زرد آسیب ۔۔۔۔۔ محمد گُل

ایک نامکمل خوراک کا مرثیہ 

اب تو شامیں زرد کفن میں لپٹی میرے گاؤں کی کچی سڑکوں پر اترتی ہیں۔ روز فضا میں انجانی سی پژمردگی گھلنے لگتی ہے۔ مغرب کی سمت پھیلے کھلیانوں پر سورج کی آخری روشنی ایسے ٹھہر جاتی ہے جیسے بجھتے ہوئے چراغ کی کوئی لرزتی ہوئی لو ہو۔ دور پہاڑیوں کی اوٹ سے ڈوبتا سورج آسمان پر ایک مدھم پیلا داغ چھوڑ جاتا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے کائنات کو بھی کوئی اندرونی یرقان لاحق ہو گیا ہو ۔۔۔
میں اس قبرستان کے منڈیر پر بیٹھا ہوں جہاں امی آسودہ خاک ہے۔ سامنے سوکھے کیکر کا درخت ہے جس کی پتلی شاخیں بےآواز لرز رہی ہیں۔ میرے گود میں ایک سفید ڈبیہ رکھی ہے۔ یہ ایک انجکشن کی ڈبیہ ہے۔ اس پر لکھے ہوئے حروف اب بھی اتنے ہی واضح ہیں جتنے اُس روز تھے جب میں اسے شہر کے میڈیکل اسٹور سے جلدی جلدی خرید لایا تھا۔ (2Sum سیفوپیرازون، سلبیکٹم) یہ دو کیمیائی نام ہیں۔ مگر میرے لیے یہ دو لفظ نہیں، دو دعائیں تھیں۔ ایک لگ چکی تھی اور دوسری کی نوبت نہ آئی ۔۔۔
میری امی ۔۔۔
جو میرے وجود کی پہلی معلمہ، پہلی پناہ، پہلی دعا تھی۔ ان کے جھریوں بھرے ہاتھوں میں ہمیشہ تسبیح کی نمی رہتی تھی اور آنکھوں میں کسی ازلی یقین کی روشنی بھری ہوتی تھی۔ جب بیماری نے ان کے جسم کو اپنی گرفت میں لینا شروع کیا تو گاؤں کی فضا میں بھی ایک غیرمرئی اضطراب پھیل گیا تھا۔ جیسے گھر کے صحن میں لگی پرانی گھڑی اچانک ٹھہر جائے اور وقت دیوار پر ہی منجمد ہو جائے ۔۔۔

ڈاکٹر نے کہا تھا، ایک خوراک ابھی لگا دیں، دوسری کل دیکھیں گے۔ کل ہی وہ لفظ ہے جس پر ہم اپنی اگلی ساری امیدیں رکھ دیتے ہیں۔ پہلی خوراک رگ میں اتری تو میں نے محسوس کیا تھا جیسے زندگی نے ایک بار پھر اپنے پر سمیٹے ہوں۔ امی کی سانسوں میں کچھ ٹھہراؤ آیا تھا۔ میں نے اس وقت آسمان کی طرف دیکھا تھا کہ شاید دعا قبول ہو گئی ہے۔ مگر تقدیر کے صحیفے میں جو لکھا جا چکا ہو اسے کون سی دوا مٹا سکتی ہے؟ دوسری ڈبیہ یونہی میرے ہاتھ میں رہ گئی ۔۔۔

گاؤں کی فضا میں تو اب بھی زندگی رواں ہے۔ سرشام کھیتوں سے کسان اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں۔ چرتے مویشیوں کو باڑوں کی طرف ہانکا جاتا ہے۔ گلی میں کھیلتے بچوں کو والدین گھروں کی طرف بلاتے ہیں۔ مسجدوں کے لاؤڈ اسپیکرز سے مغرب کی آذانیں بلند ہوتی ہیں اور گاؤں کی گلیوں میں پھیلی گرد میں ایک روحانی سی ارتعاش بھی دوڑ جاتی ہے۔ مگر میرے اندر ایک ایسا خلا آباد ہو چکا ہے جسے کوئی آذاں، کسی پرندے کی چہچہاہٹ یا کوئی روحانی بہار نہیں بھر سکتی ۔۔۔

