ کرام سے مشاورت
یوں تو حضرت محمد ﷺ کی سیرت طیبہ میں اوپر سے نیچے تک ہر جگہ مشاورت کا نظام نظر آتا ہے لیکن معرکہ آرائیوں کے وقت خاص طور پر باہمی صلح و مشورہ سے جنگی حکمت عملی وضع کرتے اور ٹھوس منصوبہ بندی کرنے کے بعد اس پر سختی سے عمل کرتے ۔ اس سے نہ صرف نظم و ضبط قائم رہتا بلکہ ساتھیوں میں اعتماد بھی پیدا ہوتا اور اس خود اعتمادی کی وجہ سے فتح حاصل ہوتی تھی۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے ۔
وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ
اور کام میں ان سے مشورہ کرو
آل عمران:159
غزوہ بدر کے قیدیوں کو صدیق اکبر کے مشورہ سے فدیہ لے کر رہا کر دیا گیا ۔ غزوہ احزاب کے موقع پر حضرت سلیمان فارسی کے مشورہ سے مدینہ کے ارد گرد خندق کھودی گئی جس کی وجہ سے اس کا نام غزوہ خندق پڑ گیا ۔
• ناکہ بندی
جنگ کے دوران دشمنوں کی تجارتی شاہراہوں پر نظر رکھنا اور ان کی سپلائی لائن کاٹ کر ان کی جنگی صلاحیتوں کو مفلوج کرنا عصر حاضر میں بھی بہترین جنگی حکمت عملی سمجھی جاتی ہے ۔ حضور نبی اکرم ﷺ بھی جنگ کے دوران دشمن کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھا کرتے تھے تاکہ دشمنوں کے ارادوں سے باخبر رہیں اور ان کے مطابق منصوبہ بندی کر کے دشمن کے حملوں سے اپنا دفاع کر سکیں۔حضور نبی اکرم ﷺ کی جنگی حکمت عملی میں ایک حکمت تجارتی راستوں کی ناکہ بندی ہے۔تجارتی راستوں کی ناکہ بندی کرنے سے دشمنوں کو احساس ہو جاتا کہ اگر وہ حملہ کریں گے تو تجارتی راستے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جائیں گے ۔
• افواج کی ترتیب
حضور نبی اکرم ﷺ کی جنگی حکمت عملی میں ایک حکمت افواج کی ترتیب ہے۔ آپ ﷺ جب جنگ کے لئے روانہ ہوتے تو افواج کو تین حصوں میں تقسیم کر لیتے ۔پہلا حصہ جس کو مقدمتہ الجیش کہتے ہیں اس کے پیچھے ایک بڑا لشکر ہوتا اور آخر میں موخر دستہ ہوتا۔ سفر کے دوران تینوں دستوں کا مواصلاتی رابطہ ہوتا تھا اور دشمنوں کی نقل و حرکت ، منصوبہ بندی ، پڑاؤ کی جگہ اور محل وقوع کے بارے میں جہاں تک ممکن ہوتا معلومات اکٹھی کی جاتی تھیں اور ان معلومات کے مطابق ہی اپنی جنگی حکمت عملی ترتیب دیا کرتے تھے ۔
• نظام رازداری اور جاسوسی
حضور نبی اکرم ﷺ جنگی مہمات میں اپنے منصوبوں کی رازداری ، دشمنوں کی سرگرمیوں اور حکمت عملیوں کو صیغہ راز میں رکھتے تھے اور صحابہ کرام کو بھی ہدایت کرتے تھے کہ ہر مرحلے میں مکمل رازداری سے کام لیں ۔تمام غزوات میں سوائے غزوہ تبوک کے ہر مہم میں صحابہ کرام کو منزل کا پتہ نہیں ہوتا تھا ۔خبر رسانی کے لئے آپ ﷺ نے خفیہ لکھائی کا طریقہ ایجاد کیا ۔جنگ کے دوران دشمن اور دوست کی پہچان کے لئے غزوہ بدر میں " احد ، احد" اور غزوہ احد میں " امت ، امت " کے الفاظ کوڈ کے طور پر استعمال کئے ۔
• ساز و سامان کی فراہمی
جنگ کے دوران ہتھیاروں کی فراہمی اور خوردنوش کے سامان کی فراہمی کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے ۔ہر مخالف فریق کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ دشمن کی سپلائی لائن کو کاٹ دے اور ان کے حوصلے پست ہو جائیں دشمن ہتھیار ڈال دیں ۔حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنے محدود وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر ممکن حد تک سپلائی لائن میں رکاوٹ نہ پڑنے دی۔ اس صورتحال میں اگر کوئی کمی رہ بھی جاتی تو اسلام کے مجاہدین اپنے سادہ طرز عمل سے اس کو پورا کر لیتے وہ کھجور اور ستو کھا کر جہاد کے لئے نکل پڑتے اور جتنا ہو سکتا جنگ کے سازو سامان کے اخراجات بھی برداشت کر لیتے ۔
