ضمیر اور نفس کی جنگ۔۔ آسیہ عمران

ضمیراورنفس کی جنگ

 اسے اپنی استانی پر بہت غصہ آیا تھا۔کہ انھیں زرہ بھی احساس نہیں کہ میں کس ذہنی اذیت سے گزر رہی ہوں۔جنھوں نے مجھ پر ظلم کیا ہے۔ زیادتی کی ہے۔ میری عزت کو اچھالا ہے۔ان کے ساتھ احسان کا کہہ رہی ہیں۔اور فرماتی ہیں انھیں تحفہ بھیجو۔  تحفہ بھی کوئی عام نہیں بلکہ درود شریف کی صورت تحفہ، درود پڑھتی جاؤ اور ثواب اسے بھیجتی جاؤ۔ایسی صورت میں بد دعائیں نکلنا تو فطری ہے۔یہ قطعی نہیں ہو سکتا۔اس نے صاف کہا تھا۔جواباً معلمہ ٹھہرے لہجے میں کہنے لگیں۔پھر تم خود کو دھوکا مت دو۔ایک طرف کہتی ہو معاملہ اللہ کو سونپا مگر عملاً اپنے نفس کی مان رہی ہو۔وہ بے چینی اوربرداشت کی انتہا پر تھی رونے لگی۔ استانی صاحبہ نے اسے رونے دیا۔

بوجھ کچھ ہلکا ہوا تو نگاہیں جھکائے پوچھنے لگی۔ بتائیں کیا کروں؟

            سب اللہ کو سونپ چکی ہوں۔ مطمئن بھی ہو جاتی ہوں۔ کچھ دن کبھی کچھ لمحے بھی نہیں گزرتے کہ جی میں آتا ہے اسے خوب کوسنے دوں، بد دعائیں دوں، ان کے لئے عذاب مانگوں۔ رب سے کہوں انھیں نشان عبرت بنا دے۔ پھر دوسری آواز بھی اندر سے آتی ہے۔ اس  سے مجھے کیا حاصل ہوگا؟ جب معاملہ اللہ کو سونپ ہی چکی ہوں تو یہ سب کہنا بنتا نہیں ہے۔ بتائیں یہ کیفیت کیوں ہے؟ کیا ہے یہ سب؟بار بار کیوں ایسے خیالات آتے ہیں؟ میں تنگ آ گئی ہوں۔ ان خیالات سے ڈرنے لگی ہوں کہ کہیں کیا کرایا سب غارت نہ چلا جا?ئے۔

            معلمہ زیر لب مسکرا ئیں کہنے لگیں۔سورہ الناس کی تفسیر کے دوران تمھیں سمجھ نہیں آتا تھا کہ یہ وسوسہ کیا ہوتا ہےاور شیطان کیسے ڈالتا ہے تو اب سمجھ لو یہی وسوسہ ہے۔ یہی شیطان کی اکساہٹیں ہیں۔ حل ایک ہی ہے۔ اللہ سے مدد مانگو اور شیطان سے پناہ۔  ٹھان لو اس کشمش میں جیت ضمیر ہی کی ہونی ہے۔ امتحان کٹھن ضرور ہےمگر اللہ پر بھروسہ اوراس کی معاونت سہل کر سکتی ہے۔ یاد رکھو ہر تنگی کے ساتھ ہی آسانی ہے بالکل ساتھ۔ یہ وقت بھی گزشتہ کی طرح بہت تیزی سیگزر جانے والا ہے۔ یہ بھی یاد رکھو یہ ایک مستقل اور ابدی  جنگ ہے۔ضمیر اور نفس کے درمیان اس جنگ میں کامیابی جنت کی ضمانت ہے۔ یقیناً  جنت جیسے اعلیٰ ارفع مقام کا حصول آسان تو نہیں ہے۔انھوں نے  نبض پکڑی تھی۔ اس نے اثبات میں سر ہلایااورآنسو پونچھ ڈالے۔جیتی رہو بیٹی .ایک اور بات سنو معاملے کو بہتر کرنے کی کوشش مت چھوڑنا کہ یہ حتی المقدور لازم ہے۔ اجتماعیت کو لازم پکڑو۔ یاد رکھو آپ اکیلے برائی کو روک نہیں پاتے تو ساتھیوں کی معاونت لازم کی گئی۔ وہ مدد کریں ہمت بندہائیں برائی روکنے میں ساتھ دیں۔معلمہ نے نرمی سے سمجھایا۔اگر پھر بھی معاملات درست نہ ہوں تو سمجھ لو تلافی کسی اور مقام پر ہوگی۔ بس تذکیر کا بندوبست کیے رکھو۔  نماز ہے ہی تذکیر کے لیے کہ ہم نے پہلے بھی بھول کی تھی۔  شیطان کی بات سنی، اس کی طرف توجہ دی، تو غلطی ہوگئی اور ہم دور کر دیے گئے، قربت الٰہی نہ رہی۔ اسی لئے ہم اپنے مقصود قربت الہی کے شعور کے لیے  دن میں 32 مرتبہ سورہ فاتحہ دھراتے ہیں اھدنا الصراط المستقیم۔ اب وہ شیطان سے جنگ کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ اسے سمجھ آ گئی تھی کہ معاملہ رب کریم کو سونپ دینے کے بعد نفس کی مداخلت کی کوئی راہ نہیں۔

٭٭٭٭٭٭

 

شاہکار

 

            ایک بچہ روزانہ کمہار کی بھٹی پر آیا کرتا۔اور اسے محبت سے برتن بناتے دیکھتا۔ایک دن کمہار نے سوال کیا بیٹا روزانہ برتن بناتے دیکھتے ہو۔معاملہ کیا ہے؟ برتن بنانے کے عمل میں ایسا کیا ہے جو تمھیں محو ہو کر دیکھنے پر مجبور کر تا ہے۔بچہ بولا  میرے کچھ سوال ہیں جو مجھے تنگ کرتے ہیںاور انھی کے جواب کی جستجو میں یہاں چلا آتا ہوں۔ کمہار نے اشتیاق سے پوچھا کیا ہیں وہ سوالات؟ بچہ بولا میں سوچتا ہوں یہ برتن بننے سے پہلے کہاں ہوتا ہے؟ کمہار نے کہا میرے تصور میں۔بچے کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا بولا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں بھی تخلیق سے پہلے اپنے خالق کے تصور میں موجود تھا۔ بچہ دوسرے سوال کی طرف آتا ہے پوچھتا ہے۔آپ اتنے پیارے برتن بناتے ہیں۔ایسا کیا ڈالتے ہیں اس میں جو اس میں خوبصورتی لاتا ہے۔ کمہار کا جواب تھا محبت اور توجہ سے بناتا ہوں۔ بچہ محبت بھرے لہجے میں پکار اٹھتا ہے میں سمجھ گیا میرے خالق نے بھی مجھے تخلیق کرتے ہوئے بڑی محبت اور توجہ سے بنایا ہوگا۔ بچے کا تیسرا سوال حیران کر دینے والا تھا۔ یہ برتن بناتے کوئی خواہش ہے جو شدت سے آپ کے دل میں ابھرتی ہے۔ کمہار کا جواب تھا سوچتا ہوں کوئی ایسا برتن بناؤں کہ پھر ایسا کبھی نہ بنا پاؤں جو شاہکارہو۔بچہ خوشی سے جھوم اٹھا۔بولا میرا مالک بھی ایک ایسا انسان تخلیق کرے گا کہ اس کی مثل کوئی نہ ہوگا۔یہ بچہ سقراط تھا۔

            رب کریم نے اس کے صدیوں بعد ایک ایسی شخصیت کو بھیجا جس جیسا کوئی نہ تھا، نہ ہے، نہ ہوگا۔اس شخصیت کا کمال یہ تھا کہ اس کے مرتبے کا نہ کوئی ثانی تھا نہ جاہ وجلال و جمال کا،اس کا ہر انداز ہی باکمال تھا۔اس کے ساتھیوں جیسے ساتھی کائنات نے پھرکبھی نہ دیکھے۔ اس کا رحم وکرم، جود وسخی بے مثال تھا۔ علم و حکمت کے موتیوں سے لبریز اس کا حرف حرف  دنیا کو کمالات کے راز سے آشنائی دینے والا تھا۔اس کی  سیرت میں ایسے جوہر تھے جن کی جولانیوں کی دھول کو بھی آج کی ترقی یافتہ دنیا نہیں پہنچ  پائی۔امن عالم کا متوازن نظام لانے والا وہی تو تھا۔اس کے دور جیسا دور پھر کبھی چشم فلک نے نہ دیکھا۔ تاریخ جس کے گوہر پر آج بھی انگشت بداں ہے۔اس کا رعب و دبدبہ، شائستگی وقار، کردار کی بلندی کا مثل کہیں نہ ملا۔اسکی محبت و عشق میں نہ جانے کیا تھا کہ اسکے پیروکار آج بھی اس کے نام پر فخر ومسرت سے سولی چڑھ جاتے ہیں۔ وہ نرالہ اپنی مثال آپ تھا۔

            ایک طرف یہ حال تو دوسری طرف ایک اور کمال، کمزوروں کا سامان ڈھویا کرتا،کچرہ پھینکنے والی بڑھیا کی بیمار پرسی کرتا، بات مکمل توجہ سے سنتا، اپنے فرض کی انجام دہی کی فکر میں رات بھر نہ سوتا،ازدواج کے ناز اٹھانے والا، بیٹی کے لئے چادر بچھانے والا ، بیوی کی محبت اوروفا کی یاد میں آنسو بہانے والا، ساتھیوں کے ساتھ گارا  اور بجری ڈھونے والا۔جہاں دوسروں کے پیٹ پر ایک تو اپنے پیٹ پر فاقے کے سبب دو پتھر باندھنے والا،  لہو لہان کرتے دشمن اور عذاب میں آڑ بن جانے والا،کسمپرسی میں قیصرو کسری کے خواب دکھانے والا،راتوں کو امت کے درد میں  رونے والا،معاف کرنے میں بے مثال،اندھیروں میں اجالوں کا پیامبر  میرا پیارا نبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھا۔

ان پہ لاکھوں درود ان پہ  لاکھوں سلام۔

٭٭٭٭٭٭

 

 

وہ ایک لمحہ

 

            آموں کا باغ ہر طرف آم ہی آم ہیں۔بہت سے لوگ کاموں میں مصروف۔کوئی آم توڑ رہا ہے تو کوء پیٹیوں میں بھر کر کیمیکلز کی ننھی تھیلیاں رکھ رہا ہے۔ تو کوئی کیل ہتھوڑا ہاتھ میں لیے پیکنگ میں مصروف۔ وزٹ پر موجود بچوں کے گروپ میں سے کسی نے سوال کیا۔ایک پودا لگانے سے لیکر پھل دینے تک میں کتنا وقت لگتا ہے۔ مالی کا جواب تھا۔ جناب تین سے پانچ  سال۔ اس بات نے آفاق کی آنکھیں کھول دیں۔۔اسے اس میں قدرت کا قانون نظر آیا۔ تین سے پانچ سال  اور اتنا بڑا رزلٹ ۔اگر میں بھی اتنے سال خالص محنت اور تعمیر میں لگا دوں کیا میں بھی پھلدار ہو جاؤں گا؟ اس کا جواب اسے روح کی سرشاری سے ملا تھا۔  اسے کچھ سال استقامت دکھانی تھی۔ ڈٹ کر محنت کرنی تھی۔ اس کے بعد پھل یقینی تھا۔ ہاں اس کے بعد بھی دیکھ بھال کرنی اور پانی دیتے رہنا تھا۔ یہ ایک مستقل کرنے والا کام تھا۔ اس مالی کے جواب میں کسی کی کائنات بننے جا رہی تھی مالی اس سے بے خبر تھا۔آغاز آج اور ابھی سے اس نے ٹھان لی۔

            واپسی کا راستہ پلاننگ میں گزرا۔ خیالات کے سمندرکی ناپ تول کی اور ایک فیصلے پر پہنچ گیا۔اس نے محلے سے پانچ بچوں کا انتخاب کر لیا۔ ان میں جوہر تھا۔ جوہری کے ہاتھوں کی مہارت درکار تھی، اسے جوہری بننا تھا۔گھر کا چھوٹا سا برآمد ہ اس کی لیبارٹری طے ہوئی۔اور اس کا بیڈ روم منصوبہ گاہ۔اس نے دو طرح کی پلاننگ کی۔اپنے کرنے کے کاموں کو لکھا۔بغیر آرام کے اس نے ان پانچوں سے مل کر اپنا لائحہ عمل طے کیا۔ سب کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔ اب سے انھیں والدین کو شکایت کا موقع نہیں دینا تھا۔  اپنے کاموں کو یکسوئی سے کر نے کے لیےوالدین کا اطمینان شرط تھی۔ ان کا پہلا دن قدرتی مناظر میں غور وفکر کے لیے طے ہوا۔پہلے دن ساحل سمندر کا پروگرام بنا۔دو گھنٹے سمندر کے بارے میں تحقیق کرنی تھی۔ ہر ایک الگ انداز اور  مختلف پہلو سے تحقیق کر رہا تھا۔ چنگچی کے ذریعے پہنچے کہ وسائل کو سوچ سمجھ کر استعمال کرنا تھا۔

            انھوں نے قدرے ویران ساحل کا انتخاب کیا۔ سب کی عجیب کیفیت تھی۔

آج کا یہ سمندر انتہائی مختلف تھا۔ سب کی نگاہیں سمندر کی ڈوبتی ابھرتی لہروں سے کہیں پرے کوئی نکتہ کھوج رہی تھیں۔اس سکوت میں حمزہ نے سبحان اللہ کہا۔گویا سب کی ترجمانی کی ہو۔ حمزہ نے قرآن وحدیث سے سمندر سے متعلق حوالے ڈھونڈ نے تھے وہ حیران رہ گیا۔  رب کریم نے سمندر کو تشبیہا سیاہی کے لیے استعمال کیا  اور بتایا سات ایسے سمندر سیاہی بنیں اور درخت قلم تب بھی رب کے کلمات ختم نہ ہوں۔  اس نے ساتھیوں کو بتایا قرآن کریم گہرے سمندر کی تہہ میں موجود اندھیرے کا ذکر کرتا ہے۔  ان اندھیروں پر اوپر تلے موجیں اور پھر اتنا ہی نہیں ایسے میں بادل بھی چھا?ئےہوئے۔  اس کی کیفیت اس طرح بیان کی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے  اور اس اندھیرے کو جہالت فسق و فجور اور شرک کے معنی میں استعمال کیا۔ یعنی ایک جاہل ایسے دل دہلا دینے والے اندھیرے میں ہے۔

            عمر نے استغفار کہتے ہوئے زیر لب کہا۔ہاں بھائی میں نے یہ بھی پڑھا کہ اللہ ربی جسے روشنی نہ دے علم  نہ دے اس کے پاس کوئی روشنی نہیں۔ اچھا تو تبھی سائنسدان جو تحقیقات میں سالہا سال خرچ کر تے ہیں۔ رب کی رہنمائی سے بے پروا ہو کر صحیح نتیجے پر نہیں پہنچ پاتے۔ٹامک ٹوئیاں ہی مارتے رہتے ہیں۔حسن کا موضوع سائنسی حوالے سے تھا۔ اس نے بے ساختہ کہا  تصور کریں اتنا بڑا ٹھاٹھیں مارتا سمندر روز قیامت بہ پڑے گا۔ ایک جگہ سمندر کے بھڑکانے کا ذکر بھی ہے۔ احمد جس نے سمندر ی مخلوقات کے حوالے سے تحقیق کی تھی گویا ہوا۔سمندر کے اندر کی دنیا ایک الگ  حیرت کدہ ہے۔نا قابل یقین مناظر  اور حیرت زدہ کردینے والی مخلوقات میرے پاس الفاظ نہیں۔اس میں ایک ایک مچھلی تک پہاڑ جیسی ہے۔

            ارے یہ بات تو میں نے حدیث مبارکہ میں بھی پڑھی صحابہ کرام کا ایک لشکر جو ساحل سمندر کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا۔ایک مچھلی کو اٹھارہ دن تک پورے لشکر نے کھایا۔مغرب کی اذان پر سب اٹھ کھڑے ہوئے آج کی نماز میں کیا تھا کہ آنسو رکنے کو تیار نہ تھے۔رب کی کبریائی،عنایات کا احساس غور وفکر کی لذت کیا کچھ شامل تھا۔ کوئی بتا نہیں سکتا تھا۔ آفاق رب کے سامنے ہاتھ اٹھائے اس پھل کے ذائقے کا تصور کر رہا تھا جو اسے ایسے ہی کئی دنوں بعد اسے ملنے والا تھا۔ پہلا مرحلہ ہی توانائیاں بھر دینے والا تھا

 

٭٭٭٭٭٭

 

 

Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !