قصہ ہماری شادی کا۔۔ ثمر حفیظ

بہت شوق ہے آپکو ہمارے شادی کے بارے میں جاننے کا ۔ کیا بتائیں آپکو کہ ہم تو اتنے شوک میں ہیں اس شادی سے کہ اب خود کو دماغ میں (single but never ready to mingle) کر رکھا ہے-شادی کے بارے میں ہمارا ذاتی رائے ہے کہ کر لینی چاہیے تا کہ اچھے سے پتا چل سکے کہ کیوں نہیں کرنی چاہیے!

ہماری شادی چھوٹی عمر میں ہوگئی تھی ۔ “چھوٹی عمر” کے بارے میں ویسے ہمارا اپنا خیال ہے اٹھارہ کے بعد کوئی چھوٹی بڑی عمر نہیں ہوتی ہاں البتہ کچی پکی عمر ہو سکتی ہے تو “ہماری شادی چھوٹیکی بجائے “کچی”عمر میں ہوئی” کہنا زیادہ مناسب رہیگا ۔ 

بات کریں شادی کی شاپنگ میں ویسے تو ہمارا کوئی خاص دھیان نہیں تھا لیکن اماں سے چپکے سے کہا کہ اماں چھوٹے چھوٹے کپڑوں کے بھی دو سیٹ لے دیں، شادی کے بعد پہنا کرونگی تو اماں نے چوٹی کا بےشرم قرار دے کر وہ آگے پیچھے کی سنائی ہیں کہ ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے ہم وہ چھوٹے کپڑے اپنی سگی اماں سے نہیں بلکہ محلے کے ارشد سے مانگ رہے ہیں اور جنکو پھر پہن کر ہمارا سٹیج پر ناچنے کا ارادہ ہو۔ خیر اماں کو ترلے واسطے اور معافیاں مانگ مانگ کر چپ کروایا کہ کہیں ابّا ہی نہ سن لیں۔ اور دل کی دل میں ہی لے کے رخصت ہو گئے ۔ 

ہمیشہ کی طرح اللّٰہ کو ہی میرے جذبات valid لگتے ہیں اور سمجھ بھی آتی ہے ۔نتیجتاً سسرال جا کر جب کسی ایک دن جیسے ہی میاں کی سائڈ کا بیوٹی بکس کھلا یہ لال رنگ کی نائٹی نے ہمارا استقبال کیا بس پھر کیا تھا موقع دیکھ کر ایک دن پہن لی ۔ 

دل میں ہزاروں خواہشیں تو البتہ کوئی نہیں تھیں بس چھوٹے کپڑے پہننے کا خواب پورا ہونے پر میں بہت خوش تھی اور چاہت تھی کہ صاحب بھی اتنا ہی اچھلے کودیں ۔

ماڑی قسمت اب ُہمیں کیا معلوم تھا کہ ان دنوں قریب ہی کہیں ڈکیتی ہوئی تھی جسکی وجہ سے ہمارے میاں ہر روز سرہانے کے نیچے پستول رکھ کر سوتے تھے۔ اوپر سے کسی نے اس رات ہمارے دروازے پر دستک دے دی یا وہ صرف صاحب کا وہم تھا۔ بہرحال جو بھی تھا وہ آدھی رات کو بوکھلا کر اٹھے ۔ایک جانچتی ہوئی نظر وہ ہماری حالت پر ڈالتے ہمیں کمرے کا دروازہ اندر سے لاک کرنے کا حکم صادر کر کے خود باہر دیکھنے روانہ ہوگئے۔ دو منٹ بعد ہی آ گئے اور پتا چلا باہر کوئی نہیں تھا لیکن اندر آتے ہی خون خوار نظروں سے ہماری طرف دیکھ کر بولے:

“بات سنو رات کو پورے کپڑے پہن کر سویا کرو ۔ کیوں کہ کو اگر چور آگئے تو تمہیں سنبھالونگا کہ چوروں کو تو جاؤ بدل آؤ اب “

