کہانی چل رہی ہے
باتیں کرنے کا کیا فائدہ۔ آتے ہیں کچھ باتوں کے شوقین۔ پوچھتے ہیں کیا کہانی ہے تمہاری ، کہاں سے آئی ہو ؟
پر وہ کم ہی ہوتے ہیں ۔ زیادہ تر تو ۔۔۔ ہاہاہاہا ۔۔۔
اب میں تمہیں کیا بتاؤں۔
ایک دن کی بات سنو ، بس اتنا کہا "کنڈی لگا دو" میں دروازہ لاک کر کے پلٹی تو توبہ۔۔۔۔ وہ الف ننگا کھڑا تھا۔ لو جی بس یہی تین لفظ بولے اس نے پوری ملاقات میں۔
کئی باتونی بھی آ جاتے ہیں۔ تمہاری طرح ۔ باتیں زیادہ ،کام کم، پر کام چھوڑتا کوئی نہیں۔ آج تک مجھے تو کوئی ایسا نہ ملا جو بس باتیں کرنے کے پیسے دے جائے۔۔۔
پھر کہانی؟ ارے کہانی کیا ہوتی ہے.
20 سال کی ہوں۔ چار سال سے آنٹی کے پاس ہوں۔ آنٹی مجھے کہتی ہے "میری چڑیا" میں کہتی ہوں "ہاں سونے کی چڑیا".
سبھی مجھے پسند کر کے لے جانا چاہتے ہیں۔ کسی کو آنٹی کہہ دیتی ہیں تم کل لے جانا، پیسے آج ہی جمع کرا دو۔ وہ کیا کہتے ہیں پلاٹ کی ایڈوانس بکنگ جاری ہے ہاہاہاہا۔
تھکتی نہیں ہوں میں۔ پتلی سی تو ہوں۔ میں نے کیا تھکنا ہے۔ تھکتے تو موٹے بندے ہیں۔ ہاں پہلے کبھی کبھار گردن کے پٹھوں میں درد ہو جاتا تھا یا ٹانگوں میں۔ اب وہ بھی نہیں ہوتا۔ عادت ہو گئی ہے نا اس لیے۔
کہانی؟ پھر وہی کہانی۔ کہانی کیا ہوتی ہے؟
ہم چار بہنیں اور باپ کو ایمانداری کا بخار ۔ پانچواں بھائی تھا وہ بڑے بخار سے مر گیا ۔پولیس مین کی تنخواہ ہی کتنی ہوتی ہے۔ اس سے زیادہ تو گول گپے والا کما لیتا ہے۔
ایمان داری کے مرض والا یہاں کئی گنا اذیت سہتا ہے۔ ابا کے ساتھ کے کانسٹیبل دو دو گاڑیوں کے مالک ہو گئے اور ابا کے پاس وہی پرانی سائیکل۔
آج میں سوچتی ہوں تو ابا کی اذیت سمجھ میں اتی ہے۔ ہم سب ابا سے ناراض رہتے تھے۔ بس اماں ابا کا ساتھ دیتیں ۔
ہم نے ابا کو پڑوسیوں کی خوشحالی کے طعنے دیے۔ اس کے ساتھی کانسٹیبلوں کی دولت کے طعنے دیے۔
کوئی تھوڑی اذیت تھی۔ عید، بقرعید، شادی، بیاہ ، بیماری تعلیم ۔۔۔۔ اذیت ہی اذیت۔
ہم چاروں بہنیں دھریکوں کی طرح بڑھ رہی تھیں۔ شاید اسی سوچ میں ابا ایک رات سویا اور سوتا ہی رہ گیا۔
کہانی تو یہاں ختم ہو جاتی ہے لیکن میری کہانی چل رہی ہے۔
کبھی کبھی گھر بھی جاتی ہوں۔۔۔۔۔ لیکن دل نہیں لگتا وہاں۔ اماں کو کپڑے سیتے سیتے دمہ ہو گیا۔ اب بڑی بہن سیتی ہے ۔ اسے بھی ہو جائے گا۔ بہنیں میرے نئے نئے کپڑوں اور زیورات کو بٹ بٹ تکتی ہیں تو میں گھبرا اٹھتی ہوں۔
کافی سارے پیسے اماں کے تکیے کے نیچے رکھ آتی ہوں۔ اماں نہ پیسے مانگتی ہے نہ دینے سے روکتی ہے۔
کہانی تو چل رہی ہے۔
اب تم بتاؤ باتیں ہی چلانی ہیں یا مگدر بھی چلانا ہے؟
شہزاد نیر