*• اخلاقی اصول کی پاسداری
حضور نبی اکرم ﷺ نے ہمیشہ اخلاقیات کو اہمیت دی ہے اور جنگ کے دوران بھی اخلاقی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے معذوروں ، بچوں ، عورتوں اور بزرگوں کو قتل کرنے کی ممانعت کی ہے۔حضور ﷺ نے دوران جنگ پھلدار درختوں کو کاٹنے سے منع کیا ہے ۔ قیدیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا جو لوگ تمہارے قیدی بن جائیں ان سے حسن سلوک کا معاملہ کرو ، ان کو کھانا کھلاؤ اور ان کے لباس کا خیال رکھو۔قرآن مجید میں بھی قیدیوں کے کھانا کھلانے کو بہترین عمل قرار دیا ہے ۔ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے جانثار ساتھیوں نے ان اصولوں اور طریقہ کار کو عملی جامہ پہنا کر غیر مسلم قوم کے ظالمانہ جنگی طریقوں کی تمام تر راہوں کو بند کر دیا ۔
• علاقہ جنگ سے واقفیت
جنگ کے علاقہ سے واقف ہونا بھی جنگی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے ۔ جگہ کی واقفیت بسا اوقات فتح کا سبب بنتی ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ جب نقل و حرکت کی ضرورت کو محسوس کرتے تو آپ ﷺ اکثر مہاجرین کو ساتھ لے جا کر غیر معروف راستوں سے منزل مقصود تک پہنچ جاتے تھے ۔ مہاجرین کو بھی ان علاقوں سے متعارف کروانا ضروری ہوتا تھا تاکہ پڑاؤ کے وقت جگہ اور پانی کی تلاش میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ غزوہ بواط میں ستر مہاجرین حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے ۔ اس سفر میں آپ ﷺ نے غیر معروف راستوں کو اختیار کیا ۔آپ ﷺ نے عبیدہ بن حارث کی سرکردگی میں ساٹھ مہاجرین کو ایک کشتی پر سریہ شوال میں بھیجا تھا تاکہ قریش کے حالات سے باخبر ہو سکیں ۔اس سفر کو سریہ رابغ کہتے ہیں ۔
• ملکی امن و استحکام
جنگی حکمت عملی میں سب سے اہم اور ضروری ریاست کا اندرونی امن و استحكام ہوتا ہے۔ کسی بھی ملک کی فوج اس وقت ہی دلجمعی سے لڑ سکتی ہے جب ریاست میں امن و امان قائم ہو اور کسی قسم کا کوئی انتشار نہ ہو ۔ ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے حضور نبی اکرم ﷺ نے مندرجہ ذیل اقدامات کیے تاکہ ملک میں امن و امان کو یقینی بنایا جائے ۔
1- رشتہ مواخات 2- پڑوسی قبائل سے معاہدات 3- حرم نبوی ﷺ کا تعین
عصر حاضر میں بھی کوئی ڈٹ کر مقابلہ اس وقت ہی کر سکتا ہے جب وہ اندرونی لحاظ سے مستحکم اور متحد قوم ہو۔
• اختتامیہ
حضور نبی اکرم ﷺ کا مقصد جنگ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور دین اسلام کی ترویج و اشاعت کرنا تھا۔ انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو تاریخ جنگوں اور معرکوں سے بھری پڑی ہے لیکن حضور نبی کریم ﷺ کی جنگی حکمت عملی کی مثال کہیں نہیں ملتی ۔حضرت محمد ﷺ نے جہاں امن ، محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیا ہے وہیں ناگزیر حالات میں جنگ کا سامنا کرتا پڑتا تو ایسی حکمت عملی اپنائی جو عدل ، رحمت اور انسانی اقدار کا حسین امتزاج تھی۔حضور نبی کریم ﷺ کی جنگی حکمتِ عملی دنیا کی سب سے اعلیٰ اور بے مثال حکمتِ عملی ہے۔یہ جنگی حکمت عملی صرف جنگ میں فتح حاصل کرنے کا طریقہ نہیں بلکہ انسانیت کو امن ، عدل اور بقا دینے کے ابھی نظام ہے۔عصر حاضر میں بھی ملکی امن و امان کے لئے یہ حکمت عملی بہترین نمونہ ہے ۔
