فیض میلہ اور ہم۔۔۔سائرہ رباب

فیض کی پرستار ہونے کے ناتے فیض میلہ مجھے اپنی طرف کھینچ لایا۔ سچ یہ ہے کہ ایسے میلے۔۔۔۔چاہے ادبی میلہ ہو ، پنجابی کانفرنس یا فیض میلہ ۔۔۔ہماری یکسانیت سے بھرپور زندگی میں ایک خوبصورت بریک لاتے ہیں۔ مختلف ادیب، فنکار، دانشور اور لکھاری ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ ملنے، سننے اور سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ مجھے بھی کئی صاحبِ علم لوگوں سے ملاقات کا موقع ملا۔ ان کے ساتھ ہوئی گفتگو نے میرے زاویے وسیع کیے، نئے سوال دیے، کچھ جواب بھی۔ ایسے اجتماعات رابطہ پیدا کرتے ہیں، اور ذہن کو تازہ کرتے ہیں۔
لیکن مثبت پہلو دیکھنے کے ساتھ تنقیدی نظر رکھنا بھی ضروری ہےکیونکہ تنقید دشمنی نہیں، اصلاح کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہ پلیٹ فارم واقعی عوامی ہوں تو ہمیں ان پر سوال اٹھانے کا حوصلہ بھی رکھنا ہوگا۔
فیض احمد فیض کے نام سے منسوب اس میلے میں قدم رکھتے ہی پہلا احساس ادبی نہیں بلکہ کارپوریٹ فضا کا ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کسی ملٹی نیشنل برانڈ کی پروموشنل نمائش میں آ گئے ہوں۔ چاروں طرف سپانسرز کے نمایاں بینرز، اشتہارات اور چمکتے ہوئے اسٹال نظر آتے ہیں، جبکہ کتابیں عام بازار سے کئی گنا مہنگی فروخت ہو رہی ہیں۔ چائے اور کھانے کی قیمتیں ایسی ہیں کہ متوسط اور محنت کش طبقہ افورڈ نہیں کر سکتا۔ مقامی رنگ، دیسی کھانے، سادہ کتاب فروش یا عوامی دستکاری کا وہ منظر دکھائی نہیں دیتا جو کسی عوامی میلے کی پہچان ہوتا ہے۔

دوسرافیض میلے میں قدم رکھتے ہی ایک تاثر ابھرا کہ یہاں بیوروکریسی اور اعلیٰ طبقے کے لوگ نمایاں ہیں۔۔۔وہی جنہیں عموماً “اردو اسٹیبلشمنٹ” کہا جاتا ہے۔ مگر جنکی بول چال ، لائف سٹائل پر انگریزی کی چھاپ ہے۔ اسٹیج، ادارے، اعزازات اور علمی پلیٹ فارم اکثر انہی کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ مگر خود ان کا سماجی اور تعلیمی سرمایہ زیادہ تر انگریزی نظام سے جڑا ہوتا ہے۔ تعلیم انگریزی میں، نیٹ ورک انگریزی کے، طاقت کے مراکز سے ربط بھی وہیں کا۔ یوں نام مقامی زبان کا ہوتا ہے مگر نظام نوآبادیاتی-انگریزی ڈھانچے سے وابستہ رہتا ہے،
جیسا لارڈ میکالے کے الفاظ میں 
"a class of persons, Indian in blood and colour, but English in tastes, in opinions, in morals and in intellect"

 اور اسی کے باعث قصور زبان (اردو) پر ڈالا جاتا ہے اور مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان غیر ضروری کشیدگی کی فضا قائم ہو جاتی ہے۔جب بحث “اردو بمقابلہ پنجابی یا دوسری زبانیں ” یا صرف ثقافتی شناخت تک محدود رہے تو اصل کولونیل سسٹم (جسکی بنیاد انگریزی پر ہے)، تعلیم کا ڈھانچہ، معاشی عدم مساوات اور زبان و روزگار کا تعلق پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ توجہ علامتوں پر رہتی ہے، نظام پر نہیں۔ یوں “اردو اسٹیبلشمنٹ” ایک علامتی چادر بن جاتی ہے۔۔۔۔نام مقامی، مگر اختیار کہیں اور۔

مسئلہ اردو یا پنجابی نہیں، بلکہ اختیار اور مواقع کی تقسیم ہے۔ اگر تعلیم، روزگار اور طاقت کے دروازے انگریزی ڈھانچے کے پاس ہوں تو مقامی زبانوں اور شاعروں کے میلے محض علامت بن کر رہ جاتے ہیں۔ طاقت صرف دولت سے نہیں بلکہ اس بات سے چلتی ہے کہ زبان، اسٹیج اور اداروں پر کنٹرول کس کے پاس ہے۔ جب ایک مخصوص طبقہ اس پر قابض ہو جائے تو وہ اپنی زبان، ذوق اور ثقافت کو معیار بنا دیتا ہے، اور آہستہ آہستہ محروم طبقات کی آوازیں پیچھے چلی جاتی ہیں۔ یہ سب ہمیشہ زبردستی نہیں ہوتا؛ میڈیا، نصاب، میلوں اور ثقافتی تقریبات کے ذریعے ایک خاص سوچ کو عام کیا جاتا ہے، جسے لوگ خود ہی درست سمجھنے لگتے ہیں۔ یوں رضامندی پیدا ہوتی ہے اور اصل اختیار خاموشی سے منتقل ہو جاتا ہے۔

 Roland Barthes 
اسی عمل کو semiotics کی ڈومین میں یوں بیان کرتا ہے کہ ہر لفظ، ہر تصویر، ہر شعر ایک معنی رکھتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ اس کے معنی بدلے بھی جا سکتے ہیں (اکثر مقتدر طبقہ ایسا کرتا ہے)۔ اگر فیض کا شعر جیل، مزدور اور احتجاج کے پس منظر میں پڑھا جائے تو اس کا مطلب کچھ اور ہوگا۔ مگر وہی شعر جب مہنگے مگ پر چھپ کر یا کسی بینک کے اشتہار کے نیچے سجا ہو تو آہستہ آہستہ اس کے معنی بدلنے لگتے ہیں۔ خطرہ نکل جاتا ہے، صرف خوبصورتی رہ جاتی ہے۔ مزاحمت کم ہو جاتی ہے، رومان باقی رہتا ہے۔ لوگ تصویر کھنچواتے ہیں، پوسٹ کرتے ہیں، مگر طبقاتی سوال پیچھے رہ جاتے ہیں۔
فیض احمد فیض مزدور، کسان اور محکوم کی بات کرتے تھے۔ مگر جب ان کا نام ایک “برانڈ” بن جائے تو ان کے نظریات دھندلا سکتے ہیں۔ یہی تضاد فیض کے معنی اور فیض میلے کے منظر میں محسوس ہوا۔

پھر مختلف میلوں میں وزٹ کے بعد ایک اور بات جو میں نے محسوس کی وہ یہ کہ جب ایک ہی طبقہ کسی جگہ پر اپنی اجاراداری قائم کر لیتا ہے تو وہ اپنے جیسے لوگوں ، آوازوں اور بیانیوں کو ہی آگے لاتا اور نمائیندگی دیتا ہے۔ دوسری آوازیں سٹیج تک نہیں پہنچ پاتیں اور سامعین اور تماشبین تک محدود رہتی ہیں۔

 بسنت کبھی عوامی تہوار اور محلے کی مشترک خوشی تھی، اب پابندیوں میں قید کارپوریٹ رنگ میں ڈھل کر ایلیٹ میلا بن گیی ہے۔ پنجابی کانفرنس کے بھی مثبت پہلو ضرور تھے، مگر ایک مخصوص رومانوی سانچے اور طبقہ تک محدود تھی ۔۔مجھ جیسے شہری یا نیی پنجابی “ہائبرڈ” شناختوں کے سوال اور مسائل کم دکھائی دیے۔ تنوع محدود تھا۔۔ فیض میلہ میں بھی ایک وہی کارپوریٹ گروہ کی اجاراداری تھی ۔
 تینوں تجربات نے ایک سوال پیدا کیا: کیا ہماری ثقافت ہمیں جوڑ رہی ہے یا چھوٹے دائروں میں بانٹ رہی ہے؟

سماجیات میں اسے fragmentation یعنی بکھراؤ کہتے ہیں۔۔۔۔جب مشترک میدان ٹکڑوں میں بٹ جائے۔ ہر دائرہ اپنے جیسے لوگوں تک محدود ہو جائے۔ جب عوامی پلیٹ فارم واقعی عوامی نہ رہیں، جب تنوع کم ہو اور ایک ہی طبقہ بار بار نمایاں ہو، تو عام لوگ خود کو تماشائی محسوس کرتے ہیں، شریک نہیں۔ یہی تقسیم آہستہ آہستہ سماج کو مزید ٹکڑوں میں بانٹ دیتی ہے۔ ثقافت جو پل بن سکتی تھی، دیوار بننے لگتی ہے۔

ثقافت کی اصل روح یہ ہے کہ اس میں ہر آواز کے لیے جگہ ہو۔۔۔۔دیہات اور شہر دونوں کی، مزدور اور استاد دونوں کی، روایتی اور جدید دونوں کی۔ اگر ہم واقعی جوڑنا چاہتے ہیں تو ہمیں علامتوں سے آگے جا کر طاقت کے ڈھانچوں پر سوال اٹھانا ہوں گے۔ اصل مسئلہ زبان نہیں، اختیار اور مواقع کی تقسیم ہے۔

حل کیا ہے؟
پلیٹ فارمز کو زیادہ شمولیتی اور عوامی بنانا ہوگا۔ عام آدمی کی شرکت اور نمائیندگی آسان بنانی ہوگی۔ ٹکٹ، جگہ ،گفتگو اور سٹیج تک رسائی۔۔۔۔سب میں وسعت لانی ہوگی۔ اصل مسائل۔۔۔۔تعلیم، معاشی برابری اور زبان و روزگار کے تعلق۔،۔پر کھل کر بات کرنی ہوگی۔ تنوع کو نمائشی نہیں، حقیقی بنانا ہوگا۔
تبھی ہم ٹکڑوں میں بٹے تجربات کے بجائے مشترکہ تجربہ پیدا کر سکیں گے۔ تبھی مکالمہ ہوگا، صرف نمائشی ہم آہنگی نہیں۔ تبھی فیض کا نام اور فیض کا پیغام ایک ہو سکیں گے۔ ورنہ میلے تو لگتے رہیں گے۔۔۔۔مگر فاصلے بھی بڑھتے رہیں گے۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !