آپ کی آبزرویشن ہے
اپنے اردگرد جتنی دنیا ہے، اسے زیادہ سے زیادہ آبزرو کیا کیجیے۔ گاڑی چلاتے ہوئے اردگرد کی گاڑیاں، ان کے رنگ، دکانیں، بل بورڈز
مارکیٹ جائیں تو وہاں دیکھیں کہ کن دکانوں پر زیادہ رش ہے اور کون سی دکانیں خالی اور ٹھنڈی ہیں۔ کوشش کیجیے کہ ان patterns کو جان سکیں جو بھری ہوئی دکانوں میں نظر آرہا ہے۔ غور کیجیے کہ کن وجوہات کی بناء پر کچھ دکانیں خالی رہتی ہیں
مسئلہ قیمتوں میں ہے، یا پراڈکٹس جاذب نظر نہیں یا سیلز مینز ڈل اور روکھے پھیکے ہیں؟
اپنے آفس میں آبزرو کیجیے کہ جو higher پوزیشن پر بیٹھے ہیں، ان کے attitude میں وہ کیا چیز ہے جو انھیں lower پوزیشن پر موجود لوگوں سے ممتاز کرتی ہے؟
کاروبار کررہے ہوں تو اپنے ان competition پر خاص نظر رکھیے جس کا بزنس اچھا چل رہا ہے۔ ان فیکٹرز کو نوٹ ڈاؤن کرنے کی کوشش کیجیے جن کی وجہ سے ان کی گروتھ میں تیزی ہے، انھیں زیادہ کلائنٹس مل رہے ہیں۔
آج کل کانٹینٹ کا زمانہ ہے۔ ہر ایک کا اچھا خاصا وقت فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کو اسکرول کرتے گزرتا ہے۔ خصوصی طور پر آبزرو کیجیے کہ ہزاروں لاکھوں ویوز کے حامل کانٹینٹ میں ایسی کیا خاص بات ہے جس کی وجہ سے وہ وائرل ہوا؟ اس کی نش/کیٹیگری کیا ہے؟ اسے لائک کرنے والی آڈئینس کون ہے اور کس ایج گروپ سے تعلق رکھتی ہے؟ خود سے سوال پوچھیے کہ کیا آپ ایسا کانٹینٹ نہیں بنا سکتے؟
یاد رکھیے، جب بھی آپ کسی بھی چیز کو آبزرو کریں تو خود سے مسلسل باتیں کرتے رہا کیجیے۔ خود سے سوال کرتے رہا کیجیے۔ جب آپ ایسا کریں گے تو آپ کا دماغ نت نئے نیورون کنکشنز بنانے لگے گا۔ یہ ذہانت بڑھانے کا ایک آسان طریقہ ہے جس کے لیے ریگولر پریکٹس کرنی پڑتی ہے۔ ایک بار عادت ڈیویلپ ہوجائے تو پھر خود بخود یہ عمل ہونے لگتا ہے۔
جن افراد کی آبزرویشن تیز ہوتی ہے، وہ عام لوگوں کے مقابلے زیادہ ذہین، ٹیلنٹڈ اور کامیاب ہوتے ہیں۔ ان کے لیے نت نئی اسکلز ڈیویلپ کرنا قدرے آسان ہوجاتا ہے
اچھی اور شارپ آبزرویشن کا ہونا قدرت کا خاص انعام ہے۔۔۔۔۔!!!!
