رمضان المبارک کی وجہ سے یونیورسٹی میں طالبات کا ہجوم معمول سے کم تھا۔ وہ اپنا بیگ سنبھالے واپسی کے لیے ڈرائیور کی منتظر تھی۔ سامنے اسپورٹس گراؤنڈ میں سورج کی کرنیں چمک رہی تھیں۔ ٹولیوں کی صورت میں لڑکیاں گراؤنڈ کے اردگرد بیٹھی تھیں۔ روزے کے باعث حلق سوکھ چکا تھا اور زبان اس قدر خشک تھی کہ اسے منہ میں رکھنا محال ہو رہا تھا۔
یکایک اس کی نظر گراؤنڈ میں ایک بچی پر ٹھہر گئی۔ اس کی عمر تقریباً آٹھ سال تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک فٹ بال تھی جسے وہ بڑی مہارت سے کورٹ کی طرف اچھال رہی تھی۔
بچی کی عمر، قد اور فٹ بال پر اس کی گرفت نے اس لڑکی کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔ اس کی پکڑ اور انداز اس کی عمر سے کہیں زیادہ مضبوط اور پُراعتماد تھا۔ وہ دور سے گیند کو ہولے ہولے قابو میں لاتی اور پھر پوری قوت سے کورٹ کی طرف اچھال دیتی۔ ہر دفعہ فٹ بال کورٹ کے پیندے سے ٹکرا کر واپس لوٹ آتی، جیسے کامیابی ابھی اس کے لیے ذرا فاصلے پر کھڑی ہو۔
لڑکی کا اشتیاق بڑھنے لگا۔ وہ بچی متعدد بار کوشش کر چکی تھی۔ اس کی پیشانی پر نمکین پسینہ ابھر آیا تھا، سانسیں قدرے تیز ہو گئی تھیں، لیکن اس کے عزم کی شدت میں کسی طور کمی نہیں آ رہی تھی۔ ہر نئی کوشش میں وہ نئے انداز سے گیند کو اچھالتی۔ بارہا ناکامی کی ایک وجہ اس بچی کا قد تھا جو کورٹ سے چھوٹا تھا، مگر شاید اس کی ہمت اس کمی کو پورا کر رہی تھی۔
بالآخر وہ بچی کورٹ سے کئی قدم دور ہوئی اور تیزی سے گیند کو سنبھالتے ہوئے قریب آئی۔ چند لمحوں کا توقف کیا، جیسے خود کو یقین دلا رہی ہو، پھر اپنے قد سے ایک گنا اونچا کود کر گیند اچھال دی۔ پلک جھپکتے ہی گیند کورٹ سے گزر کر گراؤنڈ کے فرش پر اچھلنے لگی۔ اب اس بچی کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ مسرت اس کے چہرے سے عیاں تھی اور وہ تالیاں بجاتے ہوئے اچھل رہی تھی۔ اردگرد بیٹھی لڑکیاں حیرت سے اس کی جانب دیکھ رہی تھیں۔
لڑکی نے مسکراتے ہوئے اس بچی کی طرف دیکھا جو اس سے بالکل بے نیاز تھی۔ گاڑی کا ہارن سنائی دیا تو وہ چونک کر دوسری جانب متوجہ ہوئی۔ اس نے اپنا بیگ سنبھالا اور گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔
اس کا نام دعا تھا۔ وہ یونیورسٹی کی طالبہ تھی۔ اردو ادب اس کا جنونِ اوّل تھا، مگر اس کی تحریروں کے رد ہونے کا سلسلہ اسے اندر ہی اندر توڑنے لگا تھا۔ کبھی کبھار وہ سوچتی کہ شاید اس کی تحریر میں وہ بات نہیں جو شائع ہو سکے، مگر دل کا ایک گوشہ اب بھی قلم تھامے ہوئے تھا۔
مسلسل حوصلہ شکنی کے باوجود، اس بچی کے عزم کو محسوس کرنے کے بعد دعا نے یہ عہد کر لیا تھا کہ وہ اپنے آخری لمحے تک کوشش جاری رکھے گی اور کامیابی کو اپنا مقدر بنا کر رہے گی۔
اس نے اپنے بیگ سے قلم اور ڈائری نکال لی، کیونکہ اسے ابھی بہت محنت کرنا تھی۔ منزل ابھی دور تھی، مگر اسے راستے کا نشان مل چکا تھا۔