گئی بھینس تیل لینے ۔ ہماری قسمت میں ہی نہیں تھا یہ رومانس شومنس۔ اور رہی بات ہماری اوور تھنکنگ کی تو اسکا الگ لیول ہے ۔ کہ اگر ہمیں کوئی خطرے کی پیشین گوئی بھی کرے تو ہمیں لگتا ہے خطرہ آن ہی پھنچا ہے ۔بس پھر واقعے ہی ایسا لگا چور آگئے ہیں اور باجی اپنا سٹیج لگا کے کھڑی ہیں اور بھاگنے چھپنے کو راہ نہیں ہے تو بس فٹا فٹ پورے کپڑے پہن آئے ۔ وہ دن اور آج کا دن کبھی ویسے کپڑے نہیں پہنے اور نام انکا چونچلے رکھ دیا کیوں کہ دل کو بھی آسرا کروانا تھا ناں جی 😜

آگے چلیں تو شادی کے کچھ عرصہ بعد یوں ہی ایک دن بچوں کے ابّا نے مذاق میں سوال کیا کہ ایک بات تو بتاؤ کیا تمھیں شادی سے پہلے پتا تھا شادی کے بعد کیا ہوتا ہے؟ (کہنا تو ہم یہ چاہتے تھے کہ یہ جوائنٹ سرکس کی اصلیت اور آپکی رنگین مزاجی کا علم ہوتا تو قسم خدا کی کوئی ماں کا لال سوائے موت کے فرشتے کے ہمیں امّاں کے صحن سے رخصت نہ کروا پاتا) 

لیکن بس ہمنے جواب دیا 

“ ہاں زیادہ تر پتا ہی تھا “ 

تو بہت اونچی ہنسے اور کہا 

“کہ تم تو اچھی لڑکی نہ ہوئی پھر ” 

ہم نے بھی انکے ہاتھ پر ہاتھ مار کر تُرنت جواب دیا کہ 

“آپ اچھی لڑکی deserve بھی نہیں کرتے تھے اسلئےزیادہ اچھل کود کی ضرورت نہیں ہے۔ جو ہے مست ہے، رکھ لو چپ کر کے ” 

اور اس پر پھر “ہم دونوں” ہی بہت اونچی اونچی ہنسے 😂

ایسے ہی کسی دوسرے موقعے پر خاندان کی بات ہوئی تو میاں نے چُٹکلا چھوڑا کہ ہماری بیگم کا خاندان کوئی زیادہ اچھا نہیں ہے تو ہم نے بھی اسی میں ایڈ کر کے یہ کہتے ہوئے حساب برابر کیا کہ 

“ہاں آپ خود سوچیں جس خاندان نے اس انسان کو اپنی بیٹی ہی دےدی اسکا کیا لیول ہو گا ”😛

 یہ بات پکی ہے کہ ہمارے بچے پیدا کرنے اور پالنے کا سب کریڈٹ اللّٰہ کو جاتا ہے۔ اب چوں کہ پہلے ایک دو سالوں میں لگاتار بچے ہوئے ۔ ہوئے تو دو ہی تھے لیکن اوپر تلے کے دو ایک جیسے بچے پالتے محسوس یہی ہوتا تھا کہ کوئی گیارہ بارہ سال سے لگاتار جڑواں بچے ہوئے ہیں ہمارے ۔ اوپر سے ستم یہ کہ یہ تو بچے کرنے سے پہلے یاد ہی نہیں تھا کہ وہ چابی والے نہیں اصلی نمونے ہونگے جنکے لئے سمیت نیند کے بہت سی اور چیزوں کی قربانی بھی دینا پڑ ے گی ۔ 
ایسی ہی کسی ایک رات کو جب بڑا سیمپل رونا ہی بند نہیں کر رہا تھا اور صاحب بے سُدھ سو رہے تھے ۔ ہم نے کچھ دیر تو بچہ اکیلا ہینڈل کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن نہ بھئی، وہ بھی اپنے ابّا کی طرح ڈھیٹم ڈھیٹ تھا ۔ اور سچ کہیں بچے کی بھیں بھیں سے زیادہ ہمیں میاں کی گھوڑے کھوتے سب بیچ کر بے خبر نیند پر غصّہ تھا۔ بار بار خیال آئے کہ ہاں میاں تم رخصت ہوئے رہو ، یہ بیٹری والا گڈا ہم جہیز میں ساتھ لائے ہوں جیسے ۔ ہم نے بھی کونسا معافی دینی تھی یہ جھنجھوڑ کر انکو غفلت کی نیند سے بیدار کیا اور بچہ انکے ہاتھ دیا کہ بھائی یہ پکڑو اپنا چھلیڈا ہم تو خود ابھی بچے ہیں ہمیں بخش دو کچھ دیر 😭😅 کاکا کھلاؤ ماحول بچاؤ ۔ خیر نیند تو ہمیں بھی کہاں آنی تھی ہاں البتہ انکو اپنے ساتھ گوڈے گوڈے ذلیل ہوتے دیکھ کر زرا تسلی ہوئی ۔

بہت سی اور باتوں کی طرح یہ بات بھی سچ تھی کہ قسمت ہمارے لئے نارمل حالات بہتر نہیں سمجھتی تھی اسلئے ہمیشہ حالت جنگ میں ہی رہے ۔یہ ہی دیکھ لیں کہ ہمارے میاں جب بھی نارمل باپ بننے لگتے تو ہمارے اوپر طعنوں کی بوچھاڑ کا رخ ذرا زیادہ ہوجاتا ۔ 

اِسی طرح کے ایک موقعے پر میری colleagues نے بھی حصّہ ڈالنے کا سوچا اور ایک دن کہنے لگیں کہ بھئی تمہارے میاں تو بہت کوآپریٹیو ہیں بچوں کے فیڈر بنا کے دیتے ہیں ، اور انکو سلاتے بھی ہیں ۔ اور تمہارے کہنے کار میں ہیں (میں جو بغیر گنتی کیے سارے خاندان کی مشترکہ ملازمہ تھی ہمارا تو جیسے کوئی حصہ نہیں تھا خاندان کی فلاح و بہبود میں جیسے سوائے آبادی بڑھانے کے ) کتنی زیادتی ہے بھیا کہ ہمارا نام بھی لیا نہیں جاتا اور انکو کو فیڈر بنانے پر میڈل مل جاتا ہے 

قصہ مختصر یہ کہ ہمارے تو پہلے ہی کان پکے پڑے تھے ساری دنیا اچھی اور سلجھی ہونے کے ایک سوائے ہمارے ۔ہم نے بھی کہہ دیا کہ “بھائی بچے اسی کے ہیں ،اسلئے پالنے میں بھی تھوڑا ہاتھ ہلا لے باقی رہی بات اسکے اچھے ہونے کی تو ایسا کرو کہ تم لوگ چار چار دن اسے رکھ کے دیکھ لو اور پھر اگر پسند آئے تو تم ہی رکھ لینا، میری خیر ہے” ۔ تو آگے سے کھڑ کھڑ کرنے لگیں ۔ 

گھر آ کر میاں کو بتایا کہ آج پھر تمہیں گمنام ہیرو کہہ دیا گیا ہے تو آگے سے انتہائی بیشرمی سے بولے: اچھا چھوڑو یہ بتاؤ پہلے چار دن آج کون سی والی کولیگ کے پاس چھوڑ نے جانا ہے کیوں کہ میں اس تجربے کے لئے تیار ہوں جسکی زبان تم دے کر آئی ہو 😏

ہم صاحب کو شدید نظر انداز کرتے کچن میں چلے گئے ۔ وو بھی اپنے نام کے ایک تھے ۔ پیچھے چلے آئے اور درخواست کی کہ چلو تجربہ تو تم نے کرنے نہیں دینا (جیسے ہماری اجازت انکو واقعی ہی چاہیے ہو )لیکن صبح جب تمہیں ڈراپ کرنے جاؤنگا تو دکھا دینا کون کون مجھے رکھنے کو تیار ہے 😭😀

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !