انہوں نے پچھلی ناکامی سے جو اسباق حاصل کیے اس کی بنیاد پر اس بار وہ سب سے زیادہ توجہ بیکری میں حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنے میں دیتے ہیں۔ اشیاء کی کوالٹی مزید بڑھاتے ہیں۔ اپنا پروڈکشن یونٹ کھول کر اشیاء کی قیمتیں دوسری بیکریوں سے کم رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ مٹھائیوں کے کاروبار کی کامیابی کے بعد انہوں نے اسی بیکری میں تیاری کے مطابق دوسری بیکری آئٹمز ، ڈبل روٹی اور ڈیری پراڈکٹس کو آہستہ آہستہ شامل کرنا شروع کیا۔ ان کے گاہکوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی اور آہستہ آہستہ انہوں نے لاہور میں ہی کاروبار کو بڑھانا شروع کیا۔ 2005ء تک ان کی برانچز لاہور کے 100 مقامات پر پھیل چکی تھیں۔ پھر اسی سال 2005ء میں انہوں نے ایک نہایت دلیرانہ مگر رسک سے بھرپور فیصلہ کیا۔ انہوں نے گورمے بیکری کی اپنی Beverage foods کولیکشن متعارف کروانے کا فیصلہ کیا اور براہ راست اس شعبے میں قدم رکھا جہاں پہلے ہی 2 دیو ہیکل کاروباری اداروں کی اجارہ داری تھی۔ یعنی محمد نواز نے گورمے کی اپنی کولا ڈرنک گورمے کولا متعارف کروانے کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں اس شعبے میں کوکا کولا اور پیپسی جیسے دو بڑے دیوہیکل کاروباری اداروں کی اجارہ داری تھی۔
اسی وجہ سے گورمے کولا کے لانچ کے ساتھ ہی گورمے بیکری نے اس کی مارکیٹنگ پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کی۔ انہوں نے مارکیٹنگ کیلئے " پاکستانی کی طرف سے پاکستان کیلئے " والی حکمت عملی اپنائی اور ایک ٹیگ لائن کا استعمال کیا جو یہ تھی کہ " اہل اسلام پر سلامتی ہو ، اہل پاکستان پر سلامتی ہو "۔ انہوں نے گورمے کولا کو بین الاقوامی سطح کی مشینری اور معیار کے ساتھ بنانا شروع کیا اور اس کے ساتھ مزید کولڈ ڈرنکس اور سافٹ ڈرنکس بھی متعارف کروائیں۔ سب سے اہم حکمت عملی یہ کہ انہوں نے اپنی ان پراڈکٹس کا ہدف پاکستان کے متوسط طبقے کو بنایا۔ اپنی قیمتیں دوسری بین الاقوامی کمپنیوں سے کم رکھیں اور مارکیٹنگ میں خاص طور پر متوسط طبقے کو متاثر کرنے کا خیال رکھا۔
اس کے بعد محمد نواز نے اپنی آمدنی کو مزید جہتوں میں پھیلایا۔ 2009ء میں سلک بینک کے 12 فیصد حصص خرید لیے۔ 2016ء میں جاگ ٹی وی کو خرید کر GNN کے نام سے دوبارہ لانچ کیا۔ اس کے بعد پراڈکٹس کی سورسنگ کی قیمتیں کم کرنے کیلئے انہوں نے خود ڈیری فارمنگ شروع کی۔ اس کے بعد انہوں نے گورمے بیکری کی پراڈکٹس کیلئے نئے پروڈکشن ہاؤسز اور کارخانے لگائے۔
پاکستان بھر میں ایونٹ منیجمنٹ کیلئے Gourmet Catering And Event Management کے نام سے پیشہ ورانہ تربیت کا آغاز کیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے اپنا ایک سافٹ ویئر ہاؤس Gicoh کے نام سے شروع کیا جو ویب سائٹ ڈویلپمنٹ ، ای کامرس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی سروسز دیتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے گورمے ریستوراں کھولنے کا سلسلہ شروع کیا۔
اس کے ساتھ ہی رسول نواز شوگر ملز کی شروعات کی۔
آج گورمے بیکری پورے پاکستان میں اپنی 1000 برانچز اور اپنا ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک رکھتی ہے۔ اس طرح 1992ء میں مسلم ٹاؤن لاہور سے شروع ہونے والا کاروبار پورے پاکستان میں پھیل کر ہزاروں افراد کے روزگار کا خواب پورا کررہا ہے۔