چوپال پر بیٹھا سفید داڑھی والا بزرگ اپنی عصا کے سہارے ماضی کے قصے ابھی بھی دہرائے جا رہا ہے مگر اس کی آواز میں اب وہ طنطنہ نہیں رہا ہے۔ ندی کے کنارے پانی بھرنے گئی لڑکیوں کی ہنسی میں بھی ایک مدھم سا توقف در آیا ہے۔ گویا پورا گاؤں کسی انجانے سوگ میں شریک ہوچکا ہے۔ میری امی کا کمرہ اب بھی ویسا ہی ہے۔ دیوار کے کونے میں ٹنگا ہوا ان کا پرانا سا دوپٹہ، کپڑوں کے ٹرنک تلے خلا میں رکھی ان کی جوتی، سامنے بلند طاق پہ رکھا ہوا قرآن مجید اور طاق کے ساتھ ہی ٹنگا ہوا تسبیح بھی جس کے ہر رولتے دانے پر ہمارے لئے دعا کا لمس ہے۔ لیکن اب ان اشیاء میں حیات تو نہیں، فقط یاد کی زرد روشنی ہے ۔۔۔ 

میں سوچتا ہوں، ہم کیوں جئیے جاتے ہیں؟ کیوں ہر طلوعِ سحر کو نویدِ بقا سمجھ لیتے ہیں حالانکہ ہر شام اپنے دامن میں فنا کی مہر سمیٹے ہوتی ہے۔ وقت آخر کس سفاک پرندے کا نام ہے جو کسی کی آہٹ پر نہیں رکتا، کسی کی التجا پر نہیں جھکتا اور نہ کسی آنسو کی نمی سے اس کے پر بوجھل ہوتے ہیں؟ ہم تدبیر کے چراغ جلاتے ہیں، دعا کے در وا کرتے ہیں، امید کی فصلیں بوتے ہیں مگر وقت اپنی سرد پیشانی کے ساتھ ہمارے تمام انتظامات کے بیچ سے یوں گزر جاتا ہے جیسے ریت مٹھی کی گرفت سے پھسل جاتی ہے۔ انسان اپنی محبت کو دوام کا جامہ پہنانا چاہتا ہے، اپنی چاہت کو تقدیر کی پیشانی پر ثبت دیکھنا چاہتا ہے لیکن مشیت کا قلم کسی اور سیاہی سے لکھتا ہے۔ ہم اس فریب میں مبتلا رہتے ہیں کہ ارادہ، علاج، احتیاط یہ سب مل کر موت کے قدم روک سکتے ہیں حالانکہ موت تو محض ایک مقررہ ساعت کا نام ہے جو نہ ایک لمحہ آگے آتی ہے نہ پیچھے ہٹتی ہے ۔۔۔

اسی تذبذب کے بیچ جب میں اس انجکشن کی ڈبیہ کو دیکھتا ہوں تو وہ محض دوا نہیں رہتی وہ انسانی ارادے اور الٰہی فیصلے کے درمیان معلق ایک استعارہ بن جاتی ہے۔ یہ ایک نامکمل مکالمہ ہے۔ ایک سوال جو تقدیر سے کیا گیا تھا اور جس کا جواب خاموشی کی مہر میں لپٹا ہوا ملا۔ اس کے اندر بند پاؤڈر شاید اب بھی اپنی تاثیر پر قائم ہو، اپنی کیمیائی صداقت میں مکمل ہو مگر تاثیر کا ظہور بھی تو ظرف کا محتاج ہوتا ہے۔ جس جسم میں اسے اترنا تھا وہ اب مٹی کی آغوش میں آسودہ ہے اور مٹی کے لیے کسی انٹی بائیوٹک کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ ڈبیہ دراصل میرے یقین کی آزمائش تھی۔ یہ بتانے کے لیے کہ انسان دوا خرید سکتا ہے، دعا کر سکتا ہے مگر فیصلہ صادر کرنا اس کے اختیار میں نہیں۔ وقت کے بےرحم پرندے کے پر تلے ہماری تمام تدبیریں ایک لمحاتی سایہ ہیں اور یہی شعور شاید فلسفۂ حیات کا سب سے کڑا مگر سب سے سچا باب ہے ۔۔۔

دیہات کی راتیں گہری ہوتی ہیں۔ جب اندھیرا کھیتوں پر اترتا ہے تو آسمان بےپناہ وسعت کے ساتھ سر پر جھک آتا ہے۔ میں اکثر امی کی قبر کے پاس جا بیٹھتا ہوں۔ مٹی ابھی نئی ہے، اس کی نمی میں آنسوؤں کی آمیزش ہے۔ میں اس ڈبیے کو ہاتھ میں لیے دیر تک خاموش رہتا ہوں۔ محسوس کرتا ہوں کہ زندگی اور موت کے درمیان فاصلہ فقط ایک سانس کا ہے اور انسان اپنی ساری تدبیروں کے باوجود اس فاصلے کو ناپنے سے قاصر ہے ۔۔۔

گاؤں کے لوگ کہتے ہیں " اللہ کی مرضی تھی۔" ہاں، تھی۔ مگر دل کی تو اپنی منطق ہوتی ہے۔ وہ کئی ایک وجوہات نہیں مانتا، وہ کئی لاجکس کو بھی قبول نہیں کرتا۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ دوسری خوراک دراصل میرے لیے تھی۔ صبر کی خوراک، رضا کی خوراک۔ اس حقیقت کو قبول کرنے کی خوراک کہ ہر شفا مکمل نہیں ہوتی، ہر دعا ظاہری معنی میں قبول نہیں ہوتی۔ بعض اوقات معجزہ صحت میں نہیں، صبر میں پنہاں ہوتا ہے ۔۔۔

امی کی زندگی ایک مسلسل عبادت تھی۔ ہر لمحہ ان کے لیے ذکر، صبر اور تسلیم کی مشق تھا۔ ان کا چہرہ بیماری میں بھی ایک نورانی سکون سے منور رہتا تھا جیسے وقت کی تلخی اور دنیا کی بے قراری ان پر اثر نہیں کر سکتی۔ شاید وہ جانتی تھیں کہ واپسی کا وقت قریب ہے اور اسی لیے اس کی ہر سانس میں اطمینان تھا، ہر نظر میں رضا کا عزم تھا۔ میں ہی تھا جو اس ڈبیے میں زندگی تلاش کر رہا تھا، ہر پاؤڈر، ہر دوا کی پرت میں امید کے چراغ جلا رہا تھا جبکہ وہ اپنے رب کی بارگاہ میں سکون ڈھونڈ چکی تھیں، اپنے دل کی گہرائی میں تسلیم کی روشنی جمع کر چکی تھیں اور موت کے در پر لبیک کے لیے تیار تھی۔۔۔

زرد آسیب اب بھی ہر شام اترتا ہے۔ فضا میں مدھم اور بھاری چھا جاتا ہے۔ ہر شجر، ہر پتہ، ہر گھاس کے سر پر ایک خاموش لرزش چھوڑ جاتا ہے۔ مگر اب میں جان گیا ہوں کہ یہ صرف اداسی کا رنگ نہیں، یہ فنا کا اعلان بھی ہے اور بقا کی تمہید بھی ہے۔ ہر ڈھلتی روشنی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم مسافر ہیں۔ وقت کی کشتی پر بہتے ہوئے مسافر جن کے قدم ریت پر محض عارضی نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ ہر مسافر کو ایک دن لوٹ جانا ہے اور یہ لوٹنا صرف جسم کا نہیں، روح کا بھی ہے۔ جو اپنی منزل کی جانب خاموشی سے بڑھتی ہے۔ ہر لمحہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کی ہر روشنی، ہر سایہ، ہر سانس، سب عارضی ہیں۔ یہی زرد آسیب ہمیں بقا کے راز اور فنا کی تلخی دونوں سے روشناس کراتا ہے ۔۔۔

میں دیہات کا ایک معمولی باسی ہوں۔ میرے پاس نہ بڑے ہسپتالوں کی سہولت تھی، نہ مہنگی مشینوں کی رسائی تھی، نہ ڈاکٹروں کی معموریاں اور نہ جدید آلات کی حفاظت میسر تھی۔ میرے پاس فقط دعا تھی، ایسی خاموش التجائیں جو رات کے سناٹے میں آنکھوں سے نکل کر فضا میں گھل جاتی تھیں۔ یہ اور اس جیسے انجکشن کی ڈبیاں اور کچھ دوائیوں کے شیشے جو میرے اختیار میں تھے۔ کئی ایک استعمال ہو گئیں ایک یہ بچی رہ گئی۔ شاید زندگی کا اصل مفہوم اسی عدم تکمیل میں پوشیدہ ہے۔ ہم مکمل تدبیر کے باوجود نامکمل رہتے ہیں، ہم مکمل محبت کے باوجود جدا ہو جاتے ہیں، ہم پوری امید کے باوجود فنا کو پا لیتے ہیں۔ اور پھر یہ بھی جان لیتے ہیں کہ ہر کوشش، ہر دعا، ہر دوا کسی حد تک صرف ہمارے دل کا سکون، ہمارے ایمان کی طاقت اور ہمارے صبر کی آزمائش ہوتی ہے۔ زندگی کا اصل راز شاید یہی ہے کہ ہم کبھی مکمل نہیں ہوتے اور اسی نامکمل ہونے میں ہی انسانیت کی حقیقت، روح کی گہرائی اور تقدیر کی پیچیدگیاں پوشیدہ ہیں ۔۔۔

میں نے اس ڈبیے کو کسی سٹور کے حوالے نہ کیا، نہ کسی الماری کی اندھیر کھڑکی میں چھپایا۔ یہ میرے لیے ایک یادگار ہے، ایک خاموش شہادت ہے اس لمحے کی جب میں نے زندگی کو بچانے کی آخری کوشش کی تھی۔ جب دل کے تمام چراغ جلا کر امید کے اندھیروں میں ہاتھ پھیلائے تھے۔ یہ میرے عجز کی علامت ہے، میری انسانی حدود کی وضاحت بھی ہے اور یہ رب کی مشیت کی گواہی بھی ہے جو ہر وقت ہمارے اوپر سایہ فگن ہے۔ جس نے ہمیں نہ دکھایا نہ سہارا دیا لیکن ہمیں وہ سبق ضرور دیا جس کی شدت اور تلخی میں زندگی کی گہرائی چھپی ہوئی ہے۔ ہر بار جب میں اس ڈبیے کو دیکھتا ہوں تو ایک خاموش درد اور شکر کے احساسات میرے دل کو جکڑ لیتے ہیں اور مجھے یاد دلاتے ہیں کہ انسان کی کوششیں اور دعا، عجز اور رضا کے درمیان ہمیشہ معلق رہتی ہیں۔ یہی تعلق انسان اور رب کا سب سے خالص، سب سے مکمل اور سب سے حقیقی رشتہ ہے ۔۔۔

رات گہری ہو رہی ہے۔ آسمان پر ستارے ایک ایک کر کے روشن ہو رہے ہیں۔ دور ستاروں کا ہر نقطہ خاموش دعا لگ رہا ہے۔ میں امی کی قبر پر فاتحہ پڑھ کر اٹھتا ہوں۔ ہوا میں لطیف خنکی ہے گویا دور کہیں بھیجی گئی دعا نے راہ پا کر مجھے چھوا ہو۔ زرد آسیب اپنی حدیں سمیٹ رہا ہے مگر میرے اندر جو مرثیہ لکھا جا چکا ہے، وہ اب عمر بھر ساتھ رہے گا۔ یہ مرثیہ ایک نامکمل خوراک کی مانند ہے جو رگ میں نہ اتر سکی مگر روح میں ہمیشہ کے لیے جذب ہو گئی۔ یہ یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی اصل شفا تسلیم، صبر اور رب کی قربت میں ہے۔ انسانی کوششیں، دعا، امید اور انتظار، سب عارضی ہیں۔ عدم تکمیل ہی ہمیں انسان اور رب کے قریب کرتی ہے ۔۔۔

امی کی زندگی، ان کا سکون اور یہ نامکمل خوراک بتاتے ہیں کہ ہر لمحہ فنا اور بقا کے راز سنبھالے ہوئے ہے۔ یہی خاموش ابدی روشنی زرد آسیب کے نیچے بھی دل کو تھامے رکھتی ہے اور یاد دلاتی ہے کہ زندگی محبت، صبر اور یاد کے ذریعے ہمیشہ قائم رہتی ہے اور روح کی سرحدوں میں ابدیت کے ساتھ گھلتی رہتی ہے۔ میں اپنے عجز، اپنے عشق اور اپنی بےتابی کے ساتھ اس روشنی کے سائے میں ہمیشہ زندہ رہوں گا، ہر سانس میں اس کا عکس محسوس کروں گا اور ہر لمحے اس کی شدت سے اپنی روح کو روشن رکھوں گا ۔۔۔ !

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !