اکثر و بیشتر مولوی حضرات جب ملتے ہیں تو سب سے پہلے یہی پوچھتے ہیں کہ جی آپ علماء کرام کی اتنی شدت سے مخالفت کیوں کرتے ہیں؟ میری طرف سے جواب یہ ہوتا ہے کہ جی میں نے تو آج تک کسی ایک عالم کی بھی مخالفت نہیں کی ہے آپ تو علماء (جمع) کی مخالفت کی بات کر رہے ہیں؟ کہتے ہیں کہ جی ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ آپ روز علماء کی مخالفت کرتے ہیں۔ جب ان سے ثبوت طلب کی جائے تو وہ ان ہی تحریروں کی لنکس اور پوسٹوں کی سکرین شارٹس دکھاتے ہیں جن میں میری طرف سے کسی مفتی اور مولوی کی پھیلی ہوئی سوچ یا کردار پر خالص علمی نقطہ نظر سے کوئی جائز تنقید کی ہوتی ہے۔ پھر میں ان احباب سے پوچھتا ہوں کہ بھائی آپ یہ کیسے ثابت کر رہے ہیں کہ میں نے علماء کی مخالفت کی ہے؟ کہتے ہیں عجیب بات ہوئی! مولوی اور مفتی ہی تو ”علماء“ ہوتے ہیں، ان کی مخالفت ہی علماء کی مخالفت ہے۔ جب کہ میرے خیال میں ”علمیت“ جیسی وسیع الٰہی صفت کو محض ”مولویت“ تک محدود رکھنا یا ”مفتِیّت“ کے اندر قید کردینا صفتِ علم کے ساتھ صریح ظلم اور تعریف علم کے ساتھ واضح بد دیانتی ہے۔ میرے نزدیک یہ علم کے نام پر اجارہ داری اور جہالت کو فروغ دینے کا معاملہ ہے۔ آئیے اس سلسلہ میں آج قرآن حکیم سے ہی رہنمائی لیتے ہیں کہ عالم سے کون لوگ مراد ہیں، مولوی، مفتی، مولانا یا کچھ اور؟ اسی ضمن میں صفتِ علم اور علماء کے بارے میں بعض تحقیقی پہلوؤں کا آج ذرا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں۔
قرآن کریم کی سورہ فاطر میں اللہ جل جلالہ ”علماء“ کی تعریف کرتے ہیں فرماتے ہیں:
اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ۚ فَاَخۡرَجۡنَا بِہٖ ثَمَرٰتٍ مُّخۡتَلِفًا اَلۡوَانُہَا ؕ وَ مِنَ الۡجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیۡضٌ وَّ حُمۡرٌ مُّخۡتَلِفٌ اَلۡوَانُہَا وَ غَرَابِیۡبُ سُوۡدٌ ﴿۲۷﴾ وَمِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الۡاَنۡعَامِ مُخۡتَلِفٌ اَلۡوَانُہٗ کَذٰلِکَ ؕ اِنَّمَا یَخۡشَی اللّٰہَ مِنۡ عِبَادِہِ الۡعُلَمٰٓؤُا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ غَفُوۡرٌ ﴿۲۸﴾
ترجمہ:
(کیا تم نے (دیدۂ عبرت نگاہ سے) غور نہیں کیا کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر ہم اس کے ساتھ رنگا رنگ پھل نکالتے ہیں اور پہاڑوں کے ایسے سلسلے میں ہیں جو سفید و سرخ مختلف رنگوں کے ہیں اور بعض کالے کلوٹے ہیں۔ اور اسی طرح انسانوں، جانوروں اور چارپایوں میں سے بھی طرح طرح کے رنگوں والے ہیں۔ اللہ (کے قوانین) سے صرف اس کے علم والے بندے ہی ڈرتے ہیں۔ بلاشبہ اللہ جلیل و مقتدر، صاحبِ سطوت و قوت، بخشش و سیآت سے حفاظت فرمانے والا ہے۔)
ان آیات میں اللہ جل جلالہ ”عالم“ کی تعریف کرتے ہوئے سب سے پہلے مجموعہ کائنات کے اندر مظاہر فطرت کی تین چیزوں کا بطور خاص ذکر فرمایا ہے۔ جمادات، نباتات اور حیوانات جن کی خلقت پر جب لوگ غور و فکر کرتے ہیں تو قانونِ فطرت کی عظمت اور خداوندِ قدوس کی کبریائی کا درست ادراک کرکے اپنے سینے کے اندر اللہ کے احکام کی خلاف ورزی سے خوف و خشیت پاتے ہوئے اُن کے دل ہیبت الہی سے لرز جاتے ہیں، اس موضوع پر ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے ”دو قرآن“ کے نام سے ایک بہترین کتاب لکھی ہے جن میں سے ایک قرآن تو یہی کلام اللہ ہے دوسرا قرآن اس قرآن کا عملی مظہر یعنی کائنات ہے، کائنات تین چیزوں کا نام ہے، جمادات، حیوانات اور نباتات، خدائی نظام ان ہی تین چیزوں کا مرکب ہے، متذکرہ بالات آیت میں ”عالم“ کو خدا تک پہنچنے اور معرفت الٰہی حاصل کرنے کےلیے ان تین اشیاء پر غور و فکر کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جس کا لازمی نتیجہ خشیت الہی اور خوفِ خدا ہے اور بس۔
قرآن کریم میں ”علماء“ کا لفظ ان لوگوں کےلیے بھی استعمال ہوا ہے جو کائنات کے مختلف شعبوں پر غور و فکر کرتے ہیں، اس تعریف میں وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جو کائنات کے مختلف شعبوں پر اپنی تحقیقات کا ماحصل وحی الٰہی کے مطابق انسانوں کی فلاح و بہبود کےلیے استعمال کرتے ہیں، لیکن بد قسمتی سے ہمارے یہاں غلط العام میں لائبریرین کو ہی عالم دین کہا جانے لگا ہے جو کہ سراسر غلط ہے، اس لیے کہ لائبریرین کا کام تھوڑی یہ ہوتا کہ کتاب میں کونسی چیز درست ہے کونسی چیز غلط، کیا جائز ہے اور کیا ناجائز بلکہ لائبریرین کا کام تو صرف یہ ہوتا ہے کہ لائبریری کے اندر کونسی موضوع پر کون کون سی کتابیں ہیں، کن کن مصنفین کی کتابیں ہیں، اس کو تو یہ بھی تمیز نہیں ہوتی کہ کس کتاب کے اندر کونسی بات ٹھیک ہے کونسی بات غلط ہے، البتہ یہ ضرور پتہ ہوتا ہے کہ اس موضوع پر کس کتاب میں کیا لکھا ہوا ہے، کیا علمیت کےلیے یہی معیار ہی کافی ہے؟
ہمارے دور میں غلط العام کے طور پر سب سے بڑا عالم وہی شخص کہلاتا ہے جو یہ بتا پائے کہ فلاں مسئلہ فلاں کتاب کے اندر یوں لکھا ہوا ہے، فلاں کے مسئلہ کے بارے میں بخاری شریف کی روایت یہ ہے فتح الباری نے اس کی تشریح یوں کی ہے، آلوسی نے یہ فرمایا ہے، درمختار میں اس کے بابت یہ بات لکھی گئی ہے، بدائع صنائع نے یہ لکھا ہے۔ کنز الدقائق، مختصر القدوری، شرح الوقایہ اور ہدایہ میں یہ مسئلہ یوں لکھا ہوا ہے، صاحب نہایہ نے اس کی تفصیل یوں بیان کی ہے اور علامہ ابن کثیر کی رائے اس بابت یہ ہے، علامہ شامی نے شیخ ابن ہمام سے یہ یہ فقرے نقل کیا ہے، الغرض جس مولوی کے حوالہ جات سب سے زیادہ ہو، وہی سب سے بڑا عالم ہے، جو مروجہ طرز پر ایک کتاب کا بھی حوالہ نہ دے پائے تو اس کی ہزاروں معقول دلائل بھی اس قابل نہیں سمجھے جائیں گے کہ اسے بھی علمیت کے خانہ میں شمار کیا جائے یا کوئی شخص ہزار حوالہ جات بمع دلائل پیش کرے لیکن اس کی داڑھی، پگڑی یا ظاہری وضع قطع مولویانہ نہ ہو تو اسے فاسق و فاجر (گنہگار اور بدکار) سمجھا جاتا ہے، یعنی علمیت نام رکھا ہے درس نظامی کی تکمیل اور ظاہری وضع قطع کا۔ ظاہری وضع قطع روایتی طرز کی مولویوں والی ہو تو وہ مفتی اعظم، حضرت مولانا، علامہ العصر علیہ ماعلیہ جیسے مقدس القاب سے ملقب کردیا جاتا ہے لیکن ظاہری وضع قطع اگر مولویانہ نہ ہو تو ہزار دیانت دار، تقوی دار اور معاملات زندگی میں الہی خوف و خشیت دل میں لیے ہوئے ہو، سب کچھ کہلائے گا پر عالم ہرگز نہیں کہلا سکتا، حقیقت یہ ہے کہ یہ اہل ظواہر کی دلیل تو ہوسکتی ہے، اسلام کے اندر علمیت کی معیار کےلیے کوئی ایسی ظاہری یونیفارم اور ٹائٹل بالکل شرط نہیں۔
ہمارے یہاں عالم وہ ہے جس نے صرف و نحو پڑھ رکھی ہو، جسے دیوانِ حماسہ، دیوانِ متنبی کی اشعار ازبر ہوں، وہ شخص جس کو مقامات میں ابو زید سروجی کی جھوٹی قصے کہانیاں اچھی طرح یاد ہوں، ہمارے یہاں سب سے بڑا عالم وہ ہے جو اختلافی مسائل پر کامل عبور رکھتا ہو لیکن اتفاقی مسائل سے یکسر لاعلم و نابلد ہو، جو امت میں رفیق کے بجائے فریق بنانے کا مہارت رکھتا ہو، وہ شخص جو امت میں محبت کے بجائے نفرت کو زندگی کا اوڑھنا بچھونا سمجھے، مفتی ہر وہ شخص ہے جس کو عالمگیری، قاضیخان، بدایہ و نہایہ، فتاوی محمودیہ، کفایت المفتی کے حواشی پر دسترس حاصل ہوں، حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کتابیں خیر القرون کیا ماضی قریب میں بھی شاملِ نصاب نہیں تھے۔ اس کا واضح معنی یہ ہوا کہ ابتدائے اسلام سے لیکر ماضی قریب یعنی ساتویں اٹھویں صدی ہجری تک کے علماء علمیت کی اس معیار پر نہیں اترتے، جب نہیں اترتے تو کیا علمیت کی اس تعریف میں وہ شامل ہوں گے یا خارج؟ یقینا خارج ہوں گے، تو اگر وہ سب یہ کتابیں پڑھیں بغیر عالم ہیں تو ہمارے دور میں علمیت کےلیے یہ شرائط کس عالم پر نازل شدہ وحی کے ذریعے لاگو ہوجاتے ہیں؟
ہمارے یہاں علمیت کو درسِ نظامی کی تکمیل، حصولِ سند، دستارِ فضیلت کے رسم و رواج اور زیادہ سے زیادہ مذہبی کتابیں پڑھ لینے سے لازم کردیا گیا ہے، اللہ گواہ ہے کہ ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد بھی ایک سنجیدہ انسان سے دوران تعارف کوئی یہ سوال کرلے کہ آپ عالم ہیں؟ تو وہ لاجواب ہوجاتا ہے، اس لیے کہ علم تو ایک کیفیت کا نام ہے محض مخصوص کتابیں رٹنے، ڈگریاں لیکر بغل میں دبانے کا نام نہیں، اگر انسان کے اندر خلوت و جلوت میں خوف خدا اور خشیت الہی کی کیفیت کا ظہور اور وجود نہ ہو تو باوجود اس کے کہ وہ مدینہ و مصر اور ندوہ و دیوبند سے تخصصات کرکے بدلے میں اعلٰی سے اعلٰی ڈگریاں اور عالی سے عالی اسناد کی اعزازات حاصل کرلیں تو وہ کسی مخصوص فن کا ماہر ضرور ہوسکتا ہے عالم ہرگز نہیں کہلا سکتا، ایک فنکار اور عالم میں بہت بڑا فرق ہے، فنکار کا کردار فرضی ہوتا ہے اور عالم کا کردار عملی، اگر غلط العام میں لوگ ایسوں کو عالم مانتے ہیں تو یہ لوگوں کی غلطی ہے اس کی اصلاح ہونی چاہیے، اس لیے کہ علم تو کیفیات کا نام ہے، کیفیت کو کسی ظاہری معیار سے پرکھنا اور پھر اسے کوئی عنوان دینا یہ کیسے ممکن ہے؟ اگر آپ کے دل میں ہر وقت اللہ موجود ہو تو آپ لوگوں میں تفرقہ نہیں ڈالتے بلکہ جمیع انسانوں سے ہمدردی کا جذبہ رکھتے ہوئے الہی ہدایات کی روشنی میں ان کی رہنمائی کرتے ہیں تو یہ اعزاز بغیر کسی ڈگری کے آپ کو مبارک ہو، جب کہ ہم نے دیکھا ہے کہ 99 فیصد مولوی و مفتی تفرقہ باز ہوتے ہیں، وہ شیعہ سنی، دیوبندی بریلوی، مقلد و غیر مقلد، حیاتی و مماتی کے عنوان پر لوگوں کو لڑا کر اپنے گھر کا چولہا جلاتے ہیں، تفرقہ شرک ہے اور شرک کرنا اپنے ساتھ ظلم ہے، تفرقہ کو اللہ نے قرآن میں حرام قرار دیا ہے، حرام کام کا مرتکب کیسے عالم کہلا سکتے ہیں؟
علمیت خشیت الہی کا نام ہے کسی کاغذی ڈگری یا چند مخصوص کتابیں پڑھنے کا نام نہیں، علم وہ ہے جو حلال و حرام، جائز و ناجائز کام میں عملا آپ کی رہنمائی کرتے ہوئے اس کے ارتکاب اور برے انجام سے آپ کو بچائے رکھے، علم کسی سلیبس کا نام نہیں، علم کسی مخصوص نصاب کا بھی نام نہیں، علم کو ظاہری وضع قطع اور کسی مخصوص حلیہ میں بھی محصور نہیں کیا جاسکتا، علم کو کسی یونیفارم اور لباس تک بھی محدود نہیں کیا جاسکتا کہ اس کے پہننے سے ہی انسان عالم کہلائے گا ورنہ نہیں، علم کو زیادہ کتابیں پڑھ لینے میں بھی بند نہیں کیا جاسکتا کہ جو آدمی سب سے زیادہ کتابیں پڑھے، وہی سب سے بڑا عالم ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالی کے کلام سے بڑھ کر زیادہ مقدس کوئی بھی اور کتاب نہیں، تورات اللہ کا کلام ہے، اس پر ایمان لائے بغیر اسلام کا اعتبار ہی نہیں، نزولِ قرآن کے وقت یہودی مفتی اور مولوی بھی لفظی حد تک حاملینِ کلام اللہ ضرور تھے مگر عمل کے بغیر، اللہ تعالی نے ان کی حاملیت کو ”حمل اسفار“ سے تشبیہ دی ہے، ”حمل اسفار“ کیا ہے؟ گدھے پر کتابیں لادنا، دیکھیے قرآن کریم میں ہے:
مَثَلُ الَّذِيۡنَ حُمِّلُوا التَّوۡرٰٮةَ ثُمَّ لَمۡ يَحۡمِلُوۡهَا كَمَثَلِ الۡحِمَارِ يَحۡمِلُ اَسۡفَارًا ؕ بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ۞
ترجمہ:
(ان لوگوں کی مثال، جن کو تورات کا حامل بنایا (اس پر عمل کا حکم دیا) گیا پھر انہوں نے اس (بار امانت) کو نہ اٹھایا (اس پر عمل نہ کیا) ایک گدھے کی سی ہے جو بہت سی کتابیں لادے پھرتا ہے، (لیکن ان کے علم و فیض سے محروم ہے۔ اس سے بھی زیادہ کیسی) بری مثال ہے اس قوم کی جس نے اللہ تعالیٰ کی اعجازی نشانیوں، احکام و تعلیمات اور قوانین و آئین کو جھٹلایا اور اللہ (اپنے قوانین احترام آرزو اور ہدایت و تقویٰ کی رو سے) ٰنا انصافی و عدوان اور کفر و شرک کرنے والوں کو راہ راست نہیں دکھاتا، نیز اس لئے بھی کہ وہ گمراہی و کجروی کو راہ راست پر ترجیح دینے والے ہوتے ہیں۔)
لہذا کسی مولوی اور مفتی کے ناجائز روش اور منفی کردار پر جائز تنقید کو علماء کی مخالفت اور علم دشمنی قرار دینا، یہ صفت علم سے جہالت کی دلیل ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کے سردار ہیں، خدا تعالی بزرگ و برتر کے بعد ان کی علمیت کو ہی بہ کمال فضیلت حاصل ہے، وہ درس نظامی کے عالم نہیں تھے، انبیاء کرام کے بعد خلفائے راشدین، جملہ صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین میں سے کوئی بھی درس نظام کے فارغ التحصیل مولوی نہیں، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سراج الامۃ کہلاتے ہیں، وہ بھی کسی مدرسہ کے مہتمم نہیں تھے، امام مالک رحمہ اللہ سب سے پہلے محدث ہے، انہیں امام شاہ ولی اللہ نے امیر المومنین فی الحدیث کہا ہے، وہ بھی کسی جامع مسجد کے روایتی امام یا قصہ گو خطیب نہیں تھے، امام شافعی و امام احمد بن حنبل امت کی ہدایت کے پیشوا تھے کسی مضاربہ اسکینڈل کے مفتی نہیں تھے اور نہ ہی وہ اپنا نوالہ تر کرنے کےلیے امت کو باہم لڑوایا کرتے تھے، لہذا یہ غلط فہمی بالکل دور ہونی چاہیے کہ مولوی اور مفتی سے اختلاف رائے کے اظہار سے اسلام کو خطرات لاحق ہوں گے، اسلام اتنا تنگ نہیں، اسلام کی اساس قرآن ہے، قرآن کی حفاظت اللہ نے اپنے ذمے لے رکھی ہے کسی ملا کی ذمہ داری نہیں لگائی ہے، اطمینان سے رہیں، آپ اختلاف رائے میں دوسروں کے نام بگاڑ سکتے ہیں، انہیں برے القابات سے نواز سکتے ہیں باوجود اس کے کہ اللہ نے قرآن میں اس عمل سے سختی سے منع کیا ہے، جس کام سے اللہ منع کرے اس کا منکر کافر اور مرتکب فاسق ہی ہوسکتا ہے، اس کے باوجود آپ عالم اور آپ سے اختلاف کرنے والا علم دشمن؟ عجیب فلسفہ ہے۔
